بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

معروف حنفی محدث و فقیہ علامہ بدر الدین عینی  رحمۃ اللہ علیہ  حیات اور علمی خدمات

معروف حنفی محدث و فقیہ علامہ بدر الدین عینی  رحمۃ اللہ علیہ 

حیات اور علمی خدمات


احناف سے فقہی یا مسلکی اختلاف رکھنے والے حضرات کی طرف سے عام طور پر یہ بات باور کرائی جاتی ہے کہ حنفیہ میں فقہائے کرام تو بہت گزرے ہیں، لیکن علمِ حدیث میں مہارت رکھنے والے محدثین کی تعداد چند ایک سے زیادہ نہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر احناف کے طبقات وتراجم کا بنظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ مذہبِ حنفیہ میں اصحابِ حدیث اور محدثین کی تعداد دیگر فقہی مذاہب سے کسی طرح کم نہیں۔ احناف میں بھی چوٹی کے محدثین اور علومِ حدیث میں اجتہادی شان رکھنے والے فقہاء گزرے ہیں، جن کی حدیثی خدمات سے ایک دنیا مستفید ہو رہی ہے۔ ایسے ہی جلیل القدر حنفی محدثین میں سے ایک علامہ بدر الدین عینی  ؒ ہیں، جو حافظ ابنِ حجرؒ کے معاصر اور ان کے ہم پلہ کے تھے، نیز ایک محدث ہونے کے ساتھ بےمثال فقیہ بھی تھے۔ ذیل میں علامہ بدر الدین عینی  ؒکی حیات اور علمی خدمات کا تذکرہ اختصار کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔

نام و نسب اور ولادت

ان کا مکمل نام بدر الدین محمود بن احمد بن موسیٰ عینی ہے، ستائیس رمضان المبارک سن۷۶۲ھ کو مصر کے مشہور شہر حلب کے قریب ’’عین تاب‘‘ نامی شہر میں پیدا ہوئے، اور اسی کی طرف نسبت کرتے ہوئے انہیں عنتابی اور عینی کہا جاتا ہے۔(۱)

تحصیلِ علم

علامہ عینی  رحمۃ اللہ علیہ  ایک علمی گھرانے کے چشم وچراغ تھے، ان کے والد اور دادا اپنے علاقے میں قاضی رہ چکے تھے، چنانچہ علامہ عینی  ؒ بھی بچپن سے ہی علم کی راہ پر چل پڑے۔ سب سے پہلے انہوں نے قرآن پاک حفظ کیا، اور شاطبی وغیرہ کتبِ تجوید کی تعلیم حاصل کی، پھر صرف ونحو، منطق، ادبِ عربی اور فقہ وغیرہ کی تعلیم بھی اپنے علاقے کے علماء ومشائخ سے حاصل کی۔ اور بعدازاں مزید علم حاصل کرنے کے لیے اسفار شروع کیے، اور اپنے وقت کے جلیل القدر اہلِ علم سے کسبِ فیض کیا، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے:
 علامہ عینی  رحمۃ اللہ علیہ  کو تقریباً سات سال کی عمر میں ان کے والد مشہور ومعروف خطاط محمود بن احمد بن ابراہیم قزوینیؒ کے پاس لائے، چنانچہ علامہ عینی  ؒ نے ان سے خوش نویسی اور بعض خطوط سیکھے۔
قرآن پاک کا ابتدائی ربع حصہ شارحِ مصابیح علامہ محمد بن عبید اللہ  ؒ کے پاس پڑھا، لیکن قرآن مکمل حفظ شیخ معز الدین حنفی  ؒ کے پاس کیا، اور انہی سے شاطبیہ پڑھی۔
عربی ومنطق کی کتب، جیسے رمز الکنوز للآمدي، شرح مطالع الأنوار، مراح الأرواح، شرح الشافیۃ، شرح الشمسیۃوغیرہ شیخ شمس الدین محمد الراعی  ؒکے پاس پڑھیں۔
علامہ زمخشریؒ کی کشاف اور مفصل، اسی طرح صدر الشریعۃؒ کی توضیح اور بعض دیگر کتب کی تعلیم علامہ تفتازانی  ؒ کے شاگرد جبریل بن صالح بغدادیؒ سے حاصل کی۔
مختصر القدوري، منظومۃ للنسفي، مجمع البحرین وغیرہ کتب‘ میکائیل بن حسین ترکمانی  ؒ کے پاس پڑھیں۔
التبیان في المعانی والبیان اور مفتاح العلوم للسکاکي وغیرہ عیسیٰ بن الخاص سرماریؒ سے حاصل کیں۔
علامہ تقی الدین دجویؒ کے پاس متعدد کتبِ احادیث پڑھیں، جیسے کتبِ ستہ، مسند دارمی وغیرہ۔
علامہ زین الدین عراقی  ؒ کے پاس صحیح مسلم اور ابن دقیق العیدؒ کی ’’الإلمام‘‘ پڑھیں۔
الغرض علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ  نے متعدد علوم کی تعلیم اپنے فن میں ماہر اساتذہ سے حاصل کی، اور صرف اپنے علاقے کے علماء اور قرب وجوار کے مشائخ پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ ان سے استفادہ کرکے پھر مزید حصولِ علم کے لیے اسفار بھی کیے۔(۲)

دینی مسائل کی تشریح میں لوگوں کی عقل وفہم کا لحاظ رکھنا

حضرت علی  رضی اللہ عنہ  کا ارشاد ہےکہ : ’’لوگوں سے ان کی سمجھ کے مطابق باتیں بیان کرو، کیا تم یہ چاہو گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس  کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کی تکذیب کی جائے؟‘‘ (۳) اسی طرح حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ : ’’ہم کو حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے ان کی عقل کے مطابق باتیں کریں۔‘‘ (۴)
علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ  بھی اس پر عمل کرتے تھے، چنانچہ دینی مسائل کی تفہیم وتشریح میں لوگوں کی عقل وفہم کا لحاظ رکھتے تھے، وقت کے حاکم ملک اشرف علامہ عینی  رحمۃ اللہ علیہ  سے دینی مسائل کے بارے میں بہت سولات کرتے تھے، اور علامہ عینی  رحمۃ اللہ علیہ بھی ان کے فہم کا لحاظ رکھ کر جواب دیتے تھے، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک اشرف کو دین کے احکام میں شبہات نہیں رہتے تھے، چنانچہ اکثر اوقات وہ کہتے تھے:
’’لولا العينتابي لکان في إسلامنا شيء ۔‘‘ (۵)
’’اگر علامہ عینی  ؒ نہ ہوتے تو ہمارے اسلام میں کچھ کمی رہ جاتی۔‘‘

علامہ عینی  ؒ اور حافظ ابنِ حجرؒ کے درمیان معاصرانہ چشمک

علامہ عینی  ؒ اور حافظ ابن حجرؒ ہم عصر تھے، عمر کے لحاظ سے علامہ عینی  ؒ تھوڑے بڑے تھے، لیکن چونکہ علمی خدمات وغیرہ میں قریباً دونوں ایک دوسرے کے ہم سر تھے، اس پر مستزاد یہ کہ علامہ عینی  ؒ حنفی تھے، جبکہ حافظ ابنِ حجرؒ شافعی المسلک تھے، دونوں کی رہائش بھی ایک ہی علاقے میں تھی، دونوں حضرات منصبِ قضا پر فائز، اور بخاری کے شارح بھی تھے، اس لیے ان کے درمیان معاصرانہ چپقلش اور چشمک چلتی رہتی تھی، اور فریقین کے مابین علمی اعتراضات اور باہمی تردید وتنقید کا سلسلہ بھی جاری رہتا تھا۔
چنانچہ حاکمِ وقت ’’ملک مؤید‘‘ نے علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ  کو اپنی بنائی ہوئی مسجد میں درسِ حدیث کے لیے مقرر کیا، اتفاق سے اسی سال اس مسجد کا منارہ جھک کر گرنے کے قریب ہوگیا، اس پر حافظ ابن حجرؒ نے دو شعرکہے:

بجامع مولانا المؤيد رونق
منارتہٗ بالحسن تزہو و بالزين
تقول وقد مالت عليہم تمہلوا
فليس علی ہدمي أضر من ’’ العين‘‘(۶)

یعنی: ’’جناب مؤید کی جامع مسجد میں بڑی رونق ہے، اور اس کا منارہ فخر وزینت کی وجہ سے خوبصورت لگ رہا ہے، لیکن وہ لوگوں پر جھک کر کہتا ہےکہ ٹھہرو، مجھے منہدم کرنے کے سلسلے میں ’’عین‘‘ (نظرِ بد) سے زیادہ نقصان دہ کوئی چیز نہیں۔‘‘
اس شعر میں لفظِ عین سے مراد اگرچہ نظرِ بد ہے، لیکن اس سے علامہ عینی  ؒ پر بھی تعریض ہوتی ہے، کیونکہ ضرورتِ شعری کی بنا پر اسے ’’عیني‘‘ پڑھا جاتا ہے۔
علامہ عینی  ؒکو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے اس کے جواب میں درجِ ذیل دو شعر لکھ کر بھیج دیے:

منارۃ کعروس الحسن إذ جليت
و ہدمہا بقضاء اللہ والقدر
قالوا: أصيبت بعين، قلت: ذا غلط
ما أوجب الہدم إلا خسۃ ’’الحجر‘‘(۷)

یعنی: ’’یہ منارہ خوبصورت عروس کی طرح روشن تھا، اور اس کا گرنا محض اللہ تعالیٰ کی قضاء وقدر کی وجہ سے ہے، لوگوں نے کہا کہ اسے نظر لگ گئی ہے، میں نے کہا کہ: یہ بات غلط ہے، اسے تو ’’حجر‘‘ (پتھر) کی خرابی نے ہی گرایا ہے۔‘‘
تو اس شعر میں ’’حجر‘‘ سے مراد پتھر ہے، لیکن اس سے علامہ ابنِ حجرؒ پر بھی ایک گونہ تعریض ہوتی ہے۔

معاصرین سے استفادہ

علامہ عینی  ؒ اور حافظ ابنِ حجرؒ کے درمیان معاصرانہ تنافس اور چشمک مشہور ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں حضرات ایک دوسرے سے استفادہ کرنے سے شرم وحیا محسوس نہیں کرتے تھے، چنانچہ حافظ ابنِ حجرؒ نے علامہ عینی  ؒ سے بعض احادیث کا سماع کیا، اسی طرح علامہ عینی  ؒ بھی حافظ ابنِ حجرؒ کی تصانیف سے استفادہ کرتے رہتے تھے، (۸) بلکہ علامہ عینی  ؒ کے مرض الموت میں حافظ ابنِ حجرؒ جب عیادت کے لیے آئے تو اس وقت بھی علامہ عینی  ؒ اُن سے اپنے شیخ زین الدین عراقی  ؒ کی مسموعات کے بارے میں پوچھ رہے تھے، جیساکہ علامہ سخاویؒ نے اپنی آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔ (۹)
علمائے حق کی ایسی ہی شان ہوتی کہ علمی اختلافات اور مناقشات اپنی جگہ، لیکن یہ اختلافات باہمی رنجش اور ذاتی نزاع کا سبب نہیں بنتے تھے، اور نہ ایک دوسرے سے استفادہ کرنے سے مانع ہوتے۔ 

تلامذہ سے استفادہ

علامہ عینی  ؒ جس طرح اپنے معاصرین اور مخالفین سے استفادہ کرنے سے ہچکچاتے نہیں تھے، اسی طرح اپنے تلامذہ سے علمی مسائل پوچھنے میں بھی شرم وحیا محسوس نہیں کرتے تھے، چنانچہ اپنے شاگرد مؤلف ’’النجوم الزاہرۃ‘‘ علامہ ابن تغری بردیؒ سے بھی بعض تاریخی مسائل میں تحریری طور پر استفادہ کیا۔(۱۰)

تلامذہ وشاگرد

علامہ عینی  ؒ ایک طویل عرصہ منصبِ تدریس پر فائز رہے، جس کی وجہ سے کئی حضرات کو ان سے تلمُّذ کا موقع ملا، جن میں اپنے وقت کے کبار فقہاء ومحدثین اور بڑے مشائخ بھی ہیں، ذیل میں ان میں سے بعض حضرات کا نام ذکر کیا جاتا ہے:
۱- علامہ ابن ہمام محمد بن عبد الواحد سیواسیؒ (ت:۸۶۱ھ)
۲- علامہ سخاوی شمس الدین محمد بن عبد الرحمٰنؒ (ت:۹۰۲ھ)
۳- ابو الفضل احمد بن صدقہ عسقلانی المعروف ابن الصیرفی  ؒ (ت:۹۰۵ھ)
۴- ابو المحاسن یوسف بن تغری بردیؒ (ت:۸۷۴ھ)
۵- نجم الدین محمد بن عبد اللہ المعروف ابن قاضی عجلونؒ (ت:۸۷۶ھ)
ان کے علاوہ اور بھی بیسیوں حضرات کو علامہ عینی  ؒ سے شرفِ تلمّذ حاصل ہے۔

اساتذہ وشیوخ(۱۱)

علامہ بدر الدین عینی  ؒ نے اپنے وقت کے بڑے بڑے علماء ومشائخ سے علم حاصل کیا، جن میں فقہاء، محدثین، مفسرین، اُدباء اور دیگر مختلف علوم وفنون کے ماہرین شامل ہیں، ان میں سے چند ایک کا ذکر مندرجہ ذیل ہے:
۱: زین الدین عبد الرحیم بن الحسین عراقی  ؒ(ت:۸۰۶ھ)، مشہور ومعروف محدث ہیں، علومِ حدیث میں ألفیۃ، التقیید والإیضاح، اور المغني عن حمل الأسفار في الأسفار اور إحیاء العلوم کی احادیث کی تخریج اور دیگر کتب ان کی مضبوط علمی استعداد پر شاہد عدل ہیں۔
۲: ابو حفص عمر بن رسلان بلقینیؒ (ت:۸۰۵ھ)، اپنے وقت کے مشہور محدث اور علم حدیث کی معروف کتاب ’’محاسن الاصطلاح‘‘ وغیرہ کے مصنف ہیں۔
۳: نور الدین علی بن ابو بکر ہیثمیؒ (ت:۷۳۵ھ)، حدیث کی معروف کتاب مجمع الزوائد ومنبع الفوائد،اورموارد الظمآن إلٰی زوائد ابن حبان وغیرہ کے مؤلف اور حفاظِ حدیث میں سے تھے۔
اسی طرح احمد بن محمد سیرامیؒ (ت:۷۹۰ھ)، تقی الدین محمد دجویؒ (ت:۸۰۹ھ)، عیسی بن الخاص سرماریؒ (ت:۷۸۸ھ) اور دیگر اساطینِ علم کے سامنے زانوئے تلمُّذ طے کیے۔

اہلِ علم کی ان سے متعلق آراء

علامہ ابن تغری بردؒ فرماتے ہیں:
’’وکان إماماً فقيہاً أصولياً، نحوياً، لغوياً، بارعاً في علوم کثيرۃ، وأفتی ودرّس سنين، وصنّف التصانيف المفيدۃ النافعۃ۔‘‘ (۱۲)
یعنی ’’علامہ عینی  ؒ امام، فقیہ، اصولی، نحوی، لغوی اور بہت سے علوم میں ماہر تھے، کئی سال مسندِ تدریس وافتاء پر براجماں رہے، بہت سی نفع مند کتابیں تصنیف کیں۔‘‘
علامہ سخاوی  رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں:
’’وکان إماماً عالماً علامۃً عارفاً بالصرف والعربيۃ وغيرہا، حافظاً للتاريخ وللغۃ کثير الاستعمال لہا، مشارکاً في الفنون، ذا نظم ونثر، مقامہ أجل منہما، لا يمل من المطالعۃ والکتابۃ‎۔‘‘ (۱۳)
’’وہ امام، عالم، علامہ صرف وعربی وغیرہ جاننے والے، تاریخ ولغت کے حافظ اور زیادہ استعمال کرنے والے تھے، متعدد علوم وفنون میں دسترس حاصل تھی، منظوم ومنثور کلام کہنے اور مطالعہ اور تحریر سے نہ اُکتانے والے شخص تھے۔‘‘
ابن خطیب ناصریہؒ    فرماتے ہیں:
’’وہو إمام عالم فاضل مشارک في علوم، وعندہٗ حشمۃ ومروءۃ وعصبيۃ وديانۃ۔‘‘(۱۴)
’’وہ امام، عالم، فاضل، کئی علوم میں دسترس رکھنے والے تھے، ان کے پاس وقار، مروءت اور دیانت تھی۔‘‘
علامہ سیوطیؒ رقم طراز ہیں:
’’وکان إماماً عالماً علامۃً عارفاً بالعربيۃ والتصريف وغيرہما، حافظاً للغۃ۔‘‘(۱۵)
’’وہ امام، عالم، علامہ، علمِ صرف وادبِ عربی وغیرہ جاننے والے، لغت کے حافظ تھے۔‘‘

کتابت وتحریر میں سرعت

علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ  کثیر التصانیف تھے، علامہ سخاوی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں کہ: حافظ ابن حجرؒ کے بعد میں نے کسی کی تصانیف علامہ عینی  ؒ سے زیادہ نہیں دیکھیں، اس کے ساتھ خوش نویس بھی تھے، تحریر اور کتابت میں سرعتِ رفتار کا یہ عالم تھا کہ فقہ حنفی کی مشہور کتاب مختصر القدوري ایک ہی رات میں مکمل نقل کرلی۔ (۱۶)

تصانیف وتالیفات

علامہ عینی  ؒ نے متعدد علوم وفنون میں دسیوں گراں قدر کتابیں تصنیف کی تھیں، جن میں سے بعض کا ذکر حسبِ ذیل ہے:
۱- عمدۃ القاري: صحیح بخاری کی بہترین شرح ہے۔
۲- مغاني الأخيار:علامہ طحاویؒ کی کتاب ’’معاني الآثار‘‘ کے رجال سے متعلق ہے۔
۳- نخب الأفکار: علامہ طحاویؒ کی معاني الآثارکی لاجواب شرح ہے۔
۴-البنایۃ: فقہ حنفی کی مشہور ومعروف کتاب ’’ہدایہ‘‘کی ایک عمدہ شرح ہے۔
۵- رمز الحقائق شرح کنز الدقائق
۶-عقد الجمان في تاریخ أھل الزمان
اسی طرح اور بھی بہت سی کتب ہیں، جوآپ کی علمیت اور مختلف علوم میں مہارت کی واضح دلیل ہیں۔(۱۷)

انتقال پُر ملال

علامہ بدر الدین عینی  رحمۃ اللہ علیہ  نے ماہِ ذو الحجہ سن ۸۵۵ھ کو دارِ فانی سے دار البقا کی طرف رحلت فرمائی، انتقال کے وقت اُن کی عمر تقریباً ۹۳ سال تھی۔ (۱۸)
 

حواشی وحوالہ جات

۱- الضوء اللامع لأہل القرن التاسع للسخاوي، (۱۰/۱۳۱)، الناشر: دار الجيل- بيروت
۲- الضوء اللامع للسخاوي، (۱۰/۱۳۱)
۳-  صحيح البخاري، کتاب العلم، باب من خص بالعلم قوماً دون قوم، (۱/۳۷)، الناشر: دار طوق النجاۃ، ۱۴۲۰ھ
۴-  کنز العمال، (۱۰/۲۴۲)، الناشر: مؤسسۃ الرسالۃ- بيروت، ط:۱۴۰۱ھ- ۱۹۸۱ء
۵-  النجوم الزاہرۃ في ملوک مصر والقاہرۃ لابن تغري بردي، (۱۶/۱۰)، الناشر: دار الکتب، مصر  
۶-  بغيۃ الوعاۃ للسيوطي، (۲/۲۷۶)، الناشر: المکتبۃ العصريۃ، لبنان
۷-  سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي للعصامي، (۴/۴۶)، الناشر: دار الکتب العلمیۃ- بيروت، ط:۱۴۱۹ھ
۸-  الضوء اللامع للسخاوي، (۱۰/۱۳۳)
۹-  التبر المسبوک في ذيل السلوک للسخاوي، (ص:۳۷۸)، الناشر: مکتبۃ الکليات الأزہريۃ- القاہرۃ
۱۰-  النجوم الزاہرۃ في ملوک مصر والقاہرۃ لابن تغري بردي، (۱۶/۱۰)
۱۱-  الضوء اللامع للسخاوي، (۱۰/۱۳۱)
۱۲-  النجوم الزاہرۃ في ملوک مصر والقاہرۃ لابن تغري بردي، (۱۶/۱۰)
۱۳-  الضوء اللامع للسخاوي، (۱۰/۱۳۳)
۱۴-  المصدر السابق
۱۵-  بغيۃ الوعاۃ للسيوطي، (۲/۲۷۵)
۱۶-  الضوء اللامع للسخاوي، (۱۰/۱۳۳)
۱۷-  الفوائد البہيۃ في تراجم الحنفيۃ للکنوي، (ص:۲۰۷)، الناشر: دار السعادۃ، مصر
۱۸-  التبر المسبوک للسخاوي، (ص:۳۷۸)- وحسن المحاضرۃ في تاريخ مصر والقاہرۃ للسيوطي، (۱/۴۷۴)، الناشر: دار إحياء الکتب العربيۃ، مصر

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے