بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

علومِ انوری کا گنجینہ: ’’الإتحاف لمذہب الأحناف‘‘  (دوسری اور آخری قسط)

علومِ انوری کا گنجینہ: ’’الإتحاف لمذہب الأحناف‘‘

 (دوسری اور آخری قسط)

’’الإتحاف‘‘ - ایک تجزیہ

’’الإتحاف‘‘کے تفصیلی تعارف کے لیے شبِ فرقت کی مانند فرصت کے ساتھ طولانیِ تحریر درکار ہے، اور سرِ دست راقمِ سطور ان دونوں امور سے تہی دست! سو کتاب کی ابتدا میں پونے دو سو صفحات (ص: ۱۳ تا ص: ۱۸۸) پر مشتمل جو مفصّل علمی تجزیہ وتبصرہ پیش کیا گیا ہے، اس کی روشنی میں کتاب کی کچھ جھلک زیبِ قرطاس کی جارہی ہے، صحیح معنوں میں کتاب کی قدر وقیمت سے آگاہی مطالعہ سے ہی ہوسکے گی؛ کیونکہ: ’’شنیدہ کے بود مانندِ دیدہ!‘‘، ’’لیس الخبرُ کالمعاینۃ‘‘ ، یعنی ’’دیکھا سنا برابر نہیں!‘‘
کتاب کی ابتدا میں تحریر کیا گیا تفصیلی مقدمہ یا دراسہ، دو ابواب اور متعدد ذیلی فصول میں پھیلا ہوا ہے: 
بابِ اول میں علامہ نیمویؒ اور ان کی کتاب ’’آثار السنن‘‘ کا تعارف کرایا گیا ہے۔ یہ باب، تین فصلوں اور خاتمہ میں تقسیم کیا گیا ہے:
۱- فصلِ اول میں علامہ نیموی ؒ کے احوالِ زندگی، ان کی علمی منزلت اور تالیفات کا قدرے تفصیلی تذکرہ ہے؛ کیونکہ علامہ موصوف کے حالاتِ زندگی متداول نہ ہونے کی بنا پر عام دسترس میں نہیں۔ 
۲- فصلِ دوم میں ’’آثار السنن‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے کتاب کا باعثِ تالیف، زمانۂ تالیف، علمی مرتبہ، کتاب پر تنقیدی مباحث، مطبوعہ نسخوں کا تجزیہ، کتاب کے بقیہ مسودہ کا تذکرہ اور تکملہ کی ضرورت جیسے مفید مباحث بیان کیے گئے ہیں۔ 
۳- فصلِ سوم میں ’’آثار السنن‘‘ کی تالیف میں علامہ نیموی ؒ کا منہج واضح کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں کتاب کے مشمولات کا اجمالی تذکرہ، مختلف جہتوں سے کتاب کا اُسلوب وخصوصیات (مثلاً: ابواب قائم کرنے کا اسلوب، نقدِ حدیث اور اصطلاحات کے استعمال کا اسلوب، تخریجِ احادیث کا اسلوب ’’قال النیموي‘‘ میں پنہاں اغراض ومقاصد، وغیرہ)، نیز کتاب کے دونوں حواشی: ’’التعلیق الحسن‘‘ اور ’’تعلیق التعلیق‘‘ کا منہج پیش کیا گیا ہے۔ 
خاتمہ میں متنِ کتاب اور اس کے دونوں حواشی کی تالیف کے دوران مؤلف کے پیشِ نگاہ مصادر ومراجع کی فہرست دقّت رسی سے مرتّب کی گئی ہے۔ اس فہرست میں ۱۵۳ مآخذ کا ذکر آگیا ہے۔ 
بابِ دوم کا محور علامہ محمد انور شاہ کشمیری ؒ کی حیات اور ’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘ ہیں، یہ باب بھی تین فصلوں اور خاتمہ پر مشتمل ہے:
۱- فصلِ اول میں علامہ کشمیری ؒ کے احوالِ زندگی قدرے اختصار سے پیش کیے گئے ہیں، اس لیے کہ علامہ موصوفؒ کی حیاتِ مستعار کے متعلق اردو وعربی اور دیگر زبانوں میں بہت سی کتب اور مقالات شائع ہوچکے اور اہلِ علم کی دسترس میں ہیں۔ اس فصل کے آخر میں تصنیف وتالیف کے تئیں علامہ کشمیریؒ کے عمومی منہج پر اُچٹتی نگاہ ڈالتے ہوئے چند اہم نکات درج کیے گئے ہیں۔
۲- فصلِ دوم میں ’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘ کا تعارفی جائزہ لیا گیا ہے،اس فصل کے عنوانات پر نگاہ ڈالیے: 
’’الإتحاف‘‘ کا باعثِ تالیف، زمانۂ تالیف، وجہ تسمیہ، خود مؤلف اور دیگر اہلِ علم کے نزدیک کتاب کی اہمیت ومرتبہ، کتاب سے اہلِ علم کا استفادہ، کتاب کی خصوصیات وامتیازات، علامہ نیموی ؒ کی ’’آثار السنن‘‘ اور اس پر مولانا عبد الرحمٰن مبارک پوری ؒ کی تنقیدی کتاب ’’أبکار المنن‘‘ کا تقابلی جائزہ اور دونوں پر علامہ موصوف کے تعقّبات، ’’الإتحاف‘‘ کی تخریج کے تئیں متعدد اہلِ علم کی کوششیں، اور علامہ کشمیری ؒ کے قلم سے ’’الإتحاف‘‘ کے آخر میں ملحق متفرق فوائد کا تعارف۔ 
۳- فصلِ سوم میں ’’الإتحاف‘‘ کے اسلوبِ تالیف کا مفصّل تجزیہ کیا گیا ہے، یہ فصل لگ بھگ ستر صفحات میں پھیلی ہوئی ہے اور پانچ مباحث میں تقسیم کی گئی ہے: 
1 -مبحثِ اول میں علامہ کشمیری ؒ کی چند منہجی خصوصیات سے پردہ اُٹھایا گیا ہے، کتاب سے استفادہ کے لیے ان امور سے آگاہی از بس ضروری ہے، مثلاً: تعلیقاتِ کشمیری میں رموز واشارات کا استعمال، عبارات کی تخریج اور اسماء کتب کے تذکرہ میں اختصار پسندی، علمی امور میں اطلاق یا نفی میں احتیاط، مخالفین کے ساتھ انصاف، امثلہ ونظائر کے ذریعے مسائل کی توضیح اور تقریب فہمی۔ 
یہ امور، علامہ کشمیری ؒ کی تمام تالیفات سے استفادہ کے لیے شاہ کلید کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 
2 - مبحثِ دوم میں علومِ حدیث سےعلامہ کشمیریؒ کے اعتناء کا تذکرہ ہے، اور اس مبحث کو ذیلی طور پر پانچ مطالب میں تقسیم کیا گیا ہے:
مطلبِ اول، شرحِ حدیث سے متعلق ہے۔ اس مطلب میں توضیحِ حدیث بہ حدیث، احادیثِ باب (زیرِ بحث موضوع سے وابستہ احادیث) پر وارد اشکالات کا دفعیہ، دلائل ومؤیّدات میں مؤلف کے ذکر کردہ امور پر اضافہ، اور توجیہِ احادیث جیسے قیمتی عنوانات تلے سچے موتیوں کی مانند فوائد بکھرے ہوئے ہیں۔ 
مطلبِ دوم کا تعلق رجالِ احادیث سے ہے۔ اس ضمن میں اختصار کے ساتھ راویوں کا تعارف، راویوں پر کلام کا اسلوب، فنِ متفق ومفترق، تعیینِ اَنساب، مبہم اسماء اور کنیتوں کی وضاحت، وغیرہ مباحث سے متعلق تجزیہ کیا گیا ہے۔ 
مطلبِ سوم میں احادیث ونصوص کی تخریج کے تعلق سے علامہ کشمیری ؒ کے منہج کے متعلق خامہ فرسائی کی گئی ہے۔ اس مطلب کے ذیلی عناوین یوں ہیں: علامہ نیمویؒ کے مصادر کی تخریج، موقوف روایات کے مصادر کی تعیین، احادیثِ باب (زیرِ بحث موضوع سے متعلق دیگر احادیث) کی تخریج کا اہتمام، نصوصِ حدیث کو نصوصِ قرآن سے جوڑنا۔ 
مطلبِ چہارم‘ نقدِ حدیث کے گرد گھومتا ہے۔ اس مطلب میں عللِ احادیث پر کلام اور امام ترمذی ؒ کی تصحیح وتحسین پر علامہ کشمیری ؒ کے اعتماد کا تذکرہ ہے۔ 
مطلبِ پنجم میں حدیثی اصطلاحات کے متعلق بعض اہم مباحث کا بیان ہے، مثلاً: حدیثِ معنعن کے متعلق امکانِ لقاء کا مسئلہ، حدیثِ مرسل کا حکم اور دورانِ تالیف علامہ کشمیریؒ کے ہاں اصولِ حدیث کا فنی استعمال۔ 
3 - مبحثِ سوم کا موضوع، فقہ وعلومِ فقہ سے علامہ کشمیری ؒ کا اعتناء ہے۔ دراسہ کے اس آخری حصے کے دامن میں بھی نہایت گراں مایہ علمی فوائد بکھرے ہوئے ہیں، مثلاً: اختلافِ فقہاء کے اسباب کی نشان دہی، فقہی مذاہب میں تقریب کی کوشش، ایک ہی مسئلہ سے متعلق امام ابوحنیفہ ؒ کے مختلف اقوال میں تطبیق، اہلِ علم کے مذاہب کا بیان، اور اہلِ علم کے مختلف اقوال میں تطبیق، وغیرہ۔ 
4 - مبحثِ چہارم میں استدراکات اور تعقّبات کا تذکرہ ہے، ان کا تعلق احادیث کی تصحیح وتضعیف، رجالِ احادیث، اور عللِ احادیث سے بھی ہے، نیز حوالہ جات ولغوی مباحث میں آمدہ تسامحات اور علامہ نیموی ؒ کے مصادر میں دَر آئی طباعتی اغلاط سے بھی!
5 - مبحثِ پنجم میں متفرق فوائد کا تذکرہ ہے، اور کتاب میں بکھرے متفرق تفسیری، حدیثی اور لغوی فوائد کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ 
اس باب کے خاتمہ میں ’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘ کی تالیف کے دوران علامہ کشمیری ؒ کے پیشِ نظر مصادر ومراجع کی تفصیلی فہرست ترتیب دی گئی ہے، اور اس فہرست میں متفرق علوم وفنون سے متعلق ۳۵۰ کتب کا تذکرہ ہے، یہ تعداد مؤلف علامہ نیموی ؒ کے مراجع کی تعداد کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے، اور دیگر تالیفات سے قطع نظر محض اس فہرست میں درج اسماء پر سرسری نگاہ ڈالنے سے بھی علامہ کشمیری ؒ کی وسعتِ مطالعہ اور ژرف نگاہی کا اندازہ ہوتا ہے۔
بہر کیف ’’الإتحاف‘‘ سے استفادہ کے لیے اس تفصیلی دراسہ کا مطالعہ عقدہ کشا ہے، ترغیب وتشویق اور کتاب کے مباحث کے تجزیہ کی غرض سے اس کے مشمولات کا سرسری تعارف یہاں ذکر کردیا گیا ہے۔ زیرِ نظر تحریر میں بھی اس دراسہ سے کافی استفادہ کیا گیا ہے۔

کتاب کی چند اہم خصوصیات

علامہ کشمیری ؒ کی یہ کتاب گوناگوں خصوصیات کی حامل ہے، اور بعض جہتوں سے علامہ موصوفؒ کی دیگر تالیفات سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہے، ذیل میں اس کتاب کے چند اہم امتیازات درج کیے جارہے ہیں، ان امور کی تفصیل کے لیے کتاب کی ابتدا میں مذکور دراسہ کی مراجعت کی جاسکتی ہے:
۱- ’’آثار السنن‘‘ کے متعلق مؤلف کے علاوہ کسی اور صاحبِ علم کی جانب سے سب سے پہلی تالیف ’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘ ہے، یہ ایک معاصر کی جانب سے دوسرے معاصر عالم کی قدردانی کا نمونہ ہے، اور عربی زبان کے مشہور مقولہ ’’المعاصرۃُ قنطرۃُ المنافرۃ‘‘ (ہم عصری، باہمی نفرت کا زینہ ہے) کے برعکس مؤلفِ ’’الإتحاف‘‘ کی وسعتِ ظرفی اور کشادہ دلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ بلاشبہ ’’آثار السنن‘‘ سے متعلق کوئی علمی خدمت اس کتاب سے بڑھی ہوئی نہیں۔ 
۲- ’’الإتحاف‘‘ تصنیف و تالیف کے مروّجہ اسلوب کے متعلق مرتب کی گئی تالیف نہیں، بلکہ علامہ کشمیریؒ نے ۱۳۲۳ھ سے ۱۳۴۸ھ تک پچیس برس کے دورانیے میں یہ حواشی تحریر فرمائے ہیں، اس دوران دیگر تالیفی وتحقیقی سرگرمیوں کے ساتھ علامہ موصوفؒ متعلقہ مواد ’’آثار السنن‘‘ کے ذاتی نسخے میں درج فرماتے گئے، جس نے بعد ازاں ایک تالیف کی صورت اختیار کرلی۔
۳-یہ کتاب محض ایک حدیثی کتاب کا حاشیہ نہیں، بلکہ اس میں علومِ حدیث وفقہ، اور علومِ کلام ولغت بکھرے ہوئے ہیں، گویا ایک ہی خوان پر مختلف ذائقے لیے رنگارنگ پھل پھول سجے ہوئے ہیں۔ 
۴- کتاب میں ہر فن کے مصادرِ اصلیہ سے استفادہ کیا گیا ہے، اور حسبِ ضرورت ثانوی مآخذ کی جانب رجوع کیا گیا ہے۔ علامہ موصوفؒ کی سبھی کتابوں میں یہ خصوصیت نمایاں ہے۔ 
۵- علامہ کشمیری ؒ کسی بھی موضوع سے متعلق تمام جہتوں کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہ خصوصیت بھی علامہ موصوفؒ کی تمام کتب میں عام ہے۔ 
۶-اللہ تعالیٰ نے علامہ کشمیری ؒ کو نقد کا بلند ملکہ عطا فرمایا ہے، اور علامہ موصوفؒ اپنی کتابوں میں نہایت ادب واحترام اور متانت کے ساتھ ائمہ ومحقّقین کی آراء واقوال پر خالص علمی اُسلوب میں نقد فرماتے ہیں، اور بلاشبہ ان کی کتابیں نقد وادب میں توازن کا عمدہ نمونہ ہیں۔ 
۷- اس کتاب کی بدولت بہت سی نادر کتب ومخطوطات کی عبارتوں تک رسائی ہوتی ہے، جو آج بھی زاویۂ خمول میں ہیں، مثلاً: علامہ عبد الرحمٰن بن احمد بہکلی یمانی ؒ (۱۲۴۸ھ) کی کتاب ’’تیسیر الیسری بشرح المجتبی من السنن الکبری للنسائي‘‘ (اس کتاب کا چار جلدوں پر مشتمل ایک نسخہ صنعا، یمن کی ’’الجامع الکبیر‘‘ کے کتب خانہ میں محفوظ ہے)، اور علامہ عبد الوہاب بن محمد غوث مدراسی ؒ کی کتاب ’’کشف الأحوال في نقد الرجال‘‘ (اس کتاب کا ایک نسخہ قاہرہ، مصر کے ’’المکتبۃ الأزہريۃ‘‘ میں محفوظ ہے)، وغیرہ۔ 
۸- ’’الإتحاف‘‘، علامہ کشمیری ؒ کی خود نوشت تحقیقات کا مجموعہ ہے، اور علامہ موصوفؒ کے علوم ومعارف سے استفادہ کے لیے ان کی درسی تقاریر وامالی کی بنسبت ان کی تالیف کردہ کتب زیادہ اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہیں، تاہم علومِ انوری کے ایک ماخذ کی حیثیت سے علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ کی کتاب ’’معارف السنن‘‘ اپنی امتیازی خصوصیات کی بنا پر اس قاعدہ سے مستثنا ہے۔ 
۹- ’’الإتحاف‘‘ میں علمی وتحقیقی مواد کی کثرت ہے، یہی وجہ ہے کہ خود علامہ موصوفؒ اپنی دیگر تالیفات میں جابجا اس کا حوالہ دیتے نظر آتے ہیں۔ 
۱۰- علامہ کشمیری ؒ کی دیگر کتب عام طور پر متفرق جزوی اور فروعی مسائل (رفع یدین، فاتحہ خلف الامام اور وتر) سے وابستہ ہیں، جبکہ ’’الإتحاف‘‘، ’’کتاب الطہارۃ‘‘ سے ’’کتاب الجنائز‘‘ تک بہت سے فقہی ابواب سے متعلق ہے، اور ان ابواب سے وابستہ اہم فقہی مباحث کے متعلق علامہ موصوف کی آراء اور نتائجِ تحقیق کا خزینہ ہے۔ 
۱۱- علامہ کشمیریؒ کی تعلیقات کی تالیف کا دورانیہ ربع صدی میں پھیلا ہوا ہے، اس دوران وہ مسلسل اس کتاب کی جانب متوجہ رہے، اس بنا پر ان کی تحقیق ومطالعہ میں اضافہ کے اثرات ان تعلیقات میں جھلکتے ہیں، اور بعض مسائل میں وہ اپنی سابقہ آرا سے رجوع کرتے نظر آتے ہیں۔ دراسہ میں اس کی چند مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ 
۱۲- علومِ انوری میں ’’الإتحاف‘‘ کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ علامہ کشمیری ؒ کے تلامذہ میں علامہ بنوری ؒ نے ’’معارف السنن‘‘ میں، اور مولانا سید احمد رضا بجنوری ؒ نے ’’انوار الباري‘‘ کی ترتیب میں اس کتاب سے خوب استفادہ کیا ہے۔ نیز قرائن سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیخ عبد الفتاح ابوغدہ ؒ نے بھی اپنی تالیفات میں اس کتاب سے فائدہ اُٹھایا ہے۔
’’مُشتے نمونہ از خروارے‘‘
’’الإتحاف‘‘ دو جلدوں میں اور لگ بھگ بارہ سو صفحات میں پھیلی ہوئی ہے، اور اس کے ایک ایک صفحے میں لعل وجواہر بکھرے ہوئے ہیں، حضرت شاہ صاحب ؒ کی دیگر تالیفات کی مانند اس کتاب میں بھی بعض علمی مباحث میں دراز نفسی سے کام لیا گیا ہے ، اگر ان مباحث کو مروّجہ تالیفی صورت میں مرتّب کیا جائے تو مستقل کتابیں یا کم از کم رسائل وجود میں آسکتے ہیں۔ سرِدست ’’کتاب الطہارۃ‘‘ میں ’’باب المياہ‘‘ کے تحت درج ایک نسبتاً مختصر عبارت بطورِ نمونہ درج کی جارہی ہے، جو بلا شبہ ’’غيضٌ من فيض‘‘ یا ’’مُشتے نمونہ از خروارے‘‘ کا مصداق ہے۔ 
علامہ نیموی ؒ نے مذکورہ عنوان کے تحت دیگر احادیثِ باب کے ساتھ درج ذیل دو روایتیں بھی نقل کی ہیں: 
’’وَعَنْ اَبِي ہُرَيْرَۃَ ، قَالَ : إِنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إِذَا شَرِبَ الْکَلْبُ فِي إِنَاءِ أحَدِکُمْ فَلْيَغْسِلْہُ سَبْعًا۔ رَوَاہ الشَّيْخَانِ۔‘‘
 ’’وَعَنْہُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْلِ اللہِ ﷺ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللہِ! إِنَّا نرْکَبُ البَحْرَ، وَنَحْمِلُ مَعَنَا القَلِيْلَ مِنَ الماءِ، فَإِنْ تَوَضَّأنَا بِہٖ عَطِشْنَا، أفَنتَوَضَّأ مِنْ مَاءِ البَحْرِ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ: ہُوَ الطَّہُوْرُ ماوؐہُ، الحِلُّ مَيْتَتُہٗ.‘‘ رَوَاہُ مالکٌ وآخرونَ، وإسنادُہٗ صحيحٌ۔‘‘
علامہ نیموی ؒ ’’التعلیق الحسن‘‘ میں پہلی روایت کی تشریح کرتے ہوئے یوں رقم طراز ہیں: 
’’قولہ: (فليغسلہ سبعا) قلتُ: الحديث حجۃ علی مالک ومن تبعہ؛ لأنہٗ يدل علی أن الماء القليل ينجس بوقوع النجاسۃ فيہ وإن لم يتغيَّر؛ لأن ولوغ الکلب لا يغيِّر الماء الذي في الإناء غالباً، قال الحافظ ابن حجر في ’’فتح الباري‘‘: ’’وفي الحديث دليلٌ علی أن حُکْمَ النجاسۃ يتعادی عن محلِّہا إلی ما يجاورہا بشرط کونہٖ مائعاً، وعلی تنجيس المائعات إذا وقع في جزءٍ منہا نجاسۃ، وعلی تنجيس الإناء الذي يتصل بالمائع، وعلی أن الماء القليل ينجس بوقوع النجاسۃ فيہ وإن لم يتغيَّر‘‘. انتہی کلامہٗ مختصرا۔‘‘
علامہ نیموی ؒ نے یہاں اختصار سے کام لیا ہے، چنانچہ پہلی روایت سے وجہِ استدلال واضح فرمائی، اور حافظ ابن حجر ؒ کی ’’فتح الباري‘‘ کے حوالے سے اس حدیث سے مستفاد چند فوائد ذکر کیے ہیں۔ دوسری روایت پر علامہ موصوفؒ نے کلام نہیں فرمایا۔ 
اب ذرا اس حدیث اور علامہ نیموی ؒ کی مذکورہ تعلیق پر علامہ کشمیری ؒ کے حواشی ملاحظہ فرمائیے: 
’’قولہ في التعليق: (دليلٌ علی أن حکم النجاسۃ)، وہناک استدلال آخر واضح في ’’الفتح‘‘ (۱/۲۶۵) عن ’’المسند‘‘، و’’الزوائد‘‘ (ص۸۸)، ونحوہ عند مسلم (ص ۱۵۹)۔
قولہ: (جاء رجل إلی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) من بني مدلج، کذا عند الدارمي.
قولہ: (إنا نرکب البحر) وعند ابن کثير (۷/۳۰۳): ’’البحر ہو جہنم.
‘‘
قولہ: (الحل ميتتہ) أي: الطاہر، أو الإضافۃ للجنس. والمراد أنہٗ ليس ميتۃ حلالاً إلا منہ، وہذا لا يوجد في البر، ولو قال: ’’الحِلُّ حيوانہ‘‘، لما کان مقيَّداً إلا بکونہ عامًّا في مقابلۃ البر، فلذا قال: ’’ميتتہ‘‘، وأريد بہ: ’’ما لم يُذکَّ‘‘، لا ’’ما مات حتْفَ أنْفِہ‘‘، وکان الطافي مستحيلا أيضا.
راجع نکتۃً في ’’العارضۃ‘‘ (ص۱۵۰). [و] راجع لحديث: ’’اُحِلَّتْ لنا ميتتان‘‘ (۱/۲۵۶) من ’’الفتح‘‘، و’’الجوہر‘‘، و’’التلخيص‘‘، وکلام البيہقي من ’’إتمام الدرايۃ‘‘ من ’’تخصيص الکتاب بالسنۃ‘‘. وصحَّح في ’’الفتح‘‘ عن عمر، ثم عن علي: ’’الحوت ذکيٌّ کلُّہ‘‘. وہو في ’’الکنز‘‘ من الثامن بزيادۃ: ’’والجراد ذکيٌّ کلُّہ‘‘. وما عن الصديق اختلف لفظہٗ عند الدار قطنيؒ. 
[و] راجع لحديث: ’’الطہور ماءہٗ، والحل ميتتہ‘‘: ’’التہذيب‘‘ (۱۰/۲۵۷)، وينبغي أن يستدل علی حرمۃ نحو التمساح بمعنی حديث: ’’کل ذي ناب‘‘. وکأنہ روعي في الطافي نحو ما في الصيد من الجرح والإدماء، وأن يکون بسبب، فقرب الحکم في البر والبحر تحليلاً وتحريماً وتسبيباً، وما عن أبي بکر عند الدارقطني فيہ: ’’بشر بن آدم‘‘ - لا ’’بشير‘‘ - من رجال ’’التہذيب‘‘: ’’لا بأس بہ‘‘. و’’الکنز‘‘ (۱/۲۴۳)، و(۴/۲۷۹) من ’’الہدي‘‘ و’’روح المعاني‘‘ من:’’وَلِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِيْ حُرِّمَ عَلَيْکُمْ‘‘ ومذہبُنا أحوط. وقولہ: ’’أحلت لنا‘‘ بالنظر إلی بني إسرائيل، کما في ’’السيرۃ المحمديۃ‘‘ من الخصائص، وکان بعضہم أحلَّ لہم أيضا الحيتان في غير السبت، وہو في ’’الأعراف‘‘: ’’اِذْ تَاْتِيْہِمْ حِيْتَانُہُمْ يَوْمَ سَبْتِہِمْ شُرَّعًا‘‘. ولو کان الميتۃ بمعنی: ’’ما مات حتف أنفہ‘‘ لما تناول ما أميت بسبب. وفي لفظ الدارمي : ’’عن رجال من بني مدلج‘‘، وابن ماجۃ عن الفراسي ذکَرَ الصيد في سبب الحديث. وسياق الحديث ناظر إلی قولہٖ تعالی: ’’اُحِلَّ لَکُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُہٗ مَتَاعًا لَّکُمْ وَلِلسَّيَّارَۃِ‘‘ وليس العموم مقصود بالحديث، والتعريف علی حدِّ قولہ: ’’وإن قتل الہوی رجلاً فإني ذٰلک الرجل۔
‘‘
مذکورہ عبارت سے درج ذیل نکات واضح ہوتے ہیں:
۱-حافظ ابن حجر ؒ کی ’’فتح الباري‘‘ و دیگر حوالہ جات کے ذریعے ایک اور طریقۂ استدلال کی جانب اشارہ۔
۲- ’’سنن الدارمي‘‘ کے حوالے سے حدیث میں مذکور ’’رجلِ مبہم‘‘ کی قدرے وضاحت، جس سے نام کی تعیین نہ سہی، نسبت متعین ہوگئی۔ 
۳-قولہ: (إنا نرکب البحر) وعند ابن کثيرؒ (۷/۳۰۳): ’’البحر ہو جہنم‘‘تفسیرِ ابنِ کثیر میں مذکور اس روایت کی مدد سے سائل کے سوال اور منشا سوال کو مزید واضح فرمایا۔ غیر مظان سے اس نوعیت کی علمی تحقیقات ، حضرت شاہ صاحب ؒ کا طُرّۂ امتیاز ہیں۔ 
۴- قولہ: ’’الإضافۃ للجنس‘‘ نحوی ترکیب کی جانب اشارہ ہے، کتاب میں نحوی تراکیب کے ایسے نمونے بےشمار ہیں، اور حسبِ ضرورت جا بجا تفصیل سے نحوی، صرفی اور دیگر لغوی وادبی مباحث چھیڑے گئے ہیں۔ 
۵- قولہ: ولو قال: ’’الحِلُّ حيوانہ‘‘۔۔۔ حدیثِ نبوی میں موجود بلاغی نکتے کی وضاحت، اور اس کی بنیاد پر استنباطِ احکام میں آئے فرق کی نشان دہی۔ 
۶- مذکورہ حدیث کی ہم معنی احادیث کی جانب اشارہ۔
۷- احادیث کے مختلف طرق اور ان میں مذکور اضافات اور الفاظ میں فرق کا تذکرہ۔
۸- ادنیٰ مناسبت سے بعض بحری حیوانات کے حکم اور اس کی دلیل کا ذکر۔
۹- احادیثِ باب کی سندوں پر کلام۔
۱۰- اختصار کے ساتھ شرحِ احادیث کا اہتمام۔ 
۱۱- موافقتِ حدیث بالقرآن، یعنی حدیث کو قرآنی آیت کے ساتھ جوڑنا، وغیرہ۔
مذکورہ عبارت پر سرسری نگاہ ڈالنے سے فوری طور پر یہ فوائد ذہن میں آتے ہیں، دِقّت کے ساتھ مطالعہ اور حوالہ جات کی مراجعت کی جائے گی تو مزید افادات بھی سامنے آسکتے ہیں۔ یاد رہے کہ تحریر میں طوالت سے اجتناب کی خاطر نمونہ کے طور پر اسی عبارت کے طالب علمانہ تجزیے پر اکتفا کیا جا رہا ہے۔ نیز یہاں محض حضرت شاہ صاحب ؒ کی عبارت نقل کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے، اور عبارت میں درج حوالہ جات کی تخریج کا ذکر بھی قصداً ترک کردیا گیا ہے۔ 

’’الإتحاف‘‘ کی طباعت - چند امتیازات

استاذِ محترم مولانا سید سلیمان بنوری زید مجدہٗ کتاب کی طباعت کے متعلق یوں رقم طراز ہیں:
’’الإتحاف‘‘ کی یہ عظیم الشان طباعت درج ذیل امور کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پایۂ تکمیل کو پہنچی ہے:
۱- متنِ کتاب کے لیے ’’آثار السنن مع التعليق الحسن وتعلیق التعلیق‘‘ کے اسی سابق الذکر محقّق و مصحّح نسخے کو بنیاد بنا یا گیا ہے جو مجلس (مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی) سے شائع ہو چکا ہے۔
۲- چونکہ علامہ کشمیری ؒ کے حواشی ’’آثار السنن‘‘ کے متن اور اس کے دونوں حواشی پر ہیں، اس لیے ’’الإتحاف‘‘ سے پہلے صفحہ کی ابتدا میں متن کو رکھا گیا ہے، اس کے بعد بالترتیب مؤلف کے حواشی، پھر آخر میں ’’الإتحاف‘‘ کو اور پھر صفحے کے آخر میں ’’الإتحاف‘‘ کی تخریج ہے۔ متن اور دونوں حواشی، تینوں حصوں میں موجود مواد کو عنوان لگا کر بھی دوسرے سے ممتاز کیا گیا ہے؛ تاکہ قاری کے لیے کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔
۳- یہ حواشی مستقل تالیفی طرز پر نہیں لکھے گئے، بلکہ مختلف قطعات کی شکل میں جمع کردہ ملاحظات ہیں، جنہیں ابتدا و انتہا اور متعلقہ مواضع کی تعیین کے بغیر علامہ کشمیری ؒ نے اپنے نسخے کے چاروں طرف لکھا تھا، جب ان حواشی کو جدید اسلوب کے مطابق مختلف عبارتوں کے ساتھ نمبر وار جوڑنے اور تقسیم کی ضرورت پیش آئی تو عبارت کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور مستقل مربوط عبارت کی شکل میں پیش کرنے کے لیے جابجا بین القوسین ارتباطی کلمات کا اضافہ کیا گیا، جو نا گزیر تھا، مگر پھر بھی بعض جگہ قاری کو عبارت کے تسلسل میں خلجان پیش آنے کا امکان تھا، خصوصاً وہ مقامات جہاں علامہ کشمیریؒ نے ضمائر بھی کثرت سے استعمال کی ہیں، ایسی جگہوں پر عموماً حواشی میں بات کو واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
۴- ’’الإتحاف‘‘ میں موجود حوالوں کی تخریج کا حتی الامکان اہتمام کیا گیا ہے، چاہے وہ اشارتاً مذکور ہوں، البتہ بعض جگہوں پر تخریج اس وجہ سے نہ ہوسکی کہ علامہ موصوفؒ اپنے تبحّرِ علمی کی وجہ سے نایاب قلمی کتاب یا نایاب نسخے یا ایسی نادر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیتے ہیں، جس کی طباعت شاید ایک دفعہ کے بعد دوبارہ نہیں ہوسکی، نتیجتاً ایسے حوالوں تک تلاشِ بسیار کے باوجود رسائی نہ ہوسکی، لہٰذا جن جگہوں پر تخریج نہ ہو، انہیں اسی قبیل سے سمجھا جائے، ان مقامات پر حواشی میں تصریح بھی کر دی گئی ہے۔
۵- تصحیح وتخریج کے عمل میں حضرت والد ماجد ؒ کی کاپی سے بہت مدد ملی؛ کیونکہ حضرت والد ماجد ؒ کتاب کے نصف کے قریب حصے کی تبییض اور تقریباً ایک چوتھائی حصے کی تخریج کر چکے تھے، چنانچہ کتاب کی تبییض و تخریج میں اس کاپی سے کافی استفادہ کیا گیا، اور حواشی کے بہت سے مقامات اس کی روشنی میں حل ہوئے، کتاب کے مقدمہ میں ان تمام مراحل کی تفصیل درج کی گئی ہے۔
۶- کتاب کے شروع میں ایک جامع مقدمہ کا اضافہ کیا گیا ہے، جس میں شیخین: علامہ نیمویؒ و کشمیریؒ کی حیاتِ مبارکہ اور ان کی کتب (’’آثار السنن‘‘ و ’’الإتحاف‘‘) میں اُن کے اُسلوب و منہج اور خصائص و امتیازات سے متعلقہ اہم تحقیقات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے، جس سے قاری کو علی وجہ البصیرت اس کتاب کے مطالعہ میں مدد ملے گی۔‘‘(۱)
یہاں یہ وضاحت ضروری معلوم ہوتی ہے کہ ’’مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی‘‘ میں ’’الإتحاف‘‘ پر کام کا آغاز ہوتے ہی اندازہ ہوا کہ ’’آثار السنن‘‘ اور اس کے حواشی کے مطبوعہ نسخوں میں اغلاط کی کثرت ہے، اور خود متنِ کتاب اور حواشی بھی تحقیق کے متقاضی ہیں، چنانچہ خود مصنف کے نسخے اور علامہ کشمیریؒ کے زیرِ استعمال نسخے کی تصحیحات سے استفادہ کرتے ہوئے متنِ کتاب اور حواشی کی نئے سرے سے تحقیق کی گئی، اور ’’آثار السنن مع التعليق الحسن وتعليق التعليق‘‘ کا ایک محقّق ومصحّح نسخہ مرتّب کیا گیا، جو مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی سے طبع ہوکر عام ہوچکا ہے، اور ’’الإتحاف‘‘ کے ساتھ بھی یہی نسخہ شائع کیا گیا ہے۔ کہا جاسکتا ہے کہ یہ نسخہ کتاب کا سب سے بہتر اور محقّق نسخہ ہے، اور یہ بجائے خود ایک مفید کام ہے۔

’’الإتحاف‘‘ علامہ بنوریؒ اور جامعہ بنوری ٹاؤن

علامہ محمد انور شاہ کشمیری ؒ کی اس بلند پایہ تالیف کو بجا طور پر ان کی طویل تر علمی تحقیقات کا حاصل اور سالہا سال کے مطالعہ وتحقیق کا نچوڑ کہا جاسکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ علامہ موصوفؒ اپنی حیاتِ مستعار کے آخری برسوں میں ان حواشی کی تخریج اور طباعت کے متمنی تھے، علامہ موصوفؒ جیسے جلیل القدر عالم کا اپنی تالیفات میں اس کتاب کو اس قدر اہمیت دینا اس کتاب کی جلالتِ شان کا غمّاز ہے۔ نیز گزشتہ ایک صدی میں اس کتاب کی تخریج وترتیب اور طباعت کے لیے عرب وعجم کے کبار اہلِ علم کی آرزوئیں بھی کتاب کے علمی مرتبے کو اُجاگر کرتی ہیں۔ مزید براں علامہ کشمیریؒ کا اپنے چہیتے اور با وفا شاگرد مولانا بنوری ؒ کو ان حواشی کی تخریج کا حکم دینا، اپنی نگرانی میں انہیں مصروفِ عمل رکھنا، علامہ بنوریؒ کا تاحیات اس فکر میں رہنا اور مولانا محمد منظور نعمانیؒ وشیخ عبدالفتاح ابوغدہؒ جیسے علماء کا انہیں متوجہ کرتے رہنا بھی اس کتاب کی اہمیت کی واضح دلیل ہے۔
طالب علمانہ ذہنوں میں یہ سوال اُبھرتا ہے کہ علامہ سید محمد یوسف بنوری ؒ اس قدر آرزؤوں اور اہلِ علم کی تاکیدوں کے باوصف ’’معارف السنن‘‘ کی تکمیل اور ’’الإتحاف‘‘ کی تحقیق وتخریج جیسے اہم علمی کاموں سے کیوں عہدہ برا نہ ہوئے؟! اس سوال کا جواب درج ذیل نکات میں مل سکتا ہے:
1- بلاشبہ حضرت بنوری ؒ کی تمنّا تھی کہ وہ خود یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچائیں، حضرت شاہ صاحبؒ کی حیات میں ان کے حکم سے وہ یہ کام شروع فرما چکے تھے، حضرت کی یہ کاپی، بنوری خاندان کے کتابی ذخیرے میں محفوظ ہے۔ استاذِ محترم مولانا سید سلیمان بنوری زید مجدہٗ اس بابت لکھتے ہیں:
’’حضرت والد ماجد ؒ ، کتاب کے نصف کے قریب حصے (کتاب کے ۲۷۷ ابواب میں سے ۱۱۶ ابواب) کی تبییض اور تقریباً ایک چوتھائی حصے (۲۷۷ ابواب میں سے ۶۲ ابواب) کی تخریج کرچکے تھے، چنانچہ کتاب کی تبییض وتخریج میں اس کاپی سے کافی استفادہ کیا گیا، اور حواشی کے بہت سے مقامات اس کی روشنی میں حل ہوئے۔‘‘(۲)
لیکن کام شروع کرنے کے باوجود متعدد اسباب کی بناپر حضرت بنوری ؒ اسے کیوں مکمل نہ کر پائے؟! استاذِ محترم مولانا سید سلیمان بنوری زید مجدہٗ اس عُقدہ کو حل کرتے ہوئے لکھتے ہیں: 
’’اپنے محبوب شیخ کے حکم کی تعمیل میں حضرت والد صاحبؒ نے اس کام کو شروع تو فرمالیا، لیکن ان کی حیاتِ مستعار کے نشیب وفراز، اَن گنت حوادث، گوناگوں ذمہ داریاں اور مصروفیات اس کام کی تکمیل میں آڑے آتی رہیں، اور حضرت والدِ ماجد اس خواہش کو سینے میں دَبائے سفرِ آخرت پر روانہ ہوگئے۔‘‘(۳)
2- مولانا بنوری ؒ نے اپنی زندگی کی آخری دو دہائیوں کو رجال سازی کے عظیم مشن کے لیے وقف کر دیا تھا، وہ حیاتِ مستعار کی آخری ربع صدی (۱۹۵۴ء تا ۱۹۷۷ء) میں اپنے لگائے باغ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کو سینچنے میں مصروف رہے۔ اس مناسبت سے علامہ محمد انور شاہ کشمیری ؒ کے ایک اور شاگردِ رشید اور ان کے فرزندِ نسبتی، مولانا بنوری ؒ کے رفیقِ سفر وحضر مولانا سید احمد رضا بجنوری ؒ کے تأثراتی مضمون کا درج ذیل اقتباس لائقِ مطالعہ ہے، جو انہوں نے مولانا بنوریؒ کی وفات کے موقع پر ’’تذکرۂ دوست‘‘ کے عنوان سے قلم بند کیا تھا، یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیے، اور ذہن ودماغ میں کلبلاتے سوالات کے جوابات تلاشیے، مولانا بجنوریؒ رقم طراز ہیں:
’’مولانا بنوری ؒ نے جس طرح بھی ہوسکا اپنی دوسری اہم مصروفیات کے باوجود اس کام (’’معارف السنن‘‘ کی تالیف) پر اپنی جان لڑادی تھی، اور خود بھی ان کے مزاج میں بلا کی تحقیق وریسرچ کا جذبہ حق تعالیٰ نے ودیعت رکھا تھا۔ میری مولانا موصوف سے چونکہ دیرینہ رفاقت اور بے تکلفی تھی، میں ان کو ہمیشہ کہتا تھا کہ آپ مدرسہ کا اہتمام، بلکہ درس وغیرہ کا کام بھی ترک کرکے صرف تصنیف وتالیف پر پورا وقت صرف کریں، مگر افسوس کہ میری یہ تمنا پوری نہ ہوسکی، اور موصوف اپنا خاص کام ’’معارف السنن‘‘ وغیرہ کی تکمیل کا ناقص چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ رحمہ اللہ رحمۃ واسعۃ!
یہ ضرور ہے کہ دو تین سال قبل افریقہ سے واپسی میں جب میں ایک دن اور دو رات کے لیے مولانا مرحوم کے پاس مقیم ہوا، اور ان کا مدرسہ دیکھا تو میں ’’معارف السنن‘‘ کے لیے کچھ کہنے کا ارادہ رکھتے ہوئے بھی کچھ کہہ نہ سکا؛ کیونکہ میں نے مدرسہ کی صورت میں وہ سب کچھ دیکھا جس کی مجھے کسی طرح توقّع نہ تھی۔‘‘
آگے جامعہ کے نصاب ونظام میں مشاہدہ کی گئی چند خصوصیات کا تذکرہ کرنے کے بعد مولانا بجنوریؒ لکھتے ہیں:
’’تخصّص کے درجات بھی بڑے اہتمام کے ساتھ قائم کیے گئے ہیں، اور راقم الحروف نے درجاتِ تخصّص کے طلبہ کے کمروں کو دیکھا کہ ان میں مطالعہ کے لیے کتابوں کی اتنی وافر تعداد ہے جو بعض بڑے مدارس کے اساتذہ کے یہاں بھی نہیں دیکھی، وغیرہ۔ ان باتوں کو دیکھ کر میں اتنا متاثر ہوا کہ ’’معارف السنن‘‘ کے کام کے سلسلہ میں مولانا پر کچھ بھی زور نہ دے سکا، اور ان کے ضعف ونقصِ صحت کو دیکھ کر بھی خاموش رہنا پڑا۔‘‘(۴)
مندرجہ بالا اقتباسات سے واضح ہوتا ہے کہ علامہ بنوری ؒ نے اپنی حیاتِ مستعار کے اس آخری دور میں خود کو رجالِ کار کی تیاری اور ادارہ سازی میں فنا کردیا تھا، نیز انہیں ان کی گوناگوں علمی، اصلاحی اور تحریکی مصروفیات نے بھی خالص علمی کام کے لیے یکسو نہ چھوڑا تھا، اس بنا پر وہ چاہتے تھے کہ اپنے لگائے چمن کو سینچ کر ایسا پھلا پُھولا چھوڑیں کہ ان کے ادارے میں نشوونما پائے فضلاء علمی کارنامے سرانجام دیں اور یہ سلسلہ یونہی جارہی رہے۔ سچ ہے کہ ’’کلّ أمرٍ مرہونٌ بوقتہٖ‘‘ یعنی ’’اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کا وقت مقدّر اور مقرّر ہوتا ہے اور ہر کام اپنے وقت پر ہی ہوتا ہے‘‘، گویا: ’’وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے!‘‘ اسے کرشمۂ قدرت کہیے یا تکوینی امر کہ حضرت مولانا بنوری ؒ گوناگوں اسباب کی بنا پر’’معارف السنن‘‘ کی تکمیل اور ’’الإتحاف‘‘ کی تخریج جیسے کام پچھلوں کے لیے تشنہ چھوڑ گئے،اور پھر علامہ بنوری ؒ کے شاگردوں اور شاگردوں کے شاگردوں میں ایسے باکمال فضلاء پیدا ہوئے، جنہوں نے انہی کے راہنما خطوط پر سفر جاری رکھتے ہوئے بہت سے علمی کارنامے سرانجام دیے، ان کاموں میں سر فہرست درجِ ذیل ہیں:
1- حضرت مولانا بنوریؒ کے فرزندِ نسبتی مولانا ڈاکٹر محمد حبیب اللہ مختار شہید ؒ کی کتاب: ’’کشف النقاب عما یقولہ الترمذي: وفي الباب‘‘اس کتاب کی کل بارہ جلدیں شائع ہوچکی ہیں، ان میں سے ابتدائی پانچ جلدیں مولانا شہیدؒ نے اپنی حیات میں چھپوائیں، جبکہ گزشتہ چند برسوں میں جامعہ کے شعبہ ’’مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی‘‘ میں بقیہ مسودہ پر کام مکمل ہونے کے بعد سات جلدیں گزشتہ چندسالوں میں شائع ہوئی ہیں۔ یاد رہے کہ اب تک شائع شدہ بارہ جلدوں میں ’’جامع الترمذي‘‘ کے ’’أبواب الصوم عن رسول اللہ ﷺ‘‘ تک احادیثِ باب کی تخریج ہوسکی ہے، کتاب کا بقیہ حصہ تشنۂ تکمیل ہے، ولعلَّ اللہ یحدث بعد ذلک أمرا !
2- مولانا محمد امین اورکزئی شہید ؒ کی کتاب ’’نثر الأزہار شرح شرح معاني الآثار‘‘ اس کتاب کی دو جلدیں خود مؤلف موصوف، جامعہ یوسفیہ (شاہو وام، ہنگو، خیبر پختوانخواہ) سے طبع کی تھیں، اور دو جلدوں کے بقدر مسودہ تشنۂ طباعت تھا کہ مؤلف، منصبِ شہادت پر فائز ہوگئے، جبکہ لگ بھگ سو ابواب اور دو جلدوں کے بقدر حصہ کے تکملہ کی ضرورت تھی، الحمدللہ اس حصہ کے تکملہ کا کام مکمل ہوچکا ہے، اور جامعہ بنوری ٹاؤن کے شعبہ ’’مجلسِ دعوت وتحقیق اسلامی‘‘ میں مکمل کتاب پر یکساں منہج کے مطابق تحقیقی کام جاری ہے، اور جلد پوری کتاب چھے جلدوں میں منظرِ عام پر آئے گی، ان شاء اللہ!
3- شعبہ تخصصِ علومِ حدیث وتخصصِ فقہِ اسلامی میں لکھے گئے دسیوں قیمتی مقالات، ان میں سے متعدد مقالات اندرون وبیرون ملک کے طباعتی اداروں سے شائع ہوچکے ہیں۔ ان مطبوعہ وغیر مطبوعہ مقالات کی محض فہرست بھی مستقل مقالہ کی متقاضی ہے، سرِدست صفحات کی تنگ دامنی شکوہ کناں ہے۔ 
4- زیرِ تبصرہ کتاب ’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘ بھی علامہ بنوریؒ کے جاری کیے ہوئے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، ان شاء اللہ یہ کتاب علوم ومعارفِ انوری کے گرویدہ اہلِ علم کی سیرابی کا سامان ہوگی۔
جامعہ کے شعبہ تصنیف وتالیف سے پچھلے برسوں میں طبع شدہ کتب کی تحقیق وطباعت، اس شعبے میں استاذِ مکرّم مولانا سید سلیمان بنوری زید مجدہٗ (رئیسِ جامعہ بنوری ٹاؤن) کی توجہات کا نتیجہ ہے، خاص طور پر ’’الإتحاف‘‘ کا منصۂ شہود پر ظہور، استاذِ مکرّم (رئیسِ جامعہ) کی ذاتی دلچسپی اور استاذِ محترم مولانا ڈاکٹر محمد عبدالحلیم چشتی ؒ کے زیرِ اشراف، ان کے تلامذہ ورفقاءِ ’’مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی‘‘ کی جہدِ مسلسل کا ثمرہ ہے۔ ان کتابوں کی تحقیق وتالیف کے عمل کے لیے گزشتہ برسوں میں طویل مشاورتی نشستیں ہوتی رہیں، جن میں تحقیق وتخریج سے طباعت تک مختلف مراحل سے متعلق امور پر غور وخوض کیا جاتا رہا، اور نتیجتاً اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ کاوشیں منظرِ عام پر آئیں، حق تعالیٰ سے امید ہے کہ آئندہ بھی ایسے مزید علمی کام سامنے آتے رہیں گے۔ 

ایک اور ہفت خواں

’’الإتحاف‘‘ کی تحقیق وتخریج اور طباعت ایک اہم مرحلہ تھا، جو کتاب کی حالیہ طباعت کے ساتھ مکمل ہوا، اور کتاب منظرِ عام پر آکر علومِ انوری کے شیدائیوں کے ہاتھوں میں پہنچ گئی، لیکن علامہ کشمیری ؒ کی دیگر تالیفات کی طرح اس کتاب کے مطالعہ سے بھی اندازہ ہوگا کہ علامہ موصوف کے اسلوبِ تالیف کی دِقّت، ان کے اختراعی رموز واشارات اور ان جیسے متعدد اسباب کی بنا پر معمولی استعداد کے حامل کے لیے ان کے علوم ومعارف سے استفادہ آسان نہیں۔ علامہ موصوفؒ سے استفادہ کے لیے ان کے اسلوب ومنہج سے شناسائی ناگزیر ہے۔ 
’’الإتحاف‘‘ میں درج تعلیقات اصل کتاب ’’آثار السنن‘‘ اور اس کے دو حواشی ’’التعلیق الحسن‘‘ اور ’’تعليق التعليق‘‘ تینوں حصوں سے متعلق ہیں۔ پیشِ نظر طباعت میں ان حواشی کی ترتیب وتبویب، تخریجِ نصوص اور عبارات کو متن وحواشی کے متعلقہ مقام سے جوڑنے جیسا دقیق عمل سرانجام دے کر ایک مرحلہ عبور کرلیا گیا ہے، لیکن ’’الإتحاف‘‘ سے کما حقہ استفادہ تبھی ہوسکتا ہے جب محوّلہ عبارتوں تک رسائی حاصل کی جائے، خاص طور پر اشارات کو کھولنے کے لیے متعلقہ مآخذ کی مراجعت کیے بغیر چارہ نہیں۔ گویا اس کتاب سے صحیح معنوں میں استفادہ عام ہونے کے لیے ایک نیا مرحلہ درپیش ہے کہ کتاب میں درج تمام حوالہ جات اور اشارات کی عقدہ کشائی کی جائے۔ علامہ موصوف کی ان تعلیقات پر بھی حواشی قلم بند کیے جائیں، حسبِ ضرورت محوّلہ عبارات درج کی جائیں، قابلِ وضاحت مقامات میں توضیحی نوٹس لکھے جائیں۔ یوں دو جلدوں اور بارہ سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب جب کئی جلدوں میں پھیلے گی تو استفادہ کا دائرہ نسبتاً وسیع ہوگا۔ خوش آئند ہے کہ یہ علمی منصوبہ بھی جامعہ بنوری ٹاؤ ن کے شعبہ تصنیف وتالیف میں زیرِ غور ہے۔ اللہ تعالیٰ سابقہ مرحلے کی طرح اس مرحلے کے لیے بھی آسانی وسہولت مقدر فرمائے، اور اس نقشِ اول کو نقشِ ثانی کا پیش خیمہ بنائے، آمین یا ربَّ العالمین!

حسنِ اتفاق :دارالعلوم دیوبند وقف کے زیرانتظام علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ سیمینار

گزشتہ چند برسوں میں حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت وخدمات اور علوم وتحقیقات کے تئیں علمی حلقوں میں غیر معمولی توجہ محسوس ہوتی ہے، اس تعلق سے درجِ ذیل نکات پڑھیے اور اندازہ کیجیے: 
۱- پیشِ نظر تحریر کا محرّک دار العلوم وقف دیوبند (انڈیا) میں منعقدہ دو روزہ (بتاریخ۱۳،۱۴ دسمبر ۲۰۲۵ء) سیمینار بعنوان: ’’علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ - حیات، افکار اور خدمات‘‘ ہے، اس سیمینار کی بدولت علامہ موصوفؒ کی حیات وافکار کی مختلف جہتوں سے آگاہی کا سامان ہو رہا ہے، شنید ہے کہ سیمینار کے مقالات کا مجموعہ کچھ عرصہ میں شائع کیا جائے گا۔ اس موقع پر’’حجۃ الاسلام اکیڈمی‘‘ (دار العلوم وقف دیوبند) اور دیگر اداروں کی جانب سے حضرت علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق متعدد کتابیں اور بعض رسائل کے خاص نمبر شائع ہوئے ہیں۔ سرِ دست ان کتابوں کی فہرست کا تذکرہ بھی طوالت کی بنا پر دشوار ہے۔ 
۲- مذکورہ سیمینار سے ساڑھے تین ماہ قبل سرزمینِ گجرات (انڈیا) میں قائم جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین (ڈابھیل) میں علامہ کشمیریؒ اور اُن کے رفقاء کی ڈابھیل آمد کی ایک صدی مکمل ہونے کی مناسبت سے ایک روزہ سیمینار (بتاریخ ۷؍ ربیع الاول ۱۴۴۷ھ مطابق ۳۱ ؍اگست ۲۰۲۵ء) کا انعقاد ہوا، اس سیمینار میں بھی حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے رفقاء کے تعلق سے گراں قدر مقالات پیش کیے گئے، خاص طور پر علامہ موصوفؒ کی شخصی وعلمی سیرت کے متعلق حضرت مفتی احمد خان پوری صاحب مدظلہم کا ۱۳۰ صفحات پر مشتمل مفصل مقالہ ہمہ جہت اور معلومات افزا ہے۔ اس سیمینار کے متعدّد مقالات، مستقل رسائل کی صورت میں جامعہ اسلامیہ تعلیم الدین (ڈابھیل، سملک، گجرات) سے شائع ہوچکے ہیں۔ 
۳- ان دونوں سیمیناروں کے درمیانی عرصہ میں ’’مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی‘‘ (جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی) سے حضرت شاہ صاحبؒ کے علمی وتحقیقی افادات پر مشتمل گراں قدر کتاب ’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘ (دو جلدیں) طبع ہوئی، جس کا تعارف وتجزیہ اس تحریر میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ کام مادرِ علمی میں کئی برس قبل مکمل ہوچکا تھا، لیکن قدرت کو اسی موقع پر کتاب کی اشاعت منظور تھی، بقول مرزا غالب: ’’ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا!‘‘
۴- گزشتہ برس ’’جیسلمیر‘‘ (راجستھان، انڈیا) میں ’’جمعیت علماء ہند‘‘ کے ذیلی شعبہ ’’إدارۃ المباحث الفقہيۃ‘‘ کا دو روزہ فقہی سیمینار (بتاریخ ۱۲- ۱۳ ربیع الثانی ۱۴۴۶ھ مطابق ۱۶-۱۷ اکتوبر ۲۰۲۴ء) منعقد ہوا، اور اس سیمینار کے دوران ہندوستان کے کبار اہلِ علم کی موجودگی میں دار العلوم دیوبند کے شعبہ تخصصِ علومِ حدیث کے مُشرف مفتی عبداللہ معروفی زید مجدہ کی کتاب ’’العرف الذکي شرح جامع الترمذي‘‘ کی رسمِ اجراء ہوئی۔ مولانا موصوف نے اس کتاب کی تالیف میں بیس برس کا طویل عرصہ صرف فرمایا اور علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے علوم ومعارف کا گراں قیمت خزینہ، تسہیل وترتیب کے ساتھ یکجا کر دیا ہے۔ بارہ ہزار صفحات اور بیس جلدوں پر مشتمل یہ کتاب، زکریا بک ڈپو (دیوبند، انڈیا) سے شائع ہوچکی ہے۔ 
۵- ’’سنن ابوداود‘‘ کے متعلق حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ودیگر اکابرِ دیوبند کے افادات پر مشتمل کتاب ’’أنوار المحمود شرح سنن أبي داود‘‘ بھی کچھ عرصہ قبل دار العلوم دیوبند کے استاذِ حدیث مفتی عبد الرزاق امروہوی زید مجدہٗ کی تحقیق کے ساتھ زکریا بک ڈپو (دیوبند، انڈیا) سے بارہ جلدوں میں شائع ہوئی ہے۔ یہ کتاب عرصہ دراز قبل پاک وہند کے متعدد اداروں سے شائع ہوئی تھی، لیکن قدیم طباعتی اسلوب کی بنا پر سہولت پسند طبائع کے لیے قابلِ استفادہ نہ رہی تھی، جدید طباعت نے اہلِ علم کے سامنے یہ خوانِ انوری بھی سجادیا ہے۔ 
۶-’’سنن ابوداود‘‘ کے متعلق مولانا ظہور الحق سلہٹی رحمۃ اللہ علیہ کی مرتّب کردہ، حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ایک املائی تقریر زاویۂ خمول میں تھی، لندن (برطانیہ) میں مقیم ایک بنگلہ دیشی جواں سال فاضل مولانا محفوظ احمد سلہٹی حفظہ اللہ نے اس املائی تقریر کو ترتیب وتدوین کے بعد معاصر طباعتی اسلوب میں ڈھالا، اور ’’الأمالي علی سنن أبي داود‘‘کے نام سے دو جلدوں میں ’’دار الفتح‘‘ (عمّان، اردن) سے طبع کیا، کچھ ہی عرصے میں اس کتاب کے دو ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ 
طُرفہ یہ ہے کہ علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت سے جُڑی یہ تمام علمی وتحقیقی سرگرمیاں گزشتہ چند برسوں میں سامنے آئی ہیں۔ اس بنا پر دل ودماغ میں یہ خیال اُبھرتا ہے کہ شاید قدرتِ خداوندی کو علامہ موصوفؒ کے علوم ومعارف کا نئے سرے سے احیاء واشاعت مطلوب ہے، اور اس کے لیے اسباب کی دنیا میں یکے بعد دیگرے گوناگوں علمی سرگرمیوں کا ظہور ہو رہا ہے، جن سے بحرِ علم کی ساکن سطح میں اِک نیا تلاطم برپا ہے، بلاشبہ ’’تلاطم ہائے دریا ہی سے ہے گوہر کی سیرابی!‘‘
حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے لگ بھگ ایک صدی بعد ان کی شخصیت وخدمات سے متعلق یہ علمی سرگرمیاں گویا گُھٹن زدہ فضاؤں میں تازہ ہواؤں کے جھونکے ہیں، نگاہِ التفات ہو تو یہ خُنک خُنک ہوائیں، یہ جُھکی جُھکی گھٹائیں اور ان میں لپٹی عطر بیز پُھواریں، طالبانِ علم کے مشامِ جاں کو معطّر اور مبخر اذہان کو سیراب کر سکتی ہیں۔ اللہ کرے کہ علومِ انوری سے مہکتی اس بادِ بہاری کی بدولت علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے علوم ومعارف کی تحقیق وتدوین کی جانب نوجوان فضلاء ومحقّقین کی توجہات مبذول ہوں، اور ان کی تحقیقات سے استفادہ کا رجحان مزید عام ہو، آمین یا ربّ العالمین!

حواشی وحوالہ جات

۱-ماہنامہ بینات، جمادی الاولیٰ، ۱۴۴۷ھ۔

۲-ماہنامہ بینات، جمادی الاولیٰ، ۱۴۴۷ھ۔
۳-ماہنامہ بینات، جمادی الاولیٰ، ۱۴۴۷ھ۔

۴-ماہنامہ خدّام الدین لاہور، علامہ بنوریؒ نمبر، ص: ۱۱۱، ۱۱۲۔

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے