بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

مکاتیبِ اکابرؒ بنام حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ 

سلسلۂ مکاتیب حضرت بنوریؒ

مکاتیبِ اکابر    رحمۃ اللہ علیہم  بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت مولانا محمد یوسف کامل پوری   رحمۃ اللہ علیہ   (1) بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

بخدمت شریف جناب مولانا محمد یوسف صاحب زید لطفُہٗ
مکرّم ومحترمِ بندہ  زیدت مکارمکم العالیۃ!

بعد سلامِ مسنون، گرامی نامہ باعثِ مسرت ہوا تھا، جس کا کچھ تذکرہ میں اپنے عربی والے خط میں کرچکا ہوں، اُمید ہے کہ محظوظ ہوئے ہوں گے، اور ہنسے بھی ہوں گے، مگر ہنسنے کی کوئی بات نہیں، عجمیوں سے اگر ایسی کوتاہی ہوجائے تو کوئی قابلِ اعتنا ہونی چاہیے! اس مرتبہ اردو ہی میں ٹرخا رہا ہوں، اگر اردو میں دقّت محسوس فرمائیں تو مولانا احمد رضا صاحب (بجنوری) پڑھ دیں گے!
حضرات اکابرِ دیوبند کی تصانیف کی فہرست تو غالباً خدمت میں پہنچ گئی ہوگی، مدارس کی یہ فہرست ارسالِ خدمت کر رہا ہوں۔ 
مولانا بدرِ عالم صاحب (میرٹھی) کو شدھی کے زمانہ کی بات یاد نہیں رہی، مجھے اتنا خیال پڑتا ہے کہ ذی استعداد طلبہ تمام چلے گئے تھے، اور اس وقت جو معین المدرّس تھے، ان میں سے بھی اکثر گئے تھے، تقریباً دو تین ماہ سبھی مصروفِ پیکار رہے۔ اور بقیہ حالات جو دریافت فرمائیں گے وہ حسبِ یادداشت عرضِ خدمت کروں گا۔ افسوس کہ بابا ہم میں نہ رہے، ورنہ وہ تو ’’جُہَيْنِيَۃُ الدِّيُوْبَنْدِيَّۃ‘‘(2) تھے، خدا مرحوم کو اعلیٰ علیین نصیب فرمائے، آمین! کیا خاص اوقات میں یہ خادم بھی کبھی یاد آجاتا ہے؟ 
تمام حضرات بخیریت ہیں، سلامِ مسنون عرض کرتے ہیں۔ ابھی تک مولانا اور مولوی یحییٰ صاحب ومولانا محمد ادریس صاحب (کاندھلوی) تشریف نہیں لائے۔ 
                                                             فقط والسلام 
                                                            ۱۸- ۳- ۵۷ھ
پس نوشت:     مولوی محمد ناظم صاحب ندوی کا خط آیا ہوا ہے، بخیریت ہیں، آپ لوگوں کو یاد کیا ہے۔ 
اسمائے مدارس کہ منتسبین دار العلوم اجرا نمودہ از نورِ علوم ظلمت کدۂ ہند را منوّر ساختند(3)

صوبہ سرحد:

1 - مدرسہ یوسفیہ، گڑھی میر احمد صاحب مرحوم، پشاور

سندھ:     

2- مدرسہ مظہر العلوم (مولوی محمد صدیق صاحب والا) کراچی، اور بھی چند مدرسے ہیں، جن کے اسماء یاد نہیں رہے۔ 

پنجاب:

1- مدرسہ خدّام الملّت والدین، لاہور، 2- مدرسہ انوار العلوم، گوجرانوالہ، 3-مدرسہ خیر المدارس، جالندھر، 4- دار العلوم فتح الدین، لائل پوری (حالیہ فیصل آباد)۔ اور بھی مدارس ہیں، جن کے نام معلوم نہیں ہیں۔ 

بہار:

1- مدرسہ امدادیہ، دربھنگہ،2- مدرسہ اسلامیہ، موضع گوگری، ضلع مونگیر، 3- مدرسہ خیریہ، سہسرام، ضلع آرہ، 4- مدرسہ رشیدیہ، کواتھ، ضلع آرہ،5- مدرسہ معین الغرباء، ناصری گنج، ضلع آرہ

ممالکِ متوسّط (سی پی): 

کوئی مدرسہ معلوم نہ ہوسکا، اغلب یہ ہے کہ ضرور ہے۔ 

مدراس: 

معلوم ہوا کہ ہے تو، مگر نام ومقام نہ معلوم ہوسکا، شاید (مدرسہ) الباقیات الصالحات ہو۔

اڑیسہ: 

اس میں شاید نہیں ہے۔ 

بمبئی:

1- جامعہ اسلامیہ، ڈابھیل، ضلع سورت، 2- مدرسہ حسینیہ، راندیر، ضلع سورت، 3- مدرسہ محمدیہ، گودھرہ، 4- مدرسہ محمد علی والا، بڑودہ

برما:

1-مدرسہ تعلیم الدین، رنگون، 2- مدرسہ دارالعلوم تھمائنگ، ضلع رنگون، اس کی کئی شاخیں ہیں، یہ جمعیۃ العلماء رنگون کی طرف سے ہے۔ 

آسام:

1- مدرسہ عالیہ لالہ، ضلع کھچاڑ، 2- مدرسہ عالیہ، گاسہاڑی، ضلع سلہٹ، 3- مدرسہ عالیہ، خریل ہاٹ، ضلع سلہٹ، 4- مدرسہ رحمانیہ، کہنائی گھاٹ، ضلع سلہٹ، 5- مدرسہ عالیہ جلالیہ، رانگا روئی، ضلع کھچاڑ، 6-مدرسہ عالیہ، بہادر پور، ضلع کھچاڑ۔ اس کے علاوہ ۱۱- ۱۲ نام اور موجود ہیں، اختصار کیا گیا ہے۔ 

بنگال:

چاٹگام:

اس ضلع میں تقریبًا پچاسوں مدرسے ہوں گے، ان کی فہرست موجود ہے، جن میں اکثروں میں کچھ نہ کچھ حدیث شریف کا درس ہوتا ہے، مثلاً:1- مدرسہ معین الاسلام، ہاٹ ہزاری، 2- مدرسہ ناصر المسلمین، فتح پور،3- مدرسہ حمایت الاسلام، کیگرام،4- مدرسہ دارالعلوم، چندی پوری، 5- مدرسہ اسلامیہ، پونچہری، 6- مدرسہ صدیقیہ، گھونیہ، 7- مدرسہ لطیفیہ، میر سرائی، 8- مدرسہ صوفیہ نوریہ، برراج ہاٹ، 9-مدرسہ ابو تراب، چاٹگام

ڈھاکہ: 

اس میں بھی تقریباً ۲۰ مدارس ہوں گے، جن میں حدیث شریف کے منتخبات ہوتے ہیں: 1- مدرسہ اسلامیہ، ڈھاکہ، 2- مدرسہ حمادیہ، ڈھاکہ، 3- مدرسہ دارالعلوم، ڈھاکہ، 4- مدرسہ محسنیہ، ڈھاکہ ، 5- مدرسہ اشرف العلوم، ڈھاکہ، 6- مدرسہ اسلامیہ، معصوم پور، 7- مدرسہ حافظیہ، مرزا نگر

ٹپرہ:

اس ضلع میں بھی تقریباً ۱۵ مدارس ہیں:1- مدرسہ صاحب آباد، ضلع ٹپرہ، 2- مدرسہ یونسیہ اسلامیہ، برہمن باڑیہ، ٹپرہ، 3- مدرسہ اسلامیہ، بروڑہ، ٹپرہ

کمرلا: 

اس ضلع میں بھی چند مدارس ہیں:1- مدرسہ حسّامیہ، کمرلا، 2- مدرسہ اسلامیہ، چوک بازار، کمرلا، 3- مدرسہ جامعہ ملّیہ، اترچرتا، کمرلا

نواکھالی:

اس ضلع میں بھی تقریباً ۱۵ مدارس ہیں:1- مدرسہ اسلامیہ، نواکھالی، 2- مدرسہ احمدیہ، نواکھالی، 3- مدرسہ کرامتیہ، نواکھالی، 4- مدرسہ اسلامیہ، لکھی پور، 5-مدرسہ شوبار بازار، 6- مدرسہ امجد ہاٹ

ممالکِ متحدہ آگرہ واودھ (یوپی):

سہارنپور: 

1- مدرسہ مظاہر علوم،سہارنپور،2- دارالعلوم سہارنپور، 2-دارالعلوم دیوبند (ہي مرکز العلوم الدينيۃ في الہند) ضلع سہارنپور، 4- مدرسہ اسلامی، رائے پور، ضلع سہارنپور، 5- مدرسہ اسلامیہ، رڑکی، ضلع سہارنپور، 6- مدرسہ اسلامی، بہٹ، 7- مدرسہ اسلامیہ، تاج پورہ، ریڑھی، ضلع سہارنپور

مظفر نگر: 

1- مدرسہ امدادیہ، تھانہ بھون    2- مدرسہ اسلامیہ عزیزیہ، مظفر نگر

میرٹھ: 

1- مدرسہ اسلامیہ، میرٹھ    2- مدرسہ اسلامیہ، اجراڑہ، ضلع میرٹھ

بلند شہر: 

1- مدرسہ اسلامیہ، گلاؤٹھی    2- مدرسہ اسلامیہ، خورجہ

امروہہ:

1- مدرسہ جامع مسجد        2- مدرسہ اسلامیہ، محلہ چلہ، امروہہ

بجنور:  

1- مدرسہ جامع مسجد        2- مدرسہ اسلامیہ نگینہ (مولوی سعید صاحب والا)، ضلع بجنور

مرادآباد:

1- مدرسہ امدادیہ        2- مدرسہ شاہی مسجد

بریلی:

1- مدرسہ اشاعۃ العلوم، بریلی        کانپور:    2- جامع العلوم، کانپور

فیض آباد: 

1- مدرسہ کنز العلوم، ٹانڈہ        

بہرائچ:

1- مدرسہ نور العلوم، بہرائچ

علی گڑھ:

 1-مدرسہ اسلامیہ، برلا، ضلع علی گڑھ    

دہلی:  

1- مدرسہ امینیہ، دہلی، 2- مدرسہ مسجد فتح پوری، دہلی، 3- مدرسہ حسینیہ، دہلی، 4- مدرسہ حسین بخش، دہلی

حواشی

حاشیہ(1) مولانا محمد یوسف اکھوڑوی کامل پوری رحمۃ اللہ علیہ، ضلع اٹک کے قصبہ ’’اکھوڑی‘‘ میں اندازاً ۱۹۰۲ء / ۱۳۱۹-۲۰ھ میں پیدا ہوئے۔ دارالعلوم دیوبند اور پھر جامعہ اسلامیہ ڈابھیل میں درسِ نظامی کی تعلیم حاصل کی۔ علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ شبیر احمد عثمانی رحمۃ اللہ علیہ کے تلامذہ میں سے تھے، اور والد ماجد حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ  کے دیرینہ رفقاء میں سے تھے۔ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل، مجلس علمی اور دیگر اداروں میں خدمات سرانجام دیں، فقہ وحدیث اور عربی ادب میں مہارت رکھتے تھے، علامہ کشمیری  رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ان کا عربی مرثیہ والد ماجد رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’نفحۃ العنبر في ھدي الشيخ الأنور‘‘ میں شائع شدہ ہے۔ مخطوطات اور نادر ذخیرۂ کتب پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ علامہ زیلعی رحمۃ اللہ علیہ کی ’’نصب الرایۃ‘‘ پر ان کے حواشی ہیں۔ مارچ ۱۹۶۴ء / ۱۳۸۳ھ میں اپنے آبائی گاؤں میں سفرِ آخرت پر روانہ ہوئے۔ دیکھیے: تذکرہ علماء پنجاب، از اختر راہی، ۲/ ۷۲۷، ۷۲۸، مکتبہ رحمانیہ، اردو بازار، لاہور، طبع اول ۱۹۸۰ء /۱۴۰۰ھ
حاشیہ(2)  عربی میں یہ محاورہ یقینی علم، حتمی خبر اور مستند ماخذ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

حاشیہ(3)  واضح رہے کہ یہ فہرست حضرت مولانا محمد یوسف کامل پوریؒ کی یادداشت اور اُس زمانہ کے مطابق ہے، اب تو برِ صغیر پاک وہند وبنگلہ دیش میں مدارس کی تعداد بفضلہ تعالیٰ لاکھوں سے متجاوز ہوگی ۔
 

حضرت مولانا احمد رضا بجنوری رحمۃ اللہ علیہ بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

مکرم ومخلصم مولانا محمد یوسف صاحب دام مجدُکم! 

سلامِ مسنون، آپ کا صرف ایک (خط) غالباً وسط شوال کا ملا تھا، جو مجھ کو ایک ماہ کے بعد نہٹور سے واپسی پر ملا، اس کا جواب بھی لکھ دیا تھا، مگر اب معلوم ہوا کہ آپ حج کے لیے مع والد صاحب قبلہ دام ظلّہ روانہ ہوگئے، غالباً آپ نے خط ضرور لکھا ہوگا، جو مجھ کو نہیں ملا، خیر! اس مبارک سفر کے لیے اور حج وزیارت کی سعادتِ سہ بارہ کے حصول پر دلی مبارک باد قبول کیجیے، خدا قبول فرمائے، اور اپنے تقرّب سے بیش از بیش بہرہ ور کرے۔ مکہ معظّمہ اور مدینہ منورہ کے متعارفین واحباب سے خصوصیت کے ساتھ میرا سلام کہیں، اور سب کی خیریت وحالات حسبِ موقع لکھیں، واپسی پر ملاقات ہوگی، ان شاء اللہ! 
مولانا (محمد بن موسیٰ) میاں صاحب نے بھائی یوسف صاحب کو مصر خرید ٹائپ وپریس کے لیے کہہ دیا ہے، ان کو اس بارے میں مشورہ دیں۔ اُمید ہے کہ ٹائپ وپریس آگیا تو پھر دہلی میں مرکز قائم ہوکر کام خوش اُسلوبی کے ساتھ ہوسکے گا۔ 
صروف ۱۶ اور ۱۲  ۔۔۔کے شرح ترمذی کے لیے بہتر رہیں گے، ایک پریس کے لیے کتنی تعداد ہر دو قسم کے صروف کی ضرورت ہوگی؟ اس کا مشورہ آپ مکہ معظمہ میں بھی حسبِ موقع وفرصت (جامعہ) اُم القری وغیرہ کے دفتر سے کرلیں گے۔ امید ہے کہ یہ سلسلہ قائم ہوگیا تو پھر آپ کو بھی دہلی ہی کے قیام پر مجبور کریں گے، بھائی یوسف صاحب سے اور بھی مولانا میاں صاحب کے خیالات وعزائم کا علم آپ کو ہوجائے گا، اور وہ خود بھی آئیں گے، ان شاء اللہ! خدا کرے پھر جلد یکجا ہوں۔
آپ سے علیحدگی کے بعد سے وہ پرلطف علمی زندگی ہر وقت یاد آتی ہے، آپ کی واپسی کب تک ہوگی؟ مطلع کریں۔ مکہ معظمہ سے مجلس (علمی) کے لیے جدید وقدیم کتب ضرورت کی جو مل سکیں ضرور خرید لیں، اور بھائی یوسف صاحب سے رقم لے لیں، یہاں حساب ہوجائے گا۔ مخدوم ومکرم والد صاحب قبلہ کی خدمت میں سلام مسنون اور دعا کی درخواست ہے، اور آپ بھی خصوصی طور پر ہر مقامِ اجابت میں میری صلاح وفلاحِ دارین اور اہلیہ وبچہ کی صحت کے لیے ضرور ضرور دعا کریں۔ اپنا پتہ مکہ اور مدینہ کا بھی جلد تحریر کریں، تاکہ براہِ راست خط لکھ سکوں۔                                      والسلام 
                                                           احقر احمد رضا عفا عنہ
                                                            ۲۶/۱۰ /۱۹۴۶ء

حضرت مولانا حمید الدین رحمۃ اللہ علیہ   (1) بنام حضرت بنوری  رحمۃ اللہ علیہ 

مدرسہ عالیہ کلکتہ نمبر ۱۶

من العاجز المسکین الفقیر حمید الدین إلی الأخ الأعزّ الأغرّ الأحبّ الأبرّ الذي صار صیتُہٗ في البرّ والبحر، يوسفُ علماء الحديث والأثر، مولانا محمد يوسف البنوري، عكسُ جمال الشيخ الأنور الكشميري، عافاہ اللہ في الدنيا والآخرۃ، وأدام بحار فيوضہٖ زاخرۃً.
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! 

اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اُمید ہے کہ مزاجِ گرامی بعافیت ہوگا۔ میں دیوبند گیا ہوا تھا، واپسی آنے پر ’’معارف السنن‘‘ کے ہدیۂ سنیہ سے شرف یاب ہوا۔

للہ الحمد ہر آں چیز کہ خاطر می خواست
آخر آمد ز پس پردۂ تقدیر پدید
(2)

’’معارف السنن‘‘ سے آنکھوں کو نور، دل کو سرور، دماغ کو تازگی، روح کو بالیدگی حاصل ہوئی۔ حضرت الاستاذ قدّس سرّہ العزیز کی یاد اگرچہ یوں بھی تازہ رہتی ہے، لیکن اس کتابِ مستطاب سے تازہ تر ہوگئی، ان کا جمال آنکھوں میں پھرنے لگا، اور کمال دل کی گہرائیوں میں گردش کرنے لگا، اس کتاب سے حضرت اقدس کے طریقِ درس کی صحیح تصویر، زینتِ قرطاس بن گئی۔ حوالہ جات کی کثرت اور صفحات مجلدات کی تصریحات نے کتاب کی عظمت اور افادیت کو چار چاند لگا دیا ہے۔ اَبحاث نہ اس قدر طویل ہیں کہ ہمت شکن ہوں، نہ اس قدر مختصر کہ تشنگی نہ بجھا سکیں۔ صاحب ’’تحفۃ الأحوذي‘‘ نے اپنے ’’تحفہ‘‘ میں جس قدر کلوخ اندازی فرمائی ہے، اس کی طرف بھی ’’جَزَاءُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُھَا‘‘ اور ’’کما تدین تُدان‘‘ کے اصول کے مطابق توجہ دی گئی ہے، کتاب کے محاسن پر تفصیل سے لکھنے کے بجائے اس شعر پر اکتفا کرنا مناسب ہے:

ز فرق تا بقدم ہر کجا می نگرم 
کرشمہ دامنِ دل می کشد جا اینجا است
(3)

جزاکم اللہ عنا وعن جمیع المسلمین خیر ما جازی بہ أحدًا، وأبقاكم مع الخير والعافيۃ والصحۃ والسلامۃ وتوفيق العلم والعمل دائمًا أبدًا.
مطلع فرمائیے کہ جلدِ ثانی کب تک زیورِ طبع سے آراستہ ہوجائے گی؟ نیز یہ کہ پوری کتاب لکھی جاچکی ہے یا ابھی کچھ حصہ باقی ہے؟ اس سے بھی مطلع فرمائیں کہ مقدمہ مکمل فرما دیا ہے یا ابھی نہیں؟ اگر مکمل ہوگیا ہے تو طبع میں کیا دیر ہے؟ ’’لبّ اللّباب‘‘ طبع ہوچکی ہے یا نہیں؟ میرے خیال میں ’’فتح الملہم‘‘ کی تکمیل کا مسئلہ بھی اہم ہے، جس تحقیقی طریقہ پر تین جلدیں لکھی گئی ہیں، اس کو باقی رکھتے ہوئے بقیہ کی تکمیل کی توقع آپ سے کی جاسکتی ہے، کاش آپ اس طرف بھی توجہ فرمائیں!
ابھی حال ہی میں ’’وفاق المدارس العربیہ‘‘ کا مرتبہ نصاب اور متعلقہ تحریرات ملتان سے موصول ہوئیں، بے انتہا مسرت ہوئی، اور صمیمِ قلب سے دعائیں نکلیں۔ نصاب کی ترتیب بلا خوفِ لومۃ لائم جس طریقہ پر کی گئی ہے، اس کے لیے آپ حضرات مستحقِ مبارک باد ہیں۔ 
دار العلوم دیوبند کی مجلسِ شوریٰ میں جدید روشنی کے کافی حضرات جمع ہوگئے ہیں، اور نصاب کے خلاف مہم جاری ہے، ان حضرات کا رجحان ندوہ جیسے نصاب کی طرف ہے، لیکن اب تک ان حضرات کو کامیابی نہیں ہوئی ہے، صرف یہ تجویز پاس ہوئی ہے کہ تاریخ، جغرافیہ، مبادیِ فلسفہ جدید، معلوماتِ عامہ کا اضافہ کردیا جائے۔                                                طالبِ دعا
                                             أخوکم العاجز حمید الدین غفر لہ
                                                      مدرسہ عالیہ کلکتہ نمبر ۱۶

حواشی

حاشیہ(1) مولانا سید حمید الدین رحمہ اللہ، جامعہ اسلامیہ ڈابھیل سے ۱۳۴۷ھ کے درسِ نظامی کی تکمیل کی، علامہ محمد انور شاہ کشمیری وعلامہ شبیر احمد عثمانی رحمہما اللہ کے شاگرد تھے، فراغت کے بعد مختلف اداروں میں خدمات سرانجام دیں، دار العلوم ندوۃ العلماء میں شیخ الحدیث اور دارالعلوم دیوبند میں شیخ التفسیر رہے۔ دار العلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے رکن بھی رہے۔ جس زمانہ میں یہ مکتوب لکھا گیا ہے مدرسہ عالیہ کلکتہ میں شیخ الحدیث تھے، اخیر تک وہیں رہے۔ ۱۹۶۵ء میں اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے۔
حاشیہ(2)  اللہ کا شکر ہے کہ دل میں جس شے کی چاہت تھی، پردۂ تقدیر سے وہی نمودار ہوئی۔

حاشیہ(3) محبوب کے سر سے قدموں تک میں جہاں بھی دیکھوں، اس حصے کی رعنائی، دامنِ دل کو کھینچتی ہے کہ اصل جگہ تو یہی ہے۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے