
حامداً ومصلیاً ومسلّما
’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُوا اللہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللہَ کَثِیْرًا‘‘ (الاحزاب: ۲۱)
ترجمہ: ’’ تم لوگوں کے لیے یعنی ایسے شخص کے لیے جو اللہ سے اور روزِ آخرت سے ڈرتا ہو اور کثرت سے ذکرِ الٰہی کرتا ہو ‘ رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ایک عمدہ نمونہ موجود تھا۔ ‘‘
اس آیتِ مبارکہ میں دو باتیں نمایاں طور پر بیان ہوئی ہیں، ایک یہ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں اُمتیوں کے لیے ہر اعتبار سےبہترین نمونہ موجود ہے۔ دوسرا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ہر پہلو میں اقتدا کرنا اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان کی علامت ہے۔
چنانچہ انسانی زندگی کے دنیوی اطوار ہوں یا اُخروی سفر اور منزل کے راہنما اُصول ہوں ، یہ سب فیضانِ رسالت کے چشمۂ فیاض ہی سے پھوٹتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی زندگی میں غمی اور خوشی کے دو مرحلے کسی نہ کسی موڑ پر ضرور آتے ہیں، ان دونوں مراحل میں بندۂ مومن ایمانی تقاضے کے تحت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے لَو لگانے میں ہی راحت و نجات سے ہم کنار ہوسکتا ہے۔ عام مسلمان خوشی کی مستی یاغمی کے فطری بوجھ میں اُسوۂ طیبہ سے غافل ہوسکتے ہیں، مگر اہل اللہ کی نشانی یہ ہے کہ خوشی اور غمی کے ان دونوں مواقع پر ان کے فطری جذبات، اُسوۂ حسنہ اور نبوی تعلیمات کے سامنے باادب نظر آتے ہیں، ان کی خوشی‘ خدافراموشی تک نہیں جاتی اور ان کی غمی سیرتِ طیبہ میں ہی اپنے لیے تسلی کا سامان ڈھونڈتی ہے۔
سو سیرتِ طیبہ سے سامانِ تسلی تلاشنے اور عمل پیرا ہونے کی ایک زندہ تابندہ مثال ہماری جامعہ کے استاذ، ماہ نامہ بینات کراچی کے معاون مدیر، عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کراچی کے امیر برادرِ معظم حضرت مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب زید مجدہم نے اس وقت پیش فرمائی جب آپ کے جواں سالہ فرزند ارجمند حافظ محمد عدنان رحمہ اللہ کی مرگِ ناگہاں کا سانحہ پیش آیا۔
مؤرخہ ۱۴؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو خلافِ معمول صبح ساڑھے پانچ بجے مولانا محمد اعجاز صاحب کا فون آیا، سہمتے ہوئے فوراً فون اُٹھایا تو دوسری طرف سے مولانا کی اطمینان بھری آواز میں علیک سلیک کے بعد بڑے ہی حوصلے سے اطلاع دی کہ: ’’میرا بیٹا عدنان اچانک فوت ہوگیا ہے، عصر کے بعد جامعہ میں جنازہ کا مشورہ ہوا ہے، مقامِ تدفین کے لیے آپ احباب سے مشورہ کرکے ترتیب بنالیں۔‘‘ چنانچہ جامعہ کے احباب اور آپ کے قریبی محبین کی مشاورت کے بعد عدنان کے لیے اسماعیل چاولہ قبرستان مواچھ گوٹھ کراچی میں تدفین عمل میں آئی۔ مولانا اعجاز صاحب کے لیے یہ حادثہ کس قدر جانکاہ ہے، اس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن پر اس طرح کے حادثے گزرے ہوں یا ان کا مشاہدہ کیا ہو، مجھے یاد ہے کہ چند سالوں کے فاصلے سے میرے والدین نے بھی اپنے دو جواں سال بیٹوں (شفیق احمد، شکیل احمد) کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کیا تھا، پہلے بیٹے (شفیق احمد) کی وفات کے بعد ماں باپ نیم جان ہوکر دنیا کی رعنائیوں سے بے رغبتی کا مظہر بن گئے تھے، جبکہ دوسرے بیٹے (شکیل احمد) کی حادثاتی موت کے بعد ایسے جان بلب تھے گویا کہ مقدر ساعتوں کے مکمل ہونے کے انتظار کے بجز انہیں دنیا کے کسی کاروبار سے کوئی سروکار نہیں رہا۔
بہرحال اولاد کا درد کیا درد ہوتا ہے؟ اس کا صحیح اندازہ ایسے دکھی والدین کو ہی ہوسکتا ہے، دیکھنے والے ایسے والدین کے صرف حوصلوں کی شکست وریخت ہی دیکھ سکتے ہیں۔
چنانچہ برادرِ معظم مولانا محمد اعجاز مصطفیٰ صاحب اپنے لختِ جگر حافظ محمد عدنانؒ کی ناگہانی جدائی پر صبر وحوصلہ کا وہ اعلیٰ نمونہ دکھائی دیے جس کی وہ زندگی بھر ایسے حادثات پر تلقین فرماتے رہے ہیں، حالانکہ عدنانؒ کی اچانک موت نے مولانا کے ہر متعلق کو ایسے رنجور کر رکھا تھا کہ جیسے ان کے کسی قریبی چہیتے عزیز کا انتقال ہوا ہو، جس کی ظاہری وجہ یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے حافظ محمد عدنانؒ کو دوسروں کے لیے بے چین رہنے والا دل ، اوروں کی بھلائی سوچنے والا دماغ، ضرورت مندوں کے کام آنے والا بے پناہ جذبہ اور بے کسوں کا ہاتھ بٹانے کا عظیم مشغلہ مقدور فرما رکھا تھا۔ حافظ محمد عدنانؒ بظاہر اسکول وکالج کا طالب علم تھا، لیکن والد گرامی کی مسجد کے جملہ امور میں بڑی مستعدی سے پیش پیش رہتا تھا، علماء وطلباء سے عقیدت واحترام کا ایسا رشتہ قائم تھا کہ ان کی غمی خوشی، علاج معالجہ اور خدمت ورہنمائی میں شہیدِ ختمِ نبوت مفتی محمد جمیل خان رحمۃ اللہ علیہ کا پکا پیرو دکھائی دیتا تھا، جبکہ اپنے والدِ گرامی کے ہمہ جہت دینی کاموں اور گھریلو ذمہ داریوں میں معاملہ فہم معاون بھی تھا۔
ایسے بیٹے کی جدائی مولانا محمد اعجاز صاحب کے لیے یقیناً غیرمعمولی سانحہ ہے، مگر اس موقع پر مولانا کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں تو جھڑتی رہیں، دل حزن وملال کے بھنور میں ڈولتا رہا، مگر آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی پیروی میں زبانِ حال و قال سے یہی ارشاد دہرایا: إن للہ ما أخذ ولہٗ ما أعطی وکل شيء عندہٗ بأجل مسمّٰی، ولا نقول إلا ما یرضٰی بہ ربنا وإنا بفراقک یا عدنان لمحزونون۔جبکہ عزیزم حافظ محمد عدنانؒ کی والدہ، بہن بھائیوں، دوست احباب اور اپنے شرکاء غم کو صبر وسلوان کی تلقین کرتے ہوئے مولانا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے ان پہلوؤں کو دہرایا جن میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر غموں کے پہاڑ ٹوٹے، غم خواری، اَشک شوئی اور ڈھارس کے اسباب چھوٹے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھ سالہ زندگی سے لے کر ۶۳ سالہ زندگی تک غموں کا سامنا کیسے کیا تھا، اور ان غموں کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے نوازا تھا، مولانا محمد اعجاز صاحب نے اس عظیم صدمے کے موقع پر نبیk کے حزن وملال کے مواقع پر سکھائے گئے بہترین اُسوہ کی عملی پیروی وقولی مظاہرہ کرتے ہوئے جہاں اللہ تعالیٰ سے اجر وجزاء سمیٹی ہے، وہیں مسلمانوں بالخصوص اہلِ علم کے لیے غمی کے موقع پر اُسوۂ حسنہ کی پیروی کو عملاً پیش بھی فرمایا ہے، فجزاہ اللہ عن الإسلام وأہلہٖ خیرا۔
بہرحال! یہ دنیا مسافر خانہ ہے یا راہ گزر ہے، مسلمان کا اصل گھر جنت ہے جہاں جانے کے لیے ہر کلمہ گو راہ روِ منزل ہے، کسی کی باری پہلے ہے اور کسی کی بعد میں ہے۔ حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ کے ارشاد کے مطابق کوئی مسافر جب اپنے بچوں کے ہمراہ سفر سے منزل کی طرف لوٹ رہا ہو اور گھر قریب آتے ہی بچے اپنے گھر کو دیکھ کر والد سے پہلے دوڑ کر گھر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ، یہی حال ہے جنت کی طرف جانے والے مسافرانِ دنیا کا کہ بسااوقات ان کے بچے اُن سے پہلے جنت سدھار جاتے ہیں، اسی طرح حافظ عدنانؒ بھی اپنے والدین سے پہلے جنتِ عدن کا عدنان جاٹھہراہے اور ہمیں اُمید ہے کہ حافظ عدنانؒ جس طرح دنیا میں اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی راحت کا سامان تھا وہ جنت میں بھی اپنے خاندان کے لیے یوں ہی کارآمد پیش رو ثابت ہوگا، ان شاء اللہ!
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ عدنانؒ کے والدین ، بہن بھائیوں، اعزہ واقارب ، اور جملہ متعلقین کو صبرِجمیل اور اجرِ عظیم سے مالا مال فرمائے اور عدنانؒ کو جنتِ عدن کی اونچی منازل میں جگہ عطا فرمائے، آمین