بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

سیرت و کردار حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ  رضی اللہ عنہا 

سیرت و کردار زوجۂ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم 

حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ  رضی اللہ عنہا 


حضرت خدیجۃ الکبریٰ  رضی اللہ عنہا  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی سب سے پہلی رفیقۂ حیات ہیں، یوں تو آپؓ کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں، لیکن نمایاں وصف یہ ہے کہ اپنے مقدس شوہر کی ہر خوشی و غم میں شریک رہنے والی تھیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم  نے جب اعلانِ نبوت فرمایا تو بغیر کسی توقف کے ایمان لائیں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ہر قدم پر بھرپور نصرت فرمائی، تبلیغِ دین کی راہ میں جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کو ستایا جاتا، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تکذیب کی جاتی تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  ہی آپ کی دلجوئی فرمایا کرتیں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تسکینِ قلب کا باعث بنتیں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ہر ممکن اکرام فرماتیں، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کا غم دور ہو جاتا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  وہ پہلی خاتون تھیں جوآپ  صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لائیں او آپ کا ساتھ دیا۔ 
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  نے سختیوں اور پریشانیوں میںآپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی و تشفی دی اور آپ کا ساتھ دیا اور اپنا مال خرچ کرنے میں دریغ نہیں کیا اور آپ کو جو قدرت اور شہرت حاصل تھی اس کے ذریعہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی ہر طرح سے مدد کی، لہٰذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  آپؓ کو بہت زیادہ پسند کرتے تھے۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  ان صفات کے ساتھ آسمان میں چمکتے ہوئے ستارہ کی طرح ہیں۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کا مقام و مرتبہ اس قدر بلند و بالا تھا کہ خالقِ کائنات نے جبرائیل علیہ السلام  کے ذریعہ ان کو سلام بھیجا اور آپ کو بہت عظیم ثواب کا وعدہ دیا، ایسا عظیم ثواب جو آج تک کسی گزشتہ صحابیؓ کو نہیں ملا تھا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کے لیے حضرت مریم  رضی اللہ عنہا  کی طرح آسمانی دسترخوان نازل ہوتا تھا، جیسا کہ امام بخاری  رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ  سے روایت کی ہے کہ جبرائیل علیہ السلام  حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس آئے اور ایک بہشتی برتن میں بہشت کے کھانے لائے اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ دسترخوان خداوندِ عالم کی طرف سے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کے لیے ہے اور ان کو میرا سلام کہیے اور ان کو خوش خبری دیجیے کہ آپ کے لیے بہشت میں ایسا محل ہے جس میں کوئی شور اور سختی نہیں ہے۔ 
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کاآپ  صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا یہ عالم تھا کہ آپ سے منسلک ہر رشتہ کا اکرام فرماتیں۔ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہ سعدیہ  رضی اللہ عنہا  تشریف لائیں اور قحط سالی اور مویشیوں کے ہلاک ہونے کی رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  سے شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس سلسلے میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  سے بات کی تو انہوں نے حضرت حلیمہ سعدیہ  رضی اللہ عنہا  کو ۴۰؍بکریاں اور ایک اونٹ تحفتاً پیش کیا۔ (الطبقات الکبری، جلد :۱ ،صفحہ نمبر:۹۲) 
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق و دیانت کا تذکرہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ: ’’میرا مالِ تجارت لے کر شام جائیں، میرا غلام میسرہ آپ کے ہمراہ ہوگا۔‘‘ اور یہ بھی فرمایا: ’’جو معاوضہ میں آپ کے ہم قوموں کو دیتی ہوں، آپ  صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا دگنا دوں گی۔‘‘ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے حامی بھرلی اور بصریٰ (شام) کی جانب روانہ ہوگئے، وہاں پہنچ کر جو سامان ساتھ لے گئے تھے، اسے فروخت کیا اور دوسرا سامان خرید لیا، نیا سامان جو مکہ آیا تھا اس میں بھی بڑا نفع ہوا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  نے آمدنی سے خوش ہوکر جو معاوضہ طے کیا تھا اس کا دگنا ادا کیا۔
جناب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی نیک نامی، حسنِ اخلاق اور امانت و صداقت کی شہرت کے چرچے ہونے لگے جو ہوتے ہوتے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  تک بھی پہنچے، چنانچہ واپس آنے کے تقریباً تین ماہ بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  نے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے پاس شادی کا پیغام بھیجا، اس وقت ان کے والد کا انتقال ہوچکا تھا، لیکن ان کے چچا عمرو بن اسد زندہ تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  حضرت ابوطالب اور تمام رئوسائے خاندان، جن میں حضرت حمزہؓ بھی تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کے مکان پر آئے، حضرت ابوطالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  کا خطبۂ نکاح پڑھا اور پانچ سو درہم طلائی مہر قرار پایا۔ شادی کی تقریب بعثت سے پندرہ سال پیشتر انجام پذیر ہوئی، یہ پچیس عام الفیل تھا۔ 
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  سے نکاح کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا    ۲۴؍سال آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ساتھ رہیں۔ (سیرۃ خیرالانام  صلی اللہ علیہ وسلم  ، ص: ۵۸۳) آغازِ وحی کے وقت سے اُم المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا  نے نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی حمایت و معاونت کا فیصلہ کرلیا تھا اور وہ نبوت ملنے کی ابتدائی گھڑیوں میں ہی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لے آئی تھیں، سب سے پہلے حضرت خدیجہؓ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  پر ایمان لائیں۔ قبول اسلام کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کی عمر ۵۵ سال تھی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کے قبولِ اسلام سے اسلام کی اشاعت پر بڑا خوشگوار اثر پڑا، ان کے خاندان اور اعزہ و اقارب میں سے بہت سے لوگ اسلام لے آئے۔
شعبِ ابی طالب سے نکلنے کے چند روز بعد نماز فرض ہونے، یعنی واقعۂ معراج سے قبل ۱۰؍ رمضان، ۱۰ ؍نبوی کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  نے بعمر ۶۵ برس وفات پائی۔ یہ ہجرت سے تین سال پہلے کا واقعہ ہے۔ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  نے مقبرہ معلاہ میں مقامِ جحون میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کو دفن کیا، خود قبر میں اُترے، اسی سال آپ رضی اللہ عنہا  کے چچا حضرت ابوطالب نے وفات پائی، ان دونوں عزیزوں کی وفات سے آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کو بے حد صدمہ ہوا، اسی نسبت سے اس سال کو عام الحزن کہا جاتا ہے۔
قبولِ اسلام کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کی دولت و ثروت تبلیغِ دین و اشاعتِ اسلام کے لیے وقف ہوگئی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کو یہ فضیلت حاصل ہے کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ  کے علاوہ آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کی تمام اولاد انہی سے پیدا ہوئی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  کی وفات کے بعد آپ  صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اکثر یاد کیا کرتے تھے اور اُن کی خدمات کا اعتراف کرکے فرمایا کرتے تھے کہ: ’’خدیجہؓ نے اس وقت میری تصدیق کی اور مجھ پر ایمان لائی جب لوگوں نے میری تکذیب کی۔ خدیجہؓ نے مجھے اپنے مال و منال میں شریک کرلیا۔‘‘ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  میں اتنی خوبیاں تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  زندگی بھر انہیں یاد کرتے رہے۔ حضرت جبرائیل  علیہ السلام  بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ کا سلام لے کر آتے تھے۔
اللہ عزوجل ہمیں اُم المؤمنین حضرت خدیجہ  رضی اللہ عنہا  کی سیرت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے