بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مسجد کے علاوہ کسی اور مقام پر جماعت کرانے کی صورت میں اذان کا حکم

مسجد کے علاوہ کسی اور مقام پر جماعت کرانے کی صورت میں اذان کا حکم

 

سوال

کئی تاجر لوگ جرمنی گئے ہیں، وہاں ٹیکسٹائل کی ایگزیبیشن(نمائش) لگتی ہے، کیا ان کے لیے اذان دینا ضروری ہے؟ بغیر اسپیکراُن پر اذان بظاہر ممنوع نہیں ہے، اگر علاقے میں کہیں بھی اذان نہیں ہوئی ہو تو کیا حکم ہے؟ میری معلومات کے مطابق تو بظاہر بغیراسپیکر اُن کو اذان دینی چاہیے، لیکن اگر علاقے میں کہیں بھی اذان ہوچکی ہو تو پھر ضروری نہیں، کیا ایسا ہی ہے؟
ان تاجروں کے لیے جو جرمنی میں ہیں اذان دینے کا کیا حکم ہے ؟جب کہ وہاں پاکستان کی طرح عموماً اذان نہیں ہوتی ، اگر ہوتی ہے تو وہ غالباً مائیک پر نہیں ہوتی ہوگی؟ 
براہِ کرم اس بارے میں تفصیل سے شرعی راہ نمائی فرمادیجیے۔

جواب

واضح رہے کہ پنج وقتیہ فرض نمازوں کی جماعت کے لیے اذان دینا سنتِ مؤکدہ ہے جو واجب کے قریب ہے اور اس پر اُمت کا تعامل چلا آرہا ہے، لہٰذا جماعت کے لیے اذان کہنا چاہیے، اس کو ترک نہیں کرنا چاہیے ،ہاں! البتہ اگر محلے کی مسجد میں اذان ہوچکی ہو تو اس صورت میں مسجد کے علاوہ کسی اور مقام پر اگر چند لوگ جماعت سے اپنی نماز پڑھیں تو ان کے لیے اذان واقامت ضروری نہیں ہے، لیکن پھر بھی افضل طریقہ یہ ہے کہ وہاں بھی اذان اور اقامت دونوں یا کم از کم اقامت کے ساتھ ہی جماعت کروائی جائے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جرمنی میں ٹیکسٹائل کی ایگزیبیشن(نمائش) کے مقام پر جماعت کے لیے اذان کے ضروری یا غیر ضروری ہونے کے متعلق سوال کیا ہے، جب کہ جرمنی کی صورت حال اس طرح ہے کہ وہاں کے شہروں اور محلوں میں عموماً پاکستان کی طرح مساجد موجود نہیں ہیں تو اس کے متعلق حکم یہ ہے کہ اگر اس مقام پر محلے میں مسجد نہ ہو اور وہاں اذان نہ دی جاتی ہو تو اس صورت میں ٹیکسٹائل کی ایگزیبیشن کے مقام پر جماعت کے لیے اذان دینا ضروری ہے، البتہ اگر اس مقام پر مسجد موجود ہواور یہ معلوم ہوجائے کہ اس مسجد میں اذان ہورہی ہے، چاہے اسپیکر پرہو یا بغیر اسپیکر پر، تو اس صورت میں وہی محلے کی اذان واقامت دیگر مقامات میں جماعت کی نماز کے لیے کافی ہے، البتہ افضل طریقہ پھر بھی یہی ہے کہ وہاں بھی اذان اور اقامت دونوں یا کم از کم اقامت کے ساتھ ہی جماعت کروائی جائے۔فتاویٰ شامی (ج:۱، ص:۳۸۴، ط: سعید)میں ہے:
’’وہو ‌سنۃ ‌للرجال ‌في ‌مکان ‌عال (مؤکدۃ) ہي کالواجب في لحوق الإثم (للفرائض) الخمس (في وقتہا ولو قضاء) لأنہٗ سنۃ للصلاۃ۔‘‘ 
وفيہ أيضاً:
’’(وکرہ ترکہما) معًا (لمسافر) ولو منفردًا (وکذا ترکہا) لا ترکہ لحضور الرفقۃ (بخلاف مصل) ولو بجماعۃ (وفي بيتہ بمصر) أو قريۃ لہا مسجد؛ فلايکرہ ترکہما إذ أذان الحي يکفيہ‘‘۔۔۔۔(قولہ: إذ أذان الحي يکفيہ) لأن أذان المحلۃ وإقامتہا کأذانہ وإقامتہ؛ لأن المؤذن نائب أہل المصر کلہم کما يشير إليہ ابن مسعود حين صلی بعلقمۃ والأسود بغير أذان ولا إقامۃ، حيث قال: أذان الحي يکفينا۔‘‘(ج:۱، ص:۳۹۵، ط: سعید)

فقط واللہ أعلم

فتویٰ نمبر:  144506102362

دارالافتاء : جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے