بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مقدمہ ابن صلاح سے قبل تالیف کردہ  اُصولِ حدیث کی کتب کا تعارف

مقدمہ ابن صلاح سے قبل تالیف کردہ  اُصولِ حدیث کی کتب کا تعارف


اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو انسانوں کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا، اس کی تشریح کے لیے احادیث مبارکہ کا ورود حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذاتِ مبارکہ سے صادر فرمایا۔ ان احادیث مبارکہ کو سمجھنے، نیز اس کی حفاظت کے واسطے محدثین کرام و مجتہدین عظام نے چندایسے اصول مرتب کیےہیں، جنہیں محدثین کی اصطلاح میں ’’ فنِ اصولِ حدیث‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
اس سلسلہ میں ہمیں کتبِ احادیث، اسماء الرجال، اور جرح وتعدیل پر لکھی گئی کتب کے علاوہ کبار صحابہؓ سے بھی کچھ واقعات ملتے ہیں، جن میں سے بطور نمونہ کچھ کا ذکر پیشِ خدمت ہے:
حافظ ذہبی ؒ(متوفی :۷۴۸ھ) نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ  کے احوال میں لکھا ہے : 
’’ وہ پہلے آدمی تھے جنہوں نے قبولِ خبر میں احتیاط سے کام لیا ہے۔‘‘(۱)
 حضرت عمر رضی اللہ عنہ  کے بارے میں آتا ہے: 
’’ انہوں نے محدثین کے لیے روایت میں جانچ پڑتال کا طریقہ وضع کیا اور جب انہیں شک ہوتا تو خبرِ واحد کو قبول کرنے میں توقف سے کام لیتےتھے۔‘‘(۲)
حضرت علی رضی اللہ عنہ  کا تذکرہ کرتے ہوئے امام ذہبی ؒ لکھتے ہیں:
’’ وہ امام عالم تھے اور روایت قبول کرنے میں چھان پھٹک سے کام لیتے، یہاں تک کہ حدیث روایت کرنے والے سے قسم کا مطالبہ کرتے تھے۔‘‘ (۳)
 ان حضرات کی احتیاط صحابہ کرامؓ پر کسی قِسم کےعدمِ اعتماد کا نتیجہ نہیں تھی، کیونکہ یہ سب لوگ صحبتِ رسول سے فیض یافتہ تھے، بلکہ یہ متقیانہ روش تھی کہ حضور رضی اللہ عنہ  کی طرف سماع و فہم کی غلطی سے کوئی غلط بات منسوب نہ ہو، اور اکثر صحابہؓ روایت کرتے وقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے مروی یہ قول پیش نظر رکھتے تھے:
 ’’من کذب علي متعمّدا فليتبوأ مقعدہٗ من النار۔‘‘ (۴)
’’جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔‘‘
 صحابہ کرام ؓکو عہدِ رسول کی قربت، ان کی عدالت اور شرف کی بنا پر حدیث کے باب میں جرح سے محفوظ گردانا جاتا ہے، کیونکہ’’ الصحابۃؓ کلہم عُدول‘‘ کے تحت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم  عادل ہیں۔ 

اصولِ حدیث کی تدوین کا سبب
 

جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ  کے زمانہ میں مختلف فتن کا ظہور ہوا، تو منجملہ ان میں سے ایک وضعِ حدیث کا فتنہ بھی تھا، اس لیے اس بات کی ضرورت محسوس ہوئی کہ ایسے قواعد اور اصول مرتب ہوں، جن کی روشنی میں حدیث کے کھرے اور کھوٹے پن کا اندازہ لگایا جاسکے، اور حدیث کے رد وقبول میں اس پر فیصلہ کیا جاسکے۔ اسی بات کی طرف معروف تابعی کبیر امام محمد بن سیرینؒ (۱۱۰ھ) نے اپنے قول میں اشارہ کیا، جسے ’’مقدمہ صحیح مسلم‘‘ میں امام مسلمؒ (۲۶۱ھ) نے ان الفاظ میں نقل کیا: 
’’لم يکونوا يسألون عن الإسناد، فلما وقعت الفتنۃ قالوا: سموا لنا رجالکم، فينظر إلٰی حديث أہل السنۃ فيؤخذ حديثہم، وينظر إلی أہل البدع، فلايؤخذ حديثہم۔‘‘(۵)
’’پہلے لوگ اِسناد کے بارے میں زیادہ تحقیق نہیں کیا کرتے تھے، لیکن جب فتنہ کا آغاز ہوا تو کہنے لگے: ’’تم اپنے رجال (راویوں) کے نام بتاؤ، تاکہ اہلِ سنت کی روایت کو قبول کیا جا سکے اور اہلِ بدعت کی حدیث کو رد کیا جاسکے۔‘‘ 
اسی طرح دوسری صدی ہجری کی ابتدا میں حضرت عمر بن عبدالعزیز ؒ کی مساعی سے تدوینِ حدیث کا کام شروع ہوا تو امام ا بن شہاب الزہری ؒنے جمعِ احادیث اور تنقیحِ روایات کے سلسلے میں اصول و قواعد ضبط کیے، حتیٰ کہ بعض علماء نے انہیں ’’علم مصطلح الحدیث‘‘ کا موجد قرار دیا ہے۔

کتبِ اصول حدیث کا تعارف 

1- ’’الرسالۃ‘‘ محمد بن ادریس شافعیؒ ( ۱۵۰ ھ - ۲۰۴ھ) 
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ  نے ہی باقاعدہ طور پر فنِ اصولِ حدیث کو ایک کتابی شکل میں مرتب کیا۔ اس کتاب میں فنِ اصولِ حدیث کی چند اہم مباحث پر مفصل کلام فرمایا:
۱-مرد و عورت دونوں کی حدیث قبول کی جائے گی۔
۲- غیر مدلس کی روایتِ عنعنہ کو قبول کیا جائے گا۔
۳- جن کی روایت قبول کی جائے گی، ان کے اوصاف بھی بیان کیے جائیں گے۔
۴- جو راوی روایتِ حدیث میں کثرت سے غلطیاں کرتا ہو‘ اس کی خبر رد کردی جائے گی۔
۵- راوی کی عدالت کا جاننا ضروری ہے۔
۶- ضبط و عدالت کا ثبوت کیسے ہوتا ہے؟ اس کا جاننا بھی ضروری ہے۔
۷- صحیح اور قابل استدلال حدیث میں کیا فرق ہونا چاہیے؟
۸- حجیتِ حدیث پر مفصل و مدلل کلام فرمایا ہے ۔
۹- خبرِ واحد کا حجت ہونا بھی مدلل فرمایا ہے۔
۱۰- روایت بالمعنی کیوں اور کہاں تک جائز ہے؟ اس کی وضاحت فرمائی ہے۔ 
۱۱- مرسل و منقطع کا ضعف اور وہ مؤیدات جن کی وجہ سے مرسل و منقطع قابل استدلال بن جاتے ہیں۔
۱۲- متابعات و شواہد کا کسی حدیث کی تقویت میں کیا کردار ہے؟
۱۳- متعارض نصوص میں جمع و تطبیق کا طریقہ اور ناسخ و منسوخ، راجح ومرجوح کی تعیین کے اصول بیان کیے اور مثالوں کے ذریعہ انہیں سمجھایا۔
۱۴- روایت و شہادت کے ابواب کن مسائل میں متفق ہیں اور کن میں مختلف ہیں‘ ان میں تمیز قائم کی۔(۶)
 ان کے علاوہ بھی بہت سی اہم حدیثی وفنی مباحث زیبِ کتاب ہیں، جو کتاب میں جا بجا دیکھی جاسکتی ہیں۔ 
اس فن کے بعض قواعد کی طرف کتبِ حدیث میں محدثین نےاشارہ کیا ہے، بعض اہم اصولوں کو امام بخاریؒ ؒ(متوفی:۲۵۶ھ) نے اپنی کتاب ’’صحیح البخاري‘‘ میں تراجمِ ابواب کی صورت میں نقل کیا ہے :
ا: باب قول المحدث: حدثنا وأخبرنا۔        ۲: باب ما يذکر في المناولۃ۔
۳:باب متی يصح سماع الصغير۔             ۴:باب في طلب العلم۔
۵:الحرص علی الحديث                ۶:باب کتابۃ العلم۔(۷)

یہ تو صرف چند تراجمِ ابواب کے اصولوں کا ذکر ہے، اس کے علاوہ بھی امام بخاری ؒ نے کئی مقامات پر حدیث کے متعلق اصول ذکر کیے ہیں۔
 

’’صحیح بخاری‘‘ میں موجود چند اہم اصول

1- ’’وإنما يؤخذ بالآخر فالآخر من فعل النبي صلی اللہ عليہ وسلم۔‘‘ (۸) یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زندگی کے آخری عمل کو لیا جائے گا۔
2:’’والزيادۃ مقبولۃ۔‘‘ (۹) یعنی (ثقہ راوی) کی زیادتی قبول ہوگی۔
3:’’والمفسر يقضی علی المبہم، إذا رواہ أہل الثبت کما روی الفضل بن عباس رضي اللہ تعالیٰ عنہما: أن النبي صلی اللہ عليہ وسلم لم يصل في الکعبۃ وقال بلال رضي اللہ تعالیٰ عنہ: قد صلی، فأخذ بقول بلالؓ وترک قول الفضل۔‘‘ (۱۰)
ترجمہ : ’’مبہم روایت کی وضاحت مفسر روایت سے کی جائے گی، جبکہ ثقہ راوی اُسے نقل کرے، جیسے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما  نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  نے کعبہ میں نماز نہیں پڑھی، حضرت بلال رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ پڑھی ہے۔ اب حضرت بلال رضی اللہ عنہ  کا قول لیا جائے گا اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما  کا قول چھوڑ دیا جائے گا۔‘‘
 یہاں پر حضرت بلال رضی اللہ عنہ  کی روایت میں تفسیر ہے، اس لیے قول ان کا ہی لیا جائے گا۔
4-مثبت اور منفی روایت میں مثبت روایت کو ترجیح ہوگی۔ یہ اصول امام بخاری ؒکی بیان کردہ اسی مثال سے ماخوذ ہیں :
 ’’کما روی الفضل بن عباس رضي اللہ تعالیٰ عنہما : أن النبي صلی اللہ عليہ وسلم لم يصل في الکعبۃ وقال بلال رضي اللہ تعالیٰ عنہ: قد صلی، فأخذ بقول بلالؓ و ترک قول الفضل۔‘‘ (۱۱)
 یہاں پر حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہما  کا قول منفی ہے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ  کا قول مُثبِت ہے، تو مُثبِت کو منفی پر ترجیح ہوگی۔

 ’’مقدمہ مسلم‘‘ میں موجود چند اہم اصول
 

اسی طرح امام مسلم ؒ (متوفی ۲۶۱ھ) نے اپنی معروف کتاب ’’صحیح مسلم‘‘ کے مقدمہ میں چند اہم اصول بیان کیے ہیں: مثلاً:
۱-’’حاملینِ حدیث ‘‘کی طبقات میں تقسیم ۔
۲-’’منکرِحدیث‘‘ کی طبقات میں تقسیم۔
۳-’’زیادتِ ’’ثقہ‘‘ ۔
۴-’’روایتِ حدیث‘‘ کے آداب ۔
۵-دین میں سند کا مقام و حیثیت اور سند کی اہمیت سے متعلق کبار اہلِ علم کے زریں اقوال۔
۶-جرح وغیبت کے درمیان فرق، نیز جرح غیبت میں داخل نہیں ۔
۷-’’حدیثِ معنعن‘‘ پر مدلل انداز میں بحث ۔
۸-احادیث گھڑنے کے اسباب ۔
۹-روایتِ حدیث میں افتراء کے اسباب ۔
۱۰-صحابہ کرام ؓ کی نقلِ حدیث میں احتیاط ۔
 اس قسم کے نہایت اہم اصول امام مسلم ؒنے اپنی کتاب صحیح مسلم کے مقدمہ میں بیان کیے ہیں۔

2-’’المحدث الفاصل بين الراوي والواعي‘‘
 

امام ابو محمد الحسن بن عبد الرحمٰن بن خلاد الرامہرمزیؒ، رامہرمز (۱۲) شہر کی طرف نسبت ہے جو کہ فارس میں خورستان کے اندر شہر کے ایک قصبہ میں واقع ہے اور یہ جنوب مغرب ایران میں ہے، جو خلیجِ عرب کے قریب ہے۔
مؤرخین نے ان کا سنِ ولادت ذکر نہیں کیا ہے، مگر غالب یہ ہے کہ ان کی ولادت ۲۶۵ ھ میں ہے ۔
’’وقال الإمام الذہبيؒ: کتاب ’’المحدث الفاصل بين الراوي والواعي علوم الحديث‘‘، وما أحسنہ من کتاب۔‘‘(۱۳)
’’امام ذہبی ؒ فرماتے ہیں کہ: ’’یہ کتاب ’’المحدث الفاصل بين الراوي والواعي‘‘ علوم الحدیث کے بارے میں ہے، اور بہت ہی اچھی کتاب ہے۔‘‘
اس کتاب کے بارے میں بہت سے علماء نے اظہار فرمایا ہے کہ اصول و علوم حدیث میں جامع کتاب ہے۔
 اس میں راوی ومحدث کے آداب، تحملِ حدیث اور صیغِ اداء کے طریقے بیان کیے ہیں۔
’’أول من صنف في ذٰلک القاضي أبو محمد الرامہرمزي في کتابہ ’’المحدث الفاصل بين الراوي والواعي‘‘ لکنہٗ لم يستوعب۔۔۔۔۔۔۔‘‘ (۱۴)
ترجمہ: ’’سب سے پہلے جس نے اس فن پر کتاب تصنیف کی‘ وہ قاضی ابو محمد رامہرمزی ہیں، جن کی کتاب کا نام ’’المحدث الفاصل‘‘ ہے، لیکن انہوں نے اس فن کا استیعاب نہیں کیا۔‘‘
 اس کتاب کی کبار محدثین نے تعریف کی ہے، اس میں علم حدیث اور راویوں کا مقام، طلب حدیث میں نیت، اوصافِ طالبِ حدیث، سندِ عالی اور نازل، طلبِ حدیث میں سفر، ایسے لوگ جو اپنے آباء و اجداد کی طرف منسوب ہیں یا جن کے نام متفق ہیں یا جو کنیتوں سے معروف ہو گئے ہیں، ان کے کارناموں کو اچھی طرح ضبط کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد سماعِ حدیث کی تفصیلی بحث مذکور ہے ۔
 یہ اس فن کی ابتدائی کتابوں میں سے ہے، اور ظاہر ہے فن پر پہلی مرتبہ جو کتاب لکھی جائے اس میں موضوع کا مکمل احاطہ اور استیعاب نہیں ہوپاتا، اس کتاب میں سماعت و درایت کے اہم اصول و آداب بیان کیے گئے ہیں، لیکن جامعیت و استیعاب نہیں، تاہم متقدمین کے ہاں اس کتاب کو ایک مستقل بنیادی حیثیت حاصل ہے، بعد میں آنے والے علماء نے اسی منہج پر اپنی کتابیں مدون کی ہیں، یہ کتاب ڈاکٹر عجاج خطیب کی تحقیق کے ساتھ مکتبہ ’’ دار الفکر‘‘ دمشق سے طبع ہوئی ہے۔ 

3-’’معرفۃ علوم الحديث‘‘

اس کتاب کے مصنف امام المحدثین ابو عبد اللہ حاکم نیساپوریؒہیں، ( ۳۲۱ھ - ۴۰۵ھ)ان کو ’’صاحب التصانیف‘‘ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کی تصنیفات تقریباً ایک ہزار کے قریب ہیں۔ ان کے بارے میں کہا گیا ہےکہ ان کا شمار اپنے زمانہ کے حفاظ میں کیا جاتا تھا : 
’’قیل: إن أربعۃ من الحفاظ تعاصروا الدارقطني ببغداد و عبد الغني بمصر وأبو عبد اللہ بن مندۃ بإصبہان وأبوعبد اللہ الحاکم بنیسابور، أما الدارقطني فأعلمہم بالعلل وأما عبدالغني فأعلمہم بالأنساب وأما ابن مندۃ فأکثرہم حديثا وأما الحاکم فأحسنہم تصنیفا۔‘‘ (۱۵)
امام حاکم ابی عبداللہ ؒ کی مشہور تصنیف ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے علومِ حدیث کے مباحث کو عمدہ اسلوب کے ساتھ باون (۵۲) انواع میں ذکر کیا ہے۔ یہ کتاب ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ بعد میں آنے والوں کے لیے ایک قابلِ اعتماد مرجع و ماخذ بنی، حافظ ابن صلاح ؒنے بھی کافی حد تک حاکم ہی کے نقشِ قدم کی پیروی کی ہے۔ مصطلحِ حدیث پر منظم طریقہ سے لکھی جانے والی کتابوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ حافظ ابن حجر ؒ اس کے متعلق لکھتے ہیں : 
 ’’والحاکم أبو عبد اللہ النيسابوري لکنہٗ لم يہذب ولم يرتب۔‘‘ (۱۶)
ترجمہ: ’’امام ابو عبد اللہ حاکم نیساپوری ؒنے (بھی کتاب تصنیف کی)، لیکن انہوں نے اسے مہذب و منقح نہیں کیا اور نہ مرتب کیا۔‘‘
اس کتاب ’’معرفۃ علوم الحدیث‘‘ کے تین نسخے ہندوستان سے شائع ہوئے ہیں: 
1- ایک نسخہ مکتبہ خدا بخش عظیم آباد سے چھپا ہے ۔
2- دوسرا نسخہ مولانا حبیب الرحمٰن خان شیروانی صاحب کے مکتبہ سے چھپا ہے ۔
3- تیسرا نسخہ سید معظم حسین کی تعلیق و تحقیق کے ساتھ ’’دائرۃ المعارف العثمانيۃ‘‘ حیدر آباد دکن سے چھپا ہے ۔ 

4- ’’المدخل إلٰی معرفۃ الصحيح والسقيم من الأخبار۔‘‘
 

یہ امام ابو عبد اللہ حاکم نیساپوری ؒکا ایک مختصر رسالہ ہے، جس میں انہوں نے اس فن سے متعلق چند مفید مباحث کا تذکرہ کیاہے، یہ کوئی مستقل تصنیف نہیں ہے، بلکہ در حقیقت یہ امام حاکمؒ کی مشہور تصنیف ’’الاکليل في الحديث‘‘ کا مقدمہ ہے، جو اس کتاب کی تصنیف کے بعد لکھا گیا تھا۔
 ’’الإکليل في الحديث‘‘ ایک جامع کتاب ہے، جس میں ہر قسم کی احادیث موجود ہیں، یہ رسالہ امیر منظور کی فرمائش پر لکھا گیا، اس میں حدیث صحیح کی دس قسمیں لکھی ہیں، پانچ متفق علیہ اور پانچ مختلف فیہ، پھر مجروحین کے بھی دس طبقات قائم کیے ہیں، اور اس پر ایسی مفید معلومات نقل کی ہیں جو دیگر اصولِ حدیث کی کتابوں میں نہیں ملتیں۔
 محقق العصر علامہ عبدالرشید نعمانی ؒ(متوفی ۱۴۲۰ھ) نے اس رسالے پر ایک مقالہ لکھا ہے، جو اردو زبان میں ’’ المدخل في أصول الحدیث کا تفصیلی ناقدانہ جائزہ‘‘ کے نام سے طبع ہے۔ اب یہ مقالہ ’’ اصولِ حدیث کی بعض اہم مباحث ‘‘ نامی کتاب میں موجود ہے۔
ابن خلدون  رحمۃ اللہ علیہ  نے امام ابوعبداللہ حاکم  ؒ کے بارے میں بجا طور پر فرمایا :
 ’’ومن فحول علمائہ - یعنی علوم الحديث - ۔۔۔ أبوعبد اللہ الحاکم، وتآليفہ فيہ مشہورۃ، وہوالذي ہذبہ وأظہر محاسنہ۔‘‘ (۱۷)
یعنی ’’اس فن میں کمال رکھنے والے علماء وائمہ میں امام ابو عبد اللہ حاکم  ؒ ہیں، ان کی تالیفات اس فن میں مشہور ہیں، ان ہی نے اس فن کو نکھارا اور اس کی خوبیاں اُجاگر فرمائی ہیں ۔‘‘

5- ’’المستخرج علی معرفۃ علوم الحديث‘‘
 

امام ابونعیم احمد بن عبداللہ اصبہانی ؒ (متوفی ۴۳۰ھ) نے امام حاکم ؒ کی کتاب ’’ معرفۃ علوم الحدیث‘‘ پر بعض استدراکات کیے ہیں اور جو مباحث ان سے چھوٹ گئے تھے‘ ان کا اضافہ کیا اور بعض تسامحات کی نشاندہی بھی کی یعنی کہ حاکم کے ذکر کردہ مسائل کو مزید منقح اور مثالوں سے واضح کر دیا، یا بعض مسائل پر واقع ہونے والے اعتراضات ذکر کر دیے ہیں ۔حافظ ابن حجرؒاس کتاب کے متعلق فرماتے ہیں:
’’وتلاہ أبو نعیم الأصفہاني فعمل علی کتابہ مستخرجا وأبقی أشیاء للمتعقب۔‘‘ (۱۸)
ترجمہ: ’’(امام حاکم ؒ) کے بعد ابو نعیم اصبہانی ؒ آئے، اور انہوں نے اس کتاب پر استخراج کا کام کیا اور کچھ چیزیں بعد میں آنے والوں کے لیے چھوڑ دیں ۔‘‘
 اس کتاب کے متعلق یہ ہے کہ اب تک اس کی طباعت نہیں ہوئی ہے اور اس کی موجودگی کے متعلق کچھ پتا نہیں ہے، مگر بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس کتاب کا ایک مخطوطہ ’’مکتبہ بریلی‘‘ میں ہے۔

6-’’الکفایۃ في علم الروايۃ‘‘

اس کتاب کے مصنف حافظ ابوبکر احمد بن علی بن ثابت ؒجو کہ خطيب بغدادی سے معروف ہے۔ (۳۹۲ھ-۴۶۳ھ)
 یہ کتاب مصطلحاتِ حدیث کے مسائل سے بھرپور اور روایت کے قواعد کے بیان سے بھری ہے۔ اس کتاب کا شمار اس فن کے اہم ترین مصادر میں ہوتا ہے۔ مصنف نے اس میں تمام مفید مباحث کو حسنِ ترتیب کے ساتھ ابواب کی صورت میں مرتب کیا ہے، اور بعض اہم باتوں کو سند کے ساتھ نقل کیا ہے، اس فن کی بنیادی مباحث کے لحاظ سے یہ کتاب نہایت جامع ہے۔

7- ’’الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع‘‘

اس کتاب میں خطیب بغدادی ؒنے محدث اور طالب کے آداب ذکر کیے ہیں، روایتِ حدیث کے دوران کن باتوں کی رعایت رکھنی چاہیے، حدیث لکھنے اور سننے کے آداب، کتابتِ حدیث اور تحریرِ حدیث کے آداب، حدیث کو آگے نقل کرنے کے آداب، اس قسم کے دیگر مفید آداب پر یہ کتاب مشتمل ہے، یہ کتاب شیخ محمود طحان کی تحقیق سے دو(۲)جلدوں میں ’’مکتبۃ المعارف‘‘ سے شائع ہوئی ہے ۔
 حافظ ابن حجر ؒ ان دونوں ( الکفايۃ، الجامع) کتابوں کے متعلق فرماتے ہیں:
’’ثم جاء بعد ہم الخطيب أبوبکر البغدادي، فصنف في قوانين الروايۃ کتابًا سماہ ’’الکفایۃ‘‘ وفي آداب سماہ ’’الجامع‘‘ وقل فن من فنون الحديث إلا وقد صنف فيہ کتابًا مفردًا۔‘‘ (۱۹)
ترجمہ : ’’ان کے بعد خطیب ابو بکر بغدادی آئے اور انہوں نے قوانینِ روایت کو ’’ الکفايۃ ‘‘ میں اور آدابِ روایت کو ’’الجامع‘‘ میں جمع کیا۔ انواعِ حدیث پر کوئی شاذونادر ایسا موضوع ہوگا جس پر انہوں نے مستقل کوئی کتاب نہ لکھی ہو۔‘‘

8-’’الإلماع إلٰی معرفۃ أصول الروايۃ وتقييد السماع‘‘
 

قاضی عیاض بن موسیٰ یحصبی مالکی ؒ (متوفی: ۵۴۴ھ) ایک مشہور و معروف مستند فقیہ و محدث ہیں۔ انہوں نے ایک رسالہ ’’الإلماع‘‘ لکھا، جس میں روایت و سماعت اور اس کے اصول وقواعد درج کیے۔ نظم و ترتیب کے اعتبار سے اس فن میں یہ نہایت مفید ہے۔ 
 اس کے اندر مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت نہایت مفید مضامین کا تذکرہ ہے:
۱-باب في شرف علم الحدیث وشرف أہلہ۔        ۲-باب في آداب سماع الطالب۔
۳-متی يصح سماع الصغير۔            ۴-القراءۃ علی الشيخ۔ 
۵- المناولۃ۔                     ۶- الإجازۃ لکتب معينۃ۔

یہ کتاب ترتیب و اُسلوب کے اعتبار سے نہایت مفید ہے، ہر اہم بات کو عنوان کے تحت سہل انداز میں تحریر کیا گیا ہے ۔

9-’’مالا یسع المحدث جہلہ‘‘
 

امام ابو حفص عمر بن عبدالمجيد المیانجی ؒ (متوفی ۵۸۱ھ) کا ایک مختصر رسالہ ہے، جس میں اختصار کے ساتھ حدیث کی چند مصطلحات کی تعریف کی گئی ہے ۔ حافظ ابن حجر ؒ نے اس رسالہ کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے : 
’’وأبو حفص الميانجي جزءا سماہ ’’ما لا یسع المحدث جہلہ ۔‘‘ (۲۰)
ترجمہ : ’’ابو حفص میانجی ؒ نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس کا نام ’’ما لا یسع المحدث جہلہ‘‘ ہے۔‘‘
 اس رسالہ کی ابتدا میں علم کی فضیلت سے متعلق احادیث ہیں اور پھر ’’حدثنا‘‘ اور ’’ أخبرنا‘‘ میں فرق ہے، اِجازہ اور مناولہ کے متعلق مختصر بحث ہے، پھر ایک باب ’’باب في اللحن‘‘ ہے جس میں حدیث ’’نضر اللہ امرأ‘‘ کو تحریر کیا ہے، پھر ’’باب من يروی عنہ ومن لا يروی عنہ‘‘ ہے۔ یہ رسالہ مشہور محقق عالم شیخ عبد الفتاح ابو غدہ ؒ(متوفی: ۱۴۱۷ھ) کی تعلیق و تخریج کے ساتھ ’’مطبوعات الإسلاميۃ‘‘ حلب سے شائع ہوا ہے ۔ شیخ عبد الفتاح  ؒنے ’’خمس رسائل في علوم الحديث‘‘ کے نام سے ایک کتاب تالیف کی ہےجس میں پانچ رسائل کو عمدہ تعلیقات کے ساتھ جمع کیا ہے، اور یہ رسالہ بھی ان میں شامل ہے۔

10-’’معرفۃ أنواع علوم الحديث المعروف مقدمۃ ابن صلاح‘‘

اس کے بعد حافظ ابن صلاح  ؒ (متوفی:۶۴۳ھ) نے ’’معرفۃ أنواع علوم الحديث‘‘ کتاب تصنیف کی، جو کہ مقدمہ ابن صلاح سے معروف ہے، جو اس فن کی سب سے اہم و مفید کتاب ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب میں تمام مباحث کو یکجا جمع کر دیا جو دیگر کتابوں میں متفرق تھے۔ اسی وجہ سے بعد میں آنے والے علماء نے اس کتاب کی خدمت کی ہے، بعض نے اس کا اختصار لکھا، بعض نے اس کو نظم میں لکھا، بعض نے اس پر استدراکات کیے، بعض نے اس میں اضافات کیے، بعض نے اس پر اعتراضات، تو دیگر بعض نے جوابات دیے ہیں، اس لیے آج تک اس کتاب کو اصولِ حدیث کے فن پر بنیادی کتاب سمجھتے ہوئے درساً پڑھایا جاتاہے، خصوصاً جو بھی اصولِ حدیث کے فن میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہو تووہ اس کا مطالعہ ضرور کرے گا ۔

حوالہ جات

۱-کان أول من احتاط في قبول الأخبار۔ تذکرۃ الحفاظ (ج: ۱، ص: ۲) مکتبۃ الحرم المکي - معرفۃ علوم الحديث، مقدمۃ المصحح۔
۲-وہو الذي سن المحدثين التثبت في النقل وربما کان يتوقف في خير الواحد إذا ارتاب الخ۔ تذکرۃ الحفاظ (ج: ۱، ص: ۴)، مکتبۃ الحرم المکي۔
۳-کان إماما عالما متحريا في الأخذ بحيث أنہ يستخلف من يحدثہ بالحديث۔ تذکرۃ الحفاظ (ج:۱، ص:۱۰)، مکتبۃ الحرم المکي۔
۴-صحیح البخاري، کتاب العلم (ج:۱، ص:۲۱) مکتبۃ قدیمی کتب خانہ۔
۵-مقدمۃ صحيح مسلم: باب بيان الإسناد من الدين الخ-(ج:۱، ص:۱۱)، مکتبۃ قديمی کتب خانہ۔
۶-العرف الفياح في شرح مقدمۃ ابن الصلاح، مکتبۃ غزنوی، ص: ۶۲۔
۷-صحیح البخاري، - کتاب العلم (ج:۱، ص: ۱۴- ۱۵ -۱۷- ۲۰- ۲۱)، مکتبہ قدیمی کتب خانہ۔
۸-المصدر السابق، (ج:۱، ص: ۹۴)، کتاب الأذان۔
۹- المصدر السابق، (ج:۱ ص:۲۰۱)، - کتاب الزکوۃ - باب العشر فيما يسقی من ماء السمآء و المآء الجاري۔
۱۰- المصدر السابق، (ج:۱، ص:۲۰۱)، - کتاب الزکوۃ الخ۔
۱۱- المصدر السابق، (ج:۱، ص: ۲۰۱)، کتاب الزکوۃ باب العشر فيما يسمی من مآء السمآء والمآء الجاري۔
۱۲-رامہرمز، بفتح الميم وضم الہاء، وسکون الراء الثانيۃ، وہي من کليتين (رام) و (ہرمز)۔
۱۳- مقدمۃ : المحدث الفاصل بين الراوي والواعي (ص: ۲۸)، مکتبہ دار الفکر۔
۱۴-شرح نحبۃ الفکر (ص: ۱۳)، قدیمی کتب خانہ۔
۱۵- مقدمۃ : معرفۃ علوم الحديث، المکتبۃ العلميۃ، تذکرۃ المصنف۔
۱۶-شرح نخبۃ الفکر (ص، ۱۳)، مکتبہ قدیمی کتب خانہ۔
۱۷-مقدمہ ابن خلدون، (ص، ۴۴۳)، الفصل السادس في علوم الحدیث من الباب السادس من الکتاب الأول في العلوم وأصنافہا الخ مطبعۃ مصطفی محمد۔
۱۸- شرح نخبۃ الفکر (ص: ۱۳)، قدیمی کتب خانہ۔
۱۹-شرح نخبۃ الفکر (ص: ۱۴)، قدیمی کتب خانہ۔
۲۰-شرح نخبۃ الفکر (ص، ۱۴)، قدیمی کتب خانہ۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے