بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

متنِ حدیث کو حل کرنے کے بنیادی اُصول 

متنِ حدیث کو حل کرنے کے بنیادی اُصول 


حدیث کی سند کا ثمرہ اور مطلوب اس کا متن ہوتا ہے۔ متن کی مراد سمجھنے میں ہمیں بسا اوقات دشواری پیش آتی ہے، یہاں اُس کے اسباب اور اُن کے حل کے بارے میں اہلِ علم کا کلام پیش کیا جارہا ہے:

۱: حدیث کا اُسلوبِ بیان 

مولانا محمد منظور نعمانی  رحمۃ اللہ علیہ   فرماتے ہیں :
’’ زیادہ تر احادیث کی حیثیت یہ ہے کہ وہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے مجلسی ارشادات اورافادات ہیں،یا آپ کے سامنے پیش ہونے والے سوالات کے جوابات ہیں، یا کسی وقتی مسئلہ سے متعلق ہدایات اور تنبیہات ہیں، اس لیے اس موقع وماحول اور مخاطبین کے احوال وخصوصیات کو پیشِ نظر رکھ کر ان کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر احادیث کی اس حیثیت کو پیش نظر نہ رکھا جائے اور مصنفین کی لکھی ہوئی کتابوں کی طرح اُن پر بھی غور کیا جائے تو طرح طرح کی اُلجھنیں اور شکوک پیدا ہوسکتے ہیں، اور اگر یہ نکتہ ملحوظ رکھا جائے تو ان شاء اللہ! کوئی اُلجھن اور کوئی وسوسہ پیدا نہ ہوگا۔‘‘ (معار ف الحدیث، ج: ۱، ص:۲۵)
اس سے معلوم ہوا کہ ہر حدیث کو ایک مستقل ہدایت اور نصیحت کے طور پر دیکھنا چاہیے، اور اس وقت کے خاص پس منظر کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔ 

۲: روایتِ حدیث کی دو اہم خصوصیات

روایت بالمعنی اور اختصار : حافظ ابن صلاح  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : 
’’ذلک ہو الذي تشہد بہ أحوال الصحابۃؓ والسلف الأولین وکثیرًا ما کانوا ینقلون معنی واحدًا في أمر واحد بألفاظ مختلفۃ، وما ذٰلک إلا لأن معولہم کان علی المعنی دون اللفظ۔ ‘‘ (مقدمۃ ابن صلاح ، ص:۲۱۴)
’’صحابہؓ اور سلف اولیین کے احوال سے روایت بالمعنی کا جواز ہی معلوم ہوتا ہے، اور ان کا عام طریقہ یہ تھا کہ ایک واقعے کو مختلف الفاظ میں نقل کرتے تھے، اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ معنی محفوظ رکھتے تھے نہ کہ لفظ۔‘‘
 حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : 
’’نقل بالمعنی بتغیرِ الفاظ شائع ذائع ہے۔‘‘ (تالیفاتِ رشیدیہ، ص:۷۲۳)
 حضرت مولانا حسین احمد مدنی  رحمۃ اللہ علیہ  کا ارشاد ہے:
 ’’روایت بالمعنی اور اختصار، روایت میں تفقہ کی اشد ضرورت سمجھی گئی ہے، جس کا اقرار خود محدثین کو بھی ہے۔‘‘  (مکتوباتِ شیخ الاسلا م، ج :۳، ص:۵۵) 
اختصارِ روایت میں بعض دفعہ ایسا تغیر ہوجاتا ہے کہ حدیث کا سیاق‘ سباق کے معارض ہوجاتا ہے۔ (مثلاً دیکھیے: مکتوباتِ شیخ الاسلام :۳/۵۳ - ۵۵) یہی وجہ ہے کہ امام احمد بن حنبل  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :
 ’’الحدیث إذ لم تجمع طرقہ لم تفہمہ، والحدیث یفسّر بعضُہٗ بعضا۔‘‘ (الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع، ج:۲، ص:۲۱۲
’’حدیث کے طرق جب تک اکٹھے نہیں کرو گے، اسے سمجھ نہیں سکو گے اور احادیث ایک دوسرے کی تفسیر کرتی ہیں۔‘‘
 حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : 
’’وکثیرًا ما یکون القید مذکورًا في بعض الطرق، ویغفل عنہ الناس، ویقعون في الإشکالات۔‘‘ (فیض الباري ،ج::۶، ص:۵۷، باب ما یذکر في الطاعون
’’بسااوقات قید کی ایک طریق میں مذکور ہوتی ہے اور لوگ اس سے بے خبر ہوتے ہیں اور اشکالات میں پڑتے ہیں۔ ‘‘
اختصارِ روایت کی وجہ سے کبھی یہ صورت پیش آتی ہے کہ ہر راوی روایت کا کچھ حصہ بیان کردیتا ہے جو دوسرا بیان نہیں کرتا، یعنی ’’ذکرُ کلِّ ما لم یذکرہ الآخر‘‘ حضرت کشمیری  رحمۃ اللہ علیہ  اس قاعدے کے بارے میں فرماتے ہیں: 
’’ہٰذہ قاعدۃ مہمۃ، وکان من المہم أن یعتني بہا أرباب المصطلح ولکن أغفلوہا، وقدتعرض لہا الحافظ في الفتح أکثر من موضع۔‘‘  (معارف السنن، ج: ۶، ص:۴۳۲
یعنی یہ اہم قاعدہ ہے۔ 
اربابِ مصطلح کو اس کا اہتمام کرنا چاہیے تھا، لیکن انھوں نے اسے چھوڑ دیا۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ  نے فتح الباري میں ایک سے زائد جگہوں پر اس کا ذکر کیا ہے۔ حافظ ابن حجر  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : 
’’والأصل عدم التعدّد مع اتحاد المخرج۔‘‘ (فتح الباري، ج:۹، ص:۶۴۲)
 ’’حدیث کا مخرج ایک ہونے کی صورت میں اصل عدمِ تعدد ہے۔ ‘‘

۳: تعامل کو ملحوظ رکھنا

روزمرہ پیش آنے والے امور میں اصل قرونِ ثلاثہ کا عملی رواج ہے۔ یہاںتعامل چھوڑ کر اخبارِ آحاد پر اکتفا کرلینا درست نہیں۔ حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : 
’’ولیس الطریق أن یبني الدین علی کل لفظ جدید بدون النظر إلی التعامل۔ ومن یفعل ذٰلک لا یثبت قدمہ في موضع، ویخترع کل یوم مسألۃ، فإن توسّع الرواۃ معلوم، واختلاف العبارات والتعبیرات غیر خفي، فاعلمہ ۔۔۔ فلا بد أن یراعی مع الإسناد التعامل أیضا، فإن الشرع یدور علی التعامل والتوارث۔‘‘ (فیض الباري،ج:۲،ص:۲۳۷،باب إلزاق المنکب بالمنکب والقدم بالقدم في الصف
’’اور یہ طریقہ درست نہیں کہ تعامل سے قطع نظر کرکےہر نئے لفظ پر حکم کی بنیاد رکھی جائے، جو ایسا کرے گا اس کا پائوں کہیں جمے گا نہیں، وہ روزانہ نیا مسئلہ نکالے گا، کیونکہ روات کا توسُّع معلوم ہے اور عبارات والفاظ کا اختلاف مخفی نہیں۔ پس اسے جان لو!۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لہٰذا سند کے ساتھ تعامل کی رعایت رکھنا ضروری ہے، کیونکہ شریعت کا دارومدار تعامل وتوارث پر ہے۔ ‘‘

۴: مجلسِ اول کے قرائن کا استحضار

حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : 
’’یہ بات طے شدہ ہے کہ جب کسی مجلس میں کوئی کلام ہوتا ہے تو اس مجلس میں بعض قرائن ایسے ہوتے ہیں جن سے متکلم کی مراد بخوبی واضح ہوجاتی ہے، جیسے کلام کا سابق ولاحق، قرائنِ حال، الفاظ کا تقدُّم وتاخُّر، لب ولہجہ، آنکھ، سر یا ہاتھ کی حرکت۔ اگرچہ الفاظ میں دوسرے معنی کا بھی احتمال ہوتا ہے، پھر جب وہ کلام تحریری یا زبانی نقل کیا جاتا ہے اور ان قرائن میں سے بعض بالکل ختم ہوجاتے ہیں تو اس وقت اسی کلام سے متکلم کی مراد مخفی ہوجاتی ہے اور معنی غیر مراد متبادر ہوجاتے ہیں۔ اس طرح دوسری مجلس کے سامعین اس کلام کے وہ معنی متعین کرلیتے ہیں جو متکلم کی مراد نہیں تھے، مگر مجلسِ اول کے حاضرین اور ان حاضرین سے سننے والے مرادِ متکلم جانتے ہیں اور دوسرے متبادر معنی کو غلط سمجھتے ہیں، اور مجلسِ اول کے بھی وہ حاضرین جن کو ان قرائن سے ذہول ہوا ہے، وہ معنی غیر مراد سمجھ جاتے ہیں، یہ قاعدہ نہایت کارآمد اور نہایت صحیح ہے، اور احادیث میں اس کی بہت مثالیں موجود ہیں۔ اور اس قاعدہ کے ذہول سے بہت اختلافات علماء میں پید ا ہوگئے ہیں۔‘‘  (تالیفا تِ رشیدیہ، ص:۷۱۸، بتسہیل واختصار) 
للہ درّ الشیخ، ثم للہ درّہٗ، ما أدقّ نظرہٗ، وما أسدّ فہمہٗ!!
اور اب مجلسِ اول کے قرائن کے استحضار کی صورت یہی ہے کہ سب طرق اکٹھے کیے جائیں، مرفوعات کے ساتھ موقوفات ومقطوعات کو بھی ملایا جائے اور تعامل کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ 

۵: خبرِ واحد کو کتاب اللہ سے تطبیق دینا ضروری ہے

دلائل کے مرتبے مختلف ہوتے ہیں، ان کی رعایت رکھنا ضروری ہے، بعض دفعہ خبر واحد کے ظاہری معنی قرآن مجید کے خلاف ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں خبر واحد کو کتاب اللہ سے تطبیق دی جاتی ہے یا اسے ترک کردیا جاتا ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : 
’’حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  کے (حضرت ابن عمر  رضی اللہ عنہما  کی حدیث کے بارے میں نسیان یا خطا کی) تاویل کرنے اور آیت سے دلیل لینے سے معلوم ہوا کہ خبرواحد کو کتاب اللہ سے تطبیق دینا ضروری ہے، ورنہ اس کے مقابلے میں اسے چھوڑ دیا جائے گا۔‘‘     (دیکھیے : الکوکب الدری، ج: ۲، ص:۱۷۸)

۶: احتمال غیر ظاہر کا اعتبار نہیں 

’’حدیث میں آیا ہے کہ :’’آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  عمامہ کے شملہ کو دونوں کندھوں کے درمیان چھوڑتے تھے۔ ایک طالب علم نے شملہ کو آگے سینہ پر ڈال کر کہا کہ ’’بین الکتفین‘‘ اس طرح بھی تو ہوسکتا ہے۔ مولانا(محمد مظہر نانوتوی  رحمۃ اللہ علیہ ) نے فوراً اس کی پگڑی گھما کر اور شملہ بالکل ناک کے سامنے لٹکا کر فرمایا کہ ’’بین الکتفین‘‘ یوں بھی تو ہوسکتا ہے۔ مطلب یہ کہ حدیث وقرآن میں ایسے احتمالاتِ غیر ظاہرہ کا اعتبار نہیں۔‘‘                        (ملفوظاتِ حکیم الامت، ج: ۱۱، ص:۲۴۲) 

۷: حدیث کا اصلی مدلول 

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں :
’’قرآن وحدیث کا مدلول جو بے تکلف ماہر کے ذہن میںآئے وہ صحیح ہے، اس کے بعد اپنے اہواء (خواہشات) کی نصرت ہے۔‘‘(ملفوظاتِ حکیم الامت، ج : ۲۳، ص:۸۹) 
اور فرمایا :
 ’’صحبت تو وہ چیز ہے کہ اس سے ذوق صحیح پیدا ہوکر قرآن وحدیث کا مدلول سمجھ میں آنے لگتا ہے۔‘‘   (ملفوظاتِ حکیم الامت ،ج:۴، ص:۲۵۲) 
اور ارشاد ہے :
 ’’مفتی الٰہی بخش صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  حضرت سید (احمد شہید) صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  کے معتقدِ خاص تھے، کسی کے سوال پر مفتی صاحب نے فرمایا کہ سید صاحب کے تعلق سے پہلے بھی قرآ ن وحدیث پڑھے ہوئے تھے، اب بھی وہی قرآن وحدیث پڑھتے ہیں، مگر فرق یہ ہے کہ وہی قرآن وحدیث پہلے اور طرح کا نظر آتا تھا، اب اور طرح کا نظر آتا ہے۔ سو یہ چیز بزرگوں کی صحبت سے ملتی ہے، مگر افسوس اتنی بڑی چیز کو لوگ چھوڑے ہوئے ہیں اور صحبت اختیار نہیں کرتے۔ بڑا ناز ہے علم پر کہ ہم عالم ہوگئے۔ یاد رکھو! بدوں (بغیر) اپنے کو مٹائے کچھ نہیں ہوتا!۔‘‘ (ملفوظات حکیم الامت، ج :۴، ص:۳۵۶) 
اور فرمایا: 
’’حقیقت میں علم وہ ہے جو تقویٰ سے بڑھتا ہے۔‘‘ (خطبات حکیم الامت ،ج:۲، ص:۲۲۱) 
یعنی علم کی حقیقت‘ قرآن وحدیث کی صحیح سمجھ ہے، نہ کہ معلومات یاد ہوجانا۔ 
ابن رجب  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں: 
’’فلیس العلم بکثرۃ الروایۃ ولا بکثرۃ المقال، و لکنہٗ نور یقذف في القلب یفہم بہ العبد الحق، ویمیّز بہٖ بینہٗ وبین الباطل، ویعبر عن ذٰلک بعبارات وجیزۃ محصّلۃ للمقاصد۔‘‘  ( بیان فضل علم السلف، ص:۵۸)
’’ علم کثرتِ روایت سے نہیں آتا اور نہ زیادہ بولنے سے، لیکن وہ ایک نور ہے جو دل میں ڈالا جاتاہے، جس سے آدمی حق سمجھ لیتا ہے اور اس کے اور باطل میں فرق کرلیتا ہے اور اس کو مختصر الفاظ سے تعبیر کرلیتا ہے جو مقاصد ادا کرنے والے ہوں۔ ‘‘

۸: احادیث میں مذکور اعمال کی خاصیتوں کے معانی 

حضرت اشرف علی تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں : 
’’قرآن وحدیث میں جو مختلف اعمال واحوال کی خاصیتیں مذکور ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں فی نفسہٖ یہ خاصیت ہے۔ باقی اگر کوئی معارض قوی ہوا تو ظاہر ہے کہ اس معارض کا اثر غالب ہو جائے گا۔ غرض ان میں اثر ضرور ہے، بشرطیکہ کوئی معارض قوی نہ ہو۔ یہ حضرت مولانا (محمد) یعقوب صاحب کی تحقیق ہے، جو میں نے کہیں منقول نہیں دیکھی۔ سبحان اللہ! قرآن وحدیث پڑھے تو ایسے سے پڑھے۔ دیکھیے! اس تحقیق سے ہزارو ں بلکہ لاکھوں نصوص جن میں مختلف اعمال واحوال کے فضائل مذکور ہیں، حل ہوگئیں۔‘‘      (ملفوظاتِ حکیم الامت، ج:۹، ص: ۱۷۴، ۱۷۵)

 ۹: حدیث میں بعض چیزیں بطور مروت مذکور ہوتی ہیں

بعض اشیاء احادیث میں آتی ہیں، لیکن وہ مروت وحسنِ معاملہ کے طور پر ہوتی ہیں، ان سے کوئی عام فقہی حکم نہیں لینا چاہیے۔ (دیکھیے :فیض الباري، ج: ۲، ص:۷۸)

۱۰: مخاطب کی خصوصیت کے لحاظ سے ارشاد

بعض دفعہ مخاطب کی خصوصیت کے لحاظ سے جواب ہوتا ہے، جیسے مثلاً افضل عمل کے سوال کے جواب میں نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مختلف جوابات ارشاد فرمائے ہیں، ان کی وجہ مخاطب کی خصوصیت ہے۔ (دیکھیے : فتح الباري، ج:۲، ص:۹)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے