بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

عربی زبان وادب کے اصولِ تدریس وضوابط تأثرات، گزارشات (پانچویں اور آخری قسط)

عربی زبان وادب کے اصولِ تدریس وضوابط

تأثرات، گزارشات

(پانچویں اور آخری قسط)


’’مقاماتِ حریری‘‘ کی ادبی حیثیت، اہمیت اور طریقۂ تدریس

’’مقاماتِ حریری‘‘ کو عربی ادب میں ایک بلند مقام حاصل ہے، دینی وادبی حلقوں میں اسے بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے۔ ’’مقاماتِ حريری‘‘ علامہ حریریؒ کی تصانیف میں سب سے اہم تصنیف شمار کی جاتی ہے، اسی کی بدولت انھیں عالم اسلام میں شہرت ملی۔ ’’مقاماتِ حریری‘‘ کی اصل کتاب پچاس مقامات پر مشتمل ہے،جسے علامہ حریریؒ نے ۴۹۵ھ میں لکھنا شروع کیا اور غالباً ۵۰۴ھ میں مکمل کیا۔
’’مقامات‘‘ کی تالیف کے حوالے سے علامہ حریریؒ خود لکھتے ہیں:
’’ایک ایسی ہستی نے مجھے اشارہ کیا جس کا اشارہ حکم کا درجہ رکھتا ہے، اور جس کی اطاعت میں فائدہ ہے، اس بات کی طرف کہ میں ایسی مقامات تصنیف کروں جس میں علامہ بدیع الزمانؒ کی پیروی کروں۔۔۔۔ جب مجھے انکار کی اجازت نہ ملی اور مجھے اس کا م سے معاف نہ کیا گیا تو میں نے فرماں بردار بندے کی طرح اس دعوت کو قبول کیا، اور اس کام میں اپنی بھر پور کوشش صرف کردی۔ ‘‘(۱)
اس عبارت میں علامہ حریریؒ یہ بتارہے ہیں کہ ’’مقامات‘‘ لکھنے کا مشورہ انہیں ایک حکومتی شخصیت نے دیا تھا۔ بہرحال!علامہ حریریؒ اپنی ’’مقامات‘‘ کےذریعے اس فن کے کمال کی بلندی تک پہنچے ہوئے تھے۔ انہوں نے اپنی ’’مقامات‘‘ کے لیے ایک مرکزی کردار ادا کرنے والی شخصیت ’’ابو زید سروجی‘‘، اور ایک راوی: ’’حارث بن ہمام بصری‘‘ کا انتخاب کیا۔ اکثر علماء کی رائے یہ ہے کہ علامہ حریریؒ نے یہ دو نام فرضی طور پر وضع کیے ہیں، حقیقت میں ان کا وجود نہیں تھا،جیسا کہ بديع الزمان نے اپنی مقامات کے لیے دو نام فرض کیے تھے: عیسیٰ بن ہشام، ابو الفتح اسکندری۔ تاہم بعض علماء کا خیال ہے کہ ابو زید سروجی حقیقت میں ایک شخص تھا۔

عربی ادب میں ’’مقاماتِ حریری‘‘ کا مقام ومرتبہ

’’مقامات‘‘ ہر زمانے میں مقبول اور متداول رہی ، اہل علم کے درمیان اسے بڑی مقبولیت حاصل رہی، بے شمار اُدباء وعلماء کے اقوال سے اس کتاب کی قدر ومنزلت عیاں ہوتی ہے۔اسی اہمیت کے پیش نظر یہاں بطور تائید چند اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں، جن سے ’’مقامات‘‘ کا ادبی مقام معلوم کیا جاسکتاہے:
1- چنانچہ ملا کاتب چلپی نے کشف الظنون میں ’’مقامات‘‘ کی اہمیت بتانے کےلیے علامہ زمخشری کے اشعار نقل کیے ہیں، جن کا ترجمہ یہ ہے: ’’میں قسم کھاتاہوں اللہ تعالیٰ اور اس کی نشانیوں کی، مشعرِ حج کی کہ حریری اس بات کے زیادہ مستحق ہے کہ ہم ان کے ’’مقامات‘‘ کو سونے سے لکھیں، وہ مقامے ایسے بے مثال ہیں کہ تمام مخلوق کو عاجز کردیتے ہیں، اگرچہ وہ حریری کے چراغ کی روشنی میں چلے۔‘‘(۲)
2-ابن خلکانؒ نے لکھا ہے: ’’حريري اپنے دور کے بڑے علما میں سے تھے، اور انہیں مقامات لکھنے میں کامل درجہ کی مقبولیت ملی۔ ان کے مقامات میں عربی زبان کے کئی رنگ، لغات، ضرب الامثال، اور کلام کی پوشیدہ باریکیاں شامل ہیں۔ جو شخص ان مقامات کو گہری سمجھ بوجھ کے ساتھ سمجھ لے وہ حريری کے علم، وسیع مطالعے اور ادبی دولت کا قائل ہو جائے گا اور اس سے استدلال کرے گا۔ ‘‘(۳)
3- قاضی عیاض ؒ کہتے ہیں:’’جب حريری کی کتاب ’’مقامات‘‘ ہمارے شہر پہنچی، جب کہ میں نے اسے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا تو میں اس رات اس وقت تک نہیں سویا جب تک کہ میں نےپوری کتاب ختم نہ کر لی۔ ‘‘(۴)

مقاماتِ حریری اور مقاماتِ ہمذانی کا تقابل وترجیح

بدیع الزمان ہمذانی کی مقامات اور حریری کی مقامات میں تقابلی جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مقاماتِ ہمذانی حریری کےلیے پیش رو ہے، مگر اس کے باوجود مقاماتِ حریری کو ہمذانی کی مقامات پر فوقیت حاصل ہے، حریری کی مقامات کی شہرت مقاماتِ ہمذانی کی بنسبت اتنی بڑھی کہ اب مقامات کا لفظ ’’مقاماتِ حریری‘‘ ہی کی پہچان بن گئی، اورلفظ ’’المقامات‘‘ سے عام طور پر یہی مراد لی جانے لگی۔ علامہ حریریؒ نے موضوعات اور سجع (قافیہ بندی) میں مقاماتِ ہمذانی کی پیروی کی ہے، اس کے علاوہ حریری کی کئی منفرد خصوصیات ہیں جن میں حریری یگانۂ روزگار ہیں۔
یہاں ’’مقاماتِ حریری‘‘ کی چند خصوصیات ذکر کی جاتی ہیں:
۱-ـ زبان وبيان کی وسعت: حریری کو ہمذانی پر فوقیت اس بات میں حاصل ہوئی کہ اس کا زبان و بیان کا ذخیرہ بہت وسیع ہے۔
۲-ـ موضوعات کی وسعت: وعظ، معمے، اور بالخصوص ’’کُدیہ‘‘ (فقر و گداگری) اس کے اہم اور کثرت سے بیان کیے گئے موضوعات ہیں۔
۳-ـ الفاظ کے استعمال پر قدرت: حريري کو الفاظ کے چناؤ اوراس کے استعمال پر غیر معمولی مہارت حاصل تھی، جو ان کی کتاب میں نمایاں ہے۔
۴-ـ علمی اشارات کی وسعت: مقامات میں علمی نکات، اشارات اور مسائل بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔
۵-ـ مختلف موقعوں پرعربی ادب کے ضرب الامثال کی کثرت اور ان کا استعمال ۔
۶-ـ حریری کے مقامات‘ ہمذانی کی نسبت زیادہ پُر مغز، جامع اور فنی طور پر مکمل ہیں، جب کہ ہمذانی کے بعض مقامات تو دس سطروں سے بھی کم ہوتے ہیں اور سننے والے کو کم لطف دیتے ہیں۔
۷-ـعلامہ حریری نے ایسےتخلیقی اسالیب استعمال کیے جو ہمذانی کے ہاں ناپید ہیں، جیسے: پہیلیاں، معمے، قابلِ قلب عبارتیں (جو آگے پیچھے پڑھنے پر بھی معنی رکھتی ہیں)، مہمل و معجم حروف کا فنی استعمال، جیسے:المقامۃ المغربيۃ میں۔
انہی خصوصیات وامتیازی پہلوؤں کی وجہ سے ’’مقاماتِ حریری‘‘ ایک طویل عرصہ سے عرب وعجم کے ہاں علمِ ادب کے نصاب کا لازمی حصہ رہاہے اور اب تک ہے۔

’’مقاماتِ حریری‘‘ کی شروح وحواشی

مقاماتِ حریری کی ہر دور میں مختلف زبانوں میں شروح وحواشی وترجمے لکھے جاچکے ہیں، چنانچہ حاجی خلیفہ نے چالیس سے زیادہ شروح وحواشی کا ذکر کیا ہے، یہاں ان میں سےاختصار کے ساتھ مشہور شروح کا ذکر کیا جاتا ہے:
1- شرح المقامات للشريشي: ان میں سب سے بہترین شرح ابو العباس احمد بن عبد المؤمن القیسی الشریشی (متوفی:۶۱۹ھ) کی مانی جاتی ہے، کہاجاتاہے کہ علامہ شریشی نے مقامات کی تین قسم کی شروح لکھی ہیں: ۱-مختصر۔ ۲- متوسط۔ ۳- کبیر۔ اس نے کسی شرح میں موجود کسی فائدے کو نہیں چھوڑا جسے نکالا نہ ہو، اور کوئی نایاب بات ایسی نہیں چھوڑی جسے شامل نہ کیا ہو، یوں یہ شرح ایسی بن گئی ہے کہ اس سے پہلے کی ہر شرح سے بے نیاز کر دیتی ہے اور اس کتاب کے کسی لفظ کی وضاحت کے لیے کسی اور شرح کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اس میں اس نے فنجدیہی کی شرح سے بھی بہت سا مواد لیا ہے، جیسا کہ اس میں ذکر کیا گیا ہے۔ ان میں سے کبیرمتداول ہے، ہمارے ہاں مقامی مکتبوں میں ملتی ہے، اکثر اساتذہ اسی پر زیادہ اعتماد رکھتے ہیں۔ 
2- شرح المقامات لابن الساعي البغدادي: یہ سب سے ضخیم شرح ہے جوکہ شیخ تاج الدین علی بن انجب بن الساعی البغدادی (متوفی:۶۷۴ھ) کی ہے، جو پچیس جلدوں پر مشتمل ہے، ہمارے ہاں بظاہر نایاب ہے۔
3- شرح المقامات لتلميذ الحريري: یہ شرح علامہ حریری کے شاگرد نے لکھی اور انہوں نے اپنے استاذ علامہ حریری کو پڑھ کرسنائی تھی۔
4- النُّکَت المُفحِمَات في شرح المقامات لأبي سعيد شُمَيم الحِلي: یہ سب سے قدیم شرح ہے جوکہ علامہ مہذب الدین ابوالحسن علی بن الحسن بن عنتر بن ثابت الخلوتی (متوفی: ۶۰۱ھ) کی ہے۔ شمیم الحلی نے اس کتاب میں امام حریریؒ کے مقامات کے مشکل اور غیر معمولی الفاظ کی وضاحت کی ہے، اور قرآن کریم ، احادیث نبویہ اور عربوں کے اقوال سے حوالہ دیاہے۔ یہ شرح کئی بار چھپی ہے، تاہم حال ہی میں قاہرہ کے دار المنہاج سے الدکتور محمد عائش کی تحقیق وتصحیح کے ساتھ چھپی ہے۔
5- شرح المقامات لمحمد بن أبي القاسم بن عبد اللہ الجبائي، السکسکي(المتوفی:۷۱۶ھ) انہوں نے اس کی عمدہ شرح لکھی ، انہوں نے اس شرح میں لکھاہے کہ انہیں شیخ محمد بن ابی نوح کا مقامات والا نسخہ ملا جس میں ان کی سماعت ثابت ہے، اور اس کی شرح لکھی ، اس کے ساتھ علامہ حریری کے دو رسالوں ’’رسالہ سینیہ‘‘ اور ’’رسالہ شینیہ‘‘ کی شرح بھی لکھی۔
6-الإيضاح لمقامات الحريري شرح مقامات الحريري: يہ علامہ برہان الدین ابوالفتح ناصر بن عبد السید المطرزی(متوفی: ۶۱۰ھ) کی شرح ہے، جوکہ الاستاذ محمد عثمان کی تحقیق وکاوش سے مکتبۃ الثقافۃ الدرسیۃ سے چھپی ہے۔
7- مغانی المقامات في معاني المقامات: یہ شرح شيخ امام أبو سعيد محمد بن عبد الرحمٰن بن محمد بن مسعود مسعودي فنجديہي (المتوفی: ۵۸۴ھ) نے دو جلدوں میں لکھی ہے۔
8- شرح الألفاظ اللغويۃ من المقامات الحريريۃ: یہ شرح ابو البقاء عبد اللہ بن الحسین العُکبَری (متوفی: ۶۱۶ھ/۱۲۱۹ء) کی ہے، جوکہ دکتور ناصر حسین علی کی تحقیق سے دار سعد الدین سے چھپی ہے۔ (۵)
9- التعليقات العربيۃ بالمقامات الحريريۃ: یہ عربی زبان میں ہندوستان کے مشہور ومعروف علمی شخصیت حضرت مولانا ادریس کاندھلویؒ (متوفی: ۲۸ جولائی، ۱۹۷۴) کاحاشیہ ہے، جس میں انہوں نے مقاماتِ حریری کی لغات کو بڑے عمدہ انداز سے حل کیا ہے، اس حاشیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں حضرت کاندھلوی ؒ نے لغات کے حل کے لیے قرآن وحدیث سے استشہاد کیا ہے جو اس حاشيہ کا امتیازی وصف شمار کیا جاتاہے۔

مقامات کی اردو شروح

اردو زبان میں بھی مقاماتِ حریری کی بڑی خدمت کی گئی ہے، چونکہ مقاماتِ حریری کی عربی لغت اور اس کا ترجمہ سمجھنا اور یاد رکھنا ایک بارِ گراں سمجھاجاتاہے ، خاص طور پر جب کہ ہمتیں ماند پڑگئی ہیں، اسی وجہ سے پاکستان وہندوستان کے مختلف علماء نے اس کی شرح لکھی؛ تاکہ طلبہ کے لیے آسانی ہو، تاہم بسااوقات اردو شرح پر کلی انحصار بجائے آسانی کے نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے، اسی لیے عمومی طور پر اساتذہ اپنے طلبہ کو اردو شروح استعمال کرنے سے روکتے ہیں، اور اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں، بہرحال یہاں اختصار کے ساتھ چند اردو شروح کا بھی تذکرہ کیا جاتاہے:
۱- الکمالات الوحیدیۃ: یہ شرح حقیقت میں دار العلوم دیوبند کے مشہور ومعروف ادیب حضرت مولانا وحید الزمان کیرانوی صاحب ؒ کے افادات ہیں، جسے ان کے شاگرد مولانا جمشید احمد قاسمی صاحب نے مرتب کیا ہے۔
۲- الإفاضات: یہ مقامات کی قدیم اردو شرح ہےجو مولانا افتخار علی صاحب سابق مدرس دارالعلوم دیوبند نے لکھی ہے۔
۳-الإفاضات: کے نام سے ایک اور اردو شرح ہے، جسے مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کے صاحب زادے حضرت مولانا حافظ محمد میاں صدیقی کاندھلویؒ نے مرتب کیا ہے۔
۴-المرآۃ لکشف معاني المقامات: یہ شرح دارالعلوم دیوبند کے استاذِ حدیث شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب کے درسی افادات ہیں، جسے مولانا ابو الامداد میاں حکمت شاہ صاحب (فاضل دارالعلوم دیوبند) نے مرتب کیا ہے۔
۵-تفہیمات المعروف ’’الکنوز الإعزازیۃ‘‘: يہ شیخ الادب حضرت مولانا اعزاز علی صاحب کی اپنی شرح ہے ، جوکہ مولانا محمد علی اور مولانا محمد حامد صاحب کی تصحیح واضافہ کے ساتھ چھپی ہے۔
۶- الإفادات لتسہیل المقامات الحریریۃ: مولانا ظہور الدین احمد عیش انصاری سنبھلی۔
۷- درسِ مقامات: یہ شرح جامعہ فاروقیہ کراچی کے قدیم استاذ مولانا ابن الحسن عباسیؒ کی ہے، جوکہ جدید اردو قالب میں انتہائی عمدہ مقدمے کے ساتھ تالیف کردہ شرح ہے، طلبہ اور علماء میں انتہائی مشہور ومعروف ہے ۔ مولانا عباسی مرحوم نے اس میں لغات کی تحقیقات اور ضرب الامثال کے تفصیلی پس منظر اور اشعار کا مطلب خیز ترجمہ وترکیب انتہائی آسان اور عمدہ انداز میں بیان کیے ہیں۔
۸- توضیح المقامات: شیخ الادب حضرت مولانا عبد الودود بونیری حفظہ اللہ ۔ یہ بھی مقامات کی شروح میں ایک عمدہ اضافہ ہے جو ایک عظیم اور گمنام ادیب شیخ القرآن والحدیث حضرت مولانا عبد الودود حفظہ اللہ کی شرح ہے، جس کی طباعت اور تصحیح کے مراحل ان کے فرزندِ ارجمند حضرت مولانا فضل غفور صاحب نے سر انجام دیے ، اور زمزم پبلشرز کراچی نے اس کی طباعت کی ہے۔
۹- تشریحات: مولانا محمد نورحسین قاسمی۔ یہ عصرِ حاضر کے ادیب اور ماہرِ لغت مولانا حسین قاسمی کی تصنیف کردہ شرح ہے، جس میں انہوں بڑی عرق ریزی کے ساتھ مقامات کو حل کیا ہے، چنانچہ انہوں نے لغات،محاورات اور ضرب الامثال پر خوب محنت کی ، ان کا ترجمہ انتہائی آسان اور دلنشین ہے، ماضی قریب میں مکتبہ دارالاشاعت کراچی سے چھپی ہے۔ 
اس کے علاوہ مقامات کی بے شمار شروح سامنے آرہی ہیں جن کے تذکرہ کی یہاں ضرورت نہیں ۔

’’مقاماتِ حریری‘‘ کا تعلیمی ہدف اور طریقۂ تدریس

عربی نصابِ تعلیم میں’’مقاماتِ حریری‘‘ پڑھانے کا مقصد اس کی مخصوص مقفیٰ عبارات سکھانا نہیں ہے؛ کیوں کہ کلام میں مقفی عبارات کا استعمال فی زمانہ متروک ہوچکاہے، بلکہ اس کے پڑھانے کی غرض یہ ہے کہ اس سےپڑھنے والے کو الفاظ کا ذخیرہ ، ادبی عبارات وتعبیرات کا استعمال آجائے، چنانچہ اس میں مختلف مواقع پر ضرب الامثال، اشعار ، حکم اور ادبی تعبیرات وچٹکلے استعمال کیے گیے ہیں، جس سے طالب علم کو خاطرخواہ ادبی فائدہ حاصل ہوسکتا ہے۔ مقاماتِ حریری عربی ادب کی ایک عظیم شاہکار اور ذخیرۂ الفاظ کےلیے مرجع کی حیثیت رکھتی ہے، لہٰذا مناسب ہے کہ اس کے طریقۂ تدریس پر روشنی ڈالی جائے، تاکہ اس سے مطلوبہ فوائد کا حصول ممکن ہو، چنانچہ یہاں چند گزارشات لکھی جاتی ہیں:
1- کتاب کی ابتدا میں علمِ ادب ، مقامات اور صاحبِ مقامات کا مختصر تعارف کرایا جائے ، ابوزید سروجی اورحارث ابن ہمام کا تعارف بھی کرایا جائے ، اور اس کی وضاحت کردی جائے کہ یہ فرضی نام ہیں ، ہر مقامات میں اس طرح کے فرضی نام قصصی انداز اپنانے کے لیے اختیار کیےجاتے ہیں۔
2- اسلوبِ مقامات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات کی وضاحت کردی جائے کہ دورِ حاضر میں نثری کلام میں مقفی عبارات کا استعمال نہیں پایا جاتا،البتہ مقامات کی عربی لغت نثرو انشاء کی صلاحیت بڑھانے میں بڑی حدتک مفید ہے۔
3- ہر مقامہ کے شروع میں اس کا خلاصہ بیان کرلیا جائے ، تاکہ اندازِ بیان اور حکایت سمجھنے میں اُلجھن نہ ہو۔
4- مقامات کی عبارات کا لفظی اور بامحاورہ ترجمہ کرانے کا التزام کیا جائے ۔
5- کلمات کی لغوی تحقیق کے دوران حرکات ضبط کرنے کا اہتمام ہو، اس کے ساتھ کلمات کے قرآنی استعمالات یا احادیث اور کلامِ عرب کے استعمالات کا تذکرہ کیا جائے۔
6-حروف کی صورت میں افعال کے مختلف صلات کی پہچان کروائی جائے، کتاب میں جو لفظ جس صلہ کے ساتھ مستعمل ہے، وہ سمجھا دیا جائے اور اس کے ساتھ اسی فعل کا کوئی مشہور استعمال کسی خاص صلہ کے ساتھ ہوا ہو تووہ بھی بتادیا جائے۔ کثرتِ صلات اور مختلف معانی نہ بتائے جائیں، تاکہ طلبہ پر کتاب کے علاوہ اضافی بوجھ نہ پڑے۔
7- کلمات کو روزہ مرہ کے جملوں میں استعمال کروانے کا اہتمام کیا جائے، تاکہ طلبہ کی انشاء کی صلاحیت اور ادبی ذخیرہ میں اضافہ ہوتارہے، طلبہ کو عربی جملے بولنے کا عادی بنانے کے لیےہر سبق کے آخر میں اسی سبق کی حکایت کے بارے میں طلبہ سے عربی زبان میں سوالات کرے، اور طلبہ سے عربی میں جواب کا مطالبہ کرے۔
8- کتاب میں مذکورہ استعارات ، تشبیہات، محاورات اور ضرب الامثال کی خوب وضاحت کرلی جائے، بالخصوص ضرب الامثال کے پس منظر اور مواقعِ استعمال بھی خوب بتادیے جائیں، بہتر یہ ہے کہ کتاب میں جہاں جہاں ضرب الامثال کااستعمال ہوا ہے، انہیں طلبہ سے ایک کاپی میں لکھوایا جائے، تاکہ اُسے ضبط کرنے میں آسانی ہو۔
9- طلبہ کو معاجم استعمال کرنے کا پابند بنائیں، تاکہ وہ صرف اردو شروح پر بھروسہ نہ کریں، بلکہ استاذ محترم روزانہ کے اعتبار سےنئے مفردات کا معنی اور جمع ، اور جمع کا مفرد طلبہ کے ذریعے معاجم سے نکلوائیں۔
10- معاجم اور قوامیس کا استعمال بتاتے وقت خاص دھیان رہے کہ مقاماتِ حریری کا ہر لفظ معجم میں نہیں ملتا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ علامہ حریریؒ نے جان بوجھ کر یہ طرز اختیار کیا ہے، تاکہ اس سے طلبہ کو اشتقاق کے ذریعے اصل مادہ کا معنی معلوم ہو، اور علم الصرف کی خاصیاتِ ابواب کو اس میں بڑا دخل ہے کہ خاصیات کو سمجھ کر اس کے مطلوبہ معانی ومفاہیم اخذ کیے جائیں۔
11- ہر مقامے کے اختتام پر ایک دن توقف کرکے طلبہ سے مقامہ کی تحریری تلخیص عربی زبان میں لکھوائی جائے اور پھر ہر طالب علم سے سنی جائے، اور اس کی تصحیح کا اہتمام بھی کیا جائے۔ 
12- استاذ اپنے ذوق کے مطابق ہر مقامہ میں اہم ادبی عبارات وتعبیرات کا انتخاب کرکے اس طرز کے نئے جملے بنانے کی مشق کرائے، محض عبارات کے ترجمہ پر اکتفا نہ کیا جائے ، تاکہ طلبہ میں ادبی ذوق پروان چڑھے۔ 

حوالہ جات

۱-مقدمۃ مقامات: ۱۳-۱۴  

۲- کشف الظنون: ۲/۱۷۸۷، مکتبہ جعفری تبریزی طہران 
۳- وفيات الأعيان: حرف القاف، الحريري صاحب المقامات، ج:۳، ص:۴۹۲۔
۴- التعریف بالقاضي عیاض: ۱۰۹۔ 

۵- کشف الظنون،ج:۲/۱۷۸۷ تا۱۷۹۱، بترمیم وتصرف۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے