بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

قرآن کریم سے دوری کا انجام!

قرآن کریم سے دوری کا انجام!

 

حضرت مولانا احمدعلی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کا آخری دورۂ تفسیر کے علماء سےآخری خطاب


بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ الحمد للہ وکفٰی وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی، أما بعد:

’’یٰٓاَیُّھَا الرَّسُوْلُ بَلِّــغْ مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ۝۰ۭ وَاِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہٗ ۝۰ۭ وَاللہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ۝۰ۭ اِنَّ اللہَ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْکٰفِرِیْنَ‘‘
ترجمہ: ’’اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جو تجھ پہ تیرے رب کی طرف سے اُتراہے، اُسے پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچائے گا بیشک اللہ تعالیٰ کافروں کی قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔‘‘
اب سندیں دینے کا وقت آگیا ہے، لیکن سندیں دینے سے پہلے کچھ باتیں عرض کردیتا ہوں۔ غور سے سنیں! ہر قوم کے پاس کوئی نہ کوئی قانون ہوتا ہے، مگر اس وقت ساری دنیا میں سوائے مسلمانوں کے اور کسی کے پاس الہامی کتاب موجود نہیں ہے۔ اور مسلمانوں کے پاس جو دستورالعمل ہے، اس کا نام قرآن مجید ہے۔ قرآن مجید اصل ہے اور حدیث شرح ہے۔ قرآن مجید سمجھنے کے لیے حدیث کی ضرورت ہے۔ قرآن مجید لاء (قانون) ہے اور حدیث شریف بائی لاز ہیں، اسی لیے تو میں کہا کرتا ہوں جو منکرِ حدیث ہے وہ منکرِ قرآن ہے اور جو منکرِ قرآن ہے، وہ خارج از اسلام یعنی بے ایمان ہے۔
قرآن مجیدایک ایسی کتاب ہے جس پر ساڑھے تیرہ سوسال گزرنے کے باوجود اس کے عجائبات ختم نہیں ہوئے اور اس میںجواہراتنے ہیں کہ ہر ایک کی رسائی نہیں ہوسکتی ، ہر ایک کو بقدرِ ہمت حصہ ملتا ہے۔ اور خدا تعالیٰ کے فضل وکر م سے جتنا خدا کسی کو چاہتا ہے قرآن مجید کا فہم دیتا ہے: ذٰلِکَ فَضْلُ اللہِ یُوْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ۔ یہ قرآن مجید پورا دینی و دنیوی دستور العمل ہے، اگر مسلمان صحیح معنوں میں اس پر عمل کریں تو دنیا میں کوئی قوم کسی حیثیت سے اُن کا مقابلہ نہیں کرسکتی، مگر افسوس اب تو مسلمانوں کے دلوں سے اس کتابِ عزیز کی وقعت ہی نکل گئی ہے، اور اس کا احساس بھی نہیں ہے:

وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا

اور عام لوگوں کو تو رہنے دیجیے، آج کل کے علماء جب مدارس سے فارغ ہوتے ہیں تو صرف، نحو، منطق، فلسفہ میں اپنی تمام عمریں صرف کردیتے ہیں اور قرآن کے لیے بہت کم لوگوں کا خیال ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عوام اس مبارک کتاب سے دور بھاگتے جارہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک پرانی کتاب ہے، واقعات ہیں اور بس! حالانکہ یہ قرآن مجید تمام اقوام اور زمانوں کے لیے ہے۔ آج کل چاہیے تو یہ کہ جو امراض مسلمانوں میں پیدا ہوچکے ہیں، ان کا حل قرآن وحدیث میں تلاش کیا جائے اور واقعاتِ خصوصی کو عام انداز میں پیش کیا جائے اور ان نقائص سے بچنے کی تلقین کی جائے، جن کی وجہ سے سابقہ قوموں کو عذاب کا مزا چکھنا پڑا، جیسا کہ میں نے اب آپ کو قرآن مجید پڑھایا ہے۔ اس میں دینی و دنیاوی تمام مسائل موجود ہیں۔ معاشرتی، اقتصادی، سیاسی ہر قسم کے قوانین موجود ہیں، اسی لیے آج کل علماء کے لیے الاعتبار والتأویل ضروری ہے، تاکہ قرآن مجید صرف ایک وظیفہ کی کتاب نہ رہ جائے۔
یہ ابتدائی تمام علوم خادمِ قرآن ہیں، مقصود بالذات نہیں ہیں۔ مقصودبالذات صرف قرآن مجید ہے، اور اس کی شرح حدیث شریف ہے۔ میں آپ سب کو نصیحت کرتا ہوں: اپنی اپنی جگہ جاکر قرآنی علوم کی نشرواشاعت کو اپنے ذمہ ضروری ٹھہرالو اور یہی نصب العین حیات بنالو! آپ حضرات نے اپنی عمر کے دس دس، بارہ بارہ سال منطق وفلسفہ پر صرف کردیے ہیں، مگر قرآن مجید میں غور وفکر نہیں کیا۔ اب جو چیزیں میں نے آپ کو بتلائی ہیں، کیا پہلے آپ کو ان کا علم تھا؟ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ آپ حضرات کو یہاں آنے کی توفیق دی اور مجھے پڑھانے کی۔ میں نے دس سال حضرت(مولانا عبیداللہ)سندھی رحمۃ اللہ علیہ سے قرآن مجید پڑھا، انھوں نے مجھ سے وعدہ لیا تھا کہ میں اپنی تمام زندگی قرآن میں صرف کردوں گا اور اسی کو اپنا نصب العین بناؤں گا۔ 

(ہفت روزہ ترجمانِ اسلام، ۱۹۷۱ء)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے