بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

علاج کے شرعی اُصول احادیثِ صحاحِ ستہ کی روشنی میں

علاج کے شرعی اُصول

احادیثِ صحاحِ ستہ کی روشنی میں


آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ارشادات میں طب سے متعلق ارشادات ِ گرامی بھی موجود ہیں۔ محدثینِ کرام اپنی کتاب میں کتاب الطب یا أبواب الطب کے نام سے عنوان قائم کرکے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کے وہ ارشادات گرامی ذکر کرتے ہیں جن کا تعلق دوا، علاج اور اس کے ان طریقوں سے ہوتا ہے، جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کے مبارک دور میں رائج تھے۔ ان ارشادات کی روشنی میں فقہائے کرام نے دوا اور علاج کے متعلق بحث فرمائی ہے۔ شرّاحِ حدیث ان احادیث کی شرح کرتے ہوئےایسی بحث بھی فرماتے ہیں جن سے موجودہ زمانے میں دوا اور علاج کی مختلف انواع کا حکم متعین کیا جاسکتا ہے۔ اس مضمون میں احادیثِ کتبِ ستہ کی دوا کے متعلق احادیث کو سامنے رکھ کر ان سے نکلنے والے علاج کے شرعی اصولوں پر روشنی ڈالی جائے گی۔ 

دوا کے استعمال کی ترغیب

’’عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ شَرِيْکٍ، قَالَ: قَالَتِ الْأعْرَابُ: يَا رَسُوْلَ اللہِ! اَلَا نَتَدَاوَی؟ قَالَ: ’’نَعَمْ، يَا عِبَادَ اللہِ ! تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللہَ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَہٗ شِفَاءً، اَوْ قَالَ: دَوَاءً إِلَّا دَاءً وَاحِدًا‘‘  قَالُوْا: يَا رَسُولَ اللہِ، وَمَا ہُوَ؟ قَالَ: ’’الہَرَمُ‘‘  (۱)

’’اسامہ بن شریک  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ دیہاتیوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے پوچھا : یارسول اللہ! کیا ہم (بیماریوں کا ) علاج کیا کریں؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ہاں: اللہ کے بندو! علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کی دوا بھی ضرور پیدا کی ہے، سوائے ایک بیماری کے، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا:بڑھاپا ۔‘‘
’’عَنْ اَبِي ہُرَيْرَۃَ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا اَنْزَلَ اللہُ دَاءً إِلَّا اَنْزَلَ لَہٗ شِفَاءً۔‘‘(۲)
’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا رشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اُتاری جس کی شفا نہ اُتاری ہو۔ ‘‘
’’عَنْ جَابِرٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ: لِکُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ، فَإِذَا اُصِيْبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَاَ بِإِذْنِ اللہِ عَزَّ وَجَلَّ۔‘‘(۳)
’’جابر  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ہر بیماری کی دوا ہے،پس جب دوا بیماری کے مطابق پہنچ جاتی ہےتو اللہ عزوجل کے حکم سے مریض تندرست ہوجاتا ہے۔ ‘‘
’’عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ شَرِيْکٍ، قَالَ: شَہِدْتُ الْاَعْرَابَ يَسْاَلُوْنَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: اَ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِيْ کَذَا؟ اَ عَلَيْنَا حَرَجٌ فِيْ کَذَا؟ فَقَالَ لَہُمْ: عِبَادَ اللہِ! وَضَعَ اللہُ الْحَرَجَ، إِلَّا مَنِ اقْتَرَضَ مِنْ عِرْضِ اَخِيْہِ شَيْئًا، فَذَاکَ الَّذِيْ حَرِجَ، فَقَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللہِ! ہَلْ عَلَيْنَا جُنَاحٌ اَنْ لَّا نَتَدَاوَی؟ قَالَ: تَدَاوَوْا عِبَادَ اللہِ! فَإِنَّ اللہَ سُبْحَانَہُ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ مَعَہٗ شِفَاءً، إِلَّا الْہَرَمَ، قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللہِ! مَا خَيْرُ مَا اُعْطِيَ الْعَبْدُ ؟ قَالَ: خُلُقٌ حَسَنٌ۔‘‘(۴)
’’اُسامہ بن شریک  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ میں نے اعرابیوں کو نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال کرتے دیکھا کہ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ کیا فلاں معاملے میں ہم پر گناہ ہے؟ تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اللہ کے بندو! ان میں سے کسی میں بھی اللہ تعالیٰ نے گناہ نہیں رکھا، سوائے اس کے کہ کوئی اپنے بھائی کی عزت سے کچھ بھی کھیلے، تو دراصل یہی گناہ ہے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر ہم دوا علاج نہ کریں تو اس میں بھی گناہ ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اللہ کے بندو! دوا علاج کرو، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا مرض نہیں بنایا جس کی شفا اس کے ساتھ نہ بنائی ہو سوائے بڑھاپے کے، انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! بندے کو جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہیں، ان میں سے سب سے بہتر چیز کیا ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: حسنِ اخلاق۔ ‘‘
مذکورہ بالا احادیث سے علاج کی ترغیب ملتی ہے اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض امراض کا علاج بھی بتایا ہے۔ اسی بنا پر بعض علماء نے علاج کو سنت یا مستحب قرار دیا ہے۔ تاہم احادیث میں توکل کی بھی تعلیم ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور تمام اسباب اس کے حکم سے نفع یا نقصان دیتے ہیں۔ پھر اسباب کی تاثیر کے اعتبار سے تین اقسام ہیں: ایک قسم وہ ہےجن کی تاثیر یقینی یا تقریباً یقینی ہے، مثلاً بھوک کے دور کرنے میں روٹی کا اثر اور پیاس دور کرنے میں پانی کا اثر۔ دوسری قسم وہ ہے جس کی تاثیر ظنِ غالب کے درجے میں ہے۔ تیسری قسم وہ ہے جس کی تاثیر کے نفع بخش ہونے میں وہم ہو۔ 
دوا اور علاج کا معاملہ بھی اس قسم کا ہے کہ ان کی تاثیر یقینی نہیں، بلکہ ظنِ غالب کے درجہ میں ہوتی ہے، جبکہ علاج کی ایک قسم وہ بھی ہے جس میں نفع اور نقصان دونوں کا احتمال ہوتا ہے۔ مذکورہ تفصیل کو مدِّنظر رکھتے ہوئے علاج کا حکم بھی مختلف ہوگا، چنانچہ مرض اگر مہلک ہو اور اس کے لیے ایسی ووا بھی موجود ہو جس سے فائدہ ظنِ غالب کے درجے میں ہو تو اس صورت میں قدرت ہوتے ہوئے علاج کرنا واجب ہوگا، جبکہ اگر مرض عام نوعیت کا ہو تو علاج کرانا سنت و مستحب ہوگا، اور علاج نہ کرنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔ (۵)

مضر دوا استعمال کرنے کی ممانعت

’’عَنْ اَبِيْ ہُرَيْرَۃَ قَالَ: نَہٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّوَاءِ الخَبِيْثِ: يَعْنِي السُّمَّ‘‘(۶)
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے خبیث دوا (یعنی زہر) استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ‘‘
انسانی جان اللہ تعالیٰ کی امانت ہے جو اس نے اپنے بندے کے سپرد کی ہے۔ اس نعمت کی قدردانی اس کا شکریہ ہے۔ کسی انسان کو اپنے کسی عضو یا زندگی کو ضائع یا ختم کرنے کی اجازت نہیں۔ ایسا علاج اور ایسی دوا جس سے عضو ضائع ہو جائے شرعاً جائز نہیں۔ 

یوتھینزیا Mercy Killing ‎ کا شرعی حکم
 

مریض انتہائی تکلیف میں ہو تو اس کی فرمائش پر یا ازخود ایسا طریقہ استعمال کرنا جس سے مریض کی جان ختم ہوجائے، اگر کوئی شخص اپنے طور پر ایسی دوا استعمال کرے جو قاطعِ حیات ہو یا اپنے آپ کو کسی مہلک آلے سے زخمی کرکے مرجائے تو یہ خود کشی ہوگی اور کتاب وسنت کی تصریحات کے خلاف ہے۔ اگر طبیب مریض کی فرمائش پر یا ازخود ایسی دوا جسم میں داخل کرے جو قاطعِ حیات ہو یا کسی مہلک ذریعے سے ماردے یا ایسا علاج جس سے مریض کی شفا کا گمانِ غالب ہو،اسے ارادۃً روک دے تو یہ اس کی طرف سے قتل یا اقدامِ قتل ہوگا، اسی لیے یوتھینزیا ناجائز اور حرام ہے۔ 
حضرت طفیل بن عمر دوسی رضی اللہ عنہ  کے ساتھ ایک اور صاحب نے مدینہ ہجرت کی، وہ دوسرے صاحب بیمار پڑ گئے، تکلیف کی شدت کے باعث ان سے صبر نہ ہوسکا اور ایک ہتھیار سے اپنی اُنگلیوں کے جوڑ کاٹ لیے، رگیں کٹ گئیں اور خون اتنا بہہ گیا کہ انتقال ہوگیا۔ حضرت طفیلؓ نے انہیں خواب میں دیکھا کہ وہ بہتر حالت میں ہیں، لیکن ان کے ہاتھ ڈھکے ہوئے ہیں، حضرت طفیل ؓ نے دریافت کیا کہ آپ کے رب نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا؟ ان صاحب نے کہا: اللہ نے ہجرت کی وجہ سے مجھے معاف کر دیا، لیکن میرے ہاتھوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ جس چیز کو تم نے خود بگاڑ لیا ہے، میں اسے درست نہیں کروں گا، حضرت طفیلؓ نے یہ خواب حضور صلی اللہ علیہ وسلم  سے بیان کیا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دُعا فرمائی کہ اے اللہ! ان کے ہاتھوں کو بھی معاف فرما دے۔(۷)
حضرت جندب رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا کہ تم سے پہلے کی قوموں میں ایک شخص کو زخم تھا، وہ تکلیف برداشت نہ کرسکا، چھری لی اور اس سے اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا، خون تھم نہ سکا اور موت واقع ہوگئی، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ : میرے بندہ نے اپنی ذات کے معاملہ میں مجھ پر سبقت کرنے کی کوشش کی، اس لیے میں نے اس پر جنت حرام کر دی۔ (۸)
رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  رحمت مجسم تھے، لیکن اس کے باوجود حضرت جابر بن سمرہ ؓ راوی ہیں کہ : ’’ایک شخص نے خودکشی کر لی، تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی۔‘‘ (۹) اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ خودکشی کرنے والے شخص پر عام لوگ تو نمازِ جنازہ پڑھیں گے؛ لیکن امام المسلمین اور مقتدا لوگوں کو خودکشی کرنے والے کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھنی چاہیے۔(۱۰)

خمر (شراب) کو بطور دوا استعمال کرنے کی ممانعت

’’عَلْقَمَۃ بْنَ وَائِلٍ، عَنْ اَبِيْہِ، اَنَّہٗ شَہِدَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَسَألَہٗ سُوَيْدُ بْنُ طَارِقٍ، اَوْ طَارِقُ بْنُ سُوَيْدٍ عَنِ الخَمْرِ فَنَہَاہُ عَنْہُ فَقَالَ: إِنَّا نَتَدَاوَی بِہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّہَا لَيْسَتْ بِدَوَاءٍ وَلٰکِنَّہَا دَاءٌ‘‘(۱۱)
’’علقمہ بن وائل اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں حاضر تھے، جب سوید بن طارق یا طارق بن سوید نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  سے شراب کے بارے میں پوچھا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں شراب سے منع فرمایا، سوید نے کہا: ہم لوگ تو اس سے علاج کرتے ہیں، رسول اللہ‎  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا‎: ’’وہ دوا نہیں، بلکہ وہ تو خود بیماری ہے۔ ‘‘
آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ طیبہ اس بارے میں واضح ہیں کہ خمر حرام ہے اور اس کا پینا اور کسی قسم کا استعمال جائز نہیں، البتہ بطور دوا اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟ اس مسئلے کا تعلق تداوی بالمحرم سے ہے، یعنی حرام چیز سے علاج جس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ خمر ایک ایسا مشروب ہے جو نشہ آور ہو اور جس کے پینے سے انسان کی عقل متاثر ہوجائے۔ اسی کو اردو میں شراب اور انگریزی میں الکحل کہتے ہیں۔ کتاب و سنت میں خمر کی سختی سے ممانعت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد مبارک ہے:
’’يٰاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَـيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْہُ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۔‘‘(۱۲)
’’اے ایمان والو!شراب،جوا،بتوں کے تھان اور جوئے کے تیر یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں،لہٰذا ان سے بچو،تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔ ‘‘
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے بھی خمر سے سختی سے منع فرمایا ہے، ارشاد فرمایا:
’’عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: کُلُّ مُسْکِرٍ خَمْرٌ وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ۔‘‘(۱۳)
’’ابنِ عمر  رضی اللہ عنہما  نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ ہر نشہ آور چیزشراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔‘‘
’’إِنَّ اللہَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَکُمْ فِيْمَا حَرَّمَ عَلَيْکُمْ۔‘‘(۱۴)
’’اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو تم پر حرام کیا اس میں تمہاری شفا نہیں رکھی۔ ‘‘
آج کل بہت سی دواؤں اور خوشبوؤں میں الکحل کا استعمال ہوتا ہے۔ یہ ایک کیمیائی مادہ ہے جو مختلف پھلوں اور اَناج کے نشاستہ ( carbohydrate ) یا شکر سے بنایا جاتا ہے۔ اس کی بہت ساری قسمیں ہیں جن میں مخصوص قسم نشہ آور ہے۔ چونکہ الکحل کا استعمال نشہ آور مشروب کے طور پر بھی ہوتا ہے، جسے عام اصطلاح میں شراب ہی کہا جاتا ہے اور اس کے نتائج بھی وہی ہوتے ہیں جو خمر کے ہوتے ہیں،اس کے ساتھ ساتھ الکحل کی وہ اقسام بھی ہیں جو دواؤں اور عطریات میں استعمال ہوتی ہیں، لہٰذا اس کا حکم سمجھنے کے لیے نشہ آور مشروبات کا حکم جاننا ضروری ہے۔ اس حوالے سے الدر المختار میں علامہ حصکفی ؒ فرماتے ہیں:
’’شراب لغت میں ہر مائع مشروب کو کہتے ہیں اور اصطلاح میں جو مسکر (نشہ آور) ہو، ان مشروبات میں سے چار حرام ہیں:
۱- الخمر: (شراب)انگور کا کچا رس جب جوش مارے، سخت ہوجائے اور جھاگ مارے۔ اس کا قلیل و کثیر بالاجماع حرام ہے۔ 
۲- الطلاء: اس شراب کوکہتے ہیں کہ انگور کے رس کو اتنا پکایا جائے کہ اس میں سے دو تہائی (۳/۲) اُڑ جائے اور ایک تہائی (۳/۱) باقی رہ جائے، اور اس میں نشہ پیدا ہوجائے۔ 
۳- السکر: تازہ کھجور کا کچا پانی جب اس میں شدت آجائے اور جھاگ چھوڑ دے۔ 
 ۴-نقیع الزبیب: کشمش کا کچا پانی جب اس میں کشمش کو رکھا جائے، یہاں تک کہ جوش مارنے کے بعد جھاگ چھوڑنے لگے۔(۱۵)
یہ آخری تین اس وقت حرام ہیں جب ان میں جوش وشدت پیدا ہوجائے۔ ان آخری تین کو پی کر نشے میں آنے والے پر سزا جاری کی جائے گی، جبکہ خمر کو تھوڑی مقدار میں پینے والا اگر نشہ میں نہ آئے، تب بھی اس پر حد جاری کی جائے گی۔ ان چار کے علاوہ سے بننے والی الکحل کے بارے میں امام ابو حنیفہؒ   کا مذہب یہ ہے کہ ان کی اس قدر قلیل مقدار جو نشہ آور نہ ہو‘ حرام نہیں اور نہ ہی نجس ہے۔ آج کل دواؤں اور خوشبوؤں میں عموماً جو الکحل استعمال کی جاتی ہے، وہ انگور اور کھجور کے علاوہ سے بنائی جاتی ہے، لہٰذا حضرت امام ابوحنیفہ ؒ کے قول پر اہلِ علم حضرات ان کے استعمال کی گنجائش دیتے ہیں۔ (۱۶)

حرام چیز کو بطور دوا استعمال کرنا

اللہ تعالیٰ نے اپنی بنائی ہوئی اشیاء میں ایسی بھی بنائی ہیں جن کو کھانا یا استعمال کرنا جائز رکھا اور ایسی بھی بنائیں جن کا کھانا اور استعمال کرنا ناجائز رکھا۔ حرام اشیاء سے بچنا اور حلال کو اختیار کرنا انسان کی سعادت ہے۔ تاہم انتہائی ضرورت میں حرام شے کو بطور دوا اور علاج استعمال کرنا ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں فقہاء کی آراء مختلف ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں احادیث مختلف ہیں اور اسی اختلاف نے رحمت بن کر اُمت کے بیماروں اور ضعفاء کے لیے آسانیاں پیدا کردی ہیں۔ ہم پہلے ان روایات کو پیش کرتے ہیں جن سے تداوی بالمحرم (یعنی حرام سے علاج کی ممانعت) معلوم ہوتی ہے:
’’عَنْ اَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللہَ اَنْزَلَ الدَّاءَ وَالدَّوَاءَ، وَجَعَلَ لِکُلِّ دَاءٍ دَوَاءً فَتَدَاوَوْا وَلَا تَدَاوَوْا بِحَرَامٍ۔‘‘ (۱۷)
’’ابودردا  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یقیناً اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا اُتاری ہیں اور ہر بیماری کے لیے دوا بھی بنائی ہے، لہٰذا علاج کرو اور حرام سے علاج مت کرو۔ ‘‘
امام طحاوی ؒ حضرت ابنِ مسعود  رضی اللہ عنہ  کا ارشاد نقل کرتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام چیز میں شفا نہیں ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  کا ارشاد ہے:
’’إِنَّ اللہَ لَمْ يَجْعَلْ شِفَاءَکُمْ فِيْمَا حَرَّمَ عَلَيْکُمْ۔‘‘(۱۸)
’’اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو تم پر حرام کیا اس میں تمہاری شفا نہیں رکھی۔ ‘‘
دوسری طرف ایسی روایات بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے کچھ مخصوص حالات میں ایسی چیز کو بطور دوا تجویز فرمایا، جس کا استعمال عام حالات میں جائز نہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:
’’عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ: اَنَّ نَاسًا اجْتَوَوْا فِي الْمَـدِيْنَۃِ، فَاَمَرَہُمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ اَنْ يَّلْحَقُوْا بِرَاعِيْہِ - يَعْنِي الْإِبِلَ - فَيَشْرَبُوْا مِنْ اَلْبَانِہَا وَاَبْوَالِہَا، فَلَحِقُوا بِرَاعِيْہِ، فَشَرِبُوْا مِنْ اَلْبَانِہَا وَاَبْوَالِہَا، حَتَّی صَلَحَتْ اَبْدَانُہُمْ، فَقَتَلُوا الرَّاعِيَ وَسَاقُوا الْإِبِلَ، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِيْ طَلَبِہِمْ فَجِيْءَ بِہِمْ، فَقَطَعَ اَيْدِيَہُمْ وَاَرْجُلَہُمْ، وَسَمَرَ اَعْيُنَہُمْ قَالَ قَتَادَۃُ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيْرِينَ: اَنَّ ذٰلِکَ کَانَ قَبْلَ اَنْ تَنْزِلَ الْحُدُوْدُ۔‘‘(۱۹)
’’حضرت انس  رضی اللہ عنہ  نے بیان کیا کہ ( عرینہ کے ) کچھ لوگوں کو مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہیں آئی تھی تو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے فرمایا کہ وہ آپ ( نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم ) کے چرواہے کے ہاں چلے جائیں، یعنی اونٹوں میں، اور ان کا دودھ اور پیشاب پئیں، چنانچہ وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کے چرواہے کے پاس چلے گئے اور اونٹوں کا دودھ اور پیشاب پیا، جب وہ تندرست ہو گئے تو انہوں نے چرواہے کو قتل کر دیا اور اونٹوں کو ہانک کر لے گئے۔ آپ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ نے انہیں تلاش کرنے کے لیے لوگوں کو بھیجا، جب انہیں لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کے حکم سے ان کے بھی ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیئے گئے اور ان کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی گئی ( جیسا کہ انہوں نے چرواہے کے ساتھ کیا تھا )۔ قتادہ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ یہ حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ‘‘
اس حدیث کی روشنی میں فقہائے کرام نے اس پر بحث فرمائی ہے کہ شریعت کی حرام کردہ اشیاء کو بطور دوا استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ بظاہر اس حدیث سے جواز معلوم ہورہا ہے، جب کہ پیشاب کی حرمت دیگر روایات کی روشنی میں واضح ہے۔ نیز پیشاب سے جس تاکید کے ساتھ بچنے کا حکم ہے، اس کا تقاضا ہے کہ پیشاب پینے کی ممانعت ہو۔ اس روایت کے پس منظر میں فقہائے کرام نے اس پر بحث فرمائی ہے کہ مریض کے لیے علاج کی حد تک جائز متبادل موجود نہ ہونے کی صورت میں حرام چیز کو بطور دوا استعمال کرنا کیسا ہے؟ اس کی تفصیل درج ذیل ہے:حنابلہ کے نزدیک حرام سے علاج کسی صورت میں جائز نہیں۔ مالکیہ کے نزدیک بھی اس کا استعمال جائز نہیں۔ شوافع کے نزدیک ایسی حرام اشیاء کا استعمال دوا کے لیے جائز ہے جس میں نشہ نہ ہو۔ 
امام ابو حنیفہ ؒ کے نزدیک حرام سے علاج کسی صورت میں جائز نہیں۔ امام محمدؒ کے نزدیک علاج کے لیے حلال جانوروں کا پیشاب استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، کیونکہ وہ پاک ہے۔ امام ابویوسفؒ کے نزدیک شدید ضرورت کے وقت علاج کی حد تک حرام اشیاء کو استعمال کیا جا سکتا ہے، جب کہ اس محرَّم کے علاوہ میں علاج نہ ہو اور مسلمان طبیب حاذق اس کا علاج ہونا بتائے۔ اسی پر متاخرین احناف کا فتویٰ ہے۔ (۲۰)
’’‎يجوز للعليل شرب البول والدم وأکل الميتۃ للتداوي إذا أخبرہٗ طبيب مسلم أن شفاءہٗ فيہ ولم يجد من المباح ما يقوم مقامہ۔‘‘(۲۱)
’’بیمار کے لیے پیشاب اور خون اور مردار کا کھانا دوا کے طور پر جائز ہے جب مسلمان طبیب اسے اس بات کی خبر دے کہ اس میں شفا ہے اور اس کے قائم مقام دوسری جائز چیز بھی نہ ہو‎ ‎۔‘‘
’’اختلف في التداوي بالمحرم وظاہر المذہب المنع کما في رضاع البحر، لکن نقل المصنف ثمۃ وہنا عن الحاوي: وقيل يرخص إذا علم فيہ الشفاء ولم يعلم دواء آخر کما رخص الخمر للعطشان وعليہ الفتوی ۔‘‘(۲۲)
’’حرام کو دوا کے طور پر استعمال کرنے کے مسئلے میں اہلِ علم میں اختلاف ہے، اور کہا گیا ہے کہ جب اس حرام میں شفا معلوم ہواور کوئی دوسری دوا معلوم نہ ہو، جیسا کہ پیاسے کے لیے (پانی نہ ہونے کی صورت میں بقدرِ ضرورت )شراب کی رخصت دی گئی ہےاور اسی پر فتویٰ ہے۔ ‘‘

علاج کی غرض سے جسم کو جلانا

’’عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْہُمَا، قَالَ: ’’ الشِّفَاءُ فِيْ ثَلاَثَۃٍ: شَرْبَۃِ عَسَلٍ، وَشَرْطَۃِ مِحْجَمٍ، وَکَيَّۃِ نَارٍ، وَاَنْہٰی اُمَّتِيْ عَنِ الکَيِّ ۔‘‘(۲۳)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  سے جسم کو داغنے کے متعلق دو طرح کی روایات نقل کی گئی ہیں: ایک طرح کی احادیث وہ ہیں جن میں ممانعت وارد ہے(جن میں سے ایک مندرجہ بالا بھی ہے)۔ دوسری طرح کی روایات وہ ہیں جن سے اس طریقۂ علاج کا جواز معلوم ہوتا ہے، مثلاً:
’’عَنْ جَابِرٍ قَالَ: رُمِيَ اَبِيْ يَوْمَ الْاَحْزَابِ عَلٰی اَکْحَلِہٖ فَکَوَاہُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ ‘‘(۲۴)
’’حضرت جابر  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ جنگِ خندق کے دن حضرت اُبی  رضی اللہ عنہ  کی ہاتھ کی رگِ اکحل پر تیر لگا، جس سے خون جاری ہوگیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے داغا۔‘‘
مشکوٰۃ شریف میں دونوں طرح کی روایات ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ اسی بنا پر شراحِ حدیث نے ممانعت کو نہی تنزیہی پر محمول کیا ہے اور ضرورت کے وقت بطور دوا و علاج اسے جائز قراردیا ہے۔ 
دونوں طرح کی روایات کو سامنے رکھ کر علماء نے اس طرح تطبیق پیدا کی ہے کہ ضرورت کے وقت مرض کے علاج کے لیے آگ سے جسم کے کسی حصے کو داغنا یا جلانا جائز ہے، مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ:
اس مرض کے لیے کوئی متبادل جائز علاج موجود نہ ہو اورطبی تجربے سے اس کا نافع ہونا بھی معلوم ہو۔ البتہ عام حالات میں جائز متبادل کے موجود ہوتے ہوئے اس طریقے کو اختیار کرنا مکروہ ہے۔ ممانعت کا تعلّق ہلاکتِ جان کے خطرے سے ہے، یعنی اگر ایسی صورت ہو کہ داغنے کی وجہ سے فائدے کے بجائے نقصان اور جان کے ہلاک ہونے کا خوف ہو تو داغنے سے گریز کرنا چاہیے، لیکن اگر یہ خطرہ نہ ہو تو کیا جاسکتا ہے۔ 
یہاں شارحین نے ایک یہ بات بھی لکھی ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں عرب علاج کے اس طریقے کو جسے اس حدیث میں ’’کَيّ‘‘ کہا گیا ہے،اس قدر مؤثر سمجھتے تھے کہ مشہور ہوگیا تھا کہ: ’’آخر العلاج الکيّ‘‘ یعنی آخری علاج تو داغنا ہی ہے، اس لیے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  نے اسے پسند نہیں فرمایا، کیونکہ اس میں ایک طرح مشرکین کے اس عقیدے کے ساتھ مشابہت پائی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس اسلامی عقیدہ یہ ہے کہ مؤثرِ حقیقی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ قرآن وحدیث میں جابجا توکل کی تعلیم ہے، جس کا تقاضا یہ ہے کہ کسی علاج اور کسی دوا کو اپنی ذات میں نافع یا ضار نہ سمجھا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی منشا کا پابند سمجھا جائے۔ ’’کشف الباري‘‘ میں ہے:
’’ممانعت کا تعلق زمانۂ جاہلیت کے فاسد عقیدے سے ہے، عربوں میں داغنے کے عمل کو علاج کا سببِ مؤثر سمجھتے تھے، اِس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اِس شرکِ خفی سے بچنے کے لیے اِس کو ممنوع قرار دیا، پس اگر کسی کا یہ عقیدہ نہ ہو، بلکہ ظاہری سبب کے طور پر وہ اختیار کرے تو کوئی حرج نہیں، وہ جائز ہے۔ ‘‘(۲۵)
دارالافتاء بنوری ٹاؤن سے علاج کی خاطر ہاتھ اور پاؤں کو داغنے کے بارے میں پوچھا گیا تو جو جواب صادر کیا گیا، اس کا خلاصہ یہ ہے:
’’حاصل یہ کہ کسی عضو کو داغنا یا جلانا مکروہ ہے، ہاں! اگر کوئی واقعی ضرورت پیش آجائے اور طبیبِ حاذق یہ کہے کہ اس مرض کا آخری علاج داغنا ہی ہے تو پھر داغنا جائز ہوگا۔ فقط واللہ اعلم ‎ ‘‘(۲۶)

دوا کی مناسب مقدار کی رعایت

’’عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ: اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اَخِيْ يَشْتَکِيْ بَطْنَہُ، فَقَالَ: اسْقِہِ عَسَلًا ثُمَّ اَتَی الثَّانِيَۃَ، فَقَالَ: اسْقِہِ عَسَلًا، ثُمَّ اَتَاہُ الثَّالِثَۃَ فَقَالَ: اسْقِہِ عَسَلًا، ثُمَّ اَتَاہُ فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ؟ فَقَالَ: صَدَقَ اللہُ، وَکَذَبَ بَطْنُ اَخِيْکَ، اسْقِہِ عَسَلًا، فَسَقَاہُ فَبَرَأ ۔‘‘(۲۷)
ترجمہ: ’’حضرتِ ابو سعید  رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں کہ:ایک آدمی سرکارِ دو عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہا: میرا بھائی پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو گیا ہے، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ، وہ دوسری بار آیا تو پھر آ پ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کو شہد پلانے کی تاکید کی، اسی طرح تیسری مرتبہ بھی،جب چوتھی بار بھی آ کر اس نے شکایت کی تو رسول اﷲ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: تمہارے بھائی کا پیٹ تو جھوٹا ہوسکتا ہے، لیکن اﷲکا کلام تو سچاہی ہے۔ اس کو پھر شہد پلاؤ، اس نے اس مرتبہ جا کر جب شہد پلایا تو اس کو شفاء نصیب ہوگئی۔ ‎‘‘ 
اس حدیثِ پاک سے طب کے ایک اہم اصول کی طرف رہنمائی ملتی ہے۔ وہ یہ کہ کسی بھی بیماری میں دوا کے مؤثر ہونے کے لیے اس کا مناسب مقدار میں لیا جانا ضروری ہے۔ ممکن ہے ایک دوائی بہت مؤثر ہو، لیکن مناسب اور مطلوبہ مقدار نہ ہونے کی وجہ سے اس کا اثر نہ ہو۔ اسی وجہ سے جہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ کس بیماری میں کون سی دوا مؤثر ہے، وہیں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ دوا کی مطلوبہ مقدار کیا ہونی چاہیے!

دوا کے ‎مضر اثرات ( Side-effects )سے آگاہی

موجودہ دور میں دوائیوں کی ایک کثیر تعداد ہے۔ ان میں کچھ عمومی نوعیت کی اور بعض دوائیاں خصوصی نوعیت کی ہیں۔ ان میں بعض دواؤں کے فوائد کے ساتھ کچھ خفیف سے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں۔ دوا تجویز کرنے والے معالج کے لیے اس کے مضر اثرات سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ علاج اور دوا سے جہالت یا کم علمی کی صورت میں علاج کرنا جائز نہیں اور اس کے متعلق رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشادِ مبارک ہے:
’’مَنْ تَطَبَّبَ وَلَمْ يُعْلَمْ مِنْہُ طِبٌّ قَبْلَ ذٰلِکَ فَہُوَ ضَامِنٌ ۔‘‘(۲۸)
ترجمہ: ’’جو شخص اپنے آپ کو طبیب ظاہر کرکے علاج کرے، حالاں کہ اس سے پہلے اس کا طبیب ہونا معلوم نہ ہو (یعنی وہ فنِ طب کی مہارت میں مشہور نہ ہو اور علاج کرے،پھر اس کے علاج سے مریض کا کوئی عضو تلف ہوجائے،یا اس کا انتقال ہوجائے)تو وہ(مریض کا)ضامن ہوگا۔ ‘‘
‎ ‎اس حدیث پاک سے معلوم ہوتا ہے کہ علاج کرنے والے شخص کے پاس متعلقہ طبی معلومات ہونا ضروری ہیں۔ طبیبِ جاہل کے علاج کے نتیجے میں مریض کو لاحق ہونے والے ضرر کی ذمہ داری اسی طبیب پر عائد ہو گی، لہٰذا علاج کرنے والے شخص کا صحیح معلومات رکھنا اور ماہر ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں ہے تو اسے علاج کرنے سے رُک جانا ضروری ہے، چونکہ دوا کے مضر اثرات ( side effects ) اور مخالف علامات contraindications)‎) نہ جاننے کی صورت میں بھی مریض کے نقصان ہونے کا قوی اندیشہ ہے، لہٰذا ان دونوں باتوں سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ 

حواشی وحوالہ جات

۱-سنن الترمذي، أبواب الطب، باب ما جاء في الدواء عليہ والحث:۲۰۳۸
۲- صحیح بخاري، کتاب الطب، بَابُ مَا اَنْزَلَ اللہُ دَاءً إِلَّا اَنْزَلَ لَہٗ شِفَاءً:۵۶۷۸
۳- صحیح مسلم،باب لکل داء دواء واستحباب التداوي، رقم: ۲۲۰۴
۴- ابن ماجۃ،کتاب الطب، باب ما أنزل اللہ داء إلا أنزل لہٗ شفاء: ۳۴۳۶
۵-کشف الباري، کتاب الطب، ص:۵۳۵، ج:۴۔
۶-ترمذي، أبواب الطب، بَابُ مَا جَاءَ فِيْمَنْ قَتَلَ نَفْسَہٗ بِسُمٍّ اَوْ غَيْرِہٖ۔
۷- صحیح مسلم، رقم: ۱۱۶

۸- صحیح البخاري، رقم: ۳۴۶۳
۹- صحیح مسلم، رقم: ۹۷۸ 

۱۰- سنن الترمذي، رقم: ۱۰۶۸
۱۱- ترمذي، أبواب الطب، بَابُ مَا جَاءَ فِيْ کَرَاہِيَۃِ التَّدَاوِيْ بِالْمُسْکِرِ:۲۰۴۶
۱۲- المائدۃ:۹۰
۱۳- شرح معاني الآثار، باب ما یحرم من النبیذ: ۶۴۳۵

۱۴- أیضا، باب حکم بول ما یؤکل لحمہ: ۶۵۲
۱۵- الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الأشربۃ 

۱۶-تکملۃ فتح الملہم، حکم الکحول المسکرۃ
۱۷- سنن أبي داود، کتاب الطب، باب في الأدویۃ المکروھۃ: ۳۸۷۴
۱۸- شرح معاني الآثار، باب حکم بول ما یؤکل لحمہ: ۶۵۲
۱۹- بخاري، باب الدواء بأبوال الإبل: ۵۶۸۶
۲۰- فقہی مقالات، مفتی محمد تقی عثمانی، ج: ۴، ص: ۱۳۸ تا ۱۴۴
۲۱- الہنديۃ، کتاب الکراہيۃ ، الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات: ۵/۴۱۰
۲۲- الدر المختار وحاشيۃ ابن عابدين (رد المحتار): ۱/ ۲۱۰
۲۳- صحیح بخاري، کتاب الطب، باب الشفاء في الثلاث:۵۶۸۰
۲۴- مشکٰوۃ المصابیح، کتاب الطب، رقم: ۴۵۱۷    ۲۵- کشف الباري، کتاب الطب :۵۴۱
۲۶- دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن، فتویٰ نمبر: ۱۴۴۵۰۱۱۰۰۶۰۳
۲۷- صحیح البخاري، کتاب الطب، باب الدواء بالعسل، رقم: ۵۶۸۴
۲۸- سنن ابن ماجۃ، کتاب الطب، باب من تطبب ولم یعلم منہ طب: ۳۴۶۶

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے