بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

عذر کی بنا پر صرف عاشورا کا روزہ رکھنا

عذر کی بنا پر صرف عاشورا کا روزہ رکھنا


سوال

 کیا حکم ہے اگر کوئی شخص ۹ یا ۱۱ محرم کا روزہ نہ رکھ سکے نوکری یا کسی عذر کی بنا پر، آیا صرف ۱۰محرم کا رکھنا درست ہے؟

جواب

محرم کی دسویں تاریخ کو روزہ رکھنا مستحب ہے، رمضان کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں محرم کی دسویں تاریخ کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے، اور اس ایک روزے کی وجہ سے گزرے ہوئے ایک سال کے گناہِ صغیرہ معاف ہوجاتے ہیں، اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، بلاعذر صرف دسویں محرم کا روزہ رکھنا مکروہِ تنزیہی ہے۔
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ابتداء ً مکی دور میں اور پھر مدنی دور کے آغاز سے ہی عاشوراء کا روزہ رکھا، اور ابتدا میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  ہر عمل میں اہلِ کتاب کی مخالفت نہیں کرتے تھے، بلکہ ابتداءِ اسلام میں بہت سے اعمال میں تالیفِ قلوب کے لیے نرمی کی گئی، مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس مقرر کیا گیا، وغیرہ۔ مدینہ منورہ آنے کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرامs تو اسلام کے حکم کے مطابق عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے، جب آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہود کو عاشوراء کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس کے متعلق ان سے دریافت فرمایا، چناں چہ حضرت عبداللہ بن عباس r سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ان سے فرمایا: یہ کیسا دن ہے جس کا تم روزہ رکھتے ہو؟ یہود نے کہا: یہ بڑا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام  اور ان کی قوم کو نجات دی تھی، اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا تھا، اس کے شکر میں موسیٰ m نے روزہ رکھا، ہم بھی اسی لیے روزہ رکھتے ہیں۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ہم موسیٰ علیہ السلام کے طریقے کی پیروی اور اتباع کے زیادہ حق دار اور ان سے قریب ہیں، چناں چہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خود بھی روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی عاشوراء کے روزے کا حکم دیا۔ (بخاری ومسلم)
آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی موافقت اور اتباع کا ذکر فرمایا، نہ کہ یہود کی موافقت کا، یعنی ہم یہ روزہ حضرت موسیٰ m کی موافقت میں رکھیں گے اور ہم انبیاء کرام o کے طریقے کی پیروی کے زیادہ حق دار ہیں۔ بعد میں جب یہود کی مکاریوں اور ضد وعناد کے نتیجے میں آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہود کی مخالفت کا حکم دیا تو اس وقت لوگوں نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے عاشوراء کے روزے کے حوالے سے بھی دریافت کیا، چناں چہ ’’حضرت ابن ِعباس r فرماتے ہیں کہ جس وقت رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے دس محرم کے دِن روزہ رکھا اور صحابہؓ کوبھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا تو صحابہؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ ایسا دن ہے کہ یہود ونصاریٰ اس کی بہت تعظیم کرتے ہیں (اور روزہ رکھ کر ہم اِس دن کی تعظیم کرنے میں یہودونصاریٰ کی موافقت کرنے لگتے ہیں جب کہ ہمارے اوراُن کے دین میں بڑا فرق ہے)!! آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: آئندہ سال اِن شاء اللہ ہم نویں تاریخ کو (بھی) روزہ رکھیں گے۔ حضرت ابنِ عباسr فرماتے ہیں کہ آئندہ سال محرم سے پہلے ہی آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کاوصال ہوگیا۔ (صحيح مسلم،ج:۲، ص:۷۹۷)
حضرت ابنِ عباس r فرماتے ہیں کہ: ’’تم نویں اَوردسویں تاریخ کا روزہ رکھو اَور یہود کی مخالفت کرو۔‘‘ (سنن الترمذی،ج:۳، ص:۱۲۰)
لہٰذا ماہِ محرم کی دسویں تاریخ یعنی عاشوراء کے روزہ کا سنت (مستحب) ہونا حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے عمل اور قول سے ثابت ہے، اور تشبہ سے بچنے کے لیے نویں تاریخ کے روزے کا قصد بھی ثابت ہے۔
 تاہم اگر کسی بنا پر دو روزے نہ رکھ سکے تو کم سے کم دسویں تاریخ کا ایک روزہ رکھنے کی کوشش کرلے، اس روزہ کا ثواب ملے گا، بلکہ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: عاشوراء کے روزہ کی تین شکلیں ہیں:
۱- نویں، دسویں اور گیارہویں تینوں کا روزہ رکھا جائے۔
۲- نویں اور دسویں یا دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے۔
۳- صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔
ان میں پہلی شکل سب سے افضل ہے، اور دوسری شکل کا درجہ اس سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ سب سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ جو سب سے کم ہے، اسی کو فقہاء نے کراہتِ تنزیہی سے تعبیر کردیا ہے، ورنہ جس روزہ کو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے رکھا ہو اور آئندہ نویں کا روزہ رکھنے کی صرف تمنا کی ہو، اس کو کیسے مکروہ کہا جاسکتا ہے؟                                                     فقط واللہ اعلم

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے