بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

عظمتِ اہلِ بیت اطہار رضی اللہ عنہم

عظمتِ اہلِ بیت اطہار رضی اللہ عنہم 


 دینِ اسلام میں صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار ( رضی اللہ عنہم ) کی عظمتِ شان اور بلندیِ مقام کا کون انکار کرسکتا ہے؟ یہ وہی پاک باز ہستیاں ہیں جن کو رب العالمین نے اپنے نبی کی صحبت کے لیے چنا، جن کی آنکھوں نے نبی کے رخِ انور کا دیدار کیا، جنہوں نے مشکوٰۃِ نبوت سے براہِ راست استفادہ کیا، جن کی وساطت اورپیہم قربانیوں سے دین ہم تک پہنچا، قرآن وحدیث کا علم ہمیں حاصل ہوا اور ہم عرفانِ حق کی منزل تک رسائی میں کام یاب ہوئے، لہٰذا جس طرح نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لانا،آپ سے محبت کرنا ہرمسلمان کے لیے لازم و ضروری ہے، اسی طرح صحابۂ کرامؓ اور خصوصاً اہلِ بیت سے محبت کرنا بھی ایمان کا جز، تعلیماتِ اسلام کا حصہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم   کی محبت کا تقاضا ہے، جس کے بغیر دین ناقص و ادھورا ہے۔
 یہ حضرات دینِ اسلام کے نقیب ومنادی، قرآن مجید کے امین وپاسبان اور احادیثِ مبارکہ کے شارح وترجمان ہیں،جو اعلیٰ اخلاق وکردار کے حامل اور ہمت وعزیمت، شجاعت وحمیت اور حق گوئی وبے باکی کے علم بردار ہیں، نیز اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لیے ہمہ وقت سرگرداں، اُمت کی اصلاح وتربیت کے لیے مسلسل کوشاں اور دنیا وآخرت میں اُمت کی کامیابی وکامرانی کے خواہاں ہیں ۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پردہ فرما جانے کے بعد سے کربلا تک، حضرات اہلِ بیت اطہار  رضی اللہ عنہم  کی دعوت وتبلیغ، جہاد وسرفروشی اور شہادت وجاں سپاری کی ناقابلِ فراموش خدمات وکارناموں کا ایک زرّیں تسلسل ہے، جس کا تذکرہ ان شاء اللہ قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔
 اس میں ذرہ برابر کوئی شبہ نہیں کہ جس کو جس قدر نسبتِ قریبہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے حاصل ہے، اس کی تعظیم و محبت بھی اسی پیمانے پر واجب و لازم ہے اورفطری طور پر انسان اپنی ازواج اور صلبی اولاد سے محبت کرتا ہے؛ اس لیے جہاں ہمیں نبی پاک  صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت کا حکم ہے، وہیں آپ کی آلؓ و اولادؓ اور آپ کے صحابہؓ سے بھی محبت کاحکم ہے۔ مختصر یہ کہ ُحبِ اہلِ بیت وآلِ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کا مسئلہ امت میں کبھی زیرِ اختلاف نہیں رہا، باجماع واتفاق ان کی محبت وعظمت لازم ہے۔ اختلافات وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں دوسروں کی عظمتوں پر حملہ کیا جاتا ہے، ورنہ آل رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہونے کی حیثیت سے عام سادات خواہ ان کا سلسلۂ نسبت کتنا ہی بعید ہو‘ اُن کی محبت و عظمت عین سعادت واجر وثواب ہے، یہی جمہور امت کا مسلک ومذہب ہے۔

اہلِ بیتؓ سے کون مراد ہیں ؟
 

یہ حقیقت قابلِ ذکر ہے کہ اہلِ بیت نبوی میں حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ازواج مطہرات u (جن کی تعداد گیارہ ہے)، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ذریاتِ طیبات u (جن کی تعداد سات ہے) اور بنو ہاشم کی آل واولاد سب ہی شامل ہیں؛ کیوں کہ قرآن مجید نے حضرات ازواج مطہرات u ہی کو اہلِ بیت کہا ہے؛ چنانچہ سورۂ احزاب کی آیتِ تطہیر میں مذکور ’’اہلِ بیت‘‘ کا لفظ ازواجِ مطہراتؓ کے لیے استعمال ہوا ہے او را س کی اولین مصداق حضرات ازواج مطہرات u ہی ہیں، اس آیتِ کریمہ کا سیاق وسباق بھی اسی کا متقاضی ہے۔ نیز قرآن مجید کی دیگر آیاتِ کریمہ (سورۂ ہود اور سورۂ قصص) میں بھی بیوی (گھروالی) کو اہلِ بیتؓ کہا گیا ہے۔ اور اس آیت (آیتِ تطہیر) کے ذیل میں حضرت عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ عنہ  کا بھی یہی قول منقول ہے۔‘‘ (فتح القدیر)

اہلِ بیتؓ کے حقوق
 

حضرات اہلِ بیت اطہار  رضی اللہ عنہم  کے فضائل احادیث و آثار اور اقوالِ صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم  میں کثرت سے بیان ہوئے ہیں ۔ احادیث وسیرت کی مشہور کتابوں میں ان کے فضائل ومناقب کے ابواب قائم کیے گئے ہیں اور بہت تفصیل کے ساتھ ان کے فضائل مذکور ہیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ احادیثِ مبارکہ میں ان کے کچھ حقوق بھی بیان کیے گئے ہیں، ان حقوق میں سب سے اہم حق یہ ہے کہ حضرات اہل بیت اطہار  رضی اللہ عنہم  کی تعظیم وتکریم کی جائے، ان کے شایانِ شان ان کا احترام واکرام کیا جائے،ان کا ذکرِخیر کیا جائے، ان سے ربط و تعلق رکھا جائے اور ان سے خصوصی محبت وعقیدت کا معاملہ کیا جائے؛ کیوں کہ حضرات اہل بیت اطہار رضی اللہ عنہم  سے محبت وعقیدت رکھنا کامل ایمان کے حصول کا باعث ہے، ایک حدیث میں آپ  رضی اللہ عنہم  نے حضرت عباس  رضی اللہ عنہ  کے لوگوں کے ان کے ساتھ رویّے کی شکایت پر نہایت ہی بلیغ ومؤثر انداز میں ارشاد فرمایا کہ:
’’قسم ہے اس ذات پاک کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوگا، اگر وہ تم (اہل بیت  رضی اللہ عنہم ) کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی محبت وخوشنودی حاصل کرنے کے لیے دوست نہیں رکھے۔‘‘   (ترمذی)
فی الواقع حضرات اہل بیت سے محبت رکھنا، اللہ تعالیٰ ورسول  صلی اللہ علیہ وسلم  سے محبت کی دلیل ہے، ایک حدیث میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایاکہ: 
’’تم (سب) اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو، کیوں کہ وہی اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی نعمتوں سے رزق پہنچاتا ہے اور تمہاری پرورش کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی بنا پر مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہلِ بیت  رضی اللہ عنہم  کو عزیز ومحبوب رکھو۔‘‘                            (ترمذی) 
ایک موقع پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی چہیتی صاحبزادی حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا  کو مخاطب کرکے پوری اُمت کو حضرات ازواج مطہراتؓ خصوصاً حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے محبت وعقیدت رکھنے کا حکم عام دیا ہے، حدیث پاک کے الفاظ یہ ہیں کہ:
 ’’پیاری بیٹی! جس سے میں محبت کرتا ہوں کیا تم اس سے محبت نہیں رکھتی؟ حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا  نے عرض کیا کہ کیوں نہیں ! پھر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ تب تم بھی حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  سے محبت رکھا کرو۔‘‘                                                                (بخاری ومسلم)
حضرات اہلِ بیت اطہار  رضی اللہ عنہم  کا دوسرا اہم حق یہ ہے کہ ان کی سیرت وکردار کو اور ان کے اعمال وافعال کو اختیار کیا جائے، دینی معاملات میں ان کی اتباع وپیروی کی جائے، کیوں کہ قرآن مجید کے بعد حضرات اہلِ بیت اطہار  رضی اللہ عنہم  ہی اطاعت واقتدا کے قابل ہیں، احادیثِ مبارکہ میں ان کی اتباع وپیروی کی تاکید وترغیب بہت ہی مؤثر انداز میں بیان ہوئی ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے امتِ مسلمہ کو یہ مژدہ سنایا ہے کہ:
’’ میں دنیا سے جارہا ہوں ؛لیکن (ہدایت ورہنمائی کے لیے) تمہارے درمیان قرآن مجید اور اپنے خاندان والوں کو چھوڑ رہا ہوں، میرے بعد جب تک تم انہیں پکڑے رہو گے،کبھی گمراہ نہ ہوگے، ایک چیز ان میں دوسری چیز سے عظیم تر ہے، وہ ایک تو اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآن مجید) ہے اور وہ آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی اللہ تعالیٰ کی رسی ہے، اور دوسری (چیز) میری اولاد، میرے گھر والے ہیں۔‘‘                    (ترمذی) 
اس حدیث میں نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے قرآن کریم اور اہلِ بیتؓ کے اتباع کی تاکیدفرمائی ہے،جس کی وجہ یہ ہے کہ حضرات اہل بیت  رضی اللہ عنہم  سب کے سب اعلیٰ درجہ کے متبعِ سنت تھے، اس اعتبار سے ان کی اتباع بھی سنت ہی کی اتباع تھی۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اہلِ بیتؓ کی طرف اگر کوئی ایسی بات منسوب ہو جو قرآن وسنت کے واضح حکم کے خلاف ہو، تو اس کا قطعاً اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ پیغمبر  علیہ السلام  کے اہلِ بیتؓ کے اتباع کے حکم کو آڑ بناکر روافض نے حضرات اہل بیتؓ کی طرف بہت سی ایسی باتیں منسوب کی ہیں جو قطعاً خلافِ واقعہ ہیں۔ حضرات اہلِ بیتؓ اس طرح کی جھوٹی اور من گھڑت باتوں سے بالکل بری ہیں، اور امت کے لیے ایسی باتوں پر اعتماد کرنا جائز نہیں ۔حضرات اہل بیت اطہار  رضی اللہ عنہم  کے مذکورہ بالا حقوق کے علاوہ اور بھی کچھ چھوٹے بڑے حقوق ہیں، ان میں خیر خواہی وہمدردی اور مددوتعاون سرِفہرست حقوق ہیں ۔ (ملخص از خطبات حبان)

اہلِ بیت اطہارؓ کے مجاہدات
 

اہلِ بیت اطہارؓ کی قربانیاں، ان کی جدوجہد اور دین کے سلسلہ میں ان کی مساعیِ جمیلہ بے حد وحساب ہیں؛ اس لیے کہ یہ حضرات اہل بیت اطہار  رضی اللہ عنہم  اللہ تبارک وتعالیٰ کے خصوصی ہدایت یافتہ اور حضرت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی مثالی تربیت سے سرفراز ہیں۔ سرکارِ دوعالم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی طرح آپ کے اہلِ بیت کی زندگی بھی سراپا زہد ومجاہدہ تھی، قربانی کے ہر موقع پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور اہلِ بیتؓ آگے رہتے تھے اور منافع کے ہر موقع پر پیچھے رہتے تھے، روایات میں آتا ہے کہ :
’’آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنے اصحابؓ کو خادم عطا فرمائے؛ مگر اپنی لختِ جگر حضرت فاطمۃ الزہراء  رضی اللہ عنہا  کو ضرورت کے باوجود نہیں دیا؛ بلکہ انہیں تسبیحات واذکار کی پابندی کا حکم دیتے ہوئے اسے خادم سے بہتر بتایا۔‘‘                                                    (بخاری شریف)
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ازواجِ مطہراتؓ بے انتہا قناعت پسند اور صبر شعار خواتین تھیں، اکثر فقروفاقہ کی زندگی گزارتی تھیں۔ فتحِ خیبر کے بعد جب مسلمانوں کو اچھی خاصی مالی وسعت ہوگئی تو ازواجِ مطہراتؓ کوفطری طورپر یہ خیال گزرا کہ اب ہمارے نفقہ میں بھی معقول اضافہ ہونا چاہیے، اسی خواہش کا اظہار رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے سامنے کیا۔ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کے قلب مبارک کی اذیت کے لیے دنیا طلبی کی اتنی جھلک بھی بہت تھی کہ دنیا اختیار کرنا چاہیں تو اختیار کرلیں، اس پر آیاتِ تخییر نازل ہوئیں جن میں یہ اختیار دینے کو تو دے دیا گیا؛ لیکن اس کے مل جانے کے بعد حضرت عائشہ ؓ سے لے کر کسی ایک بیوی صاحبہ تک نے عیشِ دنیاکو ترجیح نہ دی، سب کی سب بدستور اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ وابستہ رہیں ۔
 امام ابن ماجہؒ نے ’’کتاب الفتن‘‘ میں ’’باب خروج المہدي‘‘ کے تحت ایک روایت نقل فرمائی ہے،حضرت عبداللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  کہتے ہیں کہ :
’’ہم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں بنی ہاشم کے چند نوجوان آئے، جب نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے انہیں دیکھا، تو آپ کی آنکھیں بھر آئیں، اور آپ کا رنگ بدل گیا، میں نے عرض کیا: ہم آپ کے چہرے میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور دیکھتے ہیں جسے ہم اچھا نہیں سمجھتے (یعنی آپ کے رنج سے ہمیشہ صدمہ ہوتا ہے)، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’ہم اس گھرانے والے ہیں جن کے لیے اللہ نے دنیا کے مقابلے آخرت پسند کی ہے، میرے بعد بہت جلد ہی میرے اہل بیتؓ مصیبت، سختی، اِخراج اور جلا وطنی میں مبتلا ہوں گے، یہاں تک کہ مشرق کی طرف سے کچھ لوگ آئیں گے، جن کے ساتھ سیاہ جھنڈے ہوں گے، وہ خیر (خزانہ) طلب کریں گے، لوگ انہیں نہ دیں گے تو وہ لوگوں سے جنگ کریں گے، اور (اللہ کی طرف سے) ان کی مدد ہو گی، پھر وہ جو مانگتے تھے، وہ انہیں دیا جائے گا، (یعنی لوگ ان کی حکومت پر راضی ہو جائیں گے اور خزانہ سونپ دیں گے)، یہ لوگ اس وقت اپنے لیے حکومت قبول نہ کریں گے، یہاں تک کہ میرے اہلِ بیتؓ میں سے ایک شخص کو یہ خزانہ اور حکومت سونپ دیں گے، وہ شخص زمین کو اس طرح عدل سے بھر دے گا جس طرح لوگوں نے اُسے ظلم سے بھر دیا تھا، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس زمانہ کو پائے وہ ان لوگوں کے ساتھ (لشکر میں ) شریک ہو، اگرچہ اسے گھٹنوں کے بل برف پر کیوں نہ چلنا پڑے۔‘‘
المختصر! آج ملت کا شیرازہ مختلف جماعتوں، فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہوکر ملتِ واحدہ کی شناخت کھوچکا ہے، ہر جماعت خود کو برحق، ہر فرقہ خود کو صحیح اور ہر گروہ خود کو جنتی باور کروارہا ہے، ایسے میں ہمیں صحابۂ کرامؓ اور اہلِ بیتؓ کے طریق کو لازم پکڑنا چاہیے اور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت اورخلفائے راشدینؓ کے طریقے پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ:
’’میری اُمت۷۳ فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی، سوائے ایک جماعت کے سب دوزخ میں جائیں گے، عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ! وہ کون سا گروہ ہو گا؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: یہ وہ جماعت ہوگی جو اس راستے پر چلے گی جس پر میں اور میرے صحابہؓ ہیں ۔‘‘        (ترمذی )

(بشکریہ ماہنامہ دارالعلوم دیوبندبتغییر یسیر)
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے