
الحمد للہ وسلامٌ علٰی عبادہ الذین اصطفٰی!
شعبان المعظم کا مبارک مہینہ چل رہا ہے ، اس کےبعد اللہ تعالیٰ کا مہمان، رحمتوں اور برکتوں والا عظیم الشان مہینہ رمضان المبارک ہم سب پر سایہ فگن ہونے والا ہے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رجب کے آغاز سے رمضان کا مہینہ ملنے کی دعا فرماتے تھے، اور شعبان سے ہی رمضان کی تیاری شروع فرمادیتے تھے، شعبان میں کثرت ِ صیام کا اہتمام فرماتے تھے، چنانچہ صحیحین میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے مکمل روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، اور (رمضان کے بعد) شعبان سے زیادہ کسی مہینے میں روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا۔ مسند احمد اور سنن نسائی وغیرہ میں ہے کہ : ’’حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: شعبان میں آپ جس کثرت سے روزے رکھتے ہیں، کسی اور مہینے میں اس طرح روزہ رکھتے ہوئے میں نے آپ کو نہیں دیکھا!؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رجب اور رمضان کے درمیان یہ ایسا مہینہ ہے جس سے لوگ غافل ہیں، جب کہ اس مہینے میں رب العالمین کے سامنے اعمال پیش کیے جاتے ہیں؛ اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میرے اعمال پیش ہوں تو میں روزے کی حالت میں ہوں۔‘‘
پھر رمضان کی آمد کے ساتھ ہی صیام و قیام، تلاوتِ قرآن کریم اور خیر کے کاموں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا شوق دیدنی ہوتا تھا۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے کاموں میں سب سے زیادہ سخی تھے، اور رمضان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سخاوت اس وقت مزید بڑھ جاتی تھی جب جبریل امین علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان میں ملتے تھے، جبریل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کی ہر رات میں ملتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبریل امین علیہ السلام سے قرآن کریم کا دور کرتے تھے، یہاں تک کہ رمضان مکمل ہوجاتا، چنانچہ جب جبریل ؑ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے لگتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خیر کے کاموں میں چلتی ہوا سے بھی زیادہ سخی ہو جایا کرتے تھے۔‘‘
ماہِ رمضان کو قرآنِ کریم سے خاص مناسبت ہے، یہی نزولِ قرآن کا مہینہ ہے، اور اس میں تلاوتِ قرآنِ کریم کی کثرت کی ترغیب ہے، تراویح میں مکمل قرآن پڑھنا یا سننا مسنون ہے، اسی وجہ سے ماہِ رمضان قریب آتے ہی قرآنِ کریم کے ساتھ تعلق بھی نمایاں ہونے لگتا ہے؛ اس لیے اس مہینے کے آنے سے پہلے جس طرح خود کو روزوں کا عادی بنانا چاہیے، اسی طرح قرآنِ کریم کے ساتھ تعلق مضبوط کرنا بھی اہم ہے ، خصوصاً حفاظِ قرآن کے لیے منزل دہرانے اور اسے پختہ کرنے کے یہی دن ہیں۔ قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ، اور ’’کلام الملوک ملوک الکلام‘‘ کے تحت اس کے آداب بجا لانا بھی اُمت کے فرائض میں شامل ہے، اس لیےمناسب معلوم ہوتا ہے کہ قرآنِ کریم سے متعلق چند باتیں تازہ کرلی جائیں۔
قرآنِ کریم اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب ہے جو اس نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمائی، اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے چار اہم مقاصد ذکر فرمائے ہیں: ۱- تلاوتِ قرآنِ کریم، ۲-تعلیمِ کتاب، ۳- تعلیمِ حکمت، ۴- تزکیۂ نفس۔ (البقرۃ:۱۲۹، النساء:۱۶۴)
ان مقاصد میں پہلے نمبر پر ہے: تلاوتِ قرآنِ کریم، یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی کتاب کی آیات تلاوت کرکے لوگوں کو سناتے ہیں۔ قرآن کریم میں جہاں تلاوتِ قرآن کا ذکر ہے، وہاں اس کے آداب بھی مذکور ہیں ، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰھُمُ الْکِتٰبَ یَتْلُوْنَہٗ حَقَّ تِلَاوَتِہٖ‘‘ (البقرۃ:۱۲۱)
ترجمہ: ’’وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب، وہ اس کو پڑھتے ہیں جو حق ہے اس کے پڑھنے کا۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)
اب قرآن کی تلاوت کے آداب اوراس کا طریقہ و سلیقہ کیا ہے؟ یہ بھی خود قرآن کریم ہی بیان کرتا ہے:
’’وَ رَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا‘‘ (المزمل:۴)
ترجمہ: ’’اور کھول کھول کر پڑھ قرآن کو صاف۔‘‘ (ترجمہ شیخ الہندؒ)
ترتیل کی تشریح میں امیر المؤمنین سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں: ’’حروف کو تجوید سے ادا کرنا اور وقف و ابتدا کے محل کو پہچاننا۔‘‘ (النشر:۱/۲۰۹)
جس طرح قرآنِ کریم تجوید کے ساتھ اور صاف صاف پڑھنا اس کے آداب میں سے ہے، اسی طرح خوش الحانی اور حسنِ صوت سے تلاوتِ کلامِ الٰہی کو مزین کرنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور مستحسن ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہؓ میں سے بعض صحابہ کرامؓ قرآنِ کریم تجوید و خوش الحانی سے پڑھنے میں خاص ملکہ و مہارت رکھتے تھے، ان کو ’’قراء‘‘ کہا جاتا تھا۔ ان قراء میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اتنے خوبصورت انداز سے تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم باقاعدہ ان سے قرآن سناکرتے تھے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے۔ اسی طرح حضرت سالم مولیٰ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے بھی قرآن سنا اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا قرآنِ کریم سن کر اُن کی تعریف فرمائی۔ (فضائل قرآن مجید ، از : شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ ، ص:۴۲)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ : ’’حق سبحانہ وتعالیٰ اتنا کسی کی طرف توجہ نہیں فرماتے جتنا کہ اس نبی کی آواز کو توجہ سے سنتے ہیں جو کلامِ الٰہی خوش الحانی سے پڑھتا ہو۔‘‘ (متفق علیہ)
اس سے جہاں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ’’حسنِ قرأت‘‘ کا شوق رکھتے تھے اور اس کی تحسین فرماتے تھے، وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ بھی اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ اس کا کلام اچھی آواز سے پڑھا جائے۔
خوبصورت آواز میں اللہ کا ذکر اور خوش الحانی کے ساتھ اس کے کلام کی تلاوت ، محض اس اُمت کا خاصہ نہیں ، بلکہ دیگر انبیاءِ کرام علیہم السلام بھی اس کے حامل نظر آتے ہیں، بالخصوص حضرت داؤد علیہ السلام کی آواز کو ایسی شہرت و قبولیت اور تاثیر حاصل ہوئی کہ قرآنِ کریم ان کی تعریف میں رطب اللسان ہے اور آپ کا ’’لحنِ داؤدی‘‘ ضرب المثل بن چکا ہے، چنانچہ جب آپ اپنے خوبصورت لہجے میں اور خوش الحانی کے ساتھ اللہ کی تسبیح پڑھتے اور ’’زبور‘‘ کی تلاوت فرماتے تو فضاؤں میں اُڑتے پرندے ٹھہرجاتے اور چرند و پرند اپنی جگہ ساکت ہوجاتے، حتیٰ کہ پہاڑ بھی وجد میں آجاتے اور یہ سب آپ کی آواز میں آواز ملاکر اور جھوم جھوم کر اللہ کو یاد کرتے۔ (سورۂ سبا:۱۰۔ سورۂ ص:۱۸،۱۹)
اُمتِ مسلمہ کا یہ خاصہ ہے کہ اس نے خوش الحانی اور تجوید سے قرآن پڑھنے کو باقاعدہ ایک علم اور ایک فن کا درجہ دیا ، اس علم کو مدون کیا، اس کے قواعد و ضوابط مقرر کیے اور اس کو باقاعدہ سیکھنے اور سکھانے کا سلسلہ شروع کیا، اس کے لیے رجالِ کار تیار کیے جنہوں نے اس موضوع پر ضخیم اور مفصل کتابیں لکھیں، پھر ان کی شروحات لکھی گئیں اور چودہ سو سال سے آج تک ’’علم القراءات‘‘ باقاعدہ سیکھا اور سکھایا جاتا ہے۔
اسی طرح یہ بھی اس اُمت کی خصوصیت ہے کہ اس نے قرآنِ کریم کے حفاظ تیار کیے ہیں ، جو ہر سال تراویح میں قرآنِ کریم سننے اور سنانے کا اہتمام کرتے ہیں ، اس کی نظیر دنیا کے کسی مذہب میں نہیں ملتی کہ اس نے اپنی الہامی کتاب کو یاد رکھنے اور محفوظ کرنے کا ایسا انتظام کیا ہو۔ بلاشبہ یہ ایسا امتیاز ہے جس پر ہمیں اللہ کے حضورسجدۂ شکربجا لانا چاہیے ۔
رمضان کے مبارک مہینے کی آمد سے قبل ہی ہمیں خود کو اس کے لیے تیار کر لینا چاہیے ، اس تیاری میں جہاں روزے رکھنے کی مشق کرنی چاہیے، وہیں تلاوتِ قرآن کریم کی کثرت بھی کرنی چاہیے۔ اور تلاوت سے قبل اس کے آداب جان کر پھر ان کے مطابق خود کو ڈھال لینا چاہیے، تاکہ یہ عبادت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہم سب کو یہ مبارک مہینہ نصیب فرمائے اور ہمیں اس کے مقتضیات پر عمل کر کے خود کو بخشش و مغفرت کا مستحق بنائے ، آمین!