بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مسلمانوں کی فتوحات کا راز غیرمسلم مفکرین کی نظر میں

مسلمانوں کی فتوحات کا راز


غیرمسلم مفکرین کی نظر میں


اللہ سبحانہ و تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
’’وَلَا تَہِنُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنِيْنَ‘‘ (آل عمران:۱۳۹)
ترجمہ: ’’ اور تم ہمت مت ہارو اور رنج مت کرو غالب تم ہی رہوگے اگر تم پورے مومن رہے۔‘‘ 
ایک اور آیت میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَعَدَ اللہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِیْ الْاَرْضِ کَـمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِیْ ارْتَضٰی لَہُمْ وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا یَعْبُدُوْنَنِیْ لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَـیْــــًٔـا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰۗیِٕکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ‘‘   (النور: ۵۵)
ترجمہ: ’’(اے مجموعۂ اُمت!) تم میں جو لوگ ایمان لاویں اور نیک عمل کریں، ان سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو (اس اتباع کی برکت سے) زمین میں حکومت عطا فرمائے گا، جیسا ان سے پہلے ( اہلِ ہدایت) لوگوں کو حکومت دی تھی اور جس دین کو ( اللہ تعالیٰ نے) ان کے لیے پسند کیا ہے (یعنی اسلام) اس کو ان کے (نفعِ آخرت کے) لیے قوت دے گا اور ان کے اس خوف کے بعد اس کو مبدّل بہ امن کر دے گا، بشرطیکہ میری عبادت کرتے رہیں (اور) میرے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کریں اور جو شخص بعد (ظہور) اس (وعدے) کے ناشکری کرے گا تو یہ لوگ بےحکم ہیں۔ ‘‘
قرآنِ کریم کی ان ابدی اور آفاقی تعلیمات کی صداقت اور عملی حقیقت کا اظہار ہمیں متعدد غیر مسلم قائدین اور مفکرین کے اقوال واقرار میں بھی ملتا ہے، وہ لوگ جنہوں نے شاید کبھی قرآن کو ہاتھ بھی نہ لگایا ہو، مگر حقیقت کبھی پردۂ خفا میں نہیں رہتی، بلکہ بالآخر آشکار ہو کر رہتی ہے۔ ممکن ہے کہ جاہل اور ہٹ دھرم افراد کے لیے یہ حقیقت واضح نہ ہو، مگر صاحبِ ضمیر اور اہلِ فکر انسانوں کے لیے یہ بالکل روشن ہوتی ہے۔ 
ہم تاریخ کے اوراق سے ایسے چند نمایاں شواہد پیش کر رہے ہیں جن میں غیر مسلم مفکرین نے خود مسلمانوں کے ایمان اور عمل کی برتری کا اعتراف کیا ہے، اور اسی کو مسلمانوں کی قوت کا اصل سرچشمہ اور ان کی ہمہ گیر فتوحات کا بنیادی راز قرار دیا ہے۔ 

رومی شہنشاہ ہرقل کا اعترافِ حقیقت

رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے صحابہؓ کی مسلسل فتوحات اور رومی افواج کی پے در پے شکستوں کا منظر دیکھ کر رومی شہنشاہ ہرقل نے اپنے فوجی کمانڈروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تم پر ہلاکت ہو! جن لوگوں کے خلاف تم لڑ رہے ہو اور بار بار شکست کھا رہے ہو، کیا وہ تمہاری ہی طرح انسان نہیں ہیں؟‘‘
انہوں نے جواب دیا: ’’کیوں نہیں!‘‘
شہنشاہ نے پوچھا: ’’تعداد میں وہ زیادہ ہیں یا تم؟‘‘
انہوں نے کہا: ’’ہر معرکے میں ہم ہی تعداد میں زیادہ رہے ہیں۔ ‘‘
شہنشاہ نے کہا: ’’پھر تم بار بار شکست کیوں کھاتے ہو؟‘‘
اس پر ان کے ایک معمر وتجربہ کارفوجی افسر نے کہا:
’’من أجل أنہم يقومون الليل ويصومون النہار، ويوفون بالعہد، ويأمرون بالمعروف، وينہون عن المنکر، ويتناصفون بينہم، من أجل أنا نشرب الخمر، ونزني، ونرکب الحرام، وننقض العہد، ونغضب ونظلم ونأمر بالسخط وننہی عما يرضي اللہ ونفسد في الأرض۔‘‘
یعنی: ’’اس لیے کہ وہ راتوں کو قیام کرتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں، وعدوں کو پورا کرتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں، اور آپس میں انصاف کرتے ہیں۔ اور اس کے برعکس ہم شراب پیتے ہیں، زنا کرتے ہیں، حرام کاموں میں مبتلا ہوتے ہیں، عہد شکنی کرتے ہیں، غصہ کرتے اور ظلم ڈھاتے ہیں، لوگوں کو اللہ کی رضا والے کاموں سے روکتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ ‘‘
یہ سن کر شہنشاہ ہرقل نے کہا: ’’أنت صدقتني‘‘، ’’تم نے مجھ سے سچ کہا ہے۔‘‘ (البدایہ والنہایہ، ابنِ کثیرؒ[وفات: ۷۷۴ھ] ۷/ ۲۰) 
ایک اور واقعہ اس طرح بیان کیا جاتا ہے کہ رومی شہنشاہ ہرقل اپنی سلطنتِ شام سے شکست کھا کر آخرکار قسطنطنیہ پہنچا اور وہیں اپنی حکومت قائم کی۔ ایک دن اس کے ایک تابع دار کو مسلمانوں کی قید سے رہائی ملی تو وہ اس کے پاس آیا۔ شہنشاہ نے اس سے کہا:اس قوم کے بارے میں مجھے کچھ بتاؤ۔ 
اس شخص نے کہا: ’’میں ان کی ایسی تصویر بیان کروں گا کہ گویا آپ انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں۔ ‘‘
پھر اس نے کہا: ’’ہم فرسان بالنہار، رہبان بالليل، لا يأکلون في ذمتہم إلا بثمن، ولا يدخلون إلا بسلام، يقفون علی من حاربوہ حتی يأتوا عليہ۔‘‘
یعنی: ’’وہ دن کے وقت گھڑ سوار بہادر ہوتے ہیں اور رات کی تاریکی میں دنیا سے بے رغبت عبادت گزار، کسی چیز کو قیمت ادا کیے بغیر استعمال نہیں کرتے، سلام کہہ کر داخل ہوتے ہیں، اور جن سے جنگ کرتے ہیں ان کے مقابلے میں اس وقت تک ڈٹے رہتے ہیں جب تک مکمل فتح حاصل نہ کر لیں۔ ‘‘
یہ سن کر شہنشاہ ہرقل نے کہا: ’’لئن کنت صدقتني ليملکن موضع قدمي ہاتين۔‘‘
اگر تم نے سچ کہا ہے تو وہ تو میرے قدموں کے نیچے کی یہ جگہ بھی ضرور فتح کر لیں گے۔ ( تاریخِ طبری، ابنِ جریر طبریؒ [وفات: ۳۱۰ھ] ۳/ ۶۰۳۔ البدایہ والنہایہ، ابنِ کثیرؒ [وفات: ۷۷۴ھ] ۷/ ۶۲) 

ایک عیسائی پادری کی دو ٹوک گواہی

روایت میں آتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم  کی مسلسل فتوحات اور رومی افواج کی شکستیں دیکھ کر رومی شہنشاہ ہرقل نے اپنے درباریوں کے سامنے اس کی وجہ دریافت کی، اس موقع پر ایک عیسائی پادری نے اس سے کہا:
’’أيہا الملک لأن قومنا بدلوا دينہم وغيروا ملتہم وجحدوا بإجابۃ المسيح عيسی ابن مريم صلوات اللہ وسلامہٗ عليہ وظلموا بعضہم وليس فيہم من يأمر بالمعروف وينہي عن المنکر وليس فيہم عدل ولا إحسان ولايفعلون الطاعات وضيعوا أوقات الصلوات وأکلوا الربا وارتکبوا الزنا وفشت فيہم المعاصي والفواحش، وہؤلاء العرب طائعون لربہم متبعون دينہم رہبان بالليل صوام بالنہار ولا يفترون عن ذکر ربہم ولا عن الصلاۃ علی نبيہم وليس فيہم ظلم ولا عدوان ولا يتکبر بعضہم علی بعض شعارہم الصدق ودثارہم العبادۃ وإن حملوا علينا لا يرجعون وإن حملنا عليہم فلا يولون وقد علموا أن الدنيا دار الفناء وأن الآخرۃ ہي دار البقاء۔‘‘
یعنی: ’’اے بادشاہِ معظم! اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری قوم نے اپنے دین کو بدل ڈالا، اپنے مذہب کو تبدیل کر لیا، اور مسیح عیسیٰ ابنِ مریم علیہ السلام کی اطاعت سے منہ موڑ لیا۔ وہ آپس میں ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، ان میں کوئی ایسا نہیں جو نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، ان میں نہ عدل ہے نہ احسان، نہ عبادت و اطاعت کا اہتمام ہے۔ انہوں نے نمازوں کے اوقات ضائع کر دیے، سود کھانے لگے، زنا میں مبتلا ہوگئے، اور ان کے درمیان گناہ اور فحاشی عام ہوگئی۔ 
اور یہ عرب لوگ اپنے رب کے فرمانبردار ہیں، اپنے دین کے پیروکار ہیں؛ رات کو رہبان (عبادت گزار) ہوتے ہیں اور دن کو روزہ دار۔ وہ اپنے رب کے ذکر اور اپنے نبی پر درود پڑھنے سے غافل نہیں ہوتے۔ ان میں ظلم و زیادتی نہیں، نہ ایک دوسرے پر تکبر کرتے ہیں۔ ان کا شعار سچائی ہے اور ان کا لباس عبادت۔ اگر وہ ہم پر حملہ کریں تو پیچھے نہیں ہٹتے، اور اگر ہم ان پر حملہ کریں تو وہ بھاگتے نہیں۔ انہیں یقین ہے کہ دنیا فنا ہونے والی ہے اور آخرت ہی باقی رہنے والی ہے۔‘‘ (فتوح الشام، واقدیؒ[وفات: ۲۰۷ھ] ۱/ ۱۴۹) 

پادری کے سامنے جاسوسوں کا اعتراف اور پادری کا تبصرہ

جب صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم  جہاد کے ارادے سے اُردن کے قریب ایک علاقے میں اُترے تو دمشق کے ایک پادری نے ان کی خبر لینے کے لیے دو عربی بولنے والے عیسائیوں کو جاسوس بنا کر بھیجا۔ وہ دونوں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم  کے شب وروز کے حالات کا مشاہدہ کر کے واپس آئے اور کہا:’’جئتک من عند رجال دقاق يرکبون خيولًا عتاقًا، أما الليل فرہبان، وأما النہار ففرسان، يريشون النبل ويبرونہا، ويثقفون القنا، لو حدثت جليسک حديثًا ما فہمہ عنک لما علا من أصواتہم بالقرآن والذکر۔‘‘یعنی: ’’میں تمہارے پاس ایسے پختہ عزم لوگوں کے پاس سے آیا ہوں جو اعلیٰ نسل کے گھوڑوں پر سوار ہوتے ہیں۔ رات کے وقت وہ عبادت گزار رہبان ہوتے ہیں اور دن کے وقت گھڑسوار مجاہد۔ وہ تیروں میں پر لگاتے ہیں، انہیں درست کرتے ہیں اور نیزوں کو تیز کرتے ہیں۔ اگر تم اپنے پاس بیٹھے شخص سے بات کرو تو قرآن کی تلاوت اور ذکر کی بلند آوازوں کی وجہ سے وہ تمہاری بات نہ سن سکے گا۔ ‘‘
یہ سن کر اس پادری نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ’’أتاکم منہم ما لا طاقۃ لکم بہٖ۔‘‘ یعنی ’’تمہارے پاس ایسی قوم آ پہنچی ہے جس کا مقابلہ کرنے کی تم میں طاقت نہیں۔‘‘  (البدایہ والنہایہ، ابنِ کثیرؒ[وفات: ۷۷۴ھ]۷/۲۰)

اہلِ حِمص کے ذمیوں کی مخلصانہ گواہی

جب صحابۂ کرامؓ نے شام کے شہر حِمص کو فتح کرلیا اور ذمی کفار سے مقررہ جزیہ وصول کرنے کے بعد یہ دیکھا کہ رومی افواج دوبارہ شدید حملے کی تیاری کر رہی ہیں، تو انہوں نے وصول شدہ جزیہ ذمیوں کو یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ چونکہ رومی لشکر دوبارہ حملے کی تیاری میں ہے، اس لیے ہم اس وقت تمہیں مکمل تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں رہے۔ یہ دیکھ کر حِمص کے ذمی باشندے حسرت و عقیدت کے ساتھ کہنے لگے:
’’لولايتکم وعدلکم أحب إلينا مما کنا فيہ منَ الظلم والغشم ولندفعن جند ہرقل عن المدينۃ۔‘‘
یعنی: ’’تمہاری حکومت اور تمہارا عدل ہمیں اس ظلم و جبر سے کہیں زیادہ محبوب ہے جس میں ہم پہلے مبتلا تھے۔ ہم ضرور ہرقل کے لشکر کو شہرِ حِمص سے پسپا کریں گے۔‘‘  (فتوح البلدان، بلاذریؒ[وفات: ۲۷۹ھ] ص: ۱۳۹) 

مسلمانوں کے بارے میں چینی شہنشاہ کا تبصرہ

جب فارسی شہنشاہ کسریٰ شکست کھا کر دور دراز علاقوں میں بھٹکتا پھر رہا تھا اور دل شکستہ حالت میں اپنے چند خاص ساتھیوں سے آئندہ کے لائحۂ عمل پر مشورہ کر رہا تھا تو اس کی خواہش یہ تھی کہ چینی شہنشاہ سے دوستی کرکے اس سے لشکر اور مدد حاصل کرے اور مسلمانوں کے خلاف دوبارہ حملہ کرے۔ اس موقع پر اس کے ایک ہوشیار ساتھی نے مشورہ دیا کہ آپ ایسا کرنے کے بجائے ان عربوں سے صلح کر لیجیے، کیونکہ ان میں دینداری اور امانت پائی جاتی ہے، اور آپ ان کے ساتھ امن کا معاہدہ کر کے اطمینان سے ان کے پڑوس میں رہ سکتے ہیں۔ مگر کسریٰ کو یہ خیرخواہانہ مشورہ پسند نہ آیا، چنانچہ اس نے چینی شہنشاہ کے پاس مدد کی درخواست کے ساتھ ایک سفیر بھیج دیا۔ چینی شہنشاہ نے اس سفیر سے ان فاتح مسلمانوں کے بارے میں تفصیل پوچھی۔ سفیر نے مسلمانوں کی نماز، عبادت، جہاد، گھڑ سواری اور ان کے عمومی حالات کی مکمل تصویر بیان کر دی۔ یہ سب سن کر چینی شہنشاہ نے کسریٰ کے نام یہ پیغام لکھ بھیجا:
’’إنہٗ لم يمنعني أن أبعث إليک بجيش أولہٗ بمرو وآخرہٗ بالصين الجہالۃ بما يحق علي، ولکن ہؤلاء القوم الذين وصف لي رسولک صفتہم لو يحاولون الجبال لہدوہا، ولو جئت لنصرک أزالوني ما داموا علی ما وصف لي رسولک، فسالمہم وارض منہم بالمسالمۃ۔‘‘
یعنی: ’’مجھے اس بات سے کوئی مانع نہیں کہ میں تمہاری مدد کے لیے ایسا عظیم لشکر روانہ کروں جس کا آغاز مرو سے ہو اور آخری سرا چین میں ہو، مگر تمہارے سفیر نے جن لوگوں کی صفات مجھے بیان کی ہیں، اگر وہ پہاڑوں سے بھی ٹکرا جائیں تو انہیں ریزہ ریزہ کر دیں۔ اگر میں تمہاری مدد کو آؤں تو وہ مجھے بھی نیست و نابود کر دیں گے، جب تک وہ انہی اوصاف پر قائم رہیں جن کا ذکر تمہارے سفیر نے کیا ہے، لہٰذا مصلحت اسی میں ہے کہ تم ان سے صلح کر لو اور امن پر راضی رہو۔ ‘‘
اس کے باوجود کسریٰ نے یہ نصیحت قبول نہ کی اور دربدر بھٹکتا رہا، یہاں تک کہ دو برس بعد وہ قتل کر دیا گیا۔     (تاریخِ طبری، ابنِ جریر طبریؒ [وفات: ۳۱۰ھ] ۴/ ۱۷۲؛ البدایہ والنہایہ، ابنِ کثیرؒ [وفات: ۷۷۴ھ]۷/ ۱۴۵)

قیقان کے باشندوں کا واقعہ

سن ۴۸ ہجری میں جب صحابیِ رسول حضرت سنان بن سلمہ ہذلی رضی اللہ عنہ  کی قیادت میں مسلمان لشکر نے ہندوستان کے علاقے قیقان (بلوچستان میں قلات، خضدار وغیرہ ملحقہ علاقے) پر حملہ کیا، تو کافر فوج شکست کھا کر بھاگ گئی اور قلعے میں پناہ لے لی۔ جب مسلمان ان کا تعاقب کرتے ہوئے قلعے کے قریب پہنچے تو کفار نے مسلمانوں کو دیکھ کر کہا:
’’واللہ ما أنتم قتلتمونا ولا قتلنا إلا رجال ما نراہم معکم الآن علی خيل بلق عمائم بيض۔‘‘
یعنی: ’’اللہ کی قسم! نہ تو تم نے ہمیں قتل کیا ہے اور نہ ہم نے تمہیں، بلکہ ہم سے تو ایسے لوگوں نے جنگ کی ہے جنہیں ہم اب تمہارے ساتھ نہیں دیکھتے؛ وہ چتکبرے گھوڑوں پر سوار تھے اور سفید عمامے پہنے ہوئے تھے۔‘‘
اس پر مسلمانوں نے کہا: یہ اللہ کی مدد تھی، یعنی اللہ کی طرف سے بھیجے گئے فرشتے۔ (تاریخِ خلیفہ بن خیاطؒ [وفات: ۲۴۰ھ] ص: ۲۱۲- ۲۱۳ )

نوبیہ کے بادشاہ کی گواہی

عبداللہ بن مروان روایت کرتے ہیں کہ میں جب ظالم حجاج بن یوسف سے بھاگ کر نوبیہ کے ملک میں پناہ گزین ہوا، تو نوبیہ کے بادشاہ نے مجھے اپنے پاس بلایا۔ میں نے اس کے سامنے اپنا حال بیان کیا۔ کچھ دن بعد وہ خود مجھ سے ملنے آیا۔ میرے لیے قیمتی اور نفیس قالین بچھائے گئے تھے، مگر اس نے انہیں نظرانداز کر کے زمین پر بیٹھنا پسند کیا۔ میں نے پوچھا: ’’آپ ہمارے قالین پر کیوں نہیں بیٹھے؟‘‘
اس نے کہا: ’’میں بادشاہ ہوں، اور اللہ کی عظمت کو جان لینے کے بعد ہر بادشاہ پر لازم ہے کہ وہ عاجزی اختیار کرے، کیونکہ عزت اللہ ہی کی عطا کردہ ہے۔ ‘‘
پھر اس نے پوچھا: ’’تم شراب کیوں پیتے ہو؟ حالانکہ تمہاری کتاب (قرآن) میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے؟‘‘
میں نے کہا: ’’یہ کام ہمارے غلام اور تابع لوگ کرتے ہیں۔ ‘‘
اس نے دوبارہ پوچھا: ’’پھر تم اپنی کھیتیوں کو جانوروں کے پاؤں تلے کیوں روندواتے ہو، حالانکہ قرآن میں زمین میں فساد پھیلانا حرام ہے؟‘‘
میں نے جواب دیا: ’’یہ بھی ہمارے جاہل غلام اور تابعین کرتے ہیں۔ ‘‘
پھر اس نے کہا: ’’تم ریشم، سونا اور دیباج کیوں پہنتے ہو، حالانکہ یہ سب تمہاری شریعت میں حرام ہیں؟‘‘
میں نے کہا: ’’ہم نے اپنی حکومت کھو دی ہے، ہمارے درمیان کچھ عجمی لوگ مسلمان ہو گئے ہیں، وہی یہ سب پہنتے ہیں، اگرچہ ہم اسے ناپسند کرتے ہیں۔ ‘‘
یہ سن کر وہ زمین پر انگلی سے لکیریں کھینچنے لگا، پھر سر اُٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا:
’’ليس کما ذکرت بل أنتم قوم استحللتم ما حرّم اللہ عليکم وأتيتم ما عنہ نہيتم وظلمتم فيما ملکتم فسلبکم اللہ العزّ وألبسکم الذّلّ بذنوبکم، وللہ نقمۃ لم تبلغ غايتہا فيکم وأنا خائف أن يحلّ بکم العذاب وأنتم ببلدي فينالني معکم، وإنّما الضّيافۃ ثلاث، فتزوّد ما احتجت إليہ وارتحل عن أرضي۔‘‘
یعنی: ’’بات ویسی نہیں جیسی تم بیان کر رہے ہو، بلکہ تم وہ قوم ہو جس نے اللہ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال بنالیا، جن کاموں سے روکا گیا تھا انہیں کرنے لگے، اور جن پر تمہیں اختیار دیا گیا ان پر ظلم کیا۔ اسی وجہ سے اللہ نے تم سے عزت چھین لی اور تمہیں ذلت کا لباس پہنا دیا۔ یہ سب تمہارے گناہوں کا نتیجہ ہے۔ اللہ کا عذاب ابھی پوری طرح تم پر نازل نہیں ہوا، مگر مجھے اندیشہ ہے کہ تم چونکہ میرے ملک میں ہو، کہیں اس کا اثر مجھے بھی نہ پہنچ جائے۔ مہمان نوازی تین دن تک ہوتی ہے، لہٰذا جو ضرورت ہو لے لو اور میری سرزمین چھوڑ دو۔‘‘ (تاریخِ ابنِ خلدون: ۱/ ۲۵۹) 

بامیان کے بادشاہ رتبیل کا تبصرہ

اُموی خلیفہ یزید بن عبد الملک کے دورِ حکومت میں ایک مرتبہ مسلم حکمران کی جانب سے بھیجے گئے، محصلینِ خراج افغانستان کے علاقے بامیان کے بادشاہ رتبیل کے پاس واجب الادا خراج وصول کرنے کے لیے آئے۔ اس موقع پر بادشاہ رتبیل نے کہا:
’’ما فعل قوم کانوا يأتونا خماص البطون سود الوجوہ من الصلاۃ نعالہم خوص؟‘‘
’’تمہاری قوم کے وہ لوگ کہاں ہیں جو ہمارے پاس آیا کرتے تھے، روزوں کی وجہ سے خالی پیٹ، نمازوں کے اثر سے سیاہ پڑے ہوئے چہروں کے ساتھ، اور جن کے جوتے کھجور کے پتوں سے بنے ہوتے تھے؟‘‘
انہوں نے جواب دیا: ’’وہ دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ ‘‘
یہ سن کر بادشاہ رتبیل نے کہا:
’’أولئک أوفی منکم عہدًا وأشد بأسًا، وإن کنتم أحسن منہم وجوہًا۔‘‘
یعنی: ’’وہ تم سے زیادہ عہد کے پابند اور طاقت میں کہیں زیادہ مضبوط تھے، اگرچہ تم ان سے زیادہ خوبصورت چہرے والے ہو۔ ‘‘         (فتوح البلدان، بلاذریؒ[وفات: ۲۷۹ھ]، ص: ۳۸۸)

بیت المقدس کے عیسائیوں کی گواہی

پانچویں صدی ہجری کے آخر میں جب تقریباً نوّے برس تک بیت المقدس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر یورپی عیسائیوں کے قبضے میں رہا، اس کے بعد جب سلطنتِ زنگیہ کے جانشین سلطان نورالدین زنگیؒ بیت المقدس کی بازیابی کے لیے مسلسل جہاد میں مصروف تھے، اس دور کا ایک واقعہ یوں بیان کیا جاتا ہے:
مسلمان صوفی و زاہدوں کا ایک قافلہ زیارت کی غرض سے بیت المقدس پہنچا، وہاں انہوں نے عیسائیوں کو آپس میں یہ کہتے ہوئے سنا:
’’إن القسيم ابن القسيم -يعنون نور الدين- لہٗ مع اللہ سر، فإنہٗ لم يظفر وينصر علينا بکثرۃ جندہٖ وجيشہٖ، وإنما يظفر علينا وينصر بالدعاء وصلاۃ الليل، فإنہٗ يصلي بالليل ويرفع يدہٗ إلی اللہ ويدعو، فإنہٗ يستجيب لہٗ ويعطيہ سؤلہٗ فيظفر علينا۔‘‘
یعنی: ’’یقیناً القسیم بن القسیم یعنی نورالدین کا اللہ کے ساتھ ایک خاص تعلق ہے، وہ ہم پر اپنے لشکروں اور فوج کی کثرت کے ذریعے غالب نہیں آتا، بلکہ وہ ہم پر دعا اور رات کی نماز کے ذریعے فتح پاتا ہے۔ وہ رات کو نماز پڑھتا ہے، اللہ کے حضور ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتا ہے، تو اللہ اس کی دعا قبول فرماتا ہے اور اس کی مراد پوری کر دیتا ہے، اور اسی طرح وہ ہم پر غالب آ جاتا ہے۔‘‘ (الروضتین في أخبار الدولتین، أبو شامۃ مقدسيؒ[وفات: ۶۶۵ھ] ۱/ ۶۳؛ البدایۃ والنہایۃ، ابن کثیرؒ [وفات: ۷۷۴ھ] ۱۲/ ۳۴۸- ۳۴۹) 

ایک غلط فہمی کا ازالہ

مندرجہ بالا واقعات کے بیان سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ اسلحہ اور فوجی قوت غیر ضروری چیزیں ہیں، یا صرف نماز اور دعا کے ذریعے ہی دنیا کو فتح کیا جا سکتا ہے، بلکہ اس سے مقصود یہ بات واضح کرنا ہے کہ اگرچہ جنگ میں فتح کے لیے ضروری اسباب اور وسائل کی تیاری ایک ناگزیر امر ہے۔ خود قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے حسبِ استطاعت جنگ کی تیاری اور سامانِ حرب مہیا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَاَعِدُّوْا لَہُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّۃٍ وَّمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْہِبُوْنَ بِہٖ عَدُوَّ اللہِ وَعَدُوَّکُمْ وَاٰخَرِيْنَ مِنْ دُوْنِہِمْ لَا تَعْلَمُوْنَہُمُ اللہُ يَعْلَمُہُمْ وَمَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَيْءٍ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ يُوَفَّ اِلَيْکُمْ وَاَنْتُمْ لَاتُظْلَمُوْنَ‘‘
ترجمہ: ’’ اور ان کافروں کے لیے جس قدر تم سے ہوسکے قوت (ہتھیار) سے اور پلے ہوئے گھوڑوں سے سامان درست رکھو اور اس کے ذریعہ سے تم (رعب) جمائے رکھو اُن پر جو کہ (کفر کی وجہ سے) اللہ کے دشمن ہیں اور تمہارے دشمن ہیں اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی جن کو تم (بالیقین) نہیں جانتے، ان کو اللہ ہی جانتا ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جو چیز بھی خرچ کروگے وہ تم کو پورا پورا دے دیا جاوے گا اور تمہارے لیے کچھ کمی نہ ہوگی۔‘‘                 (سورۂ انفال:۶۰) 
اس آیت کی تفسیر میں علامہ فخرالدین رازیؒ لکھتے ہیں:
’’الأولٰی أن يقال: ہٰذا عام في کل ما يتقوی بہ علی حرب العدو، وکل ما ہو آلۃ للغزو والجہاد فہو من جملۃ القوۃ. وہٰذہ الاٰيۃ تدل علی أن الاستعداد للجہاد بالنبل والسلاح وتعليم الفروسيۃ والرمي فريضۃ، إلا أنہٗ من فروض الکفايات۔‘‘
یعنی: ’’اس آیت کی بہترین تفسیر یہ ہے کہ یہاں ’’قوت‘‘ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے ذریعے دشمن کے خلاف جنگ میں قوت حاصل ہو، اور جہاد و قتال کے تمام آلات اسی قوت میں شامل ہیں۔ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جہاد کے لیے اسلحہ کی تیاری، گھڑ سواری اور تیر اندازی کی تعلیم حاصل کرنا فرض ہے، البتہ یہ فرضِ کفایہ ہے۔‘‘(تفسیر کبیر، فخرالدین رازیؒ [وفات: ۶۰۶ھ] ۱۵/ ۴۹۹) 
البتہ یہ بات سب سے پہلے دل میں بٹھا لینی چاہیے کہ مسلمانوں کی فتح کے لیے صرف ظاہری تیاری، عسکری تربیت اور اسباب و وسائل ہی کافی نہیں، بلکہ روحانی اور باطنی تیاری اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ مسلمانوں کی اصل قوت کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گہرا اور مضبوط تعلق قائم کر کے اس کی نصرت و مدد حاصل کرنا ہے۔ 
حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’يا أيہا الناس! عمل صالح بين يدي الغزو، فإنکم إنما تقاتلون بأعمالکم۔‘‘
یعنی: ’’اے لوگو! جہاد سے پہلے نیک اعمال کر لیا کرو، کیونکہ تم درحقیقت اپنے اعمال ہی کے ذریعے جنگ کرتے ہو۔‘‘         (کتاب الجہاد، امام ابن المبارکؒ[وفات: ۱۸۱ھ] روایت نمبر: ۵) 
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے