
محرم کے مہینے میں نیازِ حسینؓ کھانا یا اگر بطور ہدیہ حلیم وغیرہ آ جائے تو اس کا کھانا جائز ہے یا نہیں؟
’’نیازِ حسینؓ‘‘ کے نام سے محرم کے مہینے میں جو کچھ بانٹا جاتا ہے، اس کا کھانا حرام ہے؛ کیوں کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے نام پر ہو ، اس کا کھانا حرام ہے۔
اسی طرح ان دنوں جو حلیم تقسیم کی جاتی ہے، اگر اس کے بارے میں یقین ہو کہ یہ غیر اللہ کی نیاز ہے تو اس کا کھانا قطعی طور پر جائز نہیں ہوگا، اور اگر ان دنوں میں کوئی ایصالِ ثواب کے طور پر تقسیم کرتا ہے تو بھی اس کے کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے؛کیوں کہ آج کے دور میں محرم کے ابتدائے عشرہ میں ’’حلیم‘‘، ’’شربت‘‘ وغیرہ بنانے کا التزام اہلِ باطل کا شعار بن چکا ہے، اس لیے اہلِ باطل کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے ان دنوں میں اس طرح کی مخصوص اشیاء کے ساتھ ایصالِ ثواب کرنا بھی جائز نہیں، اور اس کا کھانا بھی جائز نہیں،مکروہ ہے۔ قرآن کریم میں ہے:
’’اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْکُمُ الْمَيْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيْرِ وَمَا اُہِلَّ بِہٖ لِغَيْرِ اللہِ‘‘ (البقرۃ: ۱۷۳)
اس آیت کے ذیل میں حضرت مفتی محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
’’ یہاں ایک چوتھی صورت اور ہے جس کا تعلق حیوانات کے علاوہ دوسری چیزوں سے ہے، مثلاً مٹھائی، کھانا، وغیرہ جن کو غیراللہ کے نام پر نذر (منت) کے طور سے ہندو لوگ بتوں پر اور جاہل مسلمان بزرگوں کے مزارات پر چڑھاتے ہیں، حضرات فقہاء نے اس کو بھی اشتراکِ علت یعنی تقرب الیٰ غیراللہ کی وجہ سے’’مَا اُہِلَّ لِغَيْرِ اللہِ‘‘ کے حکم میں قرار دے کر حرام کہا ہے، اور اس کے کھانے پینے دوسروں کو کھلانے اور بیچنے خریدنے سب کو حرام کہا ہے۔‘‘ (معارف القرآن، سورۃ البقرۃ (۱/۴۲۴)، ط: مکتبہ معارف القرآن، کراچی) فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر :144212202125
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن