بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

قرآن کریم کا معجزانہ اسلوب ِبیان (سورۃ الحِجر)

قرآن کریم کا معجزانہ اسلوب ِبیان (سورۃ الحِجر)

 

 قرآن کریم وہ معجزاتی کتاب ہے،جس کی ہم مثل چند آیتیں پیش کرنے سے بھی آج تک دنیا بے بس وعاجز ہے،اورنبینا محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ معجزہ ہے جو روزِ بعثت سے آج تک سارے عالم کے لیے چیلنج بناہواہے،ماضی میں کتنی ہی بار اس جیسی آیات پیش کرنے کی ناکام وناپاک کوشش کی گئی؛ لیکن ساری کوششیں ’’خَاسِئًا وَّہُوَ حَسِیْرٌ‘‘ کا مصداق بنیں۔ قرآن کریم پڑھتے ہوئے بہت سے الفاظ و کلمات پر آدمی رک جاتاہے او را س کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جب قرآن کریم ایجاز واعجاز دونوں صفات کی حامل کتاب ہے،تو بہت سی بدیہی باتوں کو ذکر کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ یا بہت سے الفاظ وحروف ایسے آئے ہیں ،جن کے بغیر کلام پورا ہوتاہے اور ان کا ذکرکرنا قرآن کریم کے ایجاز واختصار کے منافی ہے۔ زیرِ بحث مضمون میں بہ طور مثال ’’سورۃ الحِجر‘‘ میں موجود اس طرح کے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔
1- فرمانِ باری:
’’وَ مَآ اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا وَ لَہَا کِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ‘‘
’’ ہم نے جتنی بستیاں ہلاک کی ہیں، ان سب کے لیے ایک معیّن وقت نوشتہ ہوتا رہا ہے۔‘‘

’’وَ لَہَا کِتَابٌ‘‘میں واو کے اضافہ کا فائدہ

 یہاں پر ’’وَ لَہَا کِتَابٌ‘‘ میں واو آیاہے،حالاں کہ اس کے بغیر بھی کلام مکمل تھا، پھر اس کا کیا فائدہ؟
 اس کا جواب یہ ہے کہ قیاس کا تقاضا تو یہی ہے کہ واو کے بغیر آئے، جیساکہ ایک دوسر ی آیت میں آیاہے: ’’وَمَآ اَہْلَکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا لَہَا مُنْذِرِیْنَ‘‘ (الشعراء:۲۰۸)، یہاں واو آنے کا فائدہ، موصوف کے ساتھ صفت کے اتصال کو مؤکد کرنا ہے، مثلاً کہا جاتا ہے : ’’جاء ني زید علیہ ثوب، وجاء ني وعلیہ ثوب‘‘(۱)
 ابن عطیہؒ     فرماتے ہیں :
 یہا ں پر واو حالیہ ہے۔اس کے بعد ابن المنذرؒ    کا یہ قول نقل کیا کہ یہ وہی واو ہے جو بتاتاہے کہ واو کے بعد کی حالت اس سے پہلے کی حالت ہی ہے، جیساکہ اس فرمان باری میں ہے : ’’حَتّٰٓی اِذَا جَائُ وْہَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُہَا‘‘ (الزمر:۷۳) (۲)
2- فرمانِ باری:
’’وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنْکُمْ وَ لَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَاْخِرِیْنَ‘‘
’’ اور ہم تمہارے اگلوں کو بھی جانتے ہیں اور ہم تمہارے پچھلوں کو بھی جانتے ہیں ۔‘‘

 فعل ’’وَ لَقَدْ عَلِمْنَا‘‘ دوبارہ لانے کا فائدہ

 یہاں پر فعل ’’وَ لَقَدْ عَلِمْنَا‘‘ دوبار آیا ہے، اس میں کیا حکمت ہے؟
 ابو السعودؒ نے اس کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
فعل ’’وَ لَقَدْ عَلِمْنَا‘‘ کے مکرر لانے میں جو کمالِ تاکیدپر دلالت ہے، وہ مخفی نہیں۔ (۳)
3- فرمانِ باری:
’’فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِکَۃُ کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ‘‘
’’  سو سارے کے سارے فرشتوں نے (آدمؑ کو)سجدہ کیا۔‘‘

’’اَجْمَعُوْنَ‘‘کے ذریعہ دوبارہ تاکید لانے کا فائدہ

 تاکید کا مفہوم ’’کُلُّہُمْ‘‘ سے حاصل تھا، پھر ’’اَجْمَعُوْنَ‘‘ کے ذریعہ دوبارہ تاکید لانے کا کیا فائدہ ہے؟
 ا س کے کئی جوابات دیے گئے ہیں :
 اول:خلیلؒ اور سیبویہؒ نے کہاکہ ’’کُلُّہُمْ اَجْمَعُوْنَ‘‘ تاکید در تاکید ہے۔(۴)
 ابو حیان ؒنے ابن عطیہؒ    کا یہ قول نقل کیا ہے کہ ’’اَجْمَعُوْنَ‘‘ تاکید ہے او راس میں حال کا معنی پایاجاتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے قول کی طرف میلا ن ہے جو کہتے ہیں کہ ’’اَجْمَعُوْنَ‘‘ اتحادِ وقت پر دلالت کرتا ہے؛ لیکن صحیح بات یہ ہے کہ ’’اَجْمَعُوْنَ‘‘ کا مفہوم وہی ہے جو ’’کُلُّہُمْ‘‘کاہے۔ (۵)
 ابو السعودؒ کہتے ہیں :
’’کُلُّہُمْ‘‘ یعنی ان میں سے کوئی نہیں چھوٹا،اور’’اَجْمَعُوْنَ‘‘ یعنی ان میں سے کوئی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہا اور صرف حال ہی یہ معنی نہیں دیتا؛بلکہ تاکید بھی یہ معنی دیتی ہے؛کیوں کہ اشتقاقِ واضح سے معلوم ہوتاہے کہ اس میں جمعیت اورمعیت کا معنی وضع کے اعتبار سے ہے،اور خطاب میں اصل یہ ہے کہ اس کوکسی چیز کی کامل ترین حالت پر اُتارا جائے اور بلاشبہ ساتھ ساتھ سجدہ کرنا سجدہ کی کامل ترین نوع ہے؛لیکن اس کا استعمال تاکید کے لیے شائع ہے اور اس کو احاطہ کا معنی دینے میں (کل) کے قائم مقام رکھا گیاہے، اس میں کمال کو نہیں دیکھا گیا اور اگر اِحاطہ دوسرے الفاظ سے سمجھ میں آجائے،تو کلام کو لغو سے بچانے کے لیے اصل کی رعایت نا گزیر ہے۔ (۶)
 دوم: مبردؒسے اس آیت کے متعلق دریافت کیا گیا تو فرمایاکہ اگر یوں کہتے: ’’فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِکَۃُ‘‘ تو احتمال باقی تھا کہ بعض نے سجدہ کیا ہو، جب ’’کُلُّہُمْ‘‘ کہہ دیا تو یہ احتمال زائل ہوگیا اور معلوم ہوگیاکہ سب نے سجدہ کیا ہے، اس کے بعد ایک اور احتمال رہ جاتا ہے، وہ یہ کہ کیا سب نے یکبارگی سجدہ کیا اور ہر ایک نے الگ الگ وقت میں سجدہ کیا؟ لہٰذا جب ’’اَجْمَعُوْنَ‘‘ کہہ دیاتومعلوم ہوگیا کہ یکبارگی سجدہ کیا ہے۔ علامہ زجاج  ؒ نے مبردؒ    کا یہ قول نقل کرنے کے بعد فرمایا: خلیلؒ اور سیبویہؒ  کا قول اس سے بہتر ہے؛ اس لیے کہ ’’اَجْمَعُوْنَ‘‘ معرفہ ہے، لہٰذا حال نہیں ہوگا۔(۷)
4- فرمانِ باری:
’’اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ عُیُوْنٍ اُدْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ۔‘‘
’’ بے شک خدا سے ڈرنے والے (یعنی اہلِ ایمان)باغوں اور چشموں میں (بستے)ہوں گے، تم ان میں سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہو۔‘‘
 یہاں پربدیہیات کے دو مقام ہیں:

۱- مقامِ اول: جنت میں ہونے کے باوجود، داخل ہونے کا حکم دینے کا فائدہ

 پہلی آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتاہے کہ وہ جنتوں اورباغات میں ہوں گے، پھر اس کے بعد ’’اُدْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ‘‘میں داخل ہوجانے کا کیا مطلب ہے؟
 اس کا جواب یہ ہے کہ وہ بہت ساری جنتوں میں ہوں گے اور جب ایک جنت سے دوسری جنت میں جانا چاہیں گے تو کہا جائے گا:’’اُدْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ‘‘(۸)

۲- مقامِ دوم: ’’بِسَلٰمٍ‘‘کے بعد ’’اٰمِنِیْنَ‘‘ لانے کا فائدہ

’’بِسَلٰمٍ‘‘کے لفظ سے معلوم ہوگیا کہ ان کا داخلہ سلامتی وامن کے ساتھ ہوگا، پھر ’’اٰمِنِیْنَ‘‘کہنے میں کیا حکمت ہے؟ اس کے کئی جوابات دیے گئے ہیں :
 اول:سلامتی سے مراد جسمانی سلامتی اور امن سے مراد دوسری سلامتی ہے۔(۹)
 دوم:امام رازیؒ فرماتے ہیں :
’’اُدْخُلُوْہَا بِسَلٰمٍ اٰمِنِیْنَ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ فی الحال تما م آفات سے سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ،اسی کے ساتھ یہ قطعی ہے کہ یہ سلامتی باقی رہے گی اور اس کے زوال سے امن ہوگا۔ (۱۰)
 علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں :
’’بِسَلٰمٍ‘‘سے مراد فی الحال آفت سے سلامتی اور ’’اٰمِنِیْنَ‘‘سے مراد آئندہ آفت آنے سے امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔(۱۱)
سوم: ’’بِسَلٰمٍ‘‘ سے مراد یہ ہے کہ تم کو سلام کیا جائے گا اور یہ ’’اٰمِنِیْنَ‘‘ کے مفہوم سے مختلف ہے۔(۱۲)
5- فرمانِ باری:
’’قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِیْ عَلٰٓی اَنْ مَّسَّنِیَ الْکِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنِ‘‘
’’  ابراہیم  علیہ السلام کہنے لگے کہ: کیا تم مجھ کو اس حالت پر (فرزند)کی بشارت دیتے ہو کہ مجھ پر بڑھاپا آگیا ہے؟ سو کس چیز کی بشارت دیتے ہو؟‘‘

حضرت ابراہیم  علیہ السلام کی اولاد سے بہ ظاہر استبعاد کی وجہ

 حضرت ابراہیم  علیہ السلام نے کس طرح، بڑھاپے میں اولاد پیداکرنے پراللہ کی قدرت کو بعید سمجھا؛ حالاں کہ اللہ کی قدرت کا انکار حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شایانِ شان نہیں ؟ اس کے کئی جوابات دیے گئے ہیں :
 اول:امام رازیؒ فرماتے ہیں :
 قاضی صاحبؒ (باقلانی) نے فرمایاکہ اس کا سب سے بہتر جواب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد یہ معلوم کرناتھا کہ اللہ تعالیٰ ان کو یہ اولاد،بڑھاپے کو باقی رکھتے ہوئے عطا کریں گے یا ان کو دوبار ہ جوان بنادیں گے،پھر اولاد عطاکریں گے اور اس سوال کی وجہ یہ ہے کہ مکمل بڑھاپے کی حالت میں عادتاً اولاد نہیں ہوتی؛ بلکہ جوانی میں ہوتی ہے۔(۱۳)
 دوم: زمخشری کہتے ہیں :
مطلب یہ ہے کہ کیا تم مجھے بڑھاپے کے ساتھ اولاد کی بشارت سنار ہے ہو،یعنی بڑھاپے میں اولاد ہونا عادتاً عجیب وغریب بات ہے،’’فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ‘‘ یہ ما استفہامیہ ہے، اس میں تعجب کا معنی آگیا ہے، گویا وہ یہ کہہ رہے کہ تم مجھے کون سے عجوبے کی بشارت سنارہے ہو،یا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تم مجھے عادتاً غیر متصور چیز کی بشارت سنارہے ہو، یعنی تم کسی حقیقی بات کی بشارت نہیں سنارہے ہو، اس لیے کہ ا س طرح بشارت، عدم کے درجہ میں ہے۔(۱۴)
 ابن عاشور کہتے ہیں :
 ’’علی‘‘، ’’مع‘‘کے معنی میں ہے، جو بڑھاپا آنے کے ساتھ بشارت کے شدتِ اتصال واقتران کو بتا رہا ہے، اور آیت کا مطلب، بڑھاپے میں اولاد کی بشارت پر تعجب کرناہے،اور اس تعجب کو دوسر ے استفہام ’’فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ‘‘ کے ذریعہ مؤکد کیاگیاہے،انہوں نے ایک معلوم شدہ عجیب چیز کو غیر معلوم کے درجہ میں رکھ دیا ہے؛ کیوں کہ یہ قریب قریب غیر معلوم چیز ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بشارت کے ذریعہ یہ معلوم ہوگیا تھا کہ وہ فرشتے ہیں ، لہٰذا یہ استفہام متعین طور تعجب کے لیے ہے۔(۱۵)
 سوم:امام زمخشری کہتے ہیں :
 ہوسکتا ہے کہ یہ صورت اور ذریعہ کا سوال ہو،یعنی کس صورت میں تم مجھے اولاد کی بشارت سناتے ہو،اس طرح کی بشارت کی عادتاً کوئی صورت نہیں ہے۔ (۱۶)
6- فرمانِ باری:
’’قَالُوْا بَشَّرْنٰکَ بِالْحَقِّ فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ‘‘
’’ وہ (فرشتے) بولے کہ ہم آپ کو امرِ واقعی کی بشارت دیتے ہیں، سو آپ نااُمید نہ ہوں ۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام مایوس نہیں تھے اس کے باوجود ممانعت کا فائدہ

 یہ معلوم ہے کہ ابراہیم  علیہ السلام نااُمید نہیں تھے، پھر ان کو نااُمیدی سے روکنے کا کیا فائدہ ہے؟
 ابوحیانؒ نے اس کا یہ جواب دیا کہ: ’’فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ‘‘ نہی ہے اور کسی چیز سے نہی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مخاطب اس میں ملوث یا ا س سے مقتر ن ہے اور ’’وَمَنْ یَّقْنُطْ‘‘ ان کا جواب ہے اور یہ بتانا ہے کہ بشارت کے بارے میں کلا م کا مطلب نااُمیدی نہیں ہے؛ بلکہ یہ استبعاد کے طور پر ہے، جیساکہ عادت جاری ہے،اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بڑی عمر میں بچہ ملنا اللہ کی رحمت ہے؛کیوں کہ والد کو تقویت دے گا اور ان کی پشت پناہی کرے گا؛جب کہ وہ اکیلے یہ کام نہیں کرسکتے، نیز ان کے علم ودین کا وارث ہوگا۔(۱۷)
 علامہ آلوسیؒ کہتے ہیں :
’’فَلَا تَکُنْ مِّنَ الْقٰنِطِیْنَ‘‘ یعنی خرقِ عادت سے مایوس نہ ہوں ؛کیوں کہ انبیاء کرامo کے ہاتھوں خوارقِ عادت کا ظہورکثرت سے ہوتاہے،حتیٰ کہ ان حضرات کے لیے یہ خارق عادت نہیں مانا جاتا۔ (۱۸)
7- فرمانِ باری:
’’قَالَ فَمَا خَطْبُکُمْ اَیُّہَا الْمُرْسَلُوْنَ‘‘
’’ فرمانے لگے: (تو یہ بتلاؤ کہ) اب تم کو کیا مہم درپیش ہے اے فرشتو!۔‘‘

حضرت ابراہیم  علیہ السلام کے سوال کا فائدہ

 حضرت ابراہیم  علیہ السلام کو معلوم ہوگیا تھاکہ وہ اولاد کی بشارت سنانے آئے تھے، تو اس سوال کا کیا فائدہ ہے؟
 اس کا جوا ب یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دیکھا کہ وہ جماعت کی شکل میں آئے ہیں ،جو کسی اہم بڑے کام کے لیے ہوگا؛ کیوں کہ صرف بشارت سنانے کے لیے ایک فرشتہ بھی کافی تھا، چناں چہ انہوں نے پوچھاتو فرشتوں نے قومِ لوط کا معاملہ ذکر کیا۔(۱۹)
8- فرمانِ باری:
’’وَ لَقَدْ اٰتَیْنٰکَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ۔‘‘
’’ اور ہم نے آپ کو سات آیتیں دیں جو (نماز میں )مکرر پڑھی جاتی ہیں اور قرآنِ عظیم دیا۔‘‘

عطف الشئ علی نفسہٖ کا فائدہ

’’وَ الْقُرْاٰنَ الْعَظِیْمَ‘‘ کا ’’سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ‘‘پر عطف، عطف الشیء علی نفسہٖ کی قبیل سے ہے،جو درست نہیں ؛اس لیے کہ معطوف اور معطوف علیہ میں مغایرت ضروری ہے ؟
 اس کے دو جواب دیے گئے ہیں :
 اول:’’سَبْعًا‘‘ سے مرادسورتِ فاتحہ یا طوالِ مفصل سورتیں ہیں اور ان کے علاوہ کو ’’الْقُرْاٰنَ‘‘ کہا گیا ہے؛ کیوں کہ قرآن کا لفظ جس طر ح پورے قرآن پر بولاجاتا ہے، اسی طرح بعض قرآن پر بھی بولا جاتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ نے سورۂ یوسف کے بارے میں فرمایا: ’’بِمَآ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ ہٰذَا الْقُرْءٰنَ‘‘ یعنی سورت یوسف۔(۲۰)
 دوم:آیت کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو وہ چیز جس کو سبع مثانی کہا جاتا ہے دی گئی او رقرآن عظیم دیا گیا،یعنی جس کے اندر یہ دونوں صفات ہیں: ثناء یا  باربار پڑھی جانے والی اور عظمت والی۔(۲۱)
 امام رازیؒ کہتے ہیں :
 صحیح جوا ب یہ ہے کہ کسی چیز کا بعض حصہ، اس کے مجموعہ سے الگ ہے،تو اس قدر مغایرت ہی عطف کے بہتر ہونے میں کافی کیوں نہ ہو؟ واللہ اعلم۔(۲۲)
 ابن عاشورؒ کہتے ہیں :
’’الْقُرْاٰنَ‘‘ کا ’’سَبْعًا‘‘ پر عطف، عطف الکل علی الجزء کی قبیل سے ہے؛ اس کا مقصد تعمیم ہے، تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ پورے قرآن کا عطاکیا جانا بہت بڑی نعمت ہے(۲۳)
9- فرمانِ باری:
  ’’وَ اعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ‘‘
’’ اور آپ اپنے رب کی عبادت کرتے رہیے، یہاں تک کہ آپ کو موت آجائے۔‘‘

’’حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ‘‘کی قید کا فائدہ

 ہر آدمی جانتاہے کہ موت کے بعد عبادات ساقط ہوجاتی ہیں ، اس کے بعد کوئی عبادت نہیں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت آنے تک عبادت کرنے کا حکم دینے میں کیا حکمت ہے؟ اس کے کئی جوابات دیے گئے ہیں :
 اول:امام رازیؒ فرماتے ہیں :
’’ ا س سے مراد یہ ہے کہ آپ پوری زندگی اپنے رب کی عبادت کرتے رہیے،زندگی کا کوئی لمحہ اس سے خالی نہیں ہونا چاہیے،واللہ اعلم۔‘‘ (۲۴)
 زمخشری کہتے ہیں :
’’ یقین یعنی موت آنے تک اپنے رب کی عبادت پر قائم ودائم رہیے،یعنی جب تک جی میں جی ہے، اس کی عبادت میں خلل نہ آئے۔‘‘(۲۵)
 دوم:ابن عاشورؒ    فرماتے ہیں :
’’ یقینی قطعی اورغیر مشکوک چیز سے مراد،وہ مددہے،جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی سے وعدہ فرمایا تھا۔‘‘(۲۶) ، لہٰذا اشکال وارد ہی نہیں ۔

حواشی

۱-زمخشری ۳/۲۹۸۔           ۲-ابن عطیہ۴/۱۱۷۔        ۳-ابوسعود۴/۷۱۔
۴-رازی۹/۳۰۵۔        ۵-ابوحیان ۷/۱۹۵۔            ۶-ابوسعود۴/۷۳۔
۷-رازی۹/۳۰۵۔               ۸-الروض الریان،ص۱۷۳۔    ۹-آلوسی۱۰/۱۸۔
۱۰-رازی۹/۳۱۶۔        ۱۱-آلوسی۱۰/۱۸۔        ۱۲-ابوسعود ۴/۸۰؛ آلوسی ۱۰/۱۸۔
۱۳-رازی تفسیر آیت؛مسائل الرازی،ص۱۷۶۔                  ۱۴-رازی تفسیر آیت۔
۱۵-ابن عاشورتفسیر آیت۔             ۱۶-حوالہ بالا۔        ۱۷-ابوحیان۷/۱۹۸۔
۱۸-آلوسی ۱۰/۲۸۔        ۱۹-الروض الریان،ص۱۷۷۔    ۲۰-زمخشری۳/۳۲۳۔
۲۱-حوالہ بالا۔        ۲۲-رازی تفسیر آیت۔        ۲۳- ابن  عاشور تفسیر آیت۔
  ۲۴- رازی تفسیر آیت۔        ۲۵-زمخشری تفسیر آیت۔         ۲۶-ابن عاشور تفسیر آیت
(بشکریہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبند)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے