بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مدارس میں الوداعی ترانوں کا بڑھتا رجحان!

مدارس میں الوداعی ترانوں کا بڑھتا رجحان!


مدارس میں سال کے اخیر میں الوداعی ترانے کا رواج بھی پایا جاتا ہے، خاص طور پر دورہ حدیث کے طلبہ اس کا اہتمام کرتے ہیں اور اس اہتمام میں مبالغہ آمیزی روز افزوں ہے،شروع میں یہ ترانے بہت محدود پیمانہ پر ہوتے تھے،دورہ حدیث کے تمام طلبہ کی طرف سے ایک ترانہ خارج وقت میں پڑھا جاتا تھا؛لیکن اب یہ معاملہ بھی بہت آگے بڑھتا جا رہا ہے،چنانچہ اب بڑے مدارس میں ہر صوبے اور ہر ضلع کا الگ ترانہ ہوتا ہے،میرے دورہ حدیث کے سال ’’بیاضِ وفا‘‘ نام سے طلبہ دورہ حدیث نے ایک ڈائری شائع کی تھی،اس میں تیس الوداعی ترانے شامل تھے،اگر دیوبند میں پڑھے گئے صرف ایک سال کے ترانے جمع کیے جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو جائے گی۔علاوہ ازیں اب ایک نئی چیز دیکھنے میں یہ بھی آرہی ہے کہ طلبۂ دورہ حدیث ہر کتاب کے آخری سبق کے دن متعلقہ استاذ کے سامنے الوداعی ترانہ پڑھتے ہیں،ان ترانوں میں دوستوں کی جدائی کا غم،مدرسہ اور درس گاہ کی مفارقت کا احساس اور بطور خاص اپنے اساتذہ کرام کی خصوصیات کا ذکر مترنم لہجہ میں پیش کیا جاتا ہے،عام طور پر یہ صورتِ حال بڑے مدارس میں پائی جاتی ہے؛یہ الوداعی ترانے کبھی خود باذوق طلبہ کی کاوش ہوتے ہیں اور کبھی معاوضہ دے کر کسی شاعر سے لکھوائے جاتے ہیں۔ مقامِ افسوس ہے کہ ان الوداعی ترانوں نے مدرسۃ البنات کو بھی اپنے حصار میں لے لیا ہے؛چنانچہ اب وہاں بھی رقیق القلوب طالبات کے جذباتِ غم اشعار میں تبدیل ہو کر نالۂ دل ہائے حزیں کی مثال بن جاتے ہیں۔
ترانہ لکھنا،پڑھنا اور شائع کرنا علی الاطلاق منع نہیں ہے؛بلکہ یہ مباحات میں سے ہے جس کا جواز حدود و قیود اور حسنِ نیت کے ساتھ مشروط ہوتا ہے،اگر ہم اس آئینہ میں الوداعی ترانوں کا عکس دیکھنے کی کوشش کریں تو اِن میں تعلیم کا حرج،وقت کا ضیاع،ویڈیو گرافی اور تصویر کشی،یوٹیوب پر اپلوڈ کرنا،مدرسہ کی بجلی اور مائک کا استعمال،مستقبل میں بے فائدہ دکھاوا اور مصنوعی اظہارِ غم جیسے وہ اسباب بھی نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے دورہ حدیث کے طلبہ کا یہ مباح عمل بھی قابلِ اِصلاح معلوم ہوتا ہے،نیز اِن الوداعی ترانوں کی نہ ضرورت ہے نہ ان کے فضائل ہیں،یہ بس اس لیے جائز ہیں کہ یہ ناجائز نہیں ہیں؛چونکہ ایسے امور میں حدود و قیود کی رعایت رکھنا بہت مشکل ہوتا جا رہا ہے؛اِس لیے ذمہ دارانِ مدارس کو اِس حوالہ سے اصلاحی اِقدام ضرور کرنا چاہیے،اور بنات کے مدارس میں تو بہر صورت اس پر پابندی ہونی چاہیے؛کیونکہ لڑکیوں کے حق میں بقدرِ ضرورت جس علمِ دین کا حصول ناگزیر ہے، ترانہ خوانی کو اُس ضرورت کا حصہ سمجھنا مزاجِ شریعت کے ہم آہنگ نہیں ہے۔
 اِس بارے میں مزید قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ بخاری سمیت ہر کتاب کا آخری سبق خود احتسابی کا موقع ہوتا ہے،اسے الوداع،غم یا رخصتی کی علامت سمجھنا سمجھ سے بالاتر ہے، ایسے مواقع دورِ نبوت اور دورِ صحابہؓ میں بھی پیش آتے تھے،لیکن اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم موقع کی مناسبت سے نصیحت فرمایا کرتے تھے، اسی لیے ہمارے خیر القرون کے اکابر اور اس دور کے طلبہ میں اس کا کچھ اہتمام نظر نہیں آتا ہے،اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ یہ الوداعی ترانے طلبہ کا اپنے اساتذہ کے تئیں اظہارِ تعلق کی عکاسی کا ایک ذریعہ ہیں، اس دلیل میں بھی زیادہ وزن اور قوت نہیں ہے؛ کیوں کہ بہتیرے طلبہ ایسے ہوتے ہیں جن کا اپنے اساتذہ سے نہ کوئی تعلق ہوتا ہے اور نہ ہی سلام و مصافحہ، ایک درس گاہ میں استاذ اور طالب علم کا جمع ہو جانا صورتِ تعلق تو ہو سکتا ہے،اسے حقیقتِ تعلق سمجھنا ناسمجھی کی بات ہے، ایسے طلبہ کے اشک ہائے غم اشعار میں کیوں کر تبدیل ہوسکتے ہیں؟ نیز ان میں ایسے طلبہ بھی ہوتے ہیں جو بلاوجہ کی غیر حاضری کے عادی ہوتے ہیں،عبارتِ حدیث پڑھنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں اور دورانِ سبق موبائل استعمال کرتے ہیں، اُن میں اخیر سال میں فراق و جدائی کی اُمنگیں کروٹ لیتی ہیں،یہ کچھ عجیب سا لگتا ہے،اگر واقعتاً ایسا ہوتا ہو تو یہ ترانے ایسے طلبہ کی طرف سے آنے چاہئیں جو اَب اپنے اساتذہ سے کوشش کے باوجود کبھی مل نہ سکیں گے یا وہ کسی ایسی ملی مہم پر روانہ ہو رہے ہوں جہاں سے واپس آنا بہت مشکل ہو،یہاں تو ابھی سالانہ امتحان باقی ہے، امتحان کے بعد خوشی خوشی گھروں کی جانب رختِ سفر باندھنا ہے،اور یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے سال پھر کسی تخصص میں داخلہ لیا جائے۔
مزید سوچنے کی بات ہے کہ جس پس منظر میں یہ الوداعی ترانے پڑھے اور سنے جاتے ہیں وہ متعلقہ استاذ کا آخری سبق تو ہوتا ہے،لیکن وہ ان کا ’’آخری فیض‘‘ نہیں ہوتا؛ بلکہ فراغت کے بعد بھی استاذ کا فیض جاری رہتا ہے، اور اگر آخری درسِ حدیث وجہِ جواز ہے تو پھر ہر روز ایک ترانہ ہونا چاہیے؛کیونکہ سال کا ہر سبق بایں معنی آخری سبق ہے کہ اب وہ دوبارہ نہیں ہوگا، پھر یہ کیسا اظہارِ غم ہے جس کی باضابطہ تیاری اور مشق ہوتی ہے، نیز اظہارِ غم کے لیے نظم و اشعار کی تخصیص کیوں ہوتی ہے؟ یہ اظہارِ غم کسی سال نثر میں بھی ہونا چاہیے؛اس لیے کہ نثر میں بےتکلفی ہوتی ہے، جبکہ اشعار میں تکلف و تصنع کی آمیزش یقینی امر ہے۔علاوہ ازیں ان الوداعی ترانوں سے نہ درسی کتب کی استعداد بنتی ہے اور نہ حدیث کا کوئی مسئلہ حل ہوتا ہے۔ان ترانوں میں ایک خرابی یہ بھی نظر آتی ہے کہ اساتذہ کرام کے تئیں اظہارِ محبت میں مبالغہ آرائی خود انہی اساتذہ کرام کے سامنے ہوتی ہے۔ طلبہ کو سمجھنا چاہیے کہ طلبہ کا مطالعہ،ان کی کتب بینی،خود کو آداب و اخلاق سے آراستہ کرنا،درس گاہ کی حاضری،دورانِ سبق اِنصات و استماع اور اصولِ مدرسہ کی پابندی وغیرہ ہی ان کا اصل سرمایہ اور زادِ سفر ہے اور یہی زادِ سفر اساتذہ کرام کی خوشی کا اصل ذریعہ ہے۔ 
اس تفصیل کی روشنی میں جب ہم ان الوداعی ترانوں کا جائزہ لیتے ہیں تو اسے ’’رسم‘‘ کہنے کے علاوہ کوئی دوسری بات سمجھ میں نہیں آتی، یہ رسم ہی تو ہے کہ بعض مدارس میں عربی ہفتم کے طلبہ بھی الوداعی ترانہ پڑھتے ہیں؛ کیوں کہ وہاں دورہ حدیث کی تعلیم نہیں ہوتی۔ ہاں! یہ ضرور ہے کہ ہم نے جس رسم کی اصلاح کی بات لکھی ہے، یہ عموماً ’’غیر ضروری چیزوں کے التزام و اہتمام‘‘ سے ناشی ہے؛ ورنہ اگر جزوی اور استثنائی طور پر کسی طالب علم یا کچھ طلبہ نے اپنے تعلق کے اظہار کے لیے حدود کی رعایت کے ساتھ ایسا ترانا پڑھ دیا تو یہ ’’رسم‘‘ نہیں ہے؛بلکہ اس کی گنجائش ہو سکتی ہے۔گنجائش کی یہ وہی لکیر ہے جو اَب اتنی دراز ہو گئی ہے کہ اس کا دوسرا کنارہ ’’رسم‘‘ سے جا ملا ہے۔ تاہم بنات کے مدارس میں مجمعِ عام میں بذریعہ مائک اس نغمہ سنجی کی قطعاً اجازت نہیں ہوسکتی۔
اخیر میں یہاں ایک واقعہ لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے، سن ۱۴۱۷ھ کی بات ہے، مدرسہ عربیہ ریاض العلوم گورینی جونپور کے طلبۂ دورہ حدیث نے ختمِ بخاری کی مناسبت سے الوداعی ترانہ پڑھنے کی تیاری کی،مدرسہ کے ذمہ داروں کو اس کی اطلاع ہوئی تو انھوں نے اسے اچھا نہیں سمجھا، فقیہ النفس مفتی محمد حنیف صاحب جونپوریؒ خلیفہ حضرت شاہ وصی اللہ صاحب الہ آبادی و سابق شیخ الحدیث و صدر مفتی ریاض العلوم گورینی نے طلبہ کو اس بارے میں متنبہ کیا اور بتایا کہ یہ سب ہمارے بڑوں نے پسند نہیں کیا ہے، ان کی مفصل تقریر کا ایک اقتباس الوداعی ترانے سے متعلق تھا جو درجِ ذیل ہے:
’’الوداع تو اظہارِ غم کے لیے موضوع ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹنے پر بہت غم ہے، حسرت ہے، حالاں کہ ہر ایک کے دل میں یہ ہو گا کہ اگر امتحان کے دس پرچے ایک ہی دن میں ہو جائیں تو بہتر ہے، گھر جانے کے لیے دل ابھی سے اچھل رہا ہوگا ، لہٰذا یہ تو نفاق ہوا کہ بظاہر اظہارِ غم کر رہے ہیں اور اندر سے خوش ہیں۔ 
رمضان شریف کے آخری جمعہ میں الوداع پڑھنے کی کراہت کی علت جہاں حضرات فقہاء یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ ثابت بالسنہ نہیں ہے، وہیں یہ بھی علت ہے کہ نفاق ہے، دل تو چاہتا ہے کہ جلدی رمضان ختم ہو اور چھٹی ملے اور ظاہر یہ کر رہے ہیں کہ بڑا غم ہے۔‘‘ (مفتی محمد حنیف جونپوری - حیات و آثار،تالیف:مولانا ابن الحسن قاسمی، ص:۳۳۵ ، ناشر: دارالافتاء و الارشاد گورکھپور، سن اشاعت: ۲۰۲۳ء)

رخصت کرنے کا نبوی انداز

(الف) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یمن روانہ فرمایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں وصیت کرنے کے لیے ان کے ساتھ باہر تشریف لائے۔ اس وقت حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سوار تھے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی سواری کے ساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: ’’معاذ ممکن ہے کہ تم اس سال کے بعد مجھ سے ملاقات نہ کرسکو، شاید کہ تم میری مسجد اور میری قبر کے پاس سے گزرو۔‘‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی کی وجہ سے گھبرا کر رونے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف رُخ پھیر کر فرمایا: ’’إن أولی الناس بي المتقون من کانوا وحيث کانوا‘‘ متقی لوگ میرے قرب و شفاعت کے زیادہ حق دار ہیں وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں۔‘‘ (مشکوۃ المصابيح،کتاب الرقاق،حدیث: ۵۲۲۷)
(ب) حضرت عبداللہ خطمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب لشکر کو رخصت کرنے کا ارادہ کرتے تو فرماتے: ’’أستَودِع اللہَ دينَکم وأمانتکم وخواتيمَ أعمالِکم‘‘ یعنی ’’میں تمہارے دین، تمہاری امانت اور تمہارے انجام کار کو اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔‘‘ (سنن أبي داود،کتاب الجہاد، حدیث: ۲۶۰۱)
(ج) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: میرا سفر کا ارادہ ہے، آپ زادِ سفر عنایت فرمائیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’زوَّدَک اللہُ التقوی‘‘ اللہ تجھے تقویٰ کا توشہ عطا فرمائیں،ان صاحب نے مزید نصیحت کی درخواست کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وغفر ذنبَک‘‘ اللہ تعالیٰ تیرے گناہ معاف فرمائیں، انھوں نے مزید خواہش کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ’’ويَسَّر لک الخير حيثما کنتَ‘‘ تم جہاں رہو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے خیر کی راہیں آسان فرمائیں۔ (سنن الترمذي، حدیث:۳۴)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے