بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

سیلاب کی تباہ کاریاں اور بنوری ویلفئیر فاؤنڈیشن کی فلاحی خدمات 

سیلاب کی تباہ کاریاں اور بنوری ویلفئیر فاؤنڈیشن کی فلاحی خدمات 

 

گزشتہ ماہ سے ملک بھر میں جاری سیلاب کی تباہ کاریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، خصوصاً جنوبی پنجاب میں سیلاب کےباعث ۵ ہزار سے زائد دیہات متاثر ہوئے، اور ۸۰ ہزار سے زائد افراد بےگھر ہوچکے ہیں۔ کئی جگہوںمیں سیلاب متاثرین کی کشتیاں اُلٹ گئی ہیں، جن میں کئی لوگ جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ۲۱؍ لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی رقبہ پر فصلوں کا نقصان ہوا ہے، جس سے پنجاب میں زرعی معیشت کو شدید جھٹکا لگا ہے۔ 
پنجاب کےبعد سیلابی ریلا سندھ میں داخل ہوا تو یہاں بھی ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں۔ دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے پر کئی بستیاں زیرِ آب آگئیں۔ سیلاب کی دوسری لہر سے پنجاب اور سندھ کی سرحد کی دریائی پٹی پر تباہی ہونے لگی اور دریائی پٹی کے متعدد دیہات کے زمینی رابطے منقطع اور فصلیں برباد ہوگئیں۔ شہر کراچی میں بھی بارش اور اس کے نتیجے میں سیلابی صورت حال پیدا تو ہوئی تھی، لیکن الحمدللہ! ابھی تک صورتِ حال کافی معمول پر آگئی ہے۔ ملیر ندی اور خاص کرلیاری ندی میں کئی دہائیوں بعد شدید طغیانی سے دونوں ندیاں دریاؤں میں تبدیل ہو گئیں، شہر کے مختلف علاقے زیرِآب آنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہوا اور گوٹھوں میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، کئی لوگ جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے۔ بارش کے باعث شہر کی اکثر سڑکیں بری طرح متاثر ہوچکی ہیں اور ٹریفک کی روانی کے لیے تکلیف دہ اور جان لیوا بن چکی ہیں۔
ظاہر ہے کہ ملک بھر میں سیلابی صورتِ حال کے باعث متاثرہ علاقوں میں کھانے پینے کی اشیاء، ادویہ اور جانوروں کے لیے چارے کی قلت کا سامنا ہے، چنانچہ جہاں حکومتی ادارے، فوج، نیوی، اور رینجرز کے اہل کار ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں، وہیں عوامی فلاحی اداروں خصوصاً دینی مدارس و مساجد اور علمائے کرام کے طبقے کی بڑی تعداد نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ حسبِ سابق جامعہ علومِ اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن نے بھی اپنی فلاحی خدمات کو جاری رکھتے ہوئے اب نئے عزم اور ولولے کے ساتھ منظم طور پر ’’بنوری ویلفیئر فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے باقاعدہ فلاحی خدمات کا تسلسل جاری کردیا ہے۔ رئیسِ جامعہ حضرت مولانا سید سلیمان یوسف بنوری، نائب رئیس حضرت مولانا ڈاکٹر سید احمد یوسف بنوری اور ناظمِ تعلیمات حضرت مولانا امداد اللہ صاحب دامت برکاتہم کی سرپرستی اور نگرانی میں یہ ادارہ الحمدللہ! فعال ہے۔ خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں خصوصاً بونیر جہاں سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی مچائی، نیز گلگت اور چلاس وغیرہ میں جامعہ کے وفد نےمتأثرینِ سیلاب میں امدادی سامان اور رقوم تقسیم کیں، اس کے بعد جنوبی پنجاب کے مختلف متأثرہ علاقوں ملتان، مظفر گڑھ، جلال پور پیروالا، احمد پور شرقیہ میں بھی ضرورت مندوں میں خیموں اور راشن کی صورت میں امداد کے ساتھ ساتھ کشتیوں کے ذریعے پانی میں ڈوبے ہوئے گھروں سے لوگوں، جانوروں اور اشیائے ضروریہ کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اہلِ خیر اور اہلِ ثروت احباب دُکھی انسانیت اور حُبّ الوطنی کے جذبے کے تحت ان متأثرین کی ہر اعتبار سے امداد و تعاون کو مزید بڑھادیں، تاکہ ان کی تکالیف کا کچھ مداوا ہوسکے۔
 اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کے حالات پر رحم فرمائے، سیلاب زدہ علاقوں کی بحالی کے لیے خزانۂ غیب اور مخلص احباب کے ذریعے مدد و نصرت فرمائے، سیلاب میں بہہ جانے والوں کی مغفرت فرمائے، زخمیوں کو صحت یاب فرمائے اور اُن کے مالی نقصانات کا جلد از جلد اِزالہ فرمائے۔ اللہ تعالیٰ ہماری جامعہ اور دوسری تمام تنظیموں کی فلاحی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت سے نوازے، آمین! 

وصلّی اللہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ سیّدنا محمّد وعلٰی آلہٖ وصحبہٖ أجمعین!
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے