
الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!
اسلامی ریاست کی ذمہ داریوں میں سے منجملہ شعائرِ دین کا قیام اور مساجد و مدارس کی تعمیر و تحفظ بھی ہے، اس اعتبار سے کسی بھی اسلامی ملک کی طرف سے مساجد و مدارس کی تعمیر و ترقی میں کسی بھی نوعیت کا تعاون، فرض کی ادائیگی شمار ہونا چاہیے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّکَّنّٰہُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتَوُا الزَّکٰوۃَ وَاَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَنَہَوْا عَنِ الْمُنْکَرِ وَ لِلہِ عَاقِبَۃُ الْاُمُوْرِ‘‘ (الحج: ۴۱)
ترجمہ: ’’یہ لوگ ایسے ہیں کہ اگر ہم ان کو دنیا میں حکومت دے دیں تو یہ لوگ خود بھی نماز کی پابندی کریں اور زکوٰۃ دیں اور (دوسروں کو بھی) نیک کاموں کے کرنے کو کہیں اور برے کاموں سے منع کریں اور سب کاموں کا انجام تو خدا ہی کے اختیار میں ہے۔‘‘ (بیان القرآن، حضرت تھانویؒ)
حالیہ دنوں میں پنجاب حکومت کی طرف سے مساجد کے ائمہ کرام کے لیے ماہانہ پچیس ہزار روپے وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، اگر واقعتًا ائمۂ مساجد کی دینی خدمات کے اعتراف میں اور اُن کی قدردانی کے جذبے سے یہ وظائف جاری کیے جائیں تو بلاشبہ یہ اقدام قابلِ ستائش ہونا چاہیے، لیکن اگر اس کا مقصد علماء کرام کو اپنے کنٹرول میں رکھ کر منبر و محراب اور مراکزِ اِصلاح و اِرشاد سے اُٹھنے والی حق و صداقت کی صداؤں کو دبانا ہے تو اسے اعلانیہ رشوت کہنا بے جا نہیں ہوگا۔
ائمۂ مساجد کے لیے حکومتی اعانت کا مقصد حکمِ خداوندی کی پیروی اور علماء کرام کی قدردانی ہے یا انہیں دباؤ میں رکھ کر دینی راہنمائی میں من چاہی مداخلت؟ یہ فیصلہ اس وظیفے کے اجرا سے پہلے اور بعد میں حکومتی تعامل دیکھ کر بآسانی کیا جاسکتا ہے، بعض مساجد کے ائمہ کو دیے گئے حلف ناموں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ حکومتی وظیفہ حکومت، سرکاری اداروں، حتیٰ کہ علاقہ کے تھانے کی مرضی کے خلاف بات نہ کرنے سے مشروط ہوگا، اور ائمۂ مساجد کو اپنے ہر وعظ ا ور درس میں حکومتی پسند و نا پسند کا خیال رکھنا ضروری ہوگا!
خلفاءِ راشدین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کے دور سے لے کر جب تک اسلامی خلافتیں قائم رہیں، مساجد و مدارس کا انتظام و انصرام اسلامی حکومتیں دیکھتی رہی ہیں، لیکن ان کی یہ سرپرستی ظاہری نظم و خدمات اور تعمیر و ترقی تک محدود رہی ہے، دینی راہنمائی اور فتوے کے اجرا میں علماء حق ہمیشہ آزاد رہے ہیں، جہاں کہیں کسی تنگ نظر یا جابر حکمران نے حق کی آواز دبانے کی کوشش کی، علماء ربانیین کی جماعت نے ہر دور میں اُسے مسترد کرتے ہوئے مقابلہ کیا، اور سلطانِ جائر کے سامنے کلمۂ حق بلند کیا، ایسے حکمرانوں کی تنگ نظری کی اس دور میں بھی مذمت کی گئی اور تاریخ میں بھی اُن کا یہ جبر اِستعارہ بن گیا، امام ابوحنیفہ، امام مالک اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہم کی سیرت کا مطالعہ نمونے کے لیے کافی ہے۔
اس لیے اگر مال و دولت کے ذریعے صدائے حق کو دباکر منبر و محراب سے اپنی مرضی کی بات کروانا مقصود ہے تو اسے تنگ نظری اور جبر کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے؟ آزاد اور مہذب معاشروں میں رائے عامہ اور حقِ رائے دہی کی تبدیلی کے لیے پیسے کا استعمال اخلاقاً وقانوناً جرم سمجھا جاتا ہے۔
الغرض اگر حکومت کا مقصد یہی ہے تو یہ کوئی پہلا تجربہ نہیں ہے، ماضی میں بھی اس طرح کی بہت سی کوششیں کی جاچکی ہیں، کبھی مساجد و مدارس کو حکومتی تحویل میں لینے کی کوششیں کی گئیں اور کبھی علماء و ائمہ کو مالی ترغیب و تحریص کا لالچ دے کر اور کہیں ڈرا دھمکا کر ان کی آواز کو اپنی آواز میں ملانے اور اسلامی تہذیب و اقدار کو دیس نکالا دینے کی جسارتیں کی جاتی رہیں۔ اس سب کے باوجود دین کے ان بے لوث خدام نے روکھی سوکھی کھا کر، بوریوں اور چٹائیوں پر بیٹھ کر آوازۂ حق بلند کیا اور الحمد للہ آج تک ان کی اکثریت حکومتی دامِ فریب کا شکار نہیں ہوئی، اب ’’ پرانے شکاری اورنیا جال ‘‘ کےمصداق یہ نیا حربہ اختیار کیا گیا ہے ۔
اس موقع پر کچھ لوگ ’’مدعی سست ـگواہ چست ‘‘ کے مصداق، مذکورہ حلف نامے کی گواہی کے باوجود حکومتی ترجمانی کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کی نیت نیک ہے اور وہ علماء کرام و ائمہ مساجد کی خدمات کو سراہنا چاہتی ہے ۔ کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ دارالعلوم دیوبند کو مختلف ریاستوں کی جانب سے امداد دی جاتی تھی۔ حیرت ہے کہ اب خلطِ مبحث کر کے اپنے اکابر کی روشن تاریخ کو بھی دھندلایا جائے گا ۔ جن ریاستوں کے نام لیے جاتے ہیں وہ خود دینی و علمی کاموں کی سرپرستی کیا کرتی تھیں اور نظامِ مدارس میں مخل نہیں ہوئیں، اور اگر کبھی کسی نے مداخلت کی توقع رکھی تو دینی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس پر واضح کردیا گیا، جب کہ ہمارے ہاں کی حکومتیں امداد کے بہانے پورے نظام کو ہتھیانا چاہتی آئی ہیں، کیا ایسی مثالیں ہمارے سامنے نہیں گزریں کہ جن دینی جامعات کو سرکار نے اپنی تحویل میں لیا، آج وہاں کے نصاب و نظام کا کیا حال ہے! نیز سرکاری اسکولوں اور کالجوں کا معیارِ تعلیم اور قابلِ رحم نظم و ضبط بھی پوری قوم کے سامنے ہے۔
ہمارے علماءِ کرام کا تو امتیازی وصف ہی یہ ہے کہ خود داری اور آزادی کے ساتھ حق و انصاف کی بات حکمت و تدبیر سے کہتے آئے ہیں، جہاں کسی کی مالی اعانت اس راہ میں رکاوٹ بنی، فوراً اس سے دست کش ہوگئے، بلکہ ایسے نظائر بھی موجود ہیں کہ حاکمِ وقت کے دیے ہوئے تمام تحائف یہ کہتے ہوئے اسی وقت واپس کردیے کہ جس وقت یہ وصول کیے تھے، اس وقت سے اسی غرض سے محفوظ کر رکھے تھے کہ جب حق بات کہنے میں آپ کی طرف سے رکاوٹ آئی فوراً واپس کردیے جائیں گے، ہمارے اکابر نے اگر حکومت کی طرف سے دیا گیا کوئی عہدہ بھی قبول کیا ہے تو استعفا پہلے لکھ کر جیب میں تیار رکھا ہے، جہاں حق کہنے میں رکاوٹ محسوس ہوئی وہیں وہ پیش کردیا۔
بانیِ دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے تو دار العلوم دیوبند کے قیام کے وقت مدارس اور تمام جامعاتِ دینیہ کی بقا و تحفظ کے لیے چند اصول و قواعد طے فرمائے تھے جو ’’اُصولِ ہشت گانہ‘‘ کے نام سے معروف ہیں، جو اپنے فوائد و مقاصد کے اعتبار سے تمام ہی مدارس کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ اہلِ مدارس و جامعات کی تذکیر کے لیے یہ آٹھ اصول یہاں ذکر کیے جارہے ہیں، موقع کی مناسبت سے ان میں سے آخری تین اصول بطورِ خاص ملحوظ رہنے چاہئیں:
’’وہ اُصول جن پر یہ مدرسہ اور نیز اور مدارسِ چندہ مبنی معلوم ہوتے ہیں:
1-اصلِ اول یہ ہے کہ تامقدور کارکنانِ مدرسہ کو ہمیشہ تکثیرِ چندہ پر نظر رہے، آپ کوشش کریں، اوروں سے کرائیں، خیر اندیشانِ مدرسہ کو یہ بات ہمیشہ ملحوظ رہے۔
2-ابقاءِ طعامِ طلبہ مل کر افزائشِ طعامِ طلبہ میں جس طرح ہوسکے، خیر اندیشانِ مدرسہ ہمیشہ ساعی رہیں۔
3-مشیرانِ مدرسہ کو ہمیشہ یہ بات ملحوظ رہے کہ مدرسے کی خوبی اور خوش اسلوبی ہو، اپنی بات کی پچ نہ کی جائے۔ خدانخواستہ جب اس طرح کی نوبت آئے گی کہ اہلِ مشورہ کو اپنی مخالفتِ رائے اور اوروں کی رائے کے موافق ہونا ناگوار ہو تو پھر اس مدرسے کی بنا میں تزلزل آجائے گا۔ القصہ تہہ دل سے بروقت مشورہ اور نیز اس کے پس و پیش میں اُسلوبیِ مدرسہ ملحوظ رہے، سخن پروری نہ ہو، اور نیز اسی وجہ سے یہ ضروری ہے کہ اہلِ مشورہ اظہارِ رائے میں کسی وجہ سے متأمل نہ ہوں، اور سامعین بہ نیتِ نیک اس کو سنیں، یعنی یہ خیال رہے کہ اگر دوسرے کی بات سمجھ میں آجائے گی تو اگرچہ ہماری مخالفت ہی کیوں نہ ہو، بہ دل و جان قبول کریں گے، اور نیز اسی وجہ سے ضروری ہے کہ مہتمم امورِ مشورہ طلب میں اہلِ مشورہ سے ضرور مشورہ کیا کرے، خواہ وہ لوگ ہوں جو ہمیشہ مشیرِ مدرسہ رہتے ہیں، یا کوئی وارد و صادر ہو، جو علم و عقل رکھتا ہو، اور مدرسوں کا خیراندیش ہو، اور اسی وجہ سے ضروری ہے کہ اگر اتفاقاً کسی وجہ سے کسی اہلِ مشورہ سے مشورے کی نوبت نہ آئے اور بہ قدرِ ضرورت اہلِ مشورہ کی مقدار معتد بہ سے مشورہ کرلیا گیا ہو تو پھر وہ شخص اس وجہ سے ناخوش نہ ہو کہ مجھے کیوں نہ پوچھا؟ ہاں! اگر مہتمم نے کسی سے نہ پوچھا، تو پھر اہلِ مشورہ معترض ہوسکتا ہے۔
4-یہ بات بہت ضروری ہے کہ مدرسینِ مدرسہ باہم متفق المشرب ہوں اور مثل علمائے روزگار خودبین اور دوسروں کے درپے توہین نہ ہوں، خدا نہ خواستہ جب اس کی نوبت آئے گی تو پھر اس مدرسے کی خیر نہیں۔
5-خواندگیِ مقررہ اس انداز سے جو پہلے تجویز ہوچکی ہے یا بعد میں کوئی اور انداز مشورے سے تجویز ہو، پوری ہوجایا کرے، ورنہ یہ مدرسہ اول تو خوب آباد نہ ہوگا، اور اگر ہوگا تو بے فائدہ ہوگا۔
6- اس مدرسے میں جب تک آمدنی کی کوئی سبیل یقینی نہیں، جب تک یہ مدرسہ ان شاء اللہ بہ شرطِ توجہ الی اللہ اسی طرح چلے گا، اور اگر کوئی آمدنی ایسی یقینی حاصل ہوگئی، جیسے جاگیر یا کارخانۂ تجارت یا کسی امیر محکم القول کا وعدہ، تو پھر یوں نظر آتا ہے کہ یہ خوف و رجاء جو سرمایۂ رجوع الی اللہ ہے، ہاتھ سے جاتا رہے گا، اور امدادِ غیبی موقوف ہوجائے گی، اور کارکنوں میں باہم نزاع پیدا ہوجائے گا، القصہ آمدنی اور تعمیر وغیرہ میں ایک نوع کی بے سروسامانی ملحوظ رہے۔
7- سرکار کی شرکت اور امراء کی شرکت بھی مضر معلوم ہوتی ہے۔
8- تا مقدور ایسے لوگوں کا چندہ زیادہ موجبِ برکت معلوم ہوتا ہے، جن کو اپنے چندے سے اُمیدِ ناموری نہ ہو، بالجملہ حسنِ نیتِ اہلِ چندہ زیادہ پائیداری کا سامان معلوم ہوتاہے۔‘‘
اس لیے ہم علما ئے امت سے بھی یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ کی مثال عوام کے درمیان ایسی ہے جیسے انسانی جسم میں دل ہوتا ہے، اور حدیثِ نبوی کے بموجب اگر انسانی دل ٹھیک رہے تو اس کے تمام اعضاء درست کام کرتے رہتے ہیں، لیکن اگر یہ باطنی پُرزہ زنگ آلود ہونے لگے تو اس کا اثر پورے جسم پر پڑتا ہے ۔ اسی طرح عوام کے درست راہ پر لگے رہنے کے لیے ضروری ہے کہ اس اُمت کے علماءِ کرام اپنے فرائضِ منصبی سرکاری مداخلت کا اثر قبول کیے بغیر سر انجام دیتے رہیں، کیوں کہ جہاں بھی جاہ و جلال اور مال و منال کی ملاوٹ آگئی تو وہاں اخلاص کےاس محل کو زمین بوس ہونے میں دیر نہیں لگی۔ مشکاۃ شریف کے کتاب العلم میں بحوالہ ابن ماجہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشادِ مبارک موجود ہے:
’’إِنَّ اُنَاسًا مِنْ اُمَّتِيْ سَيَتَفَقَّہُوْنَ فِي الدِّيْنِ وَيَقْرَءُوْنَ الْقُرْاٰنَ يَقُوْلُوْنَ نَاْتِي الْأمَرَاءَ فَنُصِيْبُ مِنْ دُنْيَاہُمْ وَنَعْتَزِلُہُمْ بِدِيْنِنَا وَلَا يَکُوْنُ ذٰلِکَ کَمَا لَا يُجْتَنٰی مِنَ الْقَتَادِ إِلَّا الشَّوْکُ، کَذٰلِکَ لَا يُجْتَنٰی مِنْ قُرْبِہِمْ إِلَّا - قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ: کَأنَّہٗ يَعْنِي - الْخَطَايَا۔‘‘
’’میری اُمت کے کچھ لوگ دین کی سمجھ اور تفقہ حاصل کرنے کا دعویٰ کریں گے اور قرآن پڑھیں گے، وہ کہیں گے: ہم اُمَرا کے پاس جا کر ان سے ان کی دنیا میں سے کچھ حاصل کریں گے، اور ہم اپنے دین کی بنیاد پر ان (کے گناہوں) سے دور رہیں گے، حالانکہ ایسے نہیں ہو سکتا، جیسے قتاد (Astragalus) یعنی سخت کانٹے دار جنگلی درخت، سے صرف کانٹے ہی چنے جا سکتے ہیں، اسی طرح ان (اُمَراء) کے قرب سے کچھ حاصل نہیں ہوگا سوائے ۔۔۔‘‘ محمد بن صباح راوی نے کہا: گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرمانا چاہتے تھے کہ: ’’ان کے پاس جانے سے گناہ ہی حاصل ہوگا۔‘‘
پاکستان میں مسلمان عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت مساجد و مدارس قائم کیے اور اُن کے جملہ مصارف کا بیڑہ انہوں نے خود اپنی مرضی اور خوشی سے اُٹھایا ہوا ہے، ان کی تعمیر و ترقی اور دیگر ضرورت کے مواقع پر اربابِ حکومت کی توجہ نہیں ہوتی، بلکہ تعمیر کے بعد مختلف عنوانات سے مسجدیں شہید کرنے کے واقعات ہوتے رہے ہیں، اب اگر حکومت کو واقعی مساجد کے ائمہ کرام پر رحم آ گیا ہے اور اس امداد دینے میں ان کے عزائم اور ارادے نیک و مخلصانہ ہیں تو اربابِ حکومت سے درخواست ہے کہ سب سے پہلے مساجد اور دینی مراکز کے بجلی، گیس اور پانی کے بل معاف کریں، مساجد کی تعمیر،آبادی ، اکاؤنٹس یا کسی بھی مرحلے میں حائل ہونے والی مشکلات اور رکاوٹ بننے والے امور حل کریں۔ نہ یہ کہ علماءِ کرام اور ائمہ حضرات کی آزادی سلب کرکے آواز دبانے کی کوشش کریں، یہ آپ کی دنیا اور سیاسی شہرت کے لیے بھی اچھا نہیں ہے، دینی راہنمائی میں جتنی آزادی ہوگی یہ حکومت کی نیک نامی کا باعث ہوگا، ہاں تشدد و منافرت پر مبنی آواز کسی بھی موقع پر اور کسی بھی فورم سے ہو، علماءِ کرام اس کی پر زور مذمت کرتے آئے ہیں، عدمِ برداشت و تشدد کے اسباب کچھ اور بھی ہیں، ان کے سدِباب کی سنجیدہ فکر و کوشش کرنی چاہیے ۔
ائمہ مساجد کے لیے بطورِ خاص ایک پہلو یہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ بعض اوقات کوئی خدا ترس حکمران نیک نیتی سے وظائف کا اجرا کرے تو اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ آئندہ آنے والا بھی اس سلسلے کو دباؤ کے لیے استعمال نہ کرے، ماضی میں بھارت کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزادؒ نے دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے اخراجات سرکاری فنڈ سے پورا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اربابِ ندوہ نے کہا کہ : ’’ کل کوآپ کی جگہ کوئی اور ہوگا تو وہ امداد روک بھی سکتا ہے، ایسا نہ ہو کہ تاریخ میں آپ کو قاتلِ ندوہ کے نام سے یاد کیا جائے ۔ ‘‘ ہمارے ملک کے اندر صوبہ خیبر پختون خوا کے سابق وزیر اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمود ؒ سے بعض مدارس نے سرکاری امداد کی درخواست کی تو آپؒ نے فرمایا کہ : ’’ میں ایسی کوئی روایت قائم نہیں کرنا چاہتا جو کل کو میری جگہ کسی اور کے وزیر اعلیٰ ہونے کی وجہ سے دم توڑ جائے ۔ ‘‘
ہمارے لیے ان تجربات میں درسِ موعظت و نصیحت ہے کہ سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی ظاہری سبب اور خواص کی امداد سے اپنی اُمیدیں وابستہ نہ رکھیں ۔ اللہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا اور اسی کے اعتماد اور بھروسے پر یہ دینی قلعے بھی قائم رہیں گے، اسی لیے ہمیشہ اسی کی رضا اور خوشنودی کے حصول میں کوشاں رہنا چاہیے، نہ کہ ان مادی اسباب و وسائل پر نظر ہونی چاہیے ۔ حاکمانِ عصر سے ہماری درخواست ہے کہ آزاد کو آزاد رہنے دیا جائےاور ان علماء امت اور مساجد کو آزاد رہ کر کام کرنے دیا جائے ۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ مدارس کی رجسٹریشن کا جو قانون وفاقی حکومت نے پاس کیا ہے، صوبوں میں بھی اس قانون کو پاس کیا جائے اور ان کے بینک اکاؤنٹ کھولنے میں آسانیاں پیدا کی جائیں، تاکہ یہ بھی قومی دھارے میں شامل ہو سکیں ۔ نیز مدارس اور جامعات اپنی مدد آپ کے تحت جو قوم کی فلاح و بہبود کے لیے خدمت ِ خلق اور قوم کے بچوں کو تعلیمی طور پر دوسری اقوام کے برابر لا رہے ہیں، حکومتی سطح پر ان کا شکر گزارہونا چاہیے، نہ یہ کہ ان کے کردار اور ان کے اثرات کو مسخ کرنے میں اپنی توانائیاں صرف کی جائیں۔
اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کی حفاظت فرمائے اور قیامِ پاکستان کی حقیقی منزل نفاذِ اسلام کے لیے کی جانے والی کوششوں اور کاوشوں کو کام یاب فرمائے، آمین! إن أرید إلّا الإصلاح ما استطعتُ و ماتوفیقي إلّا باللہ!
وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین!