
علم‘ انسان کی فکری اور ذہنی نشوونما کا بنیادی ذریعہ ہے، اور علم تک رسائی کے لیے لائبریری کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ لائبریری وہ مقدس جگہ ہے جہاں صدیوں کا جمع شدہ علم محفوظ ہوتا ہے اور جہاں تشنگانِ علم اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔ یہ صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ فکر و تحقیق، مطالعہ اور شعور کی آماجگاہ ہے۔ کسی بھی معاشرے کی علمی ترقی کا اندازہ اس کی لائبریریوں کی حالت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
لائبریری انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کی جڑیں اور بنیادیں لاطینی زبان سے ماخوذ ہیں ، یہ ’’لاطینی‘‘ زبان کے لفظ ’’لائبر‘‘ سے بنا ہے، اس کا معنی ہے:’’ کتاب‘‘ (انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا، مادہ: لائبریری۔ اردو دائرۂ معارفِ اسلامیہ، جامعہ پنجاب، لاہور، مادہ: لائبریری) اردو و فارسی میں اسے کتب خانہ اور عربی میں ’’مکتبۃ‘‘ یا ’’دار الکتب‘‘ کہا جاتا ہے۔ لائبریری ایک ایسی جگہ ہے جہاں کتابیں، رسائل، اخبارات اور دیگر معلوماتی مواد جمع کیا جاتا ہے۔ لائبریری علم و فکر کا عظیم مرکز ہے، جہاں صدیوں کی علمی و فکری میراث محفوظ ہوتی ہے۔ یہاں الہامی کتب، مفسرین و محدثین کی تصانیف، محققین و مفکرین کی تحقیقات، اور اُدباء و شعراء کی تحریریں یکجا ملتی ہیں۔ لائبریری میں آنے والا فرد اہلِ علم کی فکری روشنی سے مستفید ہو کر اپنے ذہن و دل کو منور کرتا ہے۔
لائبریریوں کی تاریخ جہاں دلچسپ ہے، وہیں سبق آموز بھی ہے۔ دنیا کی سب سے پہلی لائبریری کب وجود میں آئی؟ شاید اس کا کوئی حتمی جواب نہ مل سکے؛ کیونکہ روز بروز ہونے والی تحقیقات سے کچھ نیا ہی نتیجہ نکل رہا ہوتا ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ لائبریریوں کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی انسانی تہذیب قدیم ہے۔ شروع سے ہی انسان نے ہر دور میں حاصل ہونے والے علم کا ریکارڈ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹنے سے معلوم ہوتا ہے کہ لائبریریوں کا آغاز سب سےپہلےاس وقت سے ہوا جب لوگوں کے پاس لکھنے کے لیے کاغذ قلم نہ تھا، اور وہ مٹی کی تختیوں، چمڑے اور ہڈیوں پر تحریر کو محفوظ کرتے تھے۔آج جدید ٹیکنالوجی کا دور ہے اور ڈیجیٹل لائبریریوں نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔ آشور بنی پال،سکندریہ لائبریری ، عیسائیوں ، ایرانی، ساسانی، یونانی، رومی کتب خانے ، عربوں کے کتب خانے یورپ اور برصغیر کے حکمرانوں کے کتب خانے بہت مشہور ہیں۔ قدیم دور کے کتب خانوں میں آشور بنی پال، کتب خانہ سکندریہ اور کتب خانہ پرگامم قابل ذکر ہیں۔ آشور بنی پال کی لائبریری میں اس وقت کا لکھا گیا زیادہ تر ادب موجود تھا ۔(۱)
مصر کے نئے حکمران خاندان نے اقتدار سنبھالنےکےبعد سکندریہ کو دانش وروں کا شہر بنا دیا۔ اس خاندان کے حکمرانوں کو علم و فن سے بہت زیادہ محبت تھی اور مصر کے قدیم علمی خزانوں کو دوبارہ دریافت کر کے دنیا کے لیے مفید بنایا تھا، اگرچہ فرعونوں نے بھی سقارا میں عظیم اہرام تعمیر کر کے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا تھا۔ اب سکندریہ نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا تھا اور اس کے علم و کمال نے دنیا کو اپنی طرف کھینچا تھا، سکندریہ کی مشہور لائبریری ’’ٹالمی اول‘‘ نے شروع کی اور ’’ٹالمی دوم‘‘ کے دورِ حکومت میں مکمل ہوئی ۔ ٹالمی دوم نے اپنے ماتحت ریاستوں کے حکمرانوں اور مختلف علوم کے علماء کو دعوت دی کہ اس عظیم لائبریری کے لیے کتابیں جمع کریں اور علماءکتابیں تحریر کریں، زیادہ تر کتابیں خریدی گئیں اور مختلف علوم کی بہت سی کتابیں علماء سے تحریر کروائی گئیں۔ کچھ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ سکندریہ کی لائبریری میں کئی لاکھ کتابیں تھیں۔ سٹرابو لکھتا ہے کہ قدیم ’’ڈورک‘‘ زبان اور قدیم یونانی زبان میں لکھی گئی کتابیں جو کہ نامور شاعروں اور فلسفیوں کی تھیں،رہوڈس کے بازار سے سونے کے ساتھ تول کر خریدی گئیں اور ان کتابوں کے عوض سونا دیا گیا تھا۔ (۲)
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دنیا کا پہلا منظم کتب خانہ سکندریہ تھا اور اس میں منہ مانگی قیمت پر کتب خرید کر رکھی جاتی تھیں، اس میں رکھے گئے مواد کو مضامین کے اعتبار سے رکھا جاتا تھا۔ اس کا قیام۳۲۳ ق-م میں مصر میں عمل میں آیا اور اس میں ذخیرۂ کتب ۹؍لاکھ تھا۔ یونانی کتب خانوں میں کتب خانہ ارسطو، کتب خانہ افلاطون اور پرگامم کا کتب خانہ قدیم ترین ہیں۔
افلاطون کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس بھی ایک شاندار کتب خانہ موجود تھا ، مگر اس کی وفات کے بعد وہ کہاں گیا؟! کسی کو کچھ معلوم نہیں ہے، البتہ ارسطو کے کتب خانے کے حوالے سے تاریخی شواہد موجود ہیں۔ یہ کتب خانہ سینکڑوں کتابوں پر مشتمل تھا جو کہ ایک اندازے کے مطابق۴سو رولز پر مشتمل تھا۔ نجی کتب خانوں کا بانی ارسطو کو کہا جا تا ہے۔ ارسطو نے کتب خانوں کی تنظیم و ترتیب سائنسی بنیادوں پر رکھنا شروع کی تھی۔ قدیم یونان کا دوسرا اہم ترین کتب خانہ پرگامم ہے جسے اتالوسی دوم نے ۱۳۷ءسے ۱۵۹ء تک قائم کیا۔ پرگامم کا مواد پیپرس رولز اور پارجمنٹ پر مشتمل تھا اور یہ ذخیرہ دولاکھ کے لگ بھگ تھا۔ یونانی کتب خانوں میں ادب، تاریخ، سائنس، ریاضی، فلسفہ، سیاسیات اور اخلاقیات جیسے موضوعات پر ذخیرۂ کتب زیادہ تھا۔
سرزمینِ روم میں عوامی کتب خانے، نجی کتب خانے ا ورمخصوص کتب خانے موجود تھے۔ ۳۶۰ءسے ۳۷۰ء تک روم میں ۲۸ عوامی کتب خانے موجود تھے۔ روم کے یہ تمام کتب خانے ۱۶ویں صدی تک نیست و نابود ہو گئے۔ چوتھی یا پانچویں صدی عیسوی میں برِصغیر میں کتب خانے موجود تھے۔ کتب خانہ نالندہ یونیورسٹی، وکرم شلا اورسرسوتی بھنڈار برصغیر کے قدیم کتب خانے ہیں۔ پرانے زمانوں کے عظیم کتب خانوں کی دو اہم خصوصیات: علم دوستی، اور حکمرانوں کی ذاتی دلچسپی اور ان کی ترتیب و تنظیم میں ہم آہنگی تھی۔
ایسی لائبریریاں بنانا جہاں علم وحکمت ایک عام آدمی کی دسترس میں آجائے، یہ یقیناًنوعِ انسان کی ایک بہت بڑی کاوش ہے، دنیا کی چند بڑی اور چند دلچسپ لائبریریوں کےنام پیشِ خدمت ہیں:
۱-امریکی کانگریس کی لائبریری۔ ۲-برٹش لائبریری لندن انگلینڈ۔ ۳-نیویارک پبلک لائبریری نیویارک۔ ۴-رشین اسٹیٹ لائبریری۔ ۵-نیشنل لائبریری آف رشیا۔ ۶-نیشنل ڈائٹ لائبریری جاپان۔ ۷-نیشنل لائبریری آف چائنا۔ ۸-نیشنل لائبریری آف فرانس۔ ۹-بودلیئن لائبریری،آکسفورڈ برطانیہ۔ ۱۰-بوسٹن پبلک لائبریری۔(۳)
ترکی جہاں اہلِ علم کا مرکز ہے، وہیں دینی کتب و دلکش لائبریریوں کا مظہر بھی ہے، ترکی صدارتی کمپلیکس میں بنائی گئی لائبریری میں ۴۰ ؍لاکھ سے زائد کتابیں رکھی گئی ہیں، جبکہ وہاں ۵ ہزار افراد بیک وقت مطالعہ کر سکتے ہیں۔ ’’ترکی اردو‘‘ کی رپورٹ کے مطابق انقرہ کی اس عظیم الشان لائبریری میں ایک کروڑ ۲۰ لاکھ الیکٹرانک اور ساڑھے ۵ لاکھ ای کتب کے ساتھ ساتھ تاریخی دستاویزات بھی موجود ہیں ، جہاں بیک وقت ۵ ہزار افراد مطالعہ کرسکتےہیں، صدارتی کمپلیکس کا کل رقبہ ۱۲۵ ہزار مربع میٹر ہے، جس کی تعمیر کا آغاز ۲۰۱۶ء میں کیا گیا تھا۔(۴)
لائبریری علم و فکر اور تعلیم و تعلم کا مظہر و مرکز ہے۔ ’’کتب‘‘سفاہت سے معرفت، جہالت سے علم اور ظلمات سے نور کی طرف لے جاتی ہیں، کسی بھی قوم کو کسی بھی میدان میں عملی تجربات سے قبل نظریات اور اصول چاہئیں، جن کی حفاظت و ترویج گاہیں لائبریریز ہیں، جن کی اہمیت وافادیت کو مہذب قوموں نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے۔ اہلِ علم کسی ملک میں پائی جانے والی لائبریرز کو اس ملک کی ثقافتی ، تعلیمی اورصنعتی ترقی کا نہ صرف پیمانہ بلکہ قومی ورثہ قرار دیتے ہیں۔ اگر کسی ملک کی ترقی کا جائزہ لینا ہو تو وہاں پرموجود تعلیمی اداروں کو دیکھا جائے اور تعلیمی اداروں کی ترقی کاجائزہ لینا ہو تو وہاں پر موجود لائبریریوں کودیکھا جائے۔ جہاں لائبریریاں آباد ہوں گی وہاں تعلیمی ادارے بھی اسی قدر تعلیم وتحقیق میں فعال ہوں گے، جس کا لازمی نتیجہ ملک کی معاشی و معاشرتی ترقی اور عوام کی خوشحالی ہے۔
تاریخ بھی اُنہی قوموں کا احترام کرتی ہے جو اپنے عِلمی سرمائے کی حِفاظت کرنا جانتی ہیں۔ مہنگائی کے اِس دور میں نئی کتابیں خریدنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے، اس لیے ذاتی لائبریری بنانابھی ناممکن ہوتا جارہا ہے، اس اعتبار سے بھی لائبریریوں کی اہمیت کہیں بڑھ جاتی ہے، پھرہر انسان کی اپنی اپنی پسند اور اپنا اپنا ذوق ہوتا ہے۔ بعض تاریخی کتابیں پسند کرتے ہیں۔ بعض ادبی، بعض سیاسی اور بعض دینی کتابوں کا شوق رکھتے ہیں۔ ایک لائبریری میں مختلف موضوعات سے متعلق کتابیں ہوتی ہیں اور ایک موضوع پر بہت سی کتابیں مل جاتی ہیں اور انسان بیک وقت ایک موضوع پر ہر قسم کے خیالات سے استفادہ کرسکتا ہے۔ لائبریری کی افادیت کو بیان کرنے کے لیے تجزیے، تحقیق، رائےکے علاوہ اور بھی بہت سے ذریعے ہیں، مگر مختصراً یہ کہ جیسے ہر شے کو بڑھنے اور پھلنے پھولنے کے لیے ایک ماحول کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح کتابی کلچر کے بڑھنے کے لیے معاشرے میں لائبریریوں کی ضرورت ہے۔
لائبریری علم و فکر، تعلیم و تحقیق کی بنیادہے جو جہالت اور تاریکی سے علم اور روشنی کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ مہذب اقوام کےہاں لائبریریاں ثقافتی، تعلیمی اور سماجی ترقی کا پیمانہ ہوتی ہیں؛ کیونکہ تعلیمی اداروں کی کارکردگی بڑی حد تک ان کی لائبریریوں سے وابستہ ہوتی ہے۔ مہنگائی کے دور میں ہر طالب علم کے لیے کتابیں خریدنا مشکل ہے، اس لیے لائبریریوں میں مختلف موضوعات کی معیاری کتب آسانی سےمل جاتی ہیں۔ لائبریری صرف مطالعہ کی جگہ نہیں، بلکہ فکری تبادلۂ خیال، مکالمے اور تجزیے کا ماحول بھی مہیا کرتی ہے، جہاں طلبہ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ مختصریہ کہ کتابی ثقافت کے فروغ، فکری نشوونما اور معاشرتی ترقی کے لیے لائبریریوں کا وجود ناگزیر ہے۔
دنیا میں کوئی والدین ایسے نہیں جو یہ چاہیں کہ ان کی اولاد علم میں بلند مقام حاصل نہ کرے۔ ہر ماں باپ کی آرزو ہوتی ہے کہ ان کے بچے اپنا قیمتی وقت علمی سرگرمیوں میں صرف کریں۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے گھر میں ایک خوبصورت، دلکش اور پُرسکون لائبریری کا ہونا بے حد ضروری ہے، جہاں مستند، مفید اور غیر اخلاقی مواد سے پاک کتب موجود ہوں۔ ایسی لائبریری نہ صرف بچوں کی علمی اور فکری نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے؛ بلکہ ان کے ذوقِ مطالعہ کو بھی نکھارتی ہے اور ذہن و دل میں روشنی بکھیرتی ہے۔ گھر میں لائبریر ی کے چند فوائد پیشِ خدمت ہیں:
1- گھر میں لائبریری بچوں کی اخلاقی تربیت اور مثبت رویوں کو فروغ دیتی ہے۔
2- یہ بچوں میں علم دوستی اور سیکھنے کا رجحان پیدا کرتی ہے۔
3- لائبریری بچوں کی ذہنی استعداد اور صلاحیتوں کو بڑھانے میں مددگار ہوتی ہے۔
4- کم عمری میں کتابوں سے آشنائی طویل مدتی علمی اور فکری صلاحیتیں پیدا کرتی ہے۔
5- گھر کی لائبریری کا اثر ایسا ہوتا ہے جیسے بچوں نے کئی سال کی اضافی تعلیم حاصل کر لی ہو۔
6- لائبریری میں پروان چڑھنے والے بچوں کا علم ہم عمر بچوں سے زیادہ ہوتا ہے۔
7- یہ بچوں کو بری صحبت سے بچانےاورمثبت فکری نشوونما دینے میں معاون ہے۔
8- تحقیق کے مطابق، جن گھروں میں ۸۰ یا اس سے زیادہ کتابیں موجود ہوں، وہاں نوجوانوں کے پڑھنے کی صلاحیت، ہندسوں کا علم اوردیگرمعلومات نمایاں بہتر ہوتے ہیں۔
9- لائبریری بچوں کی تخلیقی سوچ اورتجزیاتی صلاحیت کو فروغ دیتی ہے، اور انہیں اپنی رائے قائم کرنے اور مختلف نظریات پر غور و فکر کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی علمی و فکری نشوونما کے لیے گھر میں زیادہ سے زیادہ کتابیں رکھیں۔
لائبریری میں درجہ بندی (classification) ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے، اگر کتب کی ترتیب درست نہ ہو اور مواد بکھرا ہوا ہو تو لائبریری کے فوائد وثمرات کماحقہ حاصل نہیں ہوسکتے، درجہ بندی دراصل اس علمی عمل کا نام ہے، جس کے تحت مختلف اقسام کی اجناس،یا علوم میں امتیاز اور تفریق چند خصوصیات کی بنیاد پر کی جائے، یعنی کتابوں یا دیگر موجود مواد کو کسی خاصیت کی بنا پر الگ الگ کرنا، جیسے علوم کے مطابق کتب کو الگ الگ خانوں میں رکھنا، اس طرح فقہ کی کتب الگ اور حدیث کی کتب الگ ہو جائیں گی، اسی طرح زبان وار، ملک وار، یا فن وار، یا مصنفین کی ترتیب پر الگ الگ رکھا جائے ۔
لائبریری کےلیے ایک نگران کی ضرورت ہوتی ہے جو اُن کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی، ترتیب وتنظیم کا خیال رکھے، کیوں کہ لائبریرین کے بغیر لائبریری کا نظام کامیاب نہیں ہو سکتا، لہٰذا بہتر یہ ہےکہ اس کےلیےایسا منتظم رکھاجائے جو درج ذیل خصوصیات کا حامل ہو:
۱- وہ شخص خود کتب بینی کا شغف رکھتاہو؛ کیوں کہ یہ کام ذوق کےبغیر نہیں ہوسکتا۔
۲- اسےلائبریری میں موجود تمام کتابی اور غیر کتابی مواد سے کلّی طور پر شناسائی ہو۔
۳- مختلف فنون وعلوم کی کتابوں کے مصنفین کےناموں سےشناسائی رکھتاہو۔
۴- قارئین کےمزاج ،ذوق و شوق سے آگاہی رکھتاہو۔
۵- لائبریری کے مواد کا انتخاب اور اس کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتاہو۔
۶- اس میں قارئین کے سوالات کا تجزیہ کرنے اور احسن طریقےسے اس کا حل نکالنے کی قابلیت ہو۔
۷- قارئین کے لائبریری کے استعمال اور مواد سے مستفیدہونے میں خوش دلی سے مدد اور تعاون کرتا ہو۔
۸- لائبریرین اعلیٰ اخلاق کا مالک ہو نے کے ساتھ ساتھ ملنساری اورصبر وتحمل جیسی خوبیوں سے سرشار ہو۔
دینی علوم کا عظیم سرمایہ ہمیں جن بزرگوں کے ذریعے ملا ہے، انہوں نے کس قدر تکالیف ومصائب برداشت کر کے یہ عظیم سرمایہ ہم تک پہنچایا ہے، اگر ماضی کےدریچوںمیں جھانک کر دیکھیں تو ان لوگوں کی قربانیاں پڑھ کر انسانی عقل حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوجاتی ہے، یقیناًیہ لوگ علم دوست تھے، چناں چہ یہاں ان اَسلاف کےچندواقعات نقل کیے جاتے ہیں:
* امام احمد بن محمد المقری جو زبردست محدث تھے، آپ کو ایک کتاب سے حوالہ نقل کرنے کے لیے ۷۰ دن کا سفر کرنا پڑا۔ خود فرماتے ہیں کہ وہ کتاب اس حالت میں تھی کہ: ’’ولو عَرَضتُ علی خَبَّازٍ بِرَغيفٍ لم يَقبَلْہَا‘‘ یعنی اگر وہ کتاب کسی نان بائی کو دے کر ایک روٹی بھی خریدنا چاہتے تو شاید وہ اسےقبول نہ کرتا۔(۵)
* خطیب تبریزیؒ کو عربی زبان و قواعد پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ ان کو ایک مرتبہ ابومنصورؒ کی کتاب ’’تہذیب اللغۃ‘‘ کہیں سے مل گئی۔ آپ نے ارادہ کیا کہ اس کتاب کے مندرجات کو کسی ماہرِ زبان سے تحقیقی طور پر سمجھیں، لوگوں نے ابوالعلاء المعری کا نام پیش کیا۔ آپ نے کتاب تھیلے میں ڈالی، اس تھیلے کو بغل میں لٹکایا اور تبریز سے ’’معرہ‘‘ کی جانب چل پڑے۔ آپ کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ سواری کا انتظام کر سکتے۔ ’’فنَفَذَ العِرقُ مِن ظَہرِہٖ إليہا فأثَّرَ فيہا البَلَلُ، وہي ببعض الوقوف ببغداد، وإذ راٰہا مَن لايعرف صورۃ الحال فيہا ظنَّ أنَّہا غريقۃٌ، وليس بہا سِوٰی عِرقِ الخطيب المذور‘‘ اس لیے دھوپ میں پیدل چلنے سے پسینہ آیا اور اس کا اثر تھیلے اور کتاب تک پہنچا، نتیجتاً کتاب پسینہ سے تر ہو گئی۔ اب اگر کوئی اس کتاب کو دیکھتا اور اسے صحیح صورت حال کا پتہ نہ ہوتا تو وہ یہی خیال کرتا کہ شاید پانی میں بھیگ گئی ہے، حالانکہ اس پر صرف خطیب تبریزی کا پسینہ تھا۔ (۶)
* حضرت علی بن احمدؒ کے پاس ’’الجمھرۃ في علم اللغۃ‘‘ کا ایک بہت ہی عمدہ نسخہ تھا، ایک مرتبہ غربت نے اسے بیچنے پر مجبور کر دیا، شریف مرتضیٰ ابوالقاسم نے ۶۰ دینار میں خرید لیا، جب اس کا ورق پلٹا تو اس پر ابوالحسن کے ہاتھ سے لکھے ہوئے اشعار نظر آئے، جن کا ترجمہ یہ ہے: ’’میں۲۰ سال تک اس کتاب سے مانوس رہنے کے بعد آج اس کو بیچ رہا ہوں، اس کے چھوٹ جانے سے میرا غم بہت بڑھ گیا ہے۔ قرضوں کی وجہ سے اگر عمر قید بھی ہو جاتی تو پرواہ نہ تھی، مگر یہ وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کبھی اس کو بیچنا پڑے گا، لیکن کیا کروں؟! کمزوری، ناداری اور چھوٹے چھوٹے بچوں کی وجہ سے حالات نے یہ دن دکھائے۔ میں بہتے ہوئے آنسوؤں پر قابو نہ پا سکا اور کسی دل جلے غمزدہ کی طرح یوں کہا:ضرورت کبھی کبھی عمدہ چیزوں کو اپنے آقا سے جدا ہونے پر مجبور کر دیتی ہے، حالانکہ وہ انہیں اپنے پاس سے الگ نہیں کرنا چاہتا۔ (۷)
شریف مرتضیٰ نے جب کتاب پر لکھے ہوئے یہ اشعار پڑھے تو اس کا دل بھر آیا اور اس نے کتاب کا نسخہ واپس کر دیا اور دینار اُن ہی کے پاس رہنے دیے۔
اسلام کی روشن تاریخ ایسے بیسیوں واقعات سے بھری پڑی ہے جن سے اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ دینی علوم کی تدوین و تالیف، پُرفضا و شاداب مقامات، نہروں کے کنارے یا سایہ دار درختوں کی چھاؤں میں بیٹھ کر نہیں ہوئی، بلکہ یہ کام خواہشات کی قربانی دے کر ہوا ہے، اس کے لیے سخت گرمیوں میں پیاس کی ناقابلِ برداشت تکالیف اُٹھانی پڑی ہیں اور رات بھر ٹمٹماتے چراغوں کے سامنے جاگنا پڑا ہے۔
آج کا دور ڈیجیٹل دور کہلاتا ہے، جہاں ہر چیز تک رسائی محض انگلیوں کی ایک جنبش سے ممکن ہو چکی ہے۔ موبائل فون، لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر کے ذریعے نہ صرف معلومات کا حصول آسان ہوا ہے، بلکہ دنیا بھر سے رابطہ بھی لمحوں میں ممکن ہو گیا ہے۔ تعلیم، تجارت، طب، زراعت، سیاحت اور تفریح جیسے تمام شعبوں میں نمایاں ترقی ٹیکنالوجی کی مرہونِ منت ہے۔
ڈیجیٹل دور نے زندگی کے ہر شعبے کی طرح تعلیم اور مطالعہ کو بھی گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی بدولت اب کتابیں پڑھنے کے بجائے سنی جا سکتی ہیں، جس سے وقت کی بچت ممکن ہوئی ہے، لیکن کتابوں کا روایتی مطالعہ اب بھی شخصیت سازی اور فکری بالیدگی کا بہترین ذریعہ ہے۔ مطالعہ نہ صرف شعور کو جلا بخشتا ہے، بلکہ نوجوانوں کو فضول مشاغل سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا مثبت و دانشمندانہ استعمال فرد، خاندان اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے، جبکہ غیر محتاط استعمال خاندانی اقدار، صحت، نیند اور سماجی سرگرمیوں کو متاثر کرتا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا نے صحافت، تعلیم اور معلومات کی ترسیل کو آسان بنا دیا ہے اور خبریں تحریری، سمعی اور بصری صورت میں فوری طور پر لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔
آج پاکستان کی تقریباً تمام لائبریریوں میں مواد کو ڈیجیٹل شکل دے دی گئی ہے، تاکہ طلبہ کو تعلیمی اور غیر تعلیمی نصاب آسانی سے دستیاب ہوسکے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اپنے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری پروگرام کے تحت طلبہ کو علمی جرائد کے ساتھ ساتھ الیکٹرانک کتابوں تک رسائی فراہم کر رہا ہے۔ اس لائبریری میں پچھتر ہزار سے زائد کتابیں، جرائد اور مضامین موجود ہیں۔
اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت سائبر لائبریری منصوبے پر کام کر رہی ہے، جس کا مقصد قومی اورمقامی زبانوں میں انٹرنیٹ پر مواد فراہم کرنا ہے۔ اس لائبریری میں مذہب، ادب، تاریخ اور سائنسی موضوعات سے متعلق کتب شامل ہیں۔
یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں تبدیل کرنے کا ایک مقصد یہ تھا کہ پاکستان میں تحقیق کے رجحان کو فروغ دیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے کئی ایسے اقدامات کیے، جن سے اہلِ علم کو اپنے تحقیقی مقالے شائع کرنے کی حوصلہ افزائی ہوئی۔
گزشتہ ایک دہائی کے دوران تحقیقی مواد اور ریسرچ پیپرز کی اشاعت میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ البتہ یہ ایک الگ موضوع ہے کہ اس تحقیقی مواد کا معیار کس حد تک بہتر ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری پروگرام نے پاکستان میں تحقیقی ماحول کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سرکاری اور نجی شعبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ محققین کے لیے مہنگے آن لائن جرائد اور تحقیقی ڈیٹا بیس تک رسائی آسان ہوئی۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے تحت اس سلسلے میں پنجاب ڈیجیٹل لائبریری پراجیکٹ پر کام جاری ہے، جو اس شعبے میں موجود کمی کو دور کرے گا۔
ڈیجیٹل لائبریری کے سلسلے میں ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اپنا تحقیقی مواد خود تیار کرنے اور محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے محققین اپنی تحقیق بین الاقوامی جرائد میں شائع کر رہے ہیں، جبکہ ان میں زیادہ تر مقامی مسائل پر بحث کی گئی ہے اور اس مواد تک رسائی محدود ہے، کیونکہ مکمل رسائی کے لیے ان جرائد کے لیے معاوضہ ادا کرنا پڑتا ہے۔
اس وقت پاکستان میں سرکاری اور نجی شعبے میں کی جانے والی تحقیق تک رسائی ایک بہت اہم ضرورت ہے۔ اس تحقیقی مواد کو جلد از جلد ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرکے محققین تک پہنچانا ضروری ہے۔ پاکستان میں نادر تاریخی دستاویزات، ہاتھ سے لکھی گئی تحریریں اور دیگر قیمتی مواد موجود ہے، جنہیں ڈیجیٹلائز کرکے علمی استفادہ کے لیے دستیاب کرنا چاہیے۔
ڈیجیٹل کتب خانے بعض وجوہ سے روایتی کتب خانوں کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہیں، کیونکہ روایتی کتب خانوں میں ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہوتی ہے، جبکہ ڈیجیٹل کتب خانوں میں یہ گنجائش کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ ڈیجیٹل کتب خانوں پر وقت اور خرچ بھی کم لگتا ہے، معلومات کی رسائی منظم انداز میں ہوتی ہے، اور یہ ہر وقت دستیاب رہتے ہیں۔
تاہم‘ جہاں ڈیجیٹل لائبریری کے فائدے ہیں، وہاں کچھ مسائل بھی موجود ہیں، جیسے کاپی رائٹ کا معاملہ۔ بعض اوقات ایک مصنف کا کام بغیر اجازت کسی اور کے نام کے ساتھ منسلک کر دیا جاتا ہے، جس سے حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیجیٹل کتب خانے روایتی کتب خانوں کی طرح مطالعے کا ماحول فراہم نہیں کرپاتے، اور اگر انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہو تو قارئین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وغیرہ۔
ان سب کے باوجود، لائبریریوں کا ڈیجیٹیلائز ہونا آنے والی نسل کے لیے خوش آئند ہے۔ قائد اعظم لائبریری میں بھی ڈیجیٹل لائبریری کی سہولت موجود ہے، جہاں ۸۰ کمپیوٹرز پر لائبریری کی ۱۶ ہزار کمپیوٹرائزڈ کتابیں آن لائن بآسانی دستیاب ہیں۔
کسی بھی شعبے میں تحقیق، پہلے سے دستیاب معلومات تک رسائی کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔ اعلیٰ درجے کا تحقیقی مواد مختلف جرنلز میں شائع ہوتا ہے اور یہ بین الاقوامی اشاعتی اداروں کی ڈیٹا بیس سے خریدا بھی جا سکتا ہے۔ کسی فرد یا ادارے کو اپنا تحقیقی کام جاری رکھنے کے لیے تازہ ترین رحجانات، تخلیقات اور تحقیق تک فوری رسائی کی ضرورت ہوتی ہے، تاکہ وہ اپنا کام بغیر کسی خلل کے جاری رکھ سکے اور اس کی یکسوئی متاثر نہ ہو۔
ڈیجیٹل لائبریری ایسی لائبریری ہوتی ہے، جس میں ڈیجیٹل فارمیٹ میں مواد محفوظ کیا جاتا ہے اور کمپیوٹر، لیپ ٹاپ یا موبائل کے ذریعہ اس تک رسائی ہوتی ہے۔ اس مواد کو مقامی طور پر ذخیرہ کیا جاسکتا ہے اور کہیں سے بھی اس تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پاکستان میں تعلیم کے لیے مختص بجٹ عموماً ناکافی ہوتا ہے۔
خاص طور پر جب ہم اعلیٰ تعلیم کے شعبے کی جانب نظر دوڑاتے ہیں تو یہ حقیقت اور بھی عیاں ہو جاتی ہے کہ اس ضمن میں رکھی جانے والی رقم اور بھی کم ہے، جب کہ لائبریری ترجیحات میں شامل نہیں۔ کچھ تعلیمی اداروں نے ڈیجیٹل لائبریریوں میں سرمایہ کاری کی ہے، تاہم یہ رجحان تمام طبقات میں ابھی اپنی جڑیں مضبوط نہیں کرسکا۔
ایچ ای سی کے نیشنل ڈیجیٹل لائبریری پروگرام نے پاکستان میں تحقیقی ماحول کو فروغ دینے میں اہم کردار اداکیا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے سرکاری اور نجی شعبے کے اعلیٰ تعلیمی اداروں سے وابستہ محققین کے لیے مہنگے آن لائن جرائد اورتحقیقی ڈیٹا بیس تک رسائی آسان ہوئی ہے۔ ای بک سپورٹ پروگرام محققین کو مختلف مضامین کے اہم مواد اور حوالے کی کتابوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔
چھوٹی لائبریریاں بھی کتابوں کابڑا ذخیرہ جمع کرسکتی ہیں، کیونکہ ایک ہارڈ ڈرائیو میں رنگین پی ڈی ایف کی ایک لاکھ ۵۰ ہزار کتابیں اور ان کا کیٹلاگ ڈیٹا رکھا جا سکتا ہے۔ آن لائن کتابیں فراہم کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ لائبریریوں کے مالکان دو لاکھ کے قریب الیکٹرانک کتابیں خرید کر انٹرنیٹ پر لاسکتے ہیں۔ بوسٹن پبلک لائبریری اور لائبریری آف کانگریس میں روزانہ سینکڑوں کتابیں کمپیوٹر پر لائی جارہی ہیں۔ اس وقت بھی۲۰؍لاکھ کے قریب ویب سائٹس ایسی ہیں، جو پڑھنے والوں کو مفت کتابیں حاصل کرنے اور پڑھنے کی اجازت دیتی ہیں۔
جنوری۲۰۰۴ء میں پاکستان میں پہلی ڈیجیٹل لائبریری کا آغاز ہوا۔ اس لائبریری کی مدد سے یونیورسٹیاں اور تحقیقاتی ادارے ۵ ہزار بین الاقوامی جرائد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ PERN قومی سطح کا ایک ایسا تعلیمی انٹرنیٹ ہے جو کہ تعلیمی اور تحقیقاتی اداروں کو ناصرف باہم ملا رہا ہے، بلکہ انٹرنیٹ کی مدد سے مشترکہ تحقیقی علم اور وسائل بانٹنے اور فاصلاتی تعلیم فراہم کرنے میں بھی مددگار ہے۔ PERN میں شامل ڈیجیٹل لائبریری میں فراہم کردہ سہولیات میں ۱۱ ؍سو رسائل اور میگزین کے علاوہ بہت سے مفید لیکچرز شامل ہیں۔
۱-سکندریہ کی لائبریری کی داستان، ص:۱۶۔
۲-سکندریہ کی لائبریری کی داستان، ص:۳۸۔
۳-اردو میں تاریخی لائبریریوں پر مطالعہ ’’کتب خانہ اسکندریہ‘‘
۴-ترکی اردو ویب سائٹ۔
۵-تذکرۃ الحفاظ للذہبي:۳/ ۱۲۱
۶-وفیات الأعیان: ۶/ ۱۹۲
۷-وفیات الأعیان: ۱/ ۳۳۷