بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

لیبارٹری میں تیار شدہ گوشت کے استعمال کا حکم

لیبارٹری میں تیار شدہ گوشت کے استعمال کا حکم


سوال

جدید سائنس کی دنیا میں گوشت (پروٹین) کی کمی کو پورا کرنے کے لیے لیبارٹری میں گوشت تیار کیا جا رہا ہے، اس کےبنیادی ماخذ جانور یا پودےہوتے ہیں، البتہ اس میں کچھ ایسے ہارمونز بھی استعمال کیے جاتے ہیں جن کے حلال یا حرام ہونے کا مکمل علم نہیں ہے، سوال یہ ہے کہ لیبارٹری میں تیار شدہ گوشت کے استعمال کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں لیبارٹری میں تیار کردہ گوشت کے حلال ہونے کا تعلق درج ذیل اشیاء کے جاننے پر موقوف ہے:
اس گوشت کے بنانے میں استعمال ہونے والے اجزائے ترکیبی ناپاک یا حرام نہ ہوں، کیوں کہ اس کے بنانے میں گوشت کے خلیوں کے علاوہ کیمیکلز کا استعمال بھی ہوگا۔
جس برتن میں ان خلیوں کی افزائش ہوگی، وہ ناپاک نہ ہوں۔
جن جانوروں کے گوشت کو استعمال کرکے یہ گوشت تیار کیا جائے گا، وہ حرام نہ ہوں۔
اگر یہ گوشت پودوں سے تیار کیا جائے تو وہ پودے نشہ آور یا مضرِ صحت نہ ہوں۔
اس گوشت کی تیاری میں استعمال ہونے والے ہارمونز حرام نہ ہوں۔
یہ گوشت انسانی صحت کے لیے مضر نہ ہو۔
لہٰذا جب تک ان تمام امور کا جائزہ لے کر معلومات اکھٹی نہ کی جائیں، لیبارٹری میں تیار کردہ کسی خاص قسم کے گوشت کی حلت یا حرمت کا دو ٹوک فیصلہ کرنا ممکن نہیں، چوں کہ گوشت کے حلال ہونے میں شریعت کا ایک جداگانہ معیار ہے؛ اس لیے جب تک مندرجہ بالا امور کے بارے میں پختہ علم حاصل نہ ہو، لیبارٹری کے گوشت سے بچنا چاہیے۔
’’(لبقائہٖ) أي اللحم علی الحرمۃ أي التي ہي الأصل إذ حل الأکل متوقف علی تحقق الذکاۃ الشرعيۃ وبتعارض الخبرين لم يتحقق الحل فبقيت الذبيحۃ علی الحرمۃ۔‘‘ (حاشيۃ علی مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح، ج:۱ ، ص:۲۴، ط: المطبعۃ الکبری الأميريۃ ببولاق)
’’( اللحم ) من جسم الحيوان والطير الجزء العضلي الرخو بين الجلد والعظم۔
‘‘ (المعجم الوسيط، ج:۲، ص: ۸۱۹، ط: دار الدعوۃ)                فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144012201327                  دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے