بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مالی وصیت کیسے اور کن کے لیے کریں؟

مالی وصیت کیسے اور کن کے لیے کریں؟


اسلام نے انسان کی جان ومال کا حقیقی مالک اللہ رب العزت کو قرار دیاہے،اور زمین پر اللہ کی نیابت اور خلافت حاصل ہونے کی وجہ سے اُسے اپنے مال وجان پرعارضی ملکیت عطاکی ہے، اور اسی بنا پر اپنے مال پر کسی قدر تصرف کر نے کا اختیاربھی دیاہے، تاکہ وہ اپنے لیے کھانے پینے اور بودو باش کا انتظام کرے، نیز اپنے قریبی رشتہ داروں کے نان ونفقہ کا بھی بندوبست کرسکے۔
انسان کی روح اس کے جسم سے نکلتے ہی اس کی یہ ملکیت اس سے سلب ہوجاتی ہے اور مال مکمل طور پر اسی مالکِ حقیقی کے قبضہ میں رہ جاتا ہے، لیکن چوں کہ موت سے قبل اس نے اس مال کی حفاظت کی تھی، اس لیے اس کے کفن ودفن اور قرض وغیر ہ میں اس مالِ متروکہ کو استعمال کر نے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس کے بعد بھی اگرمال بچ جائے تو جن لوگوں کا اس میت کے ساتھ قریبی رشتہ تھا اور جن کے نان ونفقہ کا انتظام وہ اسی مال سے کیا کر تاتھا، خداوند قدوس نے اس مالِ متروکہ کوان ہی لوگوں کے درمیا ن متعینہ حصوں میں تقسیم فرمادیا اور اس مال کی حفاظت ان پر لازم کر دی۔ اس سے استفادہ کر نے، نیز اس کے قریبی رشتہ داروں کے نان ونفقہ کابند وبست کر نے کو ضروری قرار دیا۔
جب انسان بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتاہے تواسے قدم قدم پر دوسروں کے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ اگر کوئی اس کی اچھی طرح سے خدمت کرتا ہےاورقدم قدم پر ساتھ دیتاہے ، وہ اس احسان کے بدلے اپنی وفات سے پہلے اسے کچھ مال یاجائداد میں سے کچھ حصہ دیے جانے کی وصیت کرتاہے۔اسی طرح بعض دفعہ انسان اپنی جائداد کاکچھ حصہ کسی مدرسہ یامسجد یاکسی رفاہی ادارہ کو وصیت کرنا چاہتا ہے، مگر ناواقفیت کی وجہ سے وصیت باطل ہوجاتی ہے۔ ہم نے علماء ہند کے اردو فتاویٰ کے باب الوصیۃ کا جائزہ لیا تو ہمیں معلوم ہوا کہ وصیت کے بہت سے سوالوں میں وصیت باطل ہوئی ہے، اس طرح وصیت کرنے والوں کی خواہشات اپنے محسنین کے حوالہ سے پوری نہیں ہوپاتی ہیں۔ اسی طرح اگر اس کے کسی بیٹے یابیٹی نے دیگر وارثین کے مقابلہ میں اپنے والدبزرگوارکی زیادہ خدمت کی تو اس کے لیےبھی ہبہ کے بجائے وصیت کیے جانے کی رسم موجود ہے۔

وصیت کی شرائط

چوں کہ تجہیز وتکفین اور قرض سے میت کا حق متعلق ہے اور وارثین کے درمیان تقسیم کر نے میں خودمال کا حقِ حفاظت متعلق ہے، اس لیے اس میں کوئی خاص شرط نہیں لگائی گئی، جب کہ وصیت جس کا تعلق اجنبی سے ہوتا ہے، اس میں دو شرطوں کو ملحوظ رکھا گیا ۔
 پہلی شرط: وصیت کسی وارث کے لیے نہ ہو، یعنی بیٹابیٹی،ماں باپ، اور بیٹے کی موجودگی میںبھائی بہن کے لیے وصیت جائز نہیں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر صاحبِ حق کا حق متعین کر دیا ہے، لہٰذا وارث کے لیے وصیت نہیں ہے۔ (ترمذی:۲/۳۲)
دوسری شرط: وصیت ثلث مال یعنی ایک تہائی سے زیادہ نہ ہو، چنانچہ حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ فتح مکہ کے سال میں بیمارہوگیا تو آں حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری عیادت کے لیے تشریف لائے تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے پاس بہت سارا مال ہے اور میری صرف ایک بیٹی ہے تو کیا میں دوسروں کے لیے پورے مال کی وصیت کردوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! میں نے کہا: تو کیا آدھے کی کردوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! میں نے کہا: ایک تہائی کی کردوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: ایک تہائی بھی بہت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ: اپنی اولاد کو مال دار بناکر چھوڑنا اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو کہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ (مسلم ۲/۴۰، ترمذی ۲/۳۴)
پس اگر کوئی ایک تہائی مال سے زیادہ کی وصیت کرے یا اپنے وارث ہی کے لیے وصیت کرے، مثلاً اس کے مر نے کے بعد فلاں کو ایک تہائی سے زیادہ مال دیا جائے یا اس کے مرنے کے بعد اس کے فلاںوارث کو اتنا مال(اس کے شرعی حصہ کے علاوہ) دیا جائے، تو ایسی وصیت معتبر نہیں، البتہ اگر دیگر ورثاء مورث کی وفات کے بعد راضی ہوجائیں تو پھر اس کا اعتبار ہوگا، مورث کی وفات سے پہلے ان کی رضامندی کا کوئی اعتبار نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ: وارث کے لیے وصیت نہیں ہے، مگر یہ کہ دوسرے وارثین اجازت دیں ۔ (سنن سعید بن منصور:۴۲۶)
حضرت ابن مسعودؓ، شریح ؒ، طاوسؒ ، سفیان ثوریؒ، امام ابوحنیفہ ؒ، امام شافعی ؒاور دیگر فقہاء کا یہی مسلک ہے۔ (أوجز المسالک ۱۴/۳۴۸ ۔ الدرالمختارمع ردالمحتار ۱۰/۳۴۰)

وصیت کا درجہ

میت کے مالِ متروکہ سےپہلے اس کی تجہیز وتکفین کا نظم کیاجائے گا، اگر اس کے اوپر قرض ہےتو اس کی ادائیگی کی جائے گی، پھر اگر کچھ مال بچ جاتاہے تو اس کے وارثین میں مال شرعی حصوں کے بقدر تقسیم ہوگا۔
 

وصیت کرنے کاحکم

غیروارث رشتہ داروںکے لیے وصیت کے سلسلے میں یہ تفصیل ملحوظ ہے کہ اگرمورث کے وارثین مالدار ہیں یا مال بہت زیادہ ہے توان کے لیے وصیت کر نا مستحب ہوگا، چنانچہ مفتی شفیع صاحب ؒ فرماتے ہیں: باجماعِ امت یہ ظاہر ہے کہ جن رشتہ داروں کا میراث میں کوئی حصہ نہیں ہے، ان کے لیے میت پر وصیت کر نا فرض اور لازم نہیں ہے، البتہ بشرطِ ضرورت صرف مستحب رہ جاتی ہے اور اگر وارثین غریب ہیں یا مال کم ہے تو وصیت کرنا بہتر نہیں ہے۔ (معارف القرآن:۱/۴۳۹)
فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ اگر کسی کے چھوٹے بچے ہوں، یا بڑے ہوں، لیکن مال کم ہو تو امام ابوحنیفہ ؒ اور حضرت امام ابویوسف ؒ کے نزدیک وصیت نہ کرنا بہتر ہے اور اگر اولاد بڑی ہو اور مال بھی زیادہ ہو تو پہلے واجبات کی وصیت کرے، پھر غیروارث رشتہ داروں کے لیے، اس کے بعد پڑوسیوں کے لیے کرے۔ (فتاویٰ قاضیخان علی الہندیۃ: ۳/۴۹۳)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: کسی بھی مسلمان کے پاس کوئی مال ہوجس کی اسے وصیت کرنی ہے، تو اس کے لیے یہ بات ٹھیک نہیں ہے کہ دوراتیں گزرجائیں اوراس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی نہ ہو۔ (صحیح بخاری:۲۷۳۸)
اس حدیث میں جہاں ایک طرف وصیت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، وہیں دوسری طرف اس بات کا بھی حکم دیا گیا ہے کہ وصیت نامہ بنوالیا جائے، تاکہ وارثین اوروصی کے درمیان کسی طرح کااختلاف نہ ہو۔ واضح رہے کہ قانونی طورپر وصیت کی بہت زیادہ اہمیت ہے، اس لیے کسی بھی طرح کی جائز وصیت ہو، اس کو قلمبند کرلینا چاہیے۔ اس کے لیے کسی شرعی ادارہ مثلاً دارالقضاء سے وثیقہ اور وصیت نامہ بنالیا جائے؛ تاکہ بعد وفات کسی طرح کی کوئی شرعی قباحت اور اختلاف نہ ہو۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے