
محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت بروز جمعرات ۶ ؍ربیع الثانی ۱۳۲۶ھ مطابق ۱۹۰۸ء کو ضلع مردان میں شیخ ملتون ٹاؤن کے مغرب میں واقع ’’مہابت آباد‘‘ نامی بستی میں ہوئی۔
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ امیر مرکزیہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جامع صفات شخصیت کے حامل تھے۔ خیر القرون کو چھوڑ کر سرورِ کائنات فداہ ابی وامی کی اُمت کے منتخب اور نابغہ روزگار لوگوں کی جو فہرست بن سکتی ہے، وہ اس میں شامل تھے۔ وہ علم کا خزانہ، عرفان کا دریا اور استقامت کا پہاڑ تھے۔ انہوں نے پوری زندگی علومِ دینیہ کی تعلیم وتدریس اور تبلیغ میں گزاردی۔ حق تعالیٰ نے ان سے حفاظت اور اشاعتِ اسلام کا عظیم کام لیا۔ ان کی دینی اور ملی خدمات کو ضبطِ تحریر میں لانے کے لیے مستقل تصنیف کی ضرورت ہے۔ یہ مختصر فرصت اُن کا مقام ومرتبہ اور ان کی علمی اور عملی خدمات کی تفصیلات کے تذکرے کی متحمل نہیںہے۔ حضرت مولانا بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے علمی مقام ومنزلت کے سلسلہ میں اتنا کہہ دینا ہی کافی ہے کہ محدثِ جلیل علامۂ دوراں سید انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے جتنے شاگرد آج دنیا میں موجود ہیں، ان سب کو اس بات سے اتفاق ہے کہ مولانا بنوریؒ، سید انور شاہ کشمیریؒ کا صحیح عکس اور ان کی پوری تصویر تھے۔ (ماہنامہ بینات، صفرالمظفر۱۴۳۴ھ/ جنوری ۲۰۱۳ء)
آپ کی تحریرات سے چند مختصر نصائح قارئین کی خدمت میں پیش خدمت ہیں:
1-دین کا سب سے بڑا کام یہ ہے کہ بندہ خود دین پر قائم ہو جائے، باقی کام اس کے بعد ہیں۔‘‘ (بینات، جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن، شمارہ: ذوالقعدہ ۱۳۹۸ھ)
2- اکابر کی عظمت دل میں ہو تو دین کی محنت میں برکت آتی ہے۔‘‘ (بینات، خصوصی اشاعت برائے حضرت بنوری ؒ، ۱۳۹۷ھ)
3-علماء کا کام صرف فتوے دینا نہیں، بلکہ اُمت کی رہنمائی اور اصلاح بھی ہے۔‘‘ (بصائر و عبر، ج:۱، ص: ۴۵)
4-تبلیغی جماعت کی محنت نے دین کو عوام الناس تک پہنچایا، یہ ایک عظیم خدمت ہے۔‘‘ (بینات، شمارہ: ربیع الاول ۱۳۹۵ھ)
5-دینی مدارس کو عصری تقاضوں کے مطابق نصاب میں مناسب تبدیلیاں کرنی چاہئیں، تاکہ طلبہ زمانے کے چیلنجز کا مقابلہ کرسکیں۔‘‘ (بصائر و عبر، جلد دوم، ص: ۱۱۲)
6-تصوف کا اصل مقصد نفس کی اصلاح اور اللہ سے قرب حاصل کرنا ہے، نہ کہ دنیاوی مفادات۔‘‘(بینات، شمارہ: شعبان ۱۳۹۶ھ)
7-’’ختم نبوت کا عقیدہ دین اسلام کی بنیاد ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔‘‘ (بینات، شوال ۱۳۹۴ھ)
8-’’قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، یہی کامیابی کا راستہ ہے۔‘‘ (بینات، رمضان ۱۳۹۷ھ)
9-’’علماء کو چاہیے کہ وہ عوام کے مسائل کو سمجھیں اور ان کے حل کے لیے کوشش کریں۔‘‘ ( بصائر و عبر، جلد اول، ص: ۷۸)
10-’’دین کی خدمت میں اخلاص سب سے اہم ہے، ریاکاری سے بچنا چاہیے۔‘‘ (بینات، محرم ۱۳۹۸ھ)
11-احادیث کی تشریح میں احتیاط برتنی چاہیے، تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں۔‘‘ (معارف السنن، مقدمہ، ص: ۲۷)
12-’’اسلامی تعلیمات کو جدید تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا وقت کی ضرورت ہے۔‘‘ (بینات، رجب ۱۳۹۵ھ)
13- ’’طلبہ کو چاہیے کہ وہ صرف نصابی کتب پر اکتفا نہ کریں، بلکہ اضافی مطالعہ بھی کریں۔‘‘ ( بصائر و عبر، جلد دوم، ص: ۸۹)
14-’’علماء کو سیاست سے دور نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اسلامی اصولوں کے مطابق رہنمائی کرنی چاہیے۔‘‘(بینات، ذوالحجہ ۱۳۹۶ھ)
15-’’اسلامی معاشرے کی تشکیل کے لیے تعلیم و تربیت کا نظام مضبوط ہونا چاہیے۔‘‘ ( بینات، صفر ۱۳۹۷ھ)
16-’’طلبہ کو چاہیے کہ وہ وقت کی قدر کریں اور اسے ضائع نہ کریں۔‘‘ (بصائر و عبر، جلد اول، ص: ۱۰۲)
17- ’’علماء کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگیوں میں سادگی اختیار کریں۔‘‘ (بینات، جمادی الاولیٰ ۱۳۹۸ھ)
18-’’اسلامی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔‘‘ (بینات، ربیع الثانی ۱۳۹۵ھ)
19- ’’طلبہ کو چاہیے کہ وہ اپنے وقت کا بہترین استعمال کریں اور غیر ضروری مشاغل سے بچیں۔‘‘ (بصائر و عبر، جلد دوم، ص: ۱۱۹)
20- ’’علماء کو چاہیے کہ وہ معاشرے کی اصلاح کے لیے عملی اقدامات کریں۔‘‘ (بینات، شوال ۱۳۹۷ھ)
21- ’’دنیا میں اللہ تعالیٰ کی ذاتِ اقدس کے سوا کسی سے خیر کی توقع نہ کریں، اور نہ کسی پر اعتماد و توکل کریں، ورنہ سوائے خسران و ناکامی کوئی اور نتیجہ نہ ہوگا۔‘‘ (ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)
22- ’’میں نے مدرسہ اس لیے نہیں بنایا کہ مہتمم یا شیخ الحدیث کہلاؤں، جلال میں آکر فرماتے، اس تصور پر لعنت۔‘‘ ( ملفوظاتِ حضرت شیخ بنوری قدس سرہٗ، ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)
23- ’’ہم تو چاہتے ہیں کہ حصولِ معاش کے تصور کو ختم کردیا جائے اور طالب علم صرف اللہ تعالیٰ کے دین کا سپاہی بنے، اس کے سوا زندگی کا کوئی مقصد اس کے حاشیۂ خیال میں بھی نہ ہو۔‘‘ (ملفوظاتِ حضرت شیخ بنوری قدس سرہٗ، ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)
24- ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ دعا سکھا دی ہے، یہی دعا کرتا ہوں: اے اللہ! تو خزانوں کا مالک اور بندوں کے دل بھی تیرے قبضۂ قدرت میں ہیں، آپ ان کے دل پھیر دیں، وہ خود آکر اس مدرسہ کی خدمت کریں، ہمیں ان کے درپہ نہ لے جا۔ ‘‘ (ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)
25- ’’خدانخواستہ اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ مجھ پر خدمتِ دین کے سارے دروازے بند ہوجائیں تو میں ایسا گاؤں تلاش کروں گا جہاں کی مسجد غیر آباد ہو اور لوگ نماز نہ پڑھتے ہوں، وہاں جاکر اپنے پیسوں سے ایک جھاڑو خریدوں گا اور مسجد کو اپنے ہاتھ سے صاف کروں گا، پھر خود ہی اذان دوں گا اور لوگوں کو نماز کی دعوت دوں گا۔‘‘ (ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)
26- ’’اگر دینی مدرسہ دنیا کے لیے بنایا ہے تو آخرت کا سب سے بڑا عذاب ہے اور اگر آخرت کے لیے بنایا ہے تو دنیا کا سب سے بڑا عذاب ہے۔‘‘ (ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)
27- ’’شقی اور ملعون ہے وہ شخص جو علم دین کو حصولِ دنیا کے لیے استعمال کرتا ہے، ایسے بدبخت سے سر پر ٹوکری اُٹھا کر مزدوری کرنے والا بدرجہا بہتر ہے۔‘‘ (ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)
28- ’’جو طالب علم اس مدرسہ میں اسلامی شکل و شباہت اختیار کیے بغیر رہنا چاہتا ہے اور جس کے دل میں علم دین کے ذریعے دنیا حاصل کرنے کی تمنا ہے، وہ ہمارے مدرسہ میں نہ رہے، ورنہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدترین خیانت ہوگی۔‘‘ (ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)
29- ’’ایک شخص اپنے اخلاص کی بدولت الف، با پڑھا کر جنت میں جاسکتا ہے اور دوسرا اخلاص کے بغیر بخاری شریف پڑھا کر اس سے محروم رہ سکتا ہے۔‘‘ (ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)
30- ’’علماء کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگیوں میں سادگی اختیار کریں۔‘‘ (ماہنامہ بینات، رجب المرجب ۱۴۳۷ھ - مئی ۲۰۱۶ء)