
اُمتِ مسلمہ کے دین و ملّت کا سرمایہ اور ان کی شریعت کی متاعِ کل سرورِکائنات سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ ہے۔ حضور سرورِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی مبارک کی ہر گھڑی اور ہر آن، ان کے اقوال واحوال اور آپ کے سفر و حضر میں شب وروز کے معاملات تا قیامت آنے والی اُمت کی اجتماعی و انفرادی زندگی کے لیے مشعلِ راہ اور سرچشمۂ ہدایت ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتابِ زندگی کا ایک ایک ورق اور ہر پہلو محفوظ کیا، آپ کے خلوت وجلوت، سفروحضر، عام سیاسی حالات سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نجی زندگی کا ہر واقعہ انہوں نے محفوظ کیا اور آپ کی احادیثِ مبارکہ کو سینوں سے لے کر صحیفوں تک محفوظ کیا، ان کے بعد تابعین ؒاور ان کے اتباع نے اس سلسلے کو جاری رکھا، اور شب و روز ایک کرکے احادیثِ نبویہؑ کی حفاظت و کتابت پر اپنی جانیں ایسےنچھاور کیں جس کی مثال رہتی دنیا تک نہیں ملتی، اور ’’فَحَفِظَہَا وَ وَعَاہَا‘‘ پر عمل کرکے بڑی محنت و مشقت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کو اَزبر کرکے عالمِ اسباب میں اُمتِ مرحومہ پر بہت بڑا احسان کیا ہے، نیز احادیثِ مبارکہ کو جمع کرکے ان کی چھان بین کرکےمدوّن کیا، جن کو قرآن مجیدکے بعد دینِ حنیف کی بنیادی اَساس تسلیم کیا جاتا ہے، جس کے بغیر قرآن مجید کا فہم نا مکمل اور اس کی مراد تک رسائی ناممکن ہے، اور ساتھ ساتھ علمِ فقہ کا بنیادی عنصر اور اَساس ہے، اسی طرح ان حضرات نے ساری زندگی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کی ہر ہر پہلو کی پہرہ داری کی، اور آپ کی احادیثِ مبارکہ کو جمع اور یکجا کرنے میں احتیاط کے اندر کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ان محدثینؒ نے نہ صرف احادیث کو جمع کیا، بلکہ ان پر مکمل تحقیق کی، تاکہ اُمت کے لیے صحیح احادیث کوقابلِ عمل بنایا جا سکے، حتیٰ کہ اس کو قبول کرنے کے لیے ’’احکامِ جرح و تعدیل‘‘ جیسےقوانین اور فنون ایجاد کیے، جن کے اندر ان محدثینؒ نےحدیث کے راویوں کی زندگیاں پرکھیں، ان کے کردار، دیانت اور امانت کا جائزہ لیا، تاکہ صرف وہی احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب ہوں جو واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کی ہوں، اور اس سلسلے میں کسی حدیث کو ضعیف قرار دینے سے ان کا مقصد معاذ اللہ ہر گز سرورِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات بابرکات کو ضعیف و کمزور قرار دے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی علمی دیانت کا ثبوت ہے کہ ن الفاظ و کلمات کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کمزور واسطے سے ہوئی اس کی نشان دہی کردی۔
چنانچہ امام خطیب بغدادی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب ’’شرف أصحاب الحدیث‘‘ میں ابو حاتم الرزی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’سمعت أبا حاتم الرازيؒ یقول:لم یکن في أمۃ من الأمم منذ خلق اللہ آدمؑ أمناء یحفظون آثار رسول اللہؑ إلا في ھٰذہ الأمۃ، فقال لہٗ رجل: یا أبا حاتم! و بما رووا حدیثاً لا أصل لہٗ ولایصحّ، فقال: علماءھم یعرفون الصحیح من السقیم، فروایتھم ذٰلک للمعرفۃ لیتبیّن لمن بعدھم أنھم میّزوا الآثار و حفظوھا، ثم قال: رحم اللہ أبا زرعۃ، کان واللہِ مجتھدا في حفظ آثار رسول اللہؑ۔‘‘ (مترجم بنام فضائل محدثین، ص:۱۲۴)
’’امام ابو حاتم الرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: اگلی اُمتیں اپنے پیغمبر کی احادیث کو حفظ نہیں کرتی تھیں، اللہ تعالیٰ نے یہ وصف اسی اُمت کو عطا فرمایا ہے۔ ایک شخص نے یہ سن کر اعتراض کیا کہ یہ اس اُمت کے لوگ تو بے اصل اور غیر صحیح احادیث بھی بیان کردیتے ہیں؟ آپؒ نے فرمایا:گو وہ بیان کرتے ہیں، مگر محدثین صحیح اور غیر صحیح کی پوری معرفت رکھتے ہیں، لہٰذا محدثین ایسی غیر صحیح روایات کو صرف اس لیے روایت کرتے ہیں کہ بعد والے لوگ دھوکے میں نہ پڑجائیں اور انہیں صاف پتہ چل جائے کہ ان محدثین نےخوب چھان بین کرلی ہے اور احادیث حفظ کرلی ہیں۔ اللہ تعالیٰ امام ابوزرعہؒ پررحم فرمائیں کہ انہوں نے احادیث کے حفظ کرنے میں بہت مشقت اُٹھائی، اس بارے میں ان کی محنت بہت بڑھی ہوئی تھی۔ ‘‘
جبکہ ان حضرات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عشق کا یہ عالم تھاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو ہر قسم کی غلط نسبت اور جھوٹ سے پاک رکھنے کے لیے سخت سے سخت معیار اپناتے تھے اور یہ عمل عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ہے نہ کہ گستاخی، دوسری طرف ان کی انفرادی و اجتماعی زندگیاں بھی زہد و تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر مبنی، اخلاص وللّٰہیت، خوف ِخداوندی اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل ساری اُمت کے لیے ایک جامع و کامل نمونہ ہے۔
چنانچہ امام خطیب البغدادی رحمۃ اللہ علیہ محدثین عظامؒ کے متعلق عبد اللہ بن داؤد الخریبی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’عبد اللہ بن داؤد الخریبي یقول: سمعت أئمتنا و مَن فوقنا أن أصحاب الحدیث و حملۃ العلم، ھم أمناء اللہ تعالٰی علٰی دینہٖ و حفاظ سنۃ نبیّہؑ ماعملوا و علموا۔‘‘
’’حضرت عبد اللہ بن داؤد الخریبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: محدثین عظام اللہ تعالیٰ کے دین کے محافظ ہیں اور احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حفاظ ہیں اور علم و عمل میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ ‘‘
الغرض ان کا ہر عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت کا عکاس ہے۔ اللہ رب العزت نے ہی ان کو تمام عالمِ انسانیت میں اپنے اس مبارک دین کی خدمت کے لیے منتخب کیا تھا، جس کی بدولت فضلِ الٰہی کے محور ٹھہرے:
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں؟
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
محدثین کرامؒ کے عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کئی عملی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں، چنانچہ:
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جب بھی کوئی حدیث لکھتے تو پہلے وضو کرتے، دو رکعت نماز پڑھتے، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے، اسی طرح امام مالک رحمۃ اللہ علیہ مدینہ منورہ میں رہتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق و احترام میں مدینہ کی گلیوں میں جوتے پہن کر چلنے سے گریز کرتے تھے۔
لہٰذامحدثین کرام عاشقانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے، جنہوں نے اپنی ساری زندگیاں سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لیے وقف کیں، یہ محدثین دین کے خادم تھے اور اُمت کو قرآن و سنت کی روشنی میں درست راستہ دکھانے والے رہنما تھے، ان کا ہر عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عقیدت کا عکاس ہے، لہٰذا امتِ مسلمہ کو محدثین کرام کی خدمات اور ان کے مقام کو پہچانتے ہوئےان کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہیے اور ان کی قربانیوں کی قدر کرنی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو دینِ متین کی صحیح سمجھ و فہم اور ان حضرات کی دل و جان سے قدردانی کی توفیق نصیب فرمائیں، آمین بجاہ سیّد الرسل و خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و علٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین۔