
شوال کے چھ روزوں میں قضا روزہ اور شوال کا روزہ دونوں نیتیں کرنے سے شوال کے روزہ کا ثواب ملے گا یا نہیں؟
نفل روزہ الگ ہے اور فرض کی قضا کا روزہ الگ اور مستقل حیثیت رکھتا ہے، روزہ میں نفل کی نیت کرنے سے وہ نفلی روزہ ہوگا اور قضا کی نیت کرنے سے وہ قضا کا روزہ ہوگا، ایک روزہ میں نفل اورقضا دونوں کی نیت نہیں کرسکتے ہیں؛ لہٰذا شوال کے چھ روزوں یا ذی الحجہ، عاشورہ کے روزوں کے ساتھ، قضا روزوں کی ادائیگی کی نیت کرنا صحیح نہیں ہے۔ اس لیے اگر شوال کے مہینے میں شوال کے چھ روزوں کی نیت کی ہےتو وہ نفلی روزے ہوں گے، قضا کے نہیں ہوں گے، اور اگر ان دنوں میں قضا کی نیت کی ہے تو وہ قضا کے روزے ہوں گے اور اس سے نفلی کا ثواب نہیں ملے گا۔
اگر یہ گمان ہو کہ شوال کے روزے رکھے تو بعد میں قضا روزے رکھنا مشکل ہوگا تو پہلے قضا روزے رکھنے چاہئیں، بصورتِ دیگر شوال میں نفل روزے رکھ لے، اور پھر قضا کرلے۔
’’البحر الرائق شرح کنز الدقائق ومنحۃ الخالق وتکملۃ الطوري (2/ 299)‘‘ :
’’ولو نوی قضاء رمضان والتطوع کان عن القضاء في قول أبي يوسفؒ، خلافًا لمحمدؒ، فإن عندہٗ يصير شارعًا في التطوع، بخلاف الصلاۃ، فإنہٗ إذا نوی التطوع والفرض لايصير شارعًا في الصلاۃ أصلًا عندہٗ، ولو نوی قضاء رمضان وکفارۃ الظہار کان عن القضاء استحسانًا، وفي القياس يکون تطوعًا، وہو قول محمدؒ، کذا في الفتاوی الظہيريۃ۔‘‘’’الفتاوی الہنديۃ (1/ 196)‘‘:
’’ومتی نوی شيئين مختلفين متساويين في الوکادۃ والفريضۃ، ولا رجحان لأحدہما علی الآخر بطلا، ومتی ترجح أحدہما علی الآخر ثبت الراجح، کذا في محيط السرخسي. فإذا نوی عن قضاء رمضان والنذر کان عن قضاء رمضان استحسانًا، وإن نوی النذر المعين والتطوع ليلًا أو نہارًا أو نوی النذر المعين، وکفارۃ من الليل يقع عن النذر المعين بالإجماع، کذا في السراج الوہاج. ولو نوی قضاء رمضان، وکفارۃ الظہار کان عن القضاء استحسانًا، کذا في فتاوی قاضي خان. وإذا نوی قضاء بعض رمضان، والتطوع يقع عن رمضان في قول أبي يوسف - رحمہ اللہ تعالٰی - وہو روايۃ عن أبي حنيفۃ - رحمہ اللہ تعالٰی - کذا في الذخيرۃ۔‘‘’’تبيين الحقائق شرح کنز الدقائق وحاشيۃ الشلبي (۳/ ۱۳)‘‘:
’’ولو نوی صوم القضاء والنفل أو الزکاۃ والتطوع أو الحج المنذور والتطوع يکون تطوعًا عند محمدؒ؛ لأنہما بطلتا بالتعارض، فبقي مطلق النيۃ فصار نفلًا، وعند أبي يوسفؒ يقع عن الأقوی ترجيحاً لہٗ عند التعارض، وہو الفرض أو الواجب۔‘‘
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144110200792
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن