بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

طلبہ کے حقوق احادیثِ نبویہ اور اسلاف کے فرمودات کی روشنی میں

طلبہ کے حقوق

احادیثِ نبویہ اور اسلاف کے فرمودات کی روشنی میں


حضراتِ اساتذہ کرام کے حقوق اور ان کے ادب واحترام سے متعلق معاشرہ میں کچھ حد تک شعور بیدار کردیا گیا ہے، اور طلبۂ عظام کو اس بارے میں اچھی آگاہی دی گئی ہے، بلکہ اس موضوع پر کئی کتابیں، مضامین اور مقالات لکھے جاچکے ہیں، جن سے استاذ کی اہمیت اور عزت وعظمت معلوم ہوتی ہے، اور والدین وسرپرست حضرات بھی اپنے بچوں کو استاذ کے بلند مقام ومرتبہ کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں، مگر طالب علموں کے کیا حقوق ہیں؟ ان کی تکریم وتوقیر سے متعلق احادیث وآثار میں کیا تعلیمات آئی ہیں؟ ہمارے اسلاف واکابر اپنے شاگردوں کے ساتھ کس طرح معاملہ کرتے تھے؟ اس بارے میں افسوس ناک حد تک علم وآگہی کی کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ 
طلبہ کے حقوق سے ناآشنائی وناواقفی کے بد نتائج آئے دن اخبارات ودیگر ذرائع ابلاغ وغیرہ میں پڑھنے اور سننے کو ملتے رہتے ہیں، خصوصاً کچھ عصری تعلیم کے اداروں اور بعض مکاتبِ قرآنی میں طلبہ کے حقوق کی پامالی ناگفتہ بہ حالت تک پہنچ چکی ہے، چنانچہ کہیں تو چھوٹے بچوں کو انتہائی بربریت وسفاکی کے ساتھ مارکٹائی کرکے شہید کردینے کی خبریں گردش کر رہی ہیں، تو کہیں شاگردوں کے جنسی استحصال اور ان پر ذہنی وجسمانی بہیمانہ تشدد اور انسانیت سوز مظالم کی شہادتیں موصول ہو رہی ہیں۔ 
ان حالات میں ہمیں چاہیے کہ اسلامی تعلیمات اور اپنے اسلاف کے فرمودات کی روشنی میں علم حاصل کرنے والے طلبہ کرام کے حقوق، ان کی توقیر اور اعزاز واکرام سے حضرات معلمین واساتذہ کو آگاہ کریں، اور معاشرے کو معزز طلبہ کی عظمت ورفعتِ شان سے آشنا کریں۔ 

متعلمین سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طرزِ عمل

معلّمی اور تدریس محض ایک پیشہ نہیں، بلکہ کارِ نبوت اور بعثت کے مقاصد میں سے ایک مقصد ہے، جیساکہ ایک حدیث میں ہے: ’’إِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّماً‘‘ (۱) یعنی ’’مجھے معلم اور سکھانے والا بناکر بھیجا گیا ہے۔‘‘ لہٰذا استاذ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پیشہ اور فریضۂ تدریس کے تقدّس کا لحاظ رکھے، اور ان امور سے بالکل اجتناب کرے‘ جن سے اس تقدس کی پامالی ہوتی ہو۔ اور آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کے ساتھ متصف ہونے کی کوشش کرے، اور اسی نہج اور طریقہ پر تدریسی خدمت سرانجام دے جو نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے، چنانچہ جب ہم سیرتِ طیبہ میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم طلبہ اور سیکھنے والوں کے ساتھ انتہائی شفقت کا معاملہ فرماتے اور ان کے ساتھ ایک والد کی طرح پیش آتے تھے، جیساکہ ایک حدیث میں ہے: ’’إنما أنا لکم بمنزلۃ الوالد أعلمکم۔‘‘ (۲) یعنی ’’میں تمہارے حق میں باپ کی طرح ہوں، میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ ‘‘
اور ابن ماجہؒ کی روایت کے الفاظ ہیں: ’’إنما أنا مثل الوالد لولدہٖ أعلمکم۔‘‘ (۳) یعنی ’’میں تمہارے لیے ایسا ہی ہوں جیسا باپ اپنی اولاد کے لیے، میں تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔ ‘‘
لہٰذا اساتذۂ کرام کو بھی سنتِ نبویہ پر عمل کرتے ہوئے اپنے طلبہ کے ساتھ شفقت، اپنائیت کا برتاؤ کرنا چاہیے، اُن کے ساتھ غیروں اور نوکروں جیسا رویہ اختیار کرنا، ان پر بےجاسختی، اور جسمانی تشدد کرنا، انہیں سب وشتم اور زہرخندہ الفاظ کے گھاؤ لگانا، یا خادموں کی طرح اپنے ذاتی کام طلبہ سے کرانا سراسر غلط اور تعلیمِ نبوی سے روگردانی اور اپنے مقدس پیشہ سے بے وفائی ہے۔ 

طلبہ کے بارے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت

طالبِ علم کی اس سے بڑی فضیلت کیا ہوگی کہ دونوں جہانوں کے سردار نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود معلّمین حضرات کو طلبہ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی نصیحت، اور اُن کے ساتھ بھلائی وخیرخواہی کا معاملہ کرنے کی ترغیب دی ہے، چنانچہ حضرت ابوسعید خدری  رضی اللہ عنہ حضور  صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:
’’يأتيکم رجال من قبل المشرق يتعلمون فإذا جاءوکم فاستوصوا بہم خيرًا، قال: فکان أبو سعيد إذا رآنا قال: مرحبًا بوصيۃ رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم۔‘‘ (۴)
ترجمہ: ’’مشرق کی جانب سے بہت سے لوگ تمہارے پاس علم حاصل کرنے کے لیے آئیں گے، جب وہ تمہارے پاس آئیں تو انہیں بھلائی کی وصیت کرنا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابوسعیدؓ جب ہمیں دیکھتے تو فرماتے کہ: رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے مطابق تمہیں خوش آمدید (مرحبا) ہو۔ ‘‘

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے نزدیک عالم اور طالبِ علم کا ثواب برابر

ایک عالم جس نے محنت ومشقت کے ذریعے علم حاصل کیا، اس کو پاکی ناپاکی، حلال حرام، جائز ناجائز، اچھی بری وغیرہ چیزوں کا علم ہے، وہ باآسانی اپنے علم پر عمل کرکے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے کام کرسکتا ہے، اور ممنوع کاموں سے بچ سکتا ہے، ایسے شخص کا کتنا بڑا رتبہ ہے!۔ دوسری طرف ایک متعلّم ہے، جس نے ابھی علم کی طلب وتحصیل شروع کی ہے، اس کو جائز ناجائز، حلال وحرام کے بارے میں معلوم نہیں، لیکن وہ یہ چیزیں جاننے اور ان کا علم حاصل کرنے میں لگا ہوا ہے، طلبِ علم کے سلسلہ میں مقدور بھر کوشش کررہا ہے، مشقت وتکلیف برداشت کر رہا ہے، وہ اس بات کا علم حاصل کرنے میں سرگرداں ہے کہ کون سی باتوں سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتاہے، رب تعالیٰ نے کن باتوں کا حکم دیا ہے اور کن باتوں سے روکا ہے؟ 
ان دونوں افراد میں سے ایک بلندی پر ہے، جبکہ دوسرے نے ابھی چلنا سیکھا ہے، بظاہر ان کے درمیان بہت بڑا فرق ہے، لیکن حضرت ابودراداء  رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اجر وثواب کے لحاظ سے دونوں برابر ہیں۔ چنانچہ سنن الدارمی میں آپ  رضی اللہ عنہ کا قول مذکور ہے:
’’إن العالم والمتعلم في الأجر سواء۔‘‘ (۵)
ترجمہ: ’’عالم اور متعلّم (علم حاصل کرنے والا) دونوں اجر وثواب میں برابر ہیں۔ ‘‘
دنیاوی اعتبار سے اور لوگوں کی نظر میں اگرچہ متعلّم، خصوصاً دینی طالبِ علم کو ناقابلِ التفات سمجھا جاتا ہے، انہیں موجودہ معاشرہ میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا، بلکہ ان پر طنز وتشنیع کے نشتر چلائے جاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا بہت بلند رتبہ ہے۔ فی الحال علم نہ ہونے کے باوجود اخلاص کی بدولت علم رکھنے والوں جتنا ثواب ملتا ہے۔ 

حضرت ابودارداء  رضی اللہ عنہ کا طلبہ سے برتاؤ

حضرت ابودرداء  رضی اللہ عنہ اپنے شاگردوں اور طلبہ کے ساتھ بہت انوکھا برتاؤ کرتے، ان کا اعزاز واکرام کرتے، انہیں دیکھتے ہی کھل اُٹھتے اور گرم جوشی سے استقبال کرتے تھے، چنانچہ سنن دارمی میں عامر بن ابراہیمؒ سے منقول ہے:
’’کان أبو الدرداء رضي اللہ عنہ، إذا رأی طلبۃ العلم، قال: ’’ مرحبا بطلبۃ العلم، وکان يقول: إن رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم أوصی بکم۔‘‘ (۶)
ترجمہ: ’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ جب طالب علموں کو دیکھتے تو فرماتے: علم کے طلب گاروں کو خوش آمدید۔ اور فرماتے تھے کہ نبی اکرم  رضی اللہ عنہ نے تمہارے بارے میں (بھلائی کی) وصیت کی تھی۔ ‘‘

حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہ اور طلبہ کی راحت رسانی

طلبہ کرام کا ایک بڑا حق یہ ہے کہ ان کے آرام اور راحت رسانی کا خیال رکھا جائے، حتی الامکان کوشش کرکے انہیں تکالیف اور پریشانیوں سے بچایا جائے، ان کی اذیت کو استاذ خود پر محسوس کرے، اگر کبھی کسی شاگرد کو کوئی تکلیف پہنچے تو اس کے ازالہ کی کوشش کرے۔ اس سلسلے میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  کا عمل قابلِ تقلید ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں:
’’أکرم الناس علي جليسي الذي يتخطی رقاب الناس حتی يجلس إلي۔‘‘ (۷)
ترجمہ: ’’میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ اعزاز واکرام والا وہ شخص ہے جو لوگوں کی گردنوں کو پھلانگ کر میرے پاس آکر بیٹھتا ہے۔ ‘‘
یعنی جو حضرات بغرضِ استفادہ حضرت عبد اللہ بن عباس  رضی اللہ عنہما  کی مجلس میں آتے، اور ان کے قریب بیٹھنے کی کوشش کرتے؛ تاکہ مکمل طور پر سہولت کے ساتھ حضرت کے درس سے منتفع ہوسکیں، تو ایسے علم کے شائق افراد کے تلامذہ کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  فرماتے ہیں کہ: وہ سب سے زیادہ قابلِ احترام واکرام ہیں۔ 
اسی طرح طلبہ کرام کی راحت رسانی کے سلسلے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما  کا یہ قول بھی اساتذہ کرام کے لیے ہمہ وقت مستحضر رکھنے کے قابل ہے، وہ فرماتے ہیں:
’’لو استطعت ألا يقع الذباب عليہ لفعلت، وفي روايۃ: إن الذباب ليقع عليہ فيؤذيني۔‘‘ (۸)
ترجمہ: ’’اگر مجھے قدرت ہوتی کہ متعلّم پر مکھی نہ بیٹھے تو مکھی نہ بیٹھنے دیتا، اور ایک روایت میں ہے: بلاشبہ مکھی اس پر بیٹھتی ہے، مگر تکلیف مجھے ہوتی ہے۔ ‘‘
سبحان اللہ! متعلمین اور طلبہ کا اتنا خیال کہ ان کی ادنیٰ درجہ کی تکلیف بھی اپنے آپ پر محسوس کرنا۔ آج کل کے حضرات مدرسین کے لیے یہ لمحۂ فکر ہے کہ کیا ان میں یہ صفت پائی جاتی ہے؟ کیا وہ اپنے تلامذہ کو آرام پہنچانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں؟ کیا اپنے شاگردوں کی تکالیف دور کرنے، اور ان کی پریشانیوں کے خاتمہ کے لیے کوئی اقدام کرتے ہیں؟

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور طلبہ کے آرام کا خیال

امیر المؤمنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل بخاریؒ کے اسمِ گرامی سے شاید ہی کوئی ناآشنا ہو، آپ کی صحیح بخاری کو تمام کتبِ احادیث میں منفرد اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ بھی اپنے مستفیدین اور شاگردوں کے آرام کا بہت خیال رکھتے تھے، اپنے کام خود سرانجام دیتے تھے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی مشقت برداشت کرنی پڑے، چنانچہ ان کے ایک شاگرد محمد بن ابی حاتم وراق  ؒ (جو امام بخاریؒ کے کاتب بھی تھے)کا بیان ہے کہ ایک دفعہ سفر میں ہم ساتھ تھے، تو میں امام بخاریؒ کو دیکھتا کہ وہ بسااوقات رات کو پندرہ بیس مرتبہ اُٹھتے اور اپنے ہاتھ سے چراغ جلا کر احادیث کی تخریج کرتے، لیکن مجھے نہیں اُٹھاتے تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا: ’’إنک تحمل علی نفسک کل ہٰذا ولاتوقظني؟‘‘ یعنی ’’آپ یہ سب مشقت اپنی ذات پر برداشت کرتے ہیں، مجھے کیوں نہیں اُٹھاتے؟‘‘ اس پر امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے ایسا جواب دیا جس سے واضح ہوتا کہ ان کے ہاں دوسروں کی راحت، بالخصوص طلبہ کے آرام کا کتنا خیال رکھا جاتا تھا، چنانچہ انہوں نے فرمایا:
’’أنت شاب فلا أحب أن أفسد عليک نومک۔‘‘ (۹)
ترجمہ: ’’تم جوان آدمی ہو، مجھے اچھا نہیں لگتا کہ تمہاری نیند خراب کروں۔ ‘‘

طلبہ کا اکرام کرنا

طلبہ کرام کے حقوق میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ موقع ومحل کے حساب سے ان کا اعزاز واکرام کیا جائے، ان کی ضروریات کا خیال رکھا جائے، اور اگر ممکن ہو تو ان کے ساتھ مالی تعاون کیا جائے، اور حسبِ وسعت ان کا اکرام کیا جائے۔ اگر ہم اپنے اکابرین (جن کے ہم نام لیوا ہیں) کی سوانح حیات کا مطالعہ کریں اور ان کی تدریسی زندگی کا جائزہ لیں تو ہم پر واضح ہوگا کہ وہ خوش دلی سے اپنے طلبہ اور شاگردوں کا اکرام کرتے اور بوقتِ حاجت ان کی مالی مدد کرتے تھے، چنانچہ امام ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں آتا ہے:
’’کان أبو حنيفۃ أکرم الناس مجالسۃ وأشدہم إکرامًا لأصحابہ۔‘‘ (۱۰)
ترجمہ: ’’امام ابوحنیفہؒ ہم نشینی کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے اکرام والے تھے، اور اپنے ساتھیوں وتلامذہ کا بہت زیادہ اکرام کرتے تھے۔ ‘‘
اسی طرح ان کے تلمیذ رشید امام محمدؒ میں بھی یہ عمدہ وصف نمایاں طور پر پایا جاتا تھا، جس کی وضاحت درجِ ذیل دو واقعات سے بخوبی ہوتی ہے:
۱- ایک مرتبہ امام محمدؒ کے مشہور شاگرد اسد بن فرات اپنے استاذ کے درس میں شریک تھے کہ اتنے میں ایک سبیل کا پانی تقسیم کرنے والا آواز لگاتا ہوا آیا، یہ دوڑ کر وہاں گئے اور پانی پیا، جب واپس آئے تو امام محمدؒ نے انہیں اس پر تنبیہ کی، اس پر انہوں نے بتایا کہ وہ مسافر ہیں، لہٰذا پیاس کی وجہ سے انہیں سبیل کا پانی پینا پڑا، پھر وہ فرماتے ہیں:
’’ثم انصرفت فلما کان عند الليل إذا أنا بإنسان يدق الباب، فخرجت إليہ، فإذا خادم محمد بن الحسن فقال: مولاي يقرأ عليک السلام ويقول لک: ماعلمت أنک ابن سبيل إلا في يومي، فخذ ہٰذہ النفقۃ فاستعن بہا علی حاجتک۔ ثم دفع إلي صرۃ ثقيلۃ، فقلت في نفسي: ہٰذہ کلہا دراہم، ففرحت بہا، فلما دخلت منزلي فتحتہا، فإذا فيہا ثمانون ديناراً۔‘‘ (۱۱)
ترجمہ: ’’میں واپس لوٹا، جب رات کا وقت ہوا تو ایک شخص دروازا کھٹکھٹانے لگا، میں نے باہر نکل کر دیکھا تو وہ امام محمدؒ    کا خادم تھا، اور کہہ رہا تھا کہ میرے مالک نے آپ کو سلام کیا ہے، اور کہا ہے کہ مجھے یہ بات آج ہی معلوم ہوئی ہے کہ آپ مسافر ہیں، لہٰذا یہ کچھ نفقہ لیجیے، اور اس کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرنے میں مدد حاصل کیجیے، پھر اس نے ایک بھاری تھیلی مجھے دی، میں نے دل میں کہا کہ یہ سب درہم ہوں گے، لہٰذا میں خوش ہوا، جب گھر جاکر میں نے اُسے کھولا تو اس میں اسی (۸۰) دینار تھے۔ ‘‘
۲- امام محمدؒ کے امام شافعیؒ کے ساتھ مالی تعاون کرنے کے بارے میں ابو عبیدؒ کہتے ہیں:
’’رأيت الشافعي عند محمد بن الحسن وقد دفع إليہ خمسين دينارًا وقد کان دفع إليہ قبل ہٰذا خمسين درہماً۔‘‘ (۱۲)
ترجمہ: ’’میں نے امام شافعیؒ کو امام محمدؒ کے پاس دیکھا تھا، امام محمدؒ نے انہیں پچاس دینار دیے تھے، اور اس سے پہلے بھی انہوں نے پچاس درہم دیے تھے۔ ‘‘

طلبہ کی گرفت اور تادیبی کارروائی

طلبہ کرام کے حقوق میں یہ بھی داخل ہے کہ اگر کسی طالبِ علم سے کوئی غلطی صادر ہو، وہ درس کو سنجیدگی سے نہ لے رہا ہو، ساتھیوں کو تنگ کر رہا ہو، یا تحصیلِ علم کے منافی دوسرے کاموں میں مشغول ہو تو ایسی صورت میں حسبِ مصلحت شریعت کی مقرر کردہ حدود کے اندر رہتے ہوئے اس کو سزا دی جائے۔ غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود سزا نہ دینا، اور چشم پوشی وتسامح سے کام لینا طالبِ علم کے ساتھ خیرخواہی نہیں، بلکہ اس کے لیے نقصان دہ ہے۔ 
سزا دینے کے لیے یہ لازم نہیں ہے کہ مار کٹائی کی جائے، تیز وتند جملے کسے جائیں، بلکہ ناراضگی کا اظہار کرنا، سخت الفاظ میں تنبیہ کرنا، وغیرہ بھی کافی ہوسکتا ہے۔ حقیقی طالبِ علم فوراً متنبّہ ہوجائے گا، اور اس کو اپنی غلطی کا احساس ہوجائے۔ اور یہی طرز ہمارے اکابرین کا رہا ہے، چنانچہ مشہور ومعروف محدث عبد الرحمٰن بن مہدیؒ کی مجلسِ درس میں ایک طالب علم دورانِ درس ہنسا، انہوں نے ہنسنے والے کے بارے میں پوچھا تو دوسرے طالب علموں نے اشارہ کرکے بتایا کہ یہ ہنسا ہے، اس پر علامہ عبد الرحمٰن بن مہدیؒ نے فرمایا:
’’تطلب العلم وأنت تضحک، لا حدثتکم شہراً۔‘‘ (۱۳)
ترجمہ: ’’علم طلب کر رہے ہو اور ہنس بھی رہے ہو، میں ایک مہینہ تم سے حدیث بیان نہیں کروں گا۔‘‘
شاگرد کو غلطی پر سزا دینے سے متعلق ایک دوسرا قصہ یہ ہے کہ مشہور محدث سفیان بن عیینہؒ ایک مرتبہ احادیث کا درس دے رہے تھے، درمیان میں ایک آدمی نے کسی حدیث کے بارے میں ان سے کہا: ’’ہٰذا الحديث معاد‘‘ یعنی یہ حدیث دوبارہ دہرائی گئی ہے، یہ بات حضرت ابن عیینہؒ    کو ناگوار لگی تو انہوں نے فرمایا:
’’واللہ لا حدثتکم کذا وکذا أتقول لحديث رسول اللہ معاد؟‘‘ (۱۴)
ترجمہ: ’’اللہ کی قسم! میں تم سے اتنا وقت احادیث بیان نہیں کروں گا، تم رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے بارے میں کہہ رہے ہو کہ وہ دہرائی گئی ہے؟‘‘
ان کا مقصد تھا کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ مبارکہ جتنی بار سنائی جائیں، انہیں شوق ورغبت سے سنا جائے، بوجھ نہ سمجھا جائے، نہ یہ کہ جب دوسری بار سنائی جائے تو دوبارہ دہرائے جانے کی شکایت شروع کردی جائے۔ 
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اساتذہ کرام کو چاہیے کہ وہ شفقت واپنائیت اور عزت واکرام کے ساتھ طلبہ کرام کو پڑھائیں، اور ان کے ساتھ اپنی اولاد کی طرح معاملہ کریں، بےجا تشدد اور مار کٹائی سے اجتناب کرتے ہوئے کارِ نبوت کو انجام دیں۔ 

حواشی وحوالہ جات

۱- سنن ابن ماجۃ، (۱/۸۳)، باب في فضل العلماء والحث علی طلب العلم، الناشر: دار الفکر، بيروت
۲- سنن أبي داود، (۱/۷)، کتاب الطہارۃ، باب کراہيۃ استقبال القبلۃ عند قضاء الحاجۃ، الناشر: دار الکتاب العربي، بيروت
۳- سنن ابن ماجۃ، (۱/۱۱۴)، کتاب الطہارۃ، باب الاستنجاء بالحجارۃ، الناشر: دار الفکر، بيروت
۴- سنن الترمذي، (۵/۳۰)، کتاب العلم، باب ما جاء في الاستيصاء بمن يطلب العلم، رقم الحديث:۲۶۵۱، الناشر: دار إحياء التراث العربي- بيروت
۵- سنن الدارمي، (۱/۳۵۳)، باب في فضل العلم والعلماء، رقم الحديث: ۳۳۷
۶- سنن الدارمي، (۱/۳۶۵)، باب في فضل العلم والعالم، رقم الحديث: ۳۶۰
۷- روضۃ العقلاء ونزہۃ الفضلاء لأبي حاتم الرازي، (ص: ۱۱۷)، ذکر الحث علی زيارۃ الإخوان وإکرامہم، الناشر: دار الکتب العلميۃ، بيروت
۸- موسوعۃ الأخلاق والزہد والرقائق لياسر عبد الرحمٰن، (۲/۲۴۷)، الناشر: مؤسسۃ اقرأ للنشر- القاہرۃ، ط: ۱۴۲۸ھ- ۲۰۰۷م
۹- تہذيب الکمال في أسماء الرجال للمزي، (۲۴/۴۴۸)، الناشر: مؤسسۃ الرسالۃ- بيروت، ط: ۱۴۱۳ھ- ۱۹۹۲م
۱۰- تذکرۃ السامع والمتکلم لابن جماعۃ، (ص: ۸۴)، الباب الثانی، الفصل الثالث، الناشر: دار البشائر الإسلاميۃ، بيروت
۱۱- رياض النفوس لأبي بکر المالکي، (۱/۲۵۸)، الناشر: دار الغرب الإسلامي، بيروت- ط:۱۴۱۴ھ/ ۱۹۹۴م
۱۲- تاريخ دمشق لابن عساکر، (۵۱/۲۹۶)، الناشر: دار الفکر- بيروت، ۱۴۱۵ھ/ ۱۸۸۵م
۱۳- الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي، (۱/۱۹۳)، توقير مجلس الحديث، الناشر: مکتبۃ المعارف، الرياض
۱۴- الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع للخطيب البغدادي، (۲/۲۱۱)، کتب الأحاديث المعادۃ

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے