بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مسلمان عورت کے لیے ٹیکہ، ماتھا پٹی اور ناک کی نتھ پہننا بوٹاکس (ناک سیدھا) اور لپ فلرز (ہونٹ موٹے) کروانا

مسلمان عورت کے لیے ٹیکہ، ماتھا پٹی اور ناک کی نتھ پہننا


بوٹاکس (ناک سیدھا) اور لپ فلرز (ہونٹ موٹے) کروانا

سوال

۱: کیا مسلمان عورت کے لیے ٹیکہ، ماتھا پٹی، اور ناک کی نتھ پہننا جائز ہے ؟
۲: بوٹاکس کروانا کیسا ہے؟ بوٹاکس کا مطلب ہے کہ مثلاً ناک کو سیدھا اور صحیح کرنا، شیپ میں لانا، یہ عمل بذریعہ انجیکشن کیا جاتا ہے۔
۳: لپ فلرز کروانا کیسا ہے؟ یعنی بذریعہ انجیکشن ہونٹوں کو مزید اُبھارا جاتا ہے اور مزید موٹا کیا جاتا ہے۔

جواب

۱: مانگ ٹیکا (زیور کا ایک ٹکڑا جو مانگ کے درمیان سے باریک زنجیر کےذریعے پیشانی پر لٹکایا جاتا ہے)۔ ماتھا پٹی (ایک خاص قسم کا زیور ہے جو پیشانی سے سر کے دونوں طرف پٹے کی شکل میں پہنا جاتا ہے) اور نتھ ( جو ناک میں پہنی جاتی ہے) یہ سب زیورات کی قسم ہیں، اور عورتوں کے لیے شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے ان کا استعمال جائز ہے۔ البتہ پیشانی پر بندیا (دونوں بھنوؤں کے درمیان سرخ نشان) لگانا جائز نہیں ہے ؛ کیوں کہ یہ خالص ہندوانہ طریقہ اور ان کا شعار بن چکا ہے۔’’الدرالمختار مع رد المحتار‘‘ میں ہے:
’’ولا بأس بثقب أذن البنت والطفل استحسانا، ملتقط. قلت: وہل يجوز الخزام في الأنف، لم أر۔‘‘

وفي ’’الشاميۃ‘‘:
’’(قولہ: لم أرہ) قلت: إن کان مما يتزين النساء بہ کما ہو في بعض البلاد فہو فيہا کثقب القرط اہـ ط وقد نص الشافعيۃ علی جوازہ مدني۔‘‘ (کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البيع، ۶/۴۲۰ ،  ط:سعید)

۲:ہماری معلومات کے مطابق ’’بوٹاکس‘‘ (Botox) ایک پروٹین ہے جو بوٹولینم وائرس سے پیدا ہوتا ہے، اس کو انجیکشن کے ذریعے جلد میں لگایا جاتا ہے اور یہ طبی اور کاسمیٹک طریقہ کار میں پٹھوں کو عارضی طور پر آرام کرانے، چہرے کی جھریوں کو دور کرنے ، پیشانی اور آنکھوں کے گرد پڑنےو الی لکیروں کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ پٹھوں کے کھنچاؤ اور دردِ شقیقہ جیسی حالتوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
لہٰذا ’’بوٹاکس‘‘ (Botox) میں انجکشن کے ذریعے جلد میں داخل کیے جانے والے لیکویڈ میں اگر کوئی ناپاک یا حرام اجزاء شامل نہ ہوں، نہ ہی یہ مضرِ صحت ہوں اور نہ ہی ان کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا جائے تو اس کا استعمال جائز ہوگا، نیز اگر محض اس پروٹین کے اثرات سے ناک کی جھریاں ختم ہوجائیں اور وہ باریک معلوم ہو تو اس میں مضائقہ نہیں ہے، تاہم اگر یہ زیب وزینت کے لیے کیا جائے تو اس میں اس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس میں شرعی حدود کا خیال رکھا جائے، مثلاً نامحرموں کے سامنے زینت کا اظہار یا تفاخر وغیرہ مقصود نہ ہو۔ 
باقی محض خوبصورتی کی غرض سے ناک کی مستقل سرجری کرواکر اس کو باریک کروانا جائز نہیں ہے؛ یہ خلقی ، فطری اوصاف میں تبدیلی ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔
۳: کسي بيماری کی وجہ سے اگر ہونٹوں میں قدرتی ٹشو کم یا ختم ہوگئے ہوں یا گڑھے وغیرہ پڑ گئے ہیں تو ’’لپ فلرز‘‘ ( انجيکشن کی مدد سے جلد میں ’’ہائیلورونک ایسڈ‘‘(Hyaluronic acid) وغيرہ محلول کو جلد میں داخل کرنے) کے علاج کے ذریعے اس عیب کا ازالہ کرنے اور ہونٹوں کو عام حالت کے مطابق معتدل کرنے کی گنجائش ہوگی، بشرط یہ کہ اس میں کسی قسم کے ناپاک یا حرام اجزاء شامل نہ ہوں،اور نہ ہی یہ مضرِ صحت ہوں۔ تاہم محض خوبصورتی اور حسن بڑھانے کی غرض سے ہونٹوں کو اُبھارنے یا موٹا کرنے کے لیے ’’لپ فلرز‘‘ کا استعمال جائز نہیں ہے؛ اس لیے کہ یہ خلقی ، فطری اوصاف میں تبدیلی ہے جو کہ جائز نہیں ہے۔
 قرآنِ کریم میں ہے:
’’فِطْرَتَ اللہِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللہ۔ ‘‘ (سورۃ الروم:۳۰)
ترجمہ: ’’اللہ کی فطرت پر قائم رہو، جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اس کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں۔‘‘                                                     (ترجمہ ازبیان القرآن)
حدیث شریف میں ہے:
’’عن ‌عبد اللہ رضي اللہ عنہ: ‌لعن ‌اللہ ‌الواشمات والمستوشمات والمتنمصات والمتفلجات للحسن، المغيرات خلق اللہ، ما لي لا ألعن من لعن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم وہو في کتاب اللہ۔‘‘ (الصحيح للبخاري، کتاب اللباس، باب المستوشمۃ : ۷/۱۶۷، ط: دار طوق النجاۃ)
ترجمہ: ’’حضرت عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نےگودنے والی اور گدوانے والی عورتیں اور بال کو نوچ کر نکالنے والی اور حسن کے لیے دانتوں کو کشادہ کرنے والی عورتوں پر جو اللہ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والی ہیں، ان سب پر لعنت کی ہے، پھر میں کیوں اس پر لعنت نہ کروں جس پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم  نے لعنت کی ہے اور وہ بات کتاب (قرآن) میں موجود ہے۔‘‘
’’تکملۃ فتح الملہم‘‘ میں ہے:
’’والحاصل أن کل ما یفعل من جسم من الزیادۃ أونقص من أجل الزینۃ بما یجعل الزیادۃ أو النقصان مستمرا مع الجسم وبما یبدو منہ أنہٗ کان فی أصل الخلقۃ ہٰکذا، فإنہٗ تلبیس وتغییر منہي عنہ ، وأما ما تزینت بہ المرأۃ من تحمیر الأیدي أو الشفاہ أو العارضیین بما لا یلتبس بأصل الخلقۃ، فإنہٗ لیس داخلا في النہي عند جمہور العلماء ، وأما قطع الإصبع الزائدۃ ونحوہا لیس تغییرا لخلق اللہ وإنہٗ من قبیل إزالۃ العیب أو مرض، فأجازہٗ أکثر العلماء خلافا لبعضہم۔‘‘     (تکملۃ فتح الملہم، کتاب اللباس والزينۃ: ۴/۱۹۵، ط: مکتبۃ دارالعلوم)

فقط واللہ اعلم

فتویٰ نمبر : 144502100219  

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے