بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

علمِ تجوید کی اہمیت اور چند اہم قواعد


علمِ تجویدکی اہمیت اور چند اہم قواعد


قرآن کریم صرف پڑھنا کافی نہیں، بلکہ لطف لیتے ہوئے تجوید سے پڑھنا باعثِ اجر و ثواب ہے۔ قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے والے بعض حضرات کی توجہ تطویلِ نفَس اور تحسینِ صوت کی طرف ہوتی ہے، لیکن تجوید کے قواعد کی طرف نہیں ہوتی اور جو طریقۂ تلاوت چل رہا ہو اسی کی تقلید کرکے پڑھتے ہیں، چاہے عربی گانے کا ہی طرز ہو، اسی لیے تلاوت میں لغزش ہوتی ہے۔
لغزش کی دو قسمیں :    ۱-لحنِ جلی (بڑی غلطی)        ۲-لحنِ خفی (چھوٹی غلطی)
لحنِ جلی حرام ہے اور لحنِ خفی مکروہ ہے اور ان کے علاوہ تحسینِ حروف سے متعلق قواعد جیسے تفخیم و ترقیق، اخفا و اظہار وغیرہ رہ جائے تو کوئی گناہ نہیں، البتہ خلافِ اَولیٰ ہے۔
اسی طرح بقول امام التجوید امام جزری  رحمۃ اللہ علیہقرآن کریم میں کوئی وقف نہ تو فرض ہے ، نہ واجب اور نہ ہی حرام، بلکہ اس کا تعلق بھی تجمیل و تحسین سے اور التباس سے بچنے کے لیے ہے، چنانچہ فرماتے ہیں :
 

ولیس في القراٰن من وقف وجب

و لا حرام غير مالہ سبب 

اسی طرح بعض قواعد وہ ہیں کہ جن کا اختیار کرنا اولیٰ ہے، اسی وجہ سے بعض قراء کرام اس کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن مخارج و صفاتِ لازمہ کا درجہ فرض کا ہے اور اس کی فرضیت قرآن کریم کی آیت : ’’وَرَتِّلِ الْقُرْاٰنَ تَرْتِیْلًا‘‘ (المزمل : ۴) سے ثابت ہے۔
اور ’’ترتیل‘‘ بقول حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہہٗ :’’تجوید الحروف و معرفۃ الوقوف‘‘ کو کہتے ہیں، یعنی حروف کو ان کے مخارج و صفات سے ادا کرنا اور جائے وقوف کو پہچاننا۔

مخارج و صفات کی فرضیت کی وجہ 

مخارج و صفات کا جاننا اس لیے فرض ہے کہ اگر حروف کو ان کے مخارج و صفات سے ادا نہیں کیا جائے تو ایک حرف دوسرے حرف سے بدل جائے گا یا کمی و زیادتی ہوجائے گی اور اسی کو لحنِ جلی کہتے ہیں۔ اور اہلِ اداء اور اہلِ افتاء کے نزدیک معنی بدل جانے کی وجہ سے کبھی نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے۔
مثلاً: ’’نصبا‘‘ میں صاد کو اس کے مخرج ’’والصفیر مستکن منہ ومن فوق الثنايا السفلی‘‘ سے اور اس کی صفتِ استعلاء و اِطباق کو ادا نہیں کیا اور ’’نسبا‘‘ پڑھ دیا، یہ لحنِ جلی ہے جو کہ حرام ہے۔
اسی طرح ’’قل‘‘ میں قاف کو اس کے مخرج اقصی اللسان فوق اور اس کی صفتِ استعلاء کو ادا نہیں کیا اور وہ ’’قل‘‘ کی جگہ ’’کل‘‘ ہوگیا، تو یہ بھی لحنِ جلی حرام ہے۔

 ایک اہم تنبیہ 

عام طور سے ہم اہلِ عرب اور قراء کرام کی تجوید میں بھی کلی طور پر تقلید کرتے ہیں، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمنے عربوں کی صرف لہجوں اور آوازوں کی تقلید کا حکم فرمایا ہے، لیکن وہ بھی استحبابی حکم ہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا :
’’ إقرءوا القراٰن بلحون العرب وأصواتہا۔‘‘ (المعجم الأوسط عن حذيفۃ بن اليمان)
یعنی ’’قرآن کو عربوں کے لہجوں اور ان کی آوازوں سے پڑھو۔‘‘
لیکن تجوید کے لیے اللہ تعالیٰ نے حکم کو نازل فرمایا اور ترتیل کا حکم دیا، اسی وجہ سے امام جزری رحمۃ اللہ علیہ’’باب معرفۃ التجويد‘‘ کے پہلے ہی شعر میں تجوید کا حکم یوں بیان فرماتے ہیں:

والأخذ بالتجويد حتم لازم

من لم يجوّد القراٰن اٰثم

یہاں ’’حتم لازم‘‘ سے تجوید کی فرضیت کی طرف اشارہ ہے اور ’’اٰثم‘‘ سے مراد گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہے، اس لیے کہ وہ قرآن کریم کے حکمِ قطعی کا تارک ہے۔
نیز اگر تجوید میں بھی عربوں کی تقلید کا حکم ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم’’بلحون العرب وأصواتہا‘‘ کے ساتھ ’’وتجویدھا‘‘ کا بھی اضافہ فرماتے، لیکن چونکہ بعض عرب بھی خلافِ تجوید پڑھتے ہیں، اس لیے ان کی تجوید کو اُمت کے لیے لائقِ تقلید قرار نہیں دیا گیا۔
مثلاً: بعضے عرب راء مشددہ میں ’’را‘‘ کی صفتِ تکریر کا اظہار کرکے متعدد ’’را‘‘ ظاہر کرتے ہیں، جیسے: ’’الرررحمٰن الرررحيم‘‘ حالانکہ صفتِ تکریر کو ادا کی غرض سے نہیں، بلکہ اس سے بچنے کی غرض سے سیکھنا ہے۔ نیز حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ ودیگر نے یہ بات راء مشددہ کے قواعد کے ذیل میں ذکر فرمائی ہے کہ راء مشددہ ایک ہی ’’را‘‘ کے حکم میں ہے۔
اسی طرح بعضے عرب حروفِ مستعلیہ ’’ خص ضغط قظ‘‘ میں’’خ‘‘ اور ’’غ‘‘ کے علاوہ بقیہ پانچ حروف میں اخفا کے وقت تنوین اور نون ساکن کو تفخیم کے ساتھ ادا کرتے ہیں، جبکہ امام جزریؒ نے ’’باب استعمال الحروف‘‘ کے پہلے ہی شعر میں واضح حکم بیان فرمادیا:

فرققن مستفلا من أحرف 

و حاذرن تفخيم لفظ الألف 

یعنی ’’حروفِ مستفلہ‘‘ کو ضرور باریک کرو، اور کسی حرفِ مفخم کے قرب و جوار کی وجہ سے نہ تو حرفِ الف کو پُر کرو اور نہ ہی کسی حرف مستفل کو پُر کرو۔اور پھر آگے بطور تمثیل چند مثالیں بھی دیں ، مثلاً فرمایا :

و ليتلطف و علی اللہ و لض 

والميم من مخمصۃ ومن مرض

اور باب کے آخری مصرعہ میں فرمایا :
 

و حاء حصحص أحطت الحق 

 و سين مستقيم يسطوا يسقوا

ان مثالوں میں یہی بات بتلائی ہے کہ ایک ’’لام‘‘، ’’ط‘‘ کے پاس اور دوسرا ’’علی‘‘ کا لام لفظ ’’اللہ‘‘ سے پہلے اور ایک ’’میم‘‘، ’’خا‘‘ کے ساتھ ، دوسرا ’’میم‘‘، ’’صاد‘‘ کے ساتھ اور تیسرا ’’میم‘‘ ،’’راء مفتوحہ‘‘ کے قرب و جوار میں ہے، لیکن چونکہ یہ حروفِ مستفلہ ہیں، لہٰذا ان کو باریک کرو۔ اسی طرح دوسرے شعر میں ’’حاء‘‘، ’’ص‘‘ کے جوار میں اور ’’ط‘‘، ’’حاء‘‘ اور ’’تاء‘‘ کے وسط میں اور ’’ق‘‘ کے جوار میں اور ’’تاء‘‘، ’’ق‘‘ کے اور ’’سین‘‘، ’’ط‘‘ اور ’’ق‘‘ کے جوار میں ہے، ان تمام کو باریک کرو۔
بالکل اسی طرح نون ساکنہ اور تنوین بھی جو نون ساکنہ کے حکم میں ہے، وہ حرفِ مستفل ہی ہے، لہٰذا یہ بھی جب کسی حرفِ مستعلی سے پہلے ہو تو اسے غنہ کے ادا کے وقت باریک رکھا جائے گا، کیونکہ حروفِ مستفلہ کو باریک ہی رکھنے کا حکم ہے، اس لیے اس قاعدہ کے مطابق کسی بھی عرب کی تقلید کی اجازت نہیں ہوگی۔
 

بعض صریح قواعدِ تجوید اور ہمارا عمل 

اس ضمن میں یہ جاننا ضروری ہے کہ اخفا اور اظہار دونوں کا معنی ایک ہی ہے یا الگ الگ ہے ؟
لغت میں دیکھا جائے تو لغت کے کسی بھی ماہر نے اخفا کا معنی اظہار ذکر نہیں کیا، بلکہ لغات میں اخفا کا معنی چھپانا اور اظہار کا معنی ظاہر کرنا ہی مذکور ہے۔ میم ساکنہ اور نون ساکنہ و تنوین دونوں کے قواعد میں ایک قاعدہ اخفا کا بھی ہے۔مجوّدین میم ساکنہ کے اخفا کو اخفائے شفوی اور نون ساکنہ کے اخفا کو اخفائے حقیقی کہتے ہیں۔

میم ساکنہ کے اخفا کی ادائیگی کا طریقہ 

میم ساکنہ کے ’’باء‘‘ کے ساتھ واقع ہونے کے وقت جیسے: ’’وَمَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللہِ‘‘ اخفا کو ہونٹوں کے ناتمام ملانے سے ادا کیا جائے، تب میم کو چھپایا جاسکے گا اور پھر اسے اخفائے شفوی کہا جاسکے گا۔

نون ساکنہ اور تنوین کے اخفا کی ادائیگی کا طریقہ 

نون ساکن اور تنوین میں اخفا کی ادائیگی  کا طریقہ یہ ہے کہ نون ساکنہ اور تنوین کے پندرہ حروفِ اخفا کے ساتھ واقع ہونے کے وقت، جیسے ’’مِنْ قَبْلِہٖ‘‘ زبان کے کنارہ کو نون کے مخرج ’’والنون من طرفہٖ تحت اجعلوا‘‘ سے دور رکھا جائے، یعنی زبان کو معلق رکھا جائے تب نون کو چھپایا جاسکے گا۔
 

دوقسم کے قراء کرام 

اس وقت میم ساکن میں اخفا کے طریقۂ ادا کی نسبت سے سارے جہاں میں دوقسم کے قراء کرام ہیں:

پہلی قسم 

قراء کرام کی پہلی قسم اخفا کے حقیقی معنی کو ملحوظِ نظر رکھتے ہوئے اخفا کی قائل ہے اور اس پر عمل پیرا ہے۔

دوسری قسم 

دوسری قسم ان قراء کرام کی ہے جو میم ساکنہ کے اخفا میں اخفا کے بجائے اظہار کے قائل ہیں۔

امام التجوید امام جزریؒ کا قولِ فیصل 

ایسی صورت حال میں بجائے عقلی دلائل دینے کے کوئی مستند نقلی دلیل پیش کرنا ہر دو کے لیے مفید ہے، اس لیے جب ہم مقدمہ جزریہ کے ’’باب في أحکام الميم والنون المشددتين‘‘ میں غور کرتے ہیں تو اس باب میں امام جزری  رحمۃ اللہ علیہ  پہلے شعر کے آخر سے دوسرے شعر کی انتہا تک صراحت سے اخفا کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

وأخفين الميم بغنۃ لدا باء 

علی المختار من أہل الأداء

یعنی ’’مجودین کے پسندیدہ قول کے مطابق باء کے نزدیک (میم واقع ہونے کے وقت) میم میں غنہ کے ساتھ ضرور اخفا کرو (میم کو چھپاؤ)۔‘‘
گو کہ حضرت تھانوی  رحمۃ اللہ علیہ  سمیت سب نے اظہار کو جائز قرار دیا ہے، لیکن امام جزری  رحمۃ اللہ علیہ  کے مطابق اولیٰ اخفا کو قرار دیا ہے۔ اسی بات میں ہم غور کریں کہ ’’اظہار کو جائز قرار دیا ہے‘‘ تو اس کا واضح مطلب یہ ہوا کہ اخفا بھی ہے اور ’’اخفا‘‘ اظہار کو نہیں کہتے۔

دوسرا اختلاف 

دوسرا اختلاف اِقلاب کے قاعدہ کی ادائیگی میں ہے۔
نون ساکنہ میں اِقلاب کا قاعدہ ہے:’’والقلب عند الباء بغنۃ‘‘ اِقلاب کو قلب بھی کہتے ہیں اور قلب کا معنی ہے بدلنا۔
اس بات پر تو سب کا اتفاق ہے کہ نون ساکنہ جب باء کے ساتھ واقع ہو تو نون ساکنہ کو میم سے بدل کر پڑھا جائے گا، لیکن اختلاف اس کی ادائیگی میں ہے۔
تمام شارحین نے اس کی ادائیگی کا طریقہ یہ لکھا ہے کہ:
’’نون ساکنہ کو میم سے بدل کر اِقلاب مع الاخفاء مع الغنہ کیا جائے گا۔‘‘
جب نون کو میم سے بدلا جائے گا تو اصل میم ساکنہ کی صورت بنے گی اور میم ساکنہ جب باء کے ساتھ واقع ہو تو اس سے متعلق امام جزریؒ کے مطابق مختار یہی ہے کہ وہاں اخفا کیا جانا اولیٰ ہے نہ کہ اظہار ، بلکہ حضرت مولانا قاری شریف صاحب  رحمۃ اللہ علیہ  نے تو فوائدِ مکیہ میں اِقلاب کے قاعدہ کی تشریح میں اِقلاب مع الاخفاء کو واجب قرار دیا ہے، اگرچہ یہ وجوبِ شرعی نہیں، لیکن اولویت کا بالکلیہ انکار بھی درست نہیں۔

تائے ساکنہ اور کاف ساکنہ کی ادائیگی کا طریقہ اور ہمارا عمل 

تیسرا مسئلہ کاف و تاء کی ادائیگی کا ہے، ان دونوں حرفوں کی ادائیگی میں بھی قراء کرام کا عمل متضاد اور مختلف چلا آرہا ہے، جس کی وضاحت بھی نہایت ضروری ہے، اس لیے یہاں بھی دو باتوں کا جان لینا مفید ہوگا۔
ہر قاری کو یہ بات ذہن نشیں رکھنی چاہیے کہ امام خلیلؒ کے مختار قول کے مطابق حروف کے سترہ مخارج کی طرح ان کی صفات بھی سترہ ہی ہیں اور دونوں کی یہی تعداد امام المجودین امام جزری  رحمۃ اللہ علیہ  نے مقدمہ جزریہ میں اختیار فرمائی ہے، چنانچہ ہر حرف میں پانچ صفات تک پائی جاتی ہیں۔
ان حروف میں دو حروف ’’کاف‘‘ اور ’’تاء‘‘ ایسے ہیں جن دونوں میں صفتِ ہمس بھی پائی جاتی ہے اور صفتِ شدت بھی، چنانچہ امام جزری  رحمۃ اللہ علیہ  ’’باب الصفات‘‘ کے دوسرے شعر میں فرماتے ہیں :

مھموسھا فحثہٗ شخص سکت 

شديدہا لفظ أجد قط بکت
 

اب آپ غور فرمائیں ’’سکت‘‘ اور ’’بکت‘‘ دونوں صفات میں کاف اور تاء دونوں ہی ہیں اور یہ دونوں صفاتِ لازمہ ہیں اور دونوں کو ادا کرنا بھی لازم ہے، ورنہ ان حروف کی کامل ادائیگی نہیں کہلائے گی اور اصل ادائیگی ان کے ساکن ہونے کی صورت میں ہے جو ایک مشکل امر ہے اور ان کو بہت محتاط طریقہ سے ادا کیا جاتا ہے۔

کاف ساکنہ اور تاء ساکنہ کی ادائیگی کا طریقہ 

جب ’’کاف‘‘ اور ’’تاء‘‘ ساکن ہوں تو اس کی ادائیگی کے ابتدائی وقت میں دونوں کے مخرج میں شدت محسوس ہوتی ہے اور جب ’’کاف‘‘ کو کوّے سے متصل زبان کی جڑ اور اس کے مقابل اوپر کے تالو سے اور ’’تاء‘‘ کو زبان کی نوک اور ثنایا علیا کی جڑ سے علیحدہ کیا جاتا ہے تو نہایت نرمی سے اور معمولی آواز کے ساتھ علیحدہ کیا جائے تو یہ صفتِ ہمس کی ادائیگی کہلائے گی۔
اور اگر ان کو مخرج سے سختی کے ساتھ علیحدہ کیا تو اس بے احتیاطی کی صورت میں ک، کھ اور ت، تھ ادا ہوگا اور یہ لحنِ جلی ہے، کیونکہ حرف کا بڑھانا اور گھٹانا سب لحنِ جلی کہلاتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ ان دونوں حروف کی ابتدا میں صفتِ شدت ہے اور مآل کے اعتبار سے صفتِ ہمس ہے۔
 

بعض عرب و عجم کی بے اعتدالی 

اس مسئلہ میں بعض عرب قراء ہمس میں بہت زور دیتے ہیں، نتیجتاً ت، تھ کی طرف اور ک، کھ کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔اور بعض عجمی قراء صرف شدت کو ادا کرتے ہیں اور ہمس ادا ہی نہیں کرتے۔ اعتدال کی صورت وہ ہے جسے اس مسئلہ کی ابتدا میں ذکر کردیا گیا ہے۔

فائدہ 

تجويد سے متعلق جتنے قواعد اور باریک مسائل ہیں ان کا صرف پڑھنا کافی نہیں، بلکہ نحو و صرف کے قواعد کی طرح مستقل طور پر اجرا اور مشق کرنا بھی لازم ہے، چنانچہ ’’باب معرفۃ التجويد‘‘ کے آخری شعر میں امام جزری  رحمۃ اللہ علیہ  اسی بات کی طرف متوجہ فرمارہے ہیں :

وليس بينہٗ و بين ترہ 

إلا رياضۃ امرئ بفہ

یعنی ’’تجوید اور عدمِ تجوید کے درمیان فارق قاری کا اپنے منہ سے مشق کرنا ہے۔‘‘
معلوم ہوا کہ صرف معلومات کافی نہیں، بلکہ قواعد کے مطابق عملی مشق بھی ضروری ہے۔
اللہ تعالیٰ راقم اور قارئین سب کو قرآن کریم ذوق و شوق سے اور باتجوید پڑھنے کی ہمت و توفیق سے مالامال فرمائے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے