
طلبہ کی تعلیمی قابلیت اور استعداد جانچنے کے لیے ’’جائزہ‘‘ یا ’’امتحان‘‘ لینے کا عمل سرانجام دیا جاتا ہے، جسے عام طور پر ’’اسیسمنٹ‘‘ Assessment بھی کہا جاتا ہے اور اس کے مختلف طریقے رائج ہیں۔ تعلیمی اداروں کا مقصد طلباء میں ان صلاحیتوں اور استعداد کا بنانا ہوتا ہے جو کہ وہ اپنے نصاب میں متعین کرتے ہیں۔ مستقبل میں نوکریوں کے حصول کے وقت یا پھر اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے داخلوں کے وقت یہ طلباء ان جائزوں کے نتائج کے ذریعے اپنی تعلیمی قابلیت و استعداد کو ظاہر کرتے ہیں اور پھر عملی زندگی میں حاصل کی گئی مہارتوں اور علوم کو مختلف شعبوں میں استعمال کرتے ہیں۔تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے طلبائے کرام کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اپنے تجزیاتی اسکلز وغیرہ کو بڑھائیں۔ بعض مرتبہ کچھ طلباء مطلوبہ صلاحیتوں اور استعداد بنائے بغیر ہی اچھے امتحانی نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ غلط ذرائع استعمال کرتے ہیں، مثلاً: نقل کرنا۔ نقل کی مختلف اقسام ہیں اور ان اقسام کی بنیاد پر یونیورسٹیوں میں مختلف سزائیں ہوتی ہیں اور جرمانے لگتے ہیں۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں سرقہ، جعل سازی، اور اکیڈمک مس کنڈکٹ سے متعلق واضح پالیسیاں موجود ہیں۔ پہلے ہم اکیڈمک مس کنڈکٹ کی تعریف سمجھتے ہیں، پھر دنیا کی کچھ بہترین یونیورسٹیوں کی مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسیوں کا ذکر کریں گے۔
کیمبرج یونیورسٹی برطانیہ اکیڈمک مس کنڈکٹ یعنی تعلیمی بد انتظامی کی تعریف یوں کرتی ہے۔
‘‘Academic misconduct, broadly speaking, is any action which gains, attempts to gain, or assists others in gaining or attempting to gain unfair academic advantage. It includes plagiarism, collusion, contract cheating, and fabrication of data as well as the posession of unauthorised materials during an examination.’’ (1)
’’اکیڈمک مس کنڈکٹ یعنی تعلیمی بد انتظامی، عمومی طور پر، کوئی بھی ایسا عمل ہے جس سے غیر منصفانہ تعلیمی فائدہ حاصل کیا جائے، یا حاصل کرنے کی کوشش کی جائے، یا دوسروں کی مدد کی جائے کہ وہ غیر منصفانہ فائدہ حاصل کریں یا غیر منصفانہ فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔اس میں سرقہ، ملی بھگت، کانٹریکٹ چیٹنگ، ڈیٹا کی جعل سازی کے ساتھ ساتھ امتحان کے دوران غیر مجاز مواد کا رکھنا بھی شامل ہے۔‘‘
اکیڈمک مس کنڈکٹ کی تعریف سمجھنے کے بعد اب ہم قارئین کے سامنے دنیا کی چند مشہور یونیورسٹیوں کی مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسوں کا ذکر کرتے ہیں۔
آسٹریلیا کے بہترین یونیورسٹیوں میں سے ایک یونیورسٹی، یونیورسٹی آف میلبورن ہے اور اس کا شمار دنیا کی بڑی اور عالمی معیار کی یونیورسٹیوں میں ہوتا ہے(2) ۔کیو ایس رینکنگ کے مطابق یہ آسٹریلیا میں پہلے نمبر پر اور عالمی سطح پر تیرہویں نمبر پر شمار ہوتی ہے(3)، جبکہ ٹائمز ہائیر ایجوکیشن برطانیہ کے مطابق عالمی رینکنگ میں اس کا شمار اُنتالیسویں نمبر پر ہوتا ہے ۔(4)
یونیورسٹی آف میلبورن، آسٹریلیا کی مصنوعی ذہانت کے متعلق واضح پالیسی ہے کہ :(5)
‘‘The University of Melbourne’s Student Academic Integrity Policy (MPF1310) makes clear that all work submitted by an individual student must be their own.
The penalties for submitting work that is not a student’s own include failure of the subject, suspension and expulsion, depending on the severity of the case and/or any prior offences.’’
If a student uses artificial intelligence software such as ChatGPT or QuillBot to generate material for assessment that they represent as their own ideas, research and/or analysis, they are NOT submitting their own work. Knowingly having a third party, including artificial intelligence technologies, write or produce any work (paid or unpaid) that a student submits as their own work for assessment is deliberate cheating and is academic misconduct.’’
’’جو بھی کام طلباء جمع کروائیں وہ اُن کا اپنا اصلی کام ہونا چاہیے۔
وہ جمع کروایا گیا کام جوکہ طالبِ علم کا اپنا نہ ہو، اس پر مختلف اقسام کے جرمانے لگیں گے جن میں اس مضمون میں فیل کرنا، معطلی، اور اخراج شامل ہے اور اس کا انحصار کیس کی شدت اور سابقہ جرم پر انحصار کرتا ہے۔
اگر کسی طالب ِ علم نے مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر مثلاً چیٹ بو ٹ یا کوئیل بوٹ کو استعمال کرکے جائزے کا مواد تیار کیا اور اس مواد کو اپنا آئیڈیا، تحقیق یا تجزیہ بنا کر پیش کرتا ہے، تو وہ اپنا کام پیش نہیں کررہا۔ یہ جاننا چاہیے کہ کسی تھرڈ پارٹی، جس میں مصنوعی ذہانت شامل ہے، کے ذریعے تحریر کرنا (چاہے پیسے دے کر یا مفت) جو کہ طالبِ علم اپنا کام بنا کر پیش کرتا ہے، یہ جان بوجھ کر دھوکہ دہی اوراکیڈ مک مس کنڈکٹ کہا جاتا ہے۔‘‘
یونیورسٹی آف کیمبرج، برطانیہ کے نام سے کون واقف نہیں۔ کیو ایس رینکنگ کے مطابق یونیورسٹی آف کیمبر ج عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر آتی ہے، جبکہ ٹائمز ہائیر رینکنگ کے مطابق پانچویں نمبر پر آتی ہے۔ یونیورسٹی آف کیمبرج نے واضح ہدایات دی ہیں کہ :(6)
"A student using any unacknowledged content generated by artificial intelligence within a summative assessment as though it is their own work constitutes academic misconduct, unless explicitly stated otherwise in the assessment brief."
’’طالب علم اگر کوئی ایسا مواد استعمال کرتا ہے جو کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا ہو اور جس کے بارے میں یہ واضح طور پر اس نے یہ نہ لکھا کہ یہ مواد اس نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا ہے اور اس مواد کو بطور اپنے کام کے پیش کرے تو یہ اکیڈمک مس کنڈکٹ کے طور پر سمجھا جائے گا، تاوقتیکہ کہ یہ نہ کہا گیا ہو کہ طالب علم مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے مواد تیار کرسکتا ہے۔‘‘
برطانیہ کی یونیورسٹی آف برمنگھم دنیا کی سو بہترین جامعات میں سے ایک ہے۔ان کی واضح پالیسی ہے کہ:
’’ کوڈ آف پریکٹس یہ بتاتا ہے کہ آپ جنریٹیو اے آئی کی آؤٹ پٹ کو اسیسمنٹ (جائزہ یا امتحان) میں استعمال نہیں کرسکتے ( یعنی مصنوعی ذہانت نے جو مواد تیار کیا ہے)، جب تک کہ اس کی واضح طور پر اجازت نہ دی گئی ہو۔اس کا مطلب ہے کہ آپ ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کر رہے ہوں گے، اگر آپ ان ٹولز کے ذریعہ تیار کردہ کام کو اپنا بنا کر جمع کراتے ہیں، یا اسے اپنے کام میں شامل کرتے ہیں، بغیر واضح اجازت کے ۔‘‘
‘‘The Code of Practice stipulates that you cannot use the output of Generative AI (i.e., the content it creates) in any assessment, unless explicitly authorised. This means you would be breaching the Code of Practice if you submit work generated by these tools as your own, or incorporate it into your own work, without explicit permission.’’(7)
دنیا کے بہترین جامعات میں سے ایک امریکہ کی مشہور اسٹینفورڈ یونیورسٹی ہے، ان کی پالیسی درجِ ذیل ہے:
‘‘Absent a clear statement from a course instructor, use of or consultation with generative AI shall be treated analogously to assistance from another person. In particular, using generative AI tools to substantially complete an assignment or exam (e.g. by entering exam or assignment questions) is not permitted. Students should acknowledge the use of generative AI (other than incidental use) and default to disclosing such assistance when in doubt.’’ (8)
’’مصنوعی ذہانت کے بارے میں کسی کورس انسٹرکٹر کی جانب سے واضح بیان کی عدم موجودگی میں جنریٹو مصنوعی ذہانت کے استعمال یا اس کے ساتھ مشورہ لینا ایسا ہی سمجھا جائے گا کہ آپ نے کسی دوسرے شخص سے مدد لی ہے۔بالخصوص، کسی اسائمنٹ یا امتحان کا بڑا حصہ جنریٹیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کرنا (مثلاً امتحان یا اسائنمنٹ کے سوالات درج کرکے)۔ طلباء کو جنریٹیو مصنوعی ذہانت کے استعمال کا اظہار کرنا چاہیے اور جب کبھی بھی شک کا شکار ہوں تو لی گئی مدد کا اظہار کردینا چاہیے۔‘‘
جانز ہاپکنز یونیورسٹی، امریکہ واضح طور پر مصنوعی ذہانت کے استعمال کو منع کرتی ہے:
‘‘The use of generative AI tools is strictly prohibited in all assessments to ensure fair evaluation of individual student performance.’’ (9)
’’جنریٹیو مصنوعی ذہانت کے ٹولز کا استعمال تمام اسیسمنٹ کے اندر سختی سے ممنوع ہے، تاکہ طلباء کی انفرادی کارکردگی کا منصفانہ جائزہ یقینی بنایا جاسکے۔‘‘
یونیورسٹی آف شکاگو، امریکہ مصنوعی ذہانت سے تیار کیے گئے مواد کو گمراہ کن اور غلط کہتی ہے:
‘‘AI-generated content may be misleading or inaccurate. Generative AI technology may create citations to content that does not exist. Responses from generative AI tools may contain content and materials from other authors and may be copyrighted. It is the responsibility of the tool user to review the accuracy and ownership of any AI-generated content.’’ (10)
’’مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد گمراہ کن یا غلط ہو سکتا ہے۔ جنریٹیو مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ایسے مواد کے حوالے بنا سکتی ہے جو موجود نہیں ہے۔ جنریٹیو مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے جوابات میں دوسرے مصنفین کے مواد اور میٹریل شامل ہو سکتے ہیں جو کہ کاپی رائٹ ہو ں۔ یہ ٹول استعمال کرنے والے صارف کی ذمہ داری ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ کسی بھی مواد کی درستگی اور ملکیت کا جائزہ لے۔‘‘
امپیریل کالج لندن، برطانیہ بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال سے منع کرتا ہے:
‘‘Where there is no explicit instruction to use generative AI tools, it would not be considered acceptable to use them to write your assessed work.
Unless explicitly authorised to use as part of an assessment, the use of generative AI tools to create assessed work can be considered a form of contract cheating, which is addressed on Imperial's Plagiarism, Academic Integrity & Exam Offences web page as well as within the library’s Plagiarism Awareness courses.’’ (11)
’’جہاں جنریٹیو مصنوعی ذہانت کے ٹولز استعمال کرنے کی واضح ہدایات موجود نہیں ہیں، وہاں یہ قابلِ قبول نہیں ہوگا کہ انہیں آپ اپنے اسیسمنٹ لکھوانے کے لیے استعمال کریں۔
جنریٹیو مصنوعی ذہانت کے ٹولز کو استعمال کرکے اسیسمنٹ کے مواد کو تیار کرنے کو ایک قسم کی کانٹریکٹ نقل سمجھا جائے گا جب تک واضح طور پر اسے اسیسمنٹ کے کچھ حصے میں استعمال کرنے کی منظوری نہ دی گئی ہو، جسے امپیریل کے ادبی سرقہ، تعلیمی سالمیت اور امتحانی جرائم کے ویب صفحہ کے ساتھ ساتھ لائبریری کے ادبی سرقہ سے آگاہی کورس کے اندر بھی بتایا گیا ہے۔‘‘
یونیورسٹی کالج لندن، برطانیہ بھی مصنوعی ذہانت کو امتحانات اور اسیسمنٹ میں استعمال سے منع کرتی ہے:
‘‘It is not acceptable to use GenAI tools to write your entire assessment and present this as your own work. Words and ideas from GenAI tools are making use of other human authors' ideas without referencing them, which is considered by many to be a form of plagiarism.’’ (12)
’’یہ قابلِ قبول نہیں ہے کہ جنریٹیو مصنوعی ذہانت کو استعمال کرکے آپ اپنا پورا اسیسمنٹ کا مواد تیار کریں اور اسے آپ کے اپنے کام کے طور پر پیش کریں۔ جنریٹیو اے آئی سے بنائے گئے الفاظ اور خیالات دوسرے انسانی مصنفین کے خیالات کا حوالہ دیے بغیر انہیں استعمال کررہے ہیں، جسے بہت سارے لوگ سرقہ کی ایک قسم سمجھتے ہیں۔‘‘
یونیورسٹی آف آیڈنبرا، برطانیہ بھی واضح طور پر کہتا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد قابلِ قبول نہیں ہوگا:
‘‘All work submitted for assessment should be your own original work.
It is not acceptable to present AI-generated content as your own work. If you do, this will be regarded as academic misconduct.’’ (13)
’’اسیسمنٹ کے لیے جمع کیا گیا تمام مواد آپ کا اپنا اصلی کام ہونا چاہیے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کو اپنے کام کے طور پر پیش کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو اسے اکیڈمک مس کنڈکٹ یعنی تعلیمی بدانتظامی سمجھا جائے گا۔‘‘
جرمنی کی یونیورسٹی آف بون بھی سختی سے مصنوعی ذہانت کے استعمال کو منع کرتی ہے:
‘‘Please note that the use of AI (such as ChatGPT) is prohibited in the context of term papers and theses. It is considered an unauthorized aid unless expressly permitted by the examiners. This also pertains to AI-based translation software.’’ (14)
’’براہِ کرم نوٹ کریں کہ ٹرم پیپرز اور تھیسس میں مصنوعی ذہانت (مثلاً: چیٹ جی پی ٹی) کا استعمال ممنوع ہے۔ اسے ایک غیر مجاز مدد سمجھا جاتا ہے، تاوقتیکہ ممتحن کی طرف سے واضح طور پر اس کی اجازت نہ دی گئی ہو۔ اور یہ بات مصنوعی ذہانت کی بنیاد پر ترجمہ کرنے والے سافٹ وئیر پر بھی لوگو ہے۔‘‘
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی بہترین یونیورسٹیاں مصنوعی ذہانت کے متعلق واضح پالیسیاں رائج کرچکی ہیں اور ان یونیورسٹیوں میں مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیرز سے مواد بنوا کر اسے اپنے آئیڈیا، تحقیق یا تجزیہ بنا کر پیش کرنے پر مکمل پابندی ہے اورطالبِ علم کے اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سخت قسم کے جرمانے شامل ہیں جن میں مضمون میں فیل، اخراج یا معطلی تک شامل ہے۔مگر افسوس اس بات پر ہوتا ہے کہ بعض حضرات جن پر مغرب کی ٹیکنالوجی کو ہر صورت اختیار کرنے کا بھوت سوار ہے‘ وہ مصنوعی ذہانت کو طلبائے کرام کو استعمال کرنے کی ترغیب دیتے نظر آتے ہیں۔ اگر ہمیں طلبائے کرام کے اندر صلاحیت و استعداد پیدا کرنی ہے تو مصنوعی ذہانت سے مکمل احتراز کیا جائے۔ مصنوعی ذہانت سے احتراز کرنے سے طلبائے کرام کے اندر عملی طور پر کتابوں سے مناسبت پیدا ہوگی، تحقیق کی جستجو ہوگی ورنہ کاہلی، کام چوری، سستی اور ٹھوس استعداد پیدا نہ ہوسکے گی۔ مصنوعی ذہانت کو طلبائے کرام میں ترویج دینے والے حضرات سے ہماری گزارش ہے کہ اگر آپ کو ہماری بات سمجھ نہیں آتی تو اللہ کے واسطے انہی ترقی یافتہ ممالک کی یونیورسٹیوں کی پالیسیوں پر ہی عمل کرلیجیے اور مصنوعی ذہانت کو طلبائے کرام کے تعلیمی و تدریسی استعمال سے مکمل احتراز کیجیے۔
مندرجہ بالا ٹھوس سائنسی حوالہ جات کے اقتباسات سے یہ امور واضح ہوتے ہیں کہ:
* بلا اجازت امتحانات کے اندر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کے استعمال پر دنیا بھر کی بیشتر یونیورسٹیوں میں سختی سے پابندی عائد ہے۔
* طلبائے کرام کو روزمَرَّہ کی زندگی میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے روکنا ایک مشکل عمل ہے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر انٹرنیٹ پر بآسانی مفت دستیاب ہیں۔ مسئلہ جب پیش آتا ہے جب طلبائے کرام مصنوعی ذہانت کو اس عنوان سے استعمال کرتے ہیں کہ وہ اس کے ذریعے مختلف مہارتوں اور فنون کو سیکھیں گے، جبکہ اس کے بالکل برعکس وہ ان مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کا استعمال کرتے ہوئے ان سے امتحانی مواد تیار کرتے ہیں، مثلاً کسی مضمون میں مدرس نے طلبائے کرام کو کسی موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھنے کا کہا، تاکہ اُن طلبائے کرام میں تحقیق کرنے کی استعداد پیدا ہو تو بعض طلبائے کرام کانٹریکٹ چیٹنگ کے ذریعے وہ مقالہ کسی سے پیسے دے کر لکھوالیتے تھے، مگر اب جبکہ مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر تک طلبائے کرام کی بآسانی مفت رسائی حاصل ہے، لہٰذا طلبائے کرام کی ایک بڑی تعداد کا اس طرف رجحان پیدا ہورہا ہے کہ وہ اپنے تعلیمی و تدریسی کام ان مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر سے کروائیں اور نتیجتاً بعض طلبائے کرام مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر سے وہ مقالہ لکھوالیتے ہیں۔ طلبائے کرام کے مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر کو بطور علمی سرقہ کے اس وسیع استعمال کے پیشِ نظر یونیورسٹیوں کی انتظامیہ اور عالمی تدریسی اداروں نے سائنسی تدریسی تحقیقات کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ طلبائے کرام کے اس بڑھتے ہوئے مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ان کی تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں پر منفی اثر پڑتا ہے، جس کی عمومی طور پر دنیا بھر کی یونیورسٹیاں حوصلہ شکنی کرتی ہیں۔ طلبائے کرام کے لیے لازم ہے کہ جو بھی کام طلباء جمع کروائیں وہ اُن کا اپنا اصلی کام ہونا چاہیے، یعنی اسیسمنٹ کے لیے جمع کیا گیا تمام مواد طالب علم کا اپنا اصلی کام ہونا چاہیے۔
* اگر کسی طالب ِ علم نے مصنوعی ذہانت کے سافٹ وئیر مثلاً چیٹ بو ٹ کو استعمال کرکے جائزے کا مواد تیار کیا اور اس مواد کو اپنا آئیڈیا، تحقیق یا تجزیہ بنا کر پیش کرتا ہے، تو وہ اپنا کام پیش نہیں کررہا۔ اگر کوئی طالبِ علم مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کو اپنا کام بنا کر پیش کرتا ہے، اُسے جان بوجھ کر دھوکہ دہی اوراکیڈ مک مس کنڈکٹ کہا جاتا ہے۔
* امتحانات میں جنریٹو مصنوعی ذہانت کے استعمال یا اس کے ساتھ مشورہ لینا ایسا ہی سمجھا جائے گا کہ آپ نے کسی دوسرے شخص سے مدد لی ہے۔ بالخصوص کسی اسائمنٹ یا امتحان کا بڑا حصہ جنریٹیو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کرنا (مثلاً امتحان یا اسائنمنٹ کے سوالات درج کرکے)۔
* جنریٹیو اے آئی سے بنائے گئے الفاظ اور خیالات دوسرے انسانی مصنفین کے خیالات کا حوالہ دیے بغیر انہیں استعمال کررہے ہیں، جسے بہت سارے لوگ سرقہ کی ایک قسم سمجھتے ہیں، لہٰذا ان سے تیار کردہ مواد کو استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔
* بعض مرتبہ کچھ طلباء مطلوبہ صلاحیتوں اور استعداد بنائے بغیر ہی اچھے امتحانی نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ غلط ذرائع استعمال کرتے ہیں، مثلاً: نقل کرنا۔ نقل کی مختلف اقسام ہیں اور ان اقسام کی بنیاد پر یونیورسٹیوں میں مختلف سزائیں ہوتی ہیں اور جرمانے لگتے ہیں۔ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں سرقہ، جعل سازی، اور اکیڈمک مس کنڈکٹ سے متعلق واضح پالیسیاں موجود ہیں اور بیشتر عالمی یونیورسٹیاں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کو جعل سازی اور ایکڈمک مس کنڈکٹ ہی گردانتی ہیں۔
1- Academic Misconduct, University of Cambridge, United Kingdom.
Link: https://www.plagiarism.admin.cam.ac.uk/what-academic-misconduct
2-University of Melbourne, Australia.
Link:https://academicintegrity.unimelb.edu.au/plagiarism-and-collusion/artificial-intelligence -tools-and-technologies
3-University of Melbourne, Australia QS Ranking. https://about.unimelb .edu .au /facts-and-figures
4-Times Higher Education Ranking.https://www.timeshighereducation.com/world -university-rankings/university-melbourne.
5-Statement on the use of artificial intelligence software in the preparation of material for assessment, University of Melvourne, Australia.
Link:https://academicintegrity.unimelb.edu.au/plagiarism-and-collusion/artificial -intelligence-tools-and-technologies
6-Plagiarism and Academic Misconduct, University of Cambridge, United Kingdom.
Link:https://www.plagiarism.admin.cam.ac.uk/what-academic-misconduct/artificial -intelligence
7- Student and PGR guidance on using GenAI tools ethically for work , Univeristy of Birmingham, United Kingdom.
Link:https://intranet.birmingham.ac.uk/student/libraries/asc/student-guidance-gai. aspx
8- Stanford University, USA.
Link: https://communitystandards.stanford.edu/generative-ai-policy-guidance
9- John Hopkins University, USA.
Link: https://engineering.jhu.edu/cmts/chatgpt/student-use-of-generative-ai/
10- The University of Chicago, USA.
Link:https://genai.uchicago.edu/about/generative-ai-guidance
11- Imperial College London, United Kingdom.
Link:https://www.imperial.ac.uk/admin-services/library/learning-support/generative -ai-guidance/
12- University College London, United Kingdom.
Link:https://www.ucl.ac.uk/students/exams-and-assessments/assessment-success-guide /engaging -generative-ai-your-education-and-assessment
13- University of Edinburgh, United Kingdom.
Link:https://information-services.ed.ac.uk/computing/comms-and-collab/elm/guidance -for -working-with-generative-ai
14- University of Bonn, Germany.
Link:https://www.philfak.uni-bonn.de/en/studying/examination-office/in-study/ attempts-at-deception-and-plagiarism.