
میری عمر ۴۱ سال ہے، مجھے شوگر ہے، تین مہینوں سے ۴۴۹ پر چل رہی ہے، روزے کے بارے میں کیا حکم ہے؟ روزے رکھوں؟ اگر نہ رکھوں تو بعد میں قضا کروں یا فدیہ ادا کرسکتا ہوں؟
صورتِ مسئولہ میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں سائل اپنے معالج سے رجوع کرے، اگر وہ سائل کی بیماری کے پیش نظر روزہ رکھنے کی اجازت دے دے، تو سائل روزہ رکھے اور اگر ڈاکٹر منع کردے کہ روزہ نہ رکھا جائے، اس سے نقصان ہوسکتا ہے، تو پھر فی الفور روزہ نہ رکھے، رمضان المبارک کے بعد چھوٹے دنوں میں قضا کرنا ممکن ہو تو قضا کرے، ورنہ فدیہ دے دے۔ اسی طرح اگر ڈاکٹر مطلقاً روزے سے منع کردے تو ہر روزے کے بدلے تقریباً دو کلو گندم یا اس کی قیمت فدیہ دے سکتا ہے۔
’’بدائع الصنائع في ترتیب الشرائع‘‘ میں ہے:
’’أما المریض فالمرخص منہ ھو الذي یخاف أن یزداد بالصوم و إلیہ وقعت الإشارۃ في الجامع الصغیر ۔۔۔۔۔ وذکر الکرخي في مختصرہ أن المریض الذي یبیح الإفطار ھو ما یخاف منہ الموت أو زیادۃ العلۃ کائنًا ما کانت العلۃ۔‘‘ (ج:۲، ص:۹۴، فصل في حکم فساد الصوم، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر :18841-1442
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن