بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

ماں جی!!!

ماں جی!!!

 

ماں جی چلی گئیں، جب بابا گئے تو بارہ سال کا تھا، پہلی قبر باپ کی تھی جو اندر سے دیکھی، اب ماں کی قبر پہلی تھی جس میں خود اندر اُترا، زندگی میں موت نہ ہو تو ستر ماؤں سے بڑھ کر چاہنے والے سے ملاقات کیسے ہو؟ حیات سے پہلے عدم نہ ہو تو خدا کا ثبوت کیونکر ملے!
ماں جی میری کائنات تھیں جس میں چلنا، بولنا ہی نہیں، بلکہ ہر اعلیٰ انسانی صفت کا لمس محسوس کیا، وہ میرا محور نہ بنی کہ میں اُن کا طواف کرتا، وہ میری بنیاد ٹھہریں جس پر کھڑے ہو کر میں سر اُٹھا کر دیکھنے کے قابل ہو سکا۔
سید السادات خانوادۂ بنوریؒ سے منسوب ہونا مجھ سے استخواں فروش کے لیے اہتزاز کا باعث ہے، ہماری کامیابیوں کا پیمانہ اور فلاح کی معراج یہی مقسوم سمجھی جاتی ہے کہ ہم محدث العصر حضرت بنوری علیہ الرحمہ کے نقشِ قدم سے کتنے فاصلہ پہ ہیں، مگر سرورِ دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی خود کو ایک موقع پہ اپنی والدہ کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا تھا: 
’’إنَّما اَنا ابْنُ امْرَأۃٍ تَأکُلُ الْقَدِيْدَ‘‘(سنن ابن ماجۃ، أبواب الأطعمۃ، باب القديد: ۴/۴۳۰، رقم:۳۳۱۲، ط: دار الرسالۃ العالميۃ
’’میں اُس ماں کا بیٹا ہوں جو گوشت کے خشک پارچے کھایا کرتی تھی۔‘‘
چنانچہ اپنی تمام تر پدری عالی نسبی اور اس نسبت کی کرم فرمائیوں کے باوجود میرے لیے یہ بہت ہے کہ میری باکمال ماں مجھے اپنے بیٹا سمجھتی تھی:

کیا جھگڑا سود خسارے کا

یہ کاج نہیں بنجارے کا
سب سونا روپا لے جائے

سب دنیا، دنیا لے جائے
تم ایک مجھے بہتیری ہو

وہ کیا تھیں اس پر مجھے ابھی غور کرنا ہے، ہم حسینی ہیں تو زندگی ایسے گردابوں میں رہتی ہے کہ اتنی فرصت نہیں مل پاتی کہ اپنے ہاتھوں سے وہ آئینہ تراشوں جس میں اُن کی جھلکیاں دیکھ سکوں اور پھر یہ کہہ کر دعوتِ نظارہ دوں کہ :

وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی اُلفت مجھ سے
اِک نظر تم مِرا محبوبِ نظر تو دیکھو

بہرحال اس موقع پہ ’’اذکروا محاسن موتاکم‘‘ کی روایت کے مطابق ان کے چند اوصاف کا ذکر کارِ خیر شمار ہوگا، اس طرح کے ذکرِ خیر سے اپنی اصلاح کا موقع بھی ملتا ہے، حضرت تھانوی رحمہ اللہ سمیت بہت سے مصلحینِ امت نے اپنی اصلاح کا ایک طریقہ کار لکھا ہے جسے’’ مراقبۂ نعمِ الٰہیہ اور تقصیراتِ خود‘‘ کے عنوان سے سلوک کی کتابوں میں ذکر کیا جاتا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ انسان اکیلے میں بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کا تجزیہ کرے اور ان کا شمار کرے، کیونکہ اگر اللہ تبارک وتعالیٰ کے احسانات کا انسان کو احساس نہ ہو تو غفلت بھی طاری ہوتی ہے اور اللہ کے دین کے جو تقاضے ہیں وہ بھی پورے نہیں ہوسکتے۔ اب جب ہم اساتذہ کا یا اپنے ماں باپ کے احسانات کا تذکر ہ کرتے ہیں تو اس میں تفاخر کا احساس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نیت یہ ہونی چاہیے کہ اے اللہ! آپ نے یہ نعمتیں دیں، ہمیں ان پر شکر گزاری کی توفیق بھی عطا فرمائیے!
سب سے پہلا وصف جو میں نے اپنی والدہ میں پایا وہ ایسا ہے جس پر بات کیے بغیر کوئی بات نہیں بنتی، وہ ہے ان کی ’’خود داری اور غیرت‘‘ وہ نہایت غیرت مند اور خود دار خاتون تھیں، دین کی خدمت کرنے والا شخص خود دار اور غیرت مند نہیں ہے تو وہ دین کی کوئی خدمت انجام نہیں دے سکتا، وہ قدم بہ قدم مفاد پرستی کا شکار ہوگا، اور اسے کلمۂ حق کہنے کی توفیق نہیں ہوگی۔
غیرت کیا ہے تو ایسے سمجھیں کہ خودداری کی تیغ کو وفا کی سان پہ دھر کر حوصلوں کی تپش دکھاؤ تو غیرت کی وہ شمشیرِ خارا شگاف بنتی ہے جس کے بارے میں اقبال نے کہا ہے :

غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا
حاصل کسی کامل سے یہ پوشیدہ ہُنَر کر
کہتے ہیں کہ شیشے کو بنا سکتے ہیں خارا

میں نے اپنی ماں جیسی خود داراور غیرت مند شخصیت کا اب تک اپنی زندگی میں مشاہدہ نہیں کیا، تمام زندگی قرض لینا اور قرض دینا دونوں سے محفوظ رہیں، مجھے یاد نہیں ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کے سامنے ہاتھ پھیلایا ہو، جوکچھ ان کے لیے جامعہ کی طرف سے مقررکیا گیا، اسی میں انہوں نے گزارا کیا۔ کبھی مجھے اس کا احساس نہیں ہوسکا کہ گھر کی اشیاء بیچی بھی جاسکتی ہیں، یا کسی سے قرض مانگنا بھی وسائل کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے وابستگان میں حرمین کا سفر ثروت کا محتاج نہیں ہوتا، یوں وہاں کی زیارتوں کے اسباب بنتے رہتے ہیں، مگر ماں جی اس خانوادہ کے مرکز میں آباد ہونے کے باوجود کبھی دوسروں کے سہارے اس سعادت کی ملتمس نہ ہوئیں، میرے والد کی وفات کے کئی عرصہ بعد نانا کی میراث میں ملنے والی رقم سے خود کو، مجھے اور میری ہمشیرہ کو فرض حج کرایا، یہی موقع ان کا پہلا اور آخری حرمین کی زیارت کے شعوری سفر کا باعث ٹھہرا، ان کی وفات سے تین سال قبل جب میں نے بڑی چاہ سے انہیں دوبارہ عازمِ سفر کیا تب تک وہ اپنی مختلف بیماریوں کی وجہ سے مکلف ہونے کی منزلوں سے ماورا ہو چکی تھیں، تو اس غیرتِ ناہید کی ہر تان دیپک ہی رہی،اس نے اپنے مالک کے دربار میں کسی اور کا منت کش ہونا گورا نہ کیا، میری ماں خودداری کی دھیمی آنچ میں جلتے چراغوں سے اپنا من روشن رکھتی تھی اور اسی میں مگن رہتی تھی، لیکن اگر کبھی میری غفلت کا سایہ بھی اس پہ پڑنے لگے تو اس کی محبت سے چور آنکھوں میں، میں نے شعلہ لپکتا دیکھا ہے، کیوں نہ ہو وہ بخاری سیدانی تھی جو ہزاروں سالوں سے تاریخ کے غیوروں کا پڑاؤ بننے والے شہر پشاور میں پلی بڑھی تھی، ان جیسی سرزمینوں کے بارے لوگوں نے کہہ رکھا ہے:

نہ اس میں گھاس اُگتی ہے نہ پھول کھلتے ہیں
مگر اس سر زمین پہ آسمان بھی جھک کے ملتے ہیں

تو میری ماں کے حضور بھی میں نے شہہ زوروں کو دبتے، دریاؤں کو منہ موڑتے اور فلک کو احترام میں جھکتے دیکھا ہے، لیکن جب بابا کی وفات کے بعد اس نے اپنے خرمنِ دل میں بچوں کی پرورش کا روگ پالا تو وہ سمٹ کر رہ گئیں، من کی دنیا کی ہر خواہش تج کر اس نے گھر کے گوشہ کو جہاں کرلیا:

جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار! ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنادیا
 

یہ خود کو وقف کرنے کی وہ سنت تھی جس کی ادائیگی کے بغیر اپنے بانی کی منشا کے مطابق جامعہ اپنے در کسی کے لیے مستقل وا نہیں کرتا۔
اب وہ گئیں تو اس شان سے کہ کئی سال سے انہوں نے اپنے دماغ کی آنکھیں موند لی تھیں، میں نے اور بہن نے اس بے دل دنیا کی کامیابیوں کی ٹھکریاں اُٹھا اُٹھا کر ان کے پاؤں میں ڈھیر کرنا چاہیں، مگر ماں جی نے خاموشی سادھنا شروع کردی، جیسے کہتی ہوں: مجھے ان سے کیا غرض؟! بس تم خوش ہو میرے لیے یہی کافی ہے۔
ہم تڑپ گئے کہ ماں جی آؤ! یہاں سے اب دنیا دیکھو، مگر وہ آہستہ آہستہ آنکھیں بند کرنے لگ گئیں، گویا مجھے تمہارے ہاتھ کا بھی کچھ نہیں چاہیے:

ہم خستہ تنوں سے محتسبو! کیا مال منال کا پوچھتے ہو
جو عمر سے ہم نے بھر پایا سب سامنے لائے دیتے ہیں
دامن میں ہے مشتِ خاکِ جگر ساغر میں ہے خونِ حسرتِ مے
لو ہم نے دامن جھاڑ دیا لو جام اُلٹائے دیتے ہیں

ان کا دوسرا وصف جو یہاں قابلِ ذکر ہے وہ ان کا خود کو وقف کردینا ہے، جامعہ میں اللہ تعالیٰ جوبھی خدمت کے مواقع دیتا ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم خود کو اس ادارے کی خدمت کے لیے وقف کردیں۔ حضرت بنوری رحمہ اللہ نے تمام چیزوں کو چھوڑ کر اور تمام مناصب کو چھوڑ کراس ادارے کی خدمت کے لیے خود کو وقف کیا۔ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندرؒ جو ہم سب کے شیخ تھے، ہم نے اُن سے بارہا سناکہ میرے شیخ نے مجھے یہ نصیحت کی تھی کہ: ’’اس ادارےکے لیےخود کو وقف کردو، پھر میں نےنگاہ اُٹھا کر کہیں اور نہیں دیکھا۔‘‘ زمین وآسمان کی ہزار گردشیں آئیں اور حالات کئی طرح کے آئے، لیکن وہ اپنے شیخ کے عہد پر ثابت قدم رہے۔
میری ماں کا تعلق سید خاندان سے تھا، وہ بخاری سیدہ تھیں، مگر ان کے خانوادہ میں علم دین کی تحصیل کی روایت مستحکم نہیں تھی، اس رشتہ کا باعث دادا جان حضرت بنوریؒ کی بھابھی تھیں جو پشاور ہی کی رہنے والی تھیں، میری نانی اس رشتہ کا باعث یہ بیان کیا کرتی تھیں کہ مجھے حضرت بنوریؒ کی سوانح پر مشتمل بینات کا خاص نمبر لاکر دیا گیا، جس کے مطالعہ کے بعد میرا ذہن بنا کہ اگر حضرت کے آدھے اوصاف بھی ان کے صاحبزادہ (والد گرامی) میں ہوئے تو میری بیٹی کی سعادت کے لیے کافی ہوگا، اس واقعہ کو سوچ کر راقم کے دل میں یہ خیال آتا ہے کہ حضرت بنوری رحمہ اللہ کے کردار کا یہ کیسا فسوں تھا کہ بیٹے تو بیٹے لوگوں نے اپنی بیٹیاں بھی آپ کے نامِ نامی پہ نثار کردیں۔
ان کا ایک اور خاص وصف اُن کی جرأت و بہادری تھی، جس طرح کے بے لگام ہجوم کے سامنے مرد کہلانے والے انسانوں کا پتہ پانی ہوتا ہے میں نے اس موقع پہ انہیں دیومالائی بہادری کا مجسم نمونہ بنتے اور بپھرتے آگے بڑھتے دیکھا ہے،آج اگر میری آواز میں کوئی خروش محسوس ہوتا ہے یہ میری والدہ کی دَین ہے۔ ہماری ماؤں کا یہ احسان ناقابلِ فراموش رہے گا کہ ان کی تربیت سے ہم زیست کے کٹھن مرحلوں میں پامردی سے حالات کا سامنا کرپاتے ہیں۔
یہاں نہایتِ کلام میں ایک اہم پہلو کی طرف رہنمائی مناسب معلوم ہوتی ہے:
 یہ درست ہے کہ ادب ہمارا شعار ہے: ’’وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّہَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ‘‘ ہم اساتذہ کا احترام کرتے ہیں، اپنے بڑوں کا احترام کرتے ہیں، ہم اپنے مدرسے کے خدام کا احترام کرتے ہیں، ان تمام آداب کا ثبوت قرآن وحدیث سے ملتا ہے، لیکن ایک چیز کااعلان نصِ قرآنی ہے اور وہ ہے ماں باپ کا احترام، اگر ہم میں اپنے استاذ کو دیکھ کر کپکپی طاری ہوتی ہے، لیکن ہم گھر میں اپنے والد کو دیکھ کر احترام سے کھڑے نہیں ہوتے تو ہم دین میں کامل نہیں، ناقص ہیں، ہم ملکوں ملکوں اپنی اصلاح کے لیے شیوخ کو تلاش کرتے ہیں، پھر ان سے اصلاحِ نفس کی غرض سے وابستگی اختیار کرتے ہیں، موقع بے موقع ان کی کرامتوں کے تذکرے کرتے ہیں، لیکن ہمیں اپنے گھر میں اللہ کی وہ ولیہ ماں یاد نہیں آتی تو ہمارا فہمِ دین بھی ناقص ہے، اور ہمارا عمل بھی ناقص ہے۔ قرآن نے ماں باپ کے بارےمیں وصیت کی ہے کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے، یاد رہے کہ قرآنِ کریم نے صرف مسلمان والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید نہیں کی، بلکہ سورۂ عنکبوت میں جہاں والدین کی طاعت شعاری کو لازم قرار دیا ہے، وہاں پس منظر میں کافر ماں باپ مراد ہیں،ہاں! یہ حدود ضرور بیان کیے گئے ہیں کہ ’’مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ‘‘ میں ان کی اتباع نہیں کرنی چاہیے، لہٰذا اگر وہ کوئی خلافِ شریعت بات کہیں تو اس میں اطاعت ناجائز ہوگی، چنانچہ دین میں مطلوب ہے کہ ماں باپ جیسے بھی ہوں ان کا احترام بقیہ دیگر تمام رشتہ و تعلق سے بڑھ کر کیا جائے، اگر ہم اپنے والدین کے بارے میں کسی کوتاہی کے مرتکب ہیں اور ہمارا خیال یہ ہے کہ ہمیں دیگر نسبتوں کا احترام بچالے گا تو یہ ہم سب کی بڑی غلط فہمی ہے، اسے دور کرنا چاہیے۔
آخر میں عرض ہے کہ جو ہم نیکیاں کرتے ہیں وہ مل ملا کر آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے دامن تک پہنچ جاتی ہیں، اُمید ہے آپ قارئین میری والدہ کے لیے ایصالِ ثواب کا اہتمام کریں گے، اس کی نیکیاں آپ کے لیے بھی محفوظ رہ کر اُن تک ان شاء اللہ پہنچیں گی۔ اس سلسلے میں گزارش ہے کہ آج ایک مختلف طرز سے ایصالِ ثواب کا اہتمام کریں وہ یوں کہ آج گھر جاکر اپنے ماں باپ کی قدم بوسی کیجیے، ان کی خیال داری کا خصوصی انتظام فرمائیے، ایسا کرنے کا باعث اگر میری والدہ کی تعزیت بن جائے تو اس کا ثواب میری والدہ کے حضور پہنچے گا تو میں آپ کا ممنون رہوں گا۔
آئیے! رب کے فرمان عالی شان کو پڑھتے ہیں اور آمین کہتے ہیں:
’’وَوَصَّيْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَيْہِ اِحْسَانًا حَمَلَتْہُ اُمُّہُ کُرْہًا وَّ وَضَعَتْہُ کُرْہًا وَحَمْلُہٗ وَفِصَالُہٗ ثَلَاثُوْنَ شَہْرًا حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِيْنَ سَنَۃً قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِيْ اَنْ اَشْکُرَ نِعْمَتَکَ الَّتِيْٓ اَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلٰی وَالِدَيَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاہُ وَاَصْلِحْ لِيْ فِيْ ذُرِّيَّتِيْ اِنِّيْ تُبْتُ اِلَيْکَ وَ اِنِّيْ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ‘‘   (الاحقاف:۱۵)
’’اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیک برتاؤ کرنے کی نصیحت کی، اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا۔ اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے، یہاں تک کہ جب وہ پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا: اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے، اور تو میری اولاد بھی صالح بنا، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان (مسلم) بندوں میں سے ہوں۔‘‘(آمین ثم آمین)
’’اُولَٰئِکَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْہُمْ اَحْسَنَ مَا عَمِلُوْا وَنَتَجَاوَزُ عَنْ سَيِّئَاتِہِمْ فِيْ اَصْحَابِ الْجَنَّۃِ  وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِيْ کَانُوْا يُوْعَدُوْنَ‘‘  (الاحقاف:۱۶)
’’یہی لوگ ہیں جن کے اعمال نیک ہم قبول کریں گے اور ان کے گناہوں سے درگزر فرمائیں گے اور (یہی) اہلِ جنت میں (ہوں گے) ، (یہ) سچا وعدہ (ہے) جو اُن سے کیا جاتا ہے۔‘‘
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے