بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مروجہ محفلِ میلاد منعقد کرنے کا شرعی حکم!

مروجہ محفلِ میلاد منعقد کرنے کا شرعی حکم!


سوال

ہمارے گاؤں میں دو تین سالوں سے جشنِ میلاد النبی( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا پروگرام منعقد کیا جاتا ہے، اور گاؤں کے علماء کرام عوام الناس کے ساتھ پیش پیش رہتے ہیں اور یہ پروگرام اب تک مسجد میں ہورہے ہیں، علماء کرام کی تقریریں بھی ہوتی ہیں، تو کیا یہ شرعی حیثیت سے درست ہے؟
دوسری بات میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر اسی طرح ہر سال ہوتا رہے گا تو یہ طول پکڑ کے رسم بن جائے گا، ابھی سے ہی اس سے احتیاط کرنا چاہیے یا نہیں؟ اور دوسری بات میں اس کو منع کرنا چاہتا ہوں، تومنع کیا جائے یا نہیں؟ مکمل تشفی بخش جواب دیں۔

جواب

1: نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرتِ طیبہ کاذکر کرنااور آپ  علیہ الصلاۃ والسلام  کی تعریف و توصیف کرناانتہائی خیر وبرکت کا باعث ہے، مگراس کام کے لیے باقاعدہ میلادالنبیؐ کے نام سے خاص دنوں میں محافل کےانعقاد کو لازم یا ضروری سمجھنا اور ان محافل میں شرکت نہ کرنے والوں کو برا سمجھنادرست نہیں ہے،نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرتِ طیبہ کو بیان کرنے کے لیے تاریخوں اور مہینوں کی بھی کوئی تعیین نہیں ہے، بلکہ سال کےتمام مہینوں میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرتِ طیبہ کو بیان کرنایکساں موجبِ ثواب ہے۔
صورتِ مسئولہ میں سائل کے گاؤں میں اگر نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سیرتِ طیبہ کے ذکر کی کوئی بھی محفل کسی مہینے کی تخصیص کے بغیر سال کے بارہ مہینوں میں کبھی بھی منعقد کرلی جاتی ہو، یا خاص ربیع الاول کے ماہ میں منعقد کرتے ہوئے اس کو لازم نہیں سمجھا جاتا ہو، اور نہ ہی اس میں شریک نہ ہونے والوں پر نکیر کی جاتی ہو اور اس میں مروجہ بدعات، مثلاًذکرِ ولادت کے وقت اس مجلس میں شریک لوگوں کاکھڑے ہونا، تقریروں میں من گھڑت اور موضوع فضائل و روایات بیان کرنا، ان محافل کے انعقاد میں مال کا اِسراف کرنا،چراغاں کرنا، تفاخر اور ریا کاری کامقصود ہونا وغیرہ بھی نہ پائی جاتی ہوں، تو ایسی محافل کے انعقاد میں شرعاًکوئی مضائقہ نہیں ہے۔
تاہم نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی پیدائش کی مناسبت سے خاص ربیع الاول کے مہینہ میں ایسی محافل کے انعقاد کواگر لازم سمجھاجائےاور اس میں شریک نہ ہونے والوں پر نکیر کی جائے، یا ان محافل میں اگر مندرجہ بالا خرابیاں پائی جائیں تو ایسی مجالس کا انعقاد جائز نہیں ہے۔
2:مندرجہ بالا تفصیل کے مطابق سیرت کی محافل کاانعقاد اگر لازم سمجھتے ہوئے نہ کیا جاتا ہو تو وہ بدعت نہیں ہیں، بلکہ جائز ہے، البتہ جائز کام پر اتنی مداومت کرنا کہ جس سےلوگوں کو اس کے فرض یا واجب ہونے کا گمان ہونے لگے، مکروہِ تحریمی ہے، اسی لیےبہتر یہ ہے کہ ایسی محافل کا انعقادہر سال نہ کیا جائے، اگر کرنا ہی ہو تو ایک، دو سال کے وقفہ سے کیا جائے، تاکہ لوگوں کو اس کے لازم ہونے کا شبہ نہ ہو،اور نہ ہی یہ آگے چل کر رسم کی صورت اختیار کرے۔
ایسی محافل کے انعقاد کرنے والوں کو زور زبردستی کے بجائے پیار و محبت سے سمجھاکر دین کے صحیح رُخ پر عمل کرنے کی ترغیب دینازیادہ فائدہ مند ہے۔قرآن کریم میں ہے:
’’اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَ جَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ‘‘  (سورۃ النحل،الآيۃ:۱۲۵)
ترجمہ: ’’آپ اپنے رب کی راہ کی طرف علم کی باتوں اور اچھی نصیحتوں کے ذریعے سے بلائیے اور ( اگر بحث آن پڑے تو) ان کے ساتھ اچھے طریقے سے بحث کیجیے (کہ اس میں شدت و خشونت نہ ہو)۔‘‘
’’مرقاۃ المفاتيح‘‘ میں ہے:
’’عن عائشۃ رضي اللہ عنہا، قالت: قال رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم: من أحدث في أمرنا ہٰذا ما ليس منہ فہو رد ... (من أحدث)، أي: جدد وابتدع أو أظہر واخترع في أمرنا ہٰذا)، أي: في دين الإسلام ... قال القاضي: المعنی ‌من ‌أحدث في الإسلام رأيا لم يکن لہٗ من الکتاب والسنۃ سند ظاہر أو خفي ملفوظ أو مستنبط فہو مردود عليہ.‘‘ (ج:۱، ص:۲۲۱، کتاب الإيمان، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ، ط:دار الفکر، بیروت)
’’اصلاح الرسوم‘‘ میں ہے:
’’پہلی صورت : وہ محفل جس میں قیودِ مروجہ متعارفہ میں سے کوئی قید نہ ہو نہ قید مباح نہ قید مکروہ، سب قیود سے مطلق ہو، مثلاً کچھ لوگ اتفاقاً جمع ہو گئے، کسی نے ان کو اہتمام کر کے نہیں بلایایا کسی اور مباح ضرورت سے بلائے گئے تھے، اس مجمع میں خواہ کتاب سے بازیابی حضور پر نور سرور عالم فخربنی آدم ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حالاتِ ولادتِ شریفہ و دیگر اخلاق و شمائل و معجزات و فضائلِ مبارک صحیح صحیح روایات سے بیان کر دیا گیا، اور اثنائے بیان میں اگر ضرورت امر بالمعروف و بیان احکام کی دیکھی جائے تو اس میں بھی دریغ نہیں کیا گیا یا اصل میں اجتماع‘ استماعِ وعظ و احکام کے لیے ہو اس کے ضمن میں ان وقائعِ شریفہ و فضائل کا بیان بھی آگیا، یہ وہ صورت ہے کہ بلا نکیر جائز بلکہ مستحب و سنت ہے، رسولِ مقبول  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے حالات و کمالات اسی طریق سے بیان فرمائے ہیں، اور آگے صحابہ  رضی اللہ عنہم  نے ان کو روایت کیا، جس کا سلسلہ محدثین میں آج تک بفضلہ تعالی جاری ہے اور تابقائے دین رہے گا۔
دوسری صورت : وہ محفل جس میں قیودِ غیر مشروعہ موجود ہوں، جو کہ اپنی ذات میں بھی قبیح و معصیت ہیں، مثلاً : روایاتِ موضوعہ خلافِ واقعہ بیان کی جائیں یا خوشرو خوش الحان لڑکے اس میں غزل خوانی کریں یا رشوت یا سود وغیرہ کا حرام مال اس میں خرچ کیا جائے یا حدِ ضرورت سے زیادہ اس میں روشنی فرش و آرائش مکان وغیرہ کا تکلف کیا جائے، یا لوگوں کو جمع کرنے کا اہتمام بہت مبالغہ سے کیا جائے کہ اس قدر اہتمام نماز و جماعت و وعظ کے لیے بھی نہ ہوتا ہو یا نثر و نظم میں حضرت حق تعالیٰ شانہ یا حضرات انبیاء o کی توہین و گستاخی صراحۃً یا اشارۃً کی جائے یا اس مجمع میں جانے سے نماز یا جماعت فوت ہوجائے یا وقت تنگ ہو جائے یا اس کا قوی احتمال ہو، یا بانی مجلس کی نیت شہرت و تفاخر کی ہو، یا رسولِ مقبول کو وہاں حاضر و ناظر جانا جائے یا کوئی اور امر اس قسم کا خلافِ شرع اس میں پایا جائے، یہ وہ صورت ہے جو اکثر عوام و جہلاء میں شائع و ذائع ہے اور شرعاً بالکل ناجائز و گناہ ہے۔‘‘                (ص:۱۳۰، باب سوم، فصل اول، ط:مکتبۂ رحمانیہ)
’’کفایت المفتی‘‘ میں ہے:
’’آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے حالاتِ طیبہ اور فضائل و کمالات آپ کی رسالت و تبلیغ کی خدمات کا بیان ہر وقت جائز بلکہ مستحسن ہے، لیکن صرف ولادتِ شریفہ کے لیے اسی نام سے مجلسِ میلاد منعقد کرنا سلفِ صالحین میں نہیں پایا گیا، یہ مجالس کوئی ساتویں صدی ہجری سے شروع ہو گئی ہیں اور ان کے بارے میں علماء کا اسی وقت سے اختلاف چلا آتا ہے، کوئی اس کو جائز اور مستحسن قرار دیتا تھا اور کوئی بدعت، قولِ راجح یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے حالاتِ طیبہ بیان کرنے کے لیے بطور مجلس وعظ کے اجتماع ہو، اس میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے کمالات بیان کیے جائیں، صحیح روایات بیان کی جائیں، اسراف اور دیگر بدعات سے مجلس خالی ہو تو جائز ہے۔‘‘ (ج:۱، ص:۱۵۱، کتاب العقائد، فصل عید میلاد، ط:دار الاشاعت)

فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144503100433

دارالافتاء جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے