
سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما اپنے علمی مقام میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت کے ممتاز ترین افراد میں سے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے وقت آپؓ کی عمر تیرہ برس تھی۔ بعد میں آپ ایک طویل عرصہ زندہ رہے اور اپنے علمی فیوضات سے اُمت کو فائدہ پہنچاتے رہے، چنانچہ آپؓ کے شاگردوں میں تابعینؒ کی ایک جماعت ہے جو اپنے علم وفضل میں یکتا ہے۔
آپ کے تذکرہ نگار آپ کو ترجمان القرآن، بحر العلم (علم کا سمندر) اور حبر الامہ (اُمت کا بڑا عالم) کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ امامِ تفسیر مجاہد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما اپنے علم کی کثرت کی وجہ سے بحر العلم (علم کا سمندر) کہلائے جاتے تھے۔ (مستدرک للحاکم ؒ، ذکر عبداللہ بن عباسؓ، رقم:۶۲۸۵)
ترجمان القرآن آپ کا ایسا لقب ہے جس سے ایک روایت کے مطابق خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو سرفراز فرمایا، چنانچہ ابو نعیم اصبہانی ؒ ’’معرفۃ الصحابۃؓ‘‘ میں اپنی سند سے بیان کرتے ہیں:
’’عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍؓ، قَالَ: دَعَا لِيْ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِخَيْرٍ کَثِيْرٍ، وَقَالَ: نِعْمَ تَرْجُمَانُ الْقُرْاٰنِ اَنْتَ۔‘‘
’’حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خیرِکثیر کی دعا دی اور ارشاد فرمایا کہ: تو کتنا اچھا قرآن کا مفہوم بیان کرنے والا ہے۔‘‘ (معرفۃ الصحابۃؓ، ۳/۱۷۰۱، حدیث:۴۲۵۴)
اس ممتاز علمی مقام کی اصل وہ دعا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے حضرت ابنِ عباسؓ کے حق میں کی گئی تھی۔ سیدنا ابنِ عباسؓ فرماتے ہیں کہ: میں اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کی ضرورت ہوئی تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پانی کا برتن رکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وضو سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :یہ کس نے رکھا؟ اُم المؤمنین نے فرمایا :ابنِ عباس نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہوکر دعا دی:
’’اللّٰھم فقھہ في الدین وعلّمہ التأویل‘‘ (الإصابۃ:۴/۱۲۴، دارالکتب العلمیۃ)
’’اے اللہ! اسے دین کی سمجھ دے اور قرآن کی تفسیر سکھا دے۔‘‘
حضرت طاؤسؒ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، میری پیشانی پر ہاتھ پھیرا اور مجھے دعا دی :
’’اللَّہمّ علّمہ الحکمۃ وتأويل الکتاب۔‘‘ (الإصابۃ:۴/۱۲۴، دارالکتب العلمیۃ)
’’یا اللہ! اسے حکمت اور قرآن کی تفسیر سکھائیے۔‘‘
چنانچہ اس دعا کی برکت سے آپ کو علومِ قرآنی، علوم الحدیث، فقہ، لغتِ عرب وغیرہ سے وافر حصہ ملا۔ بالخصوص تفسیرِ قرآن میں آپ کو وہ بلند مقام ملا کہ ترجمان القرآن کا لقب آپ کے ساتھ خاص ہوگیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں جن حضرات کو تفسیرِ قرآن میں خصوصیت حاصل ہے اور جن کے اقوال کو بعد میں آنے والے اہلِ علم نے نقل کیا ہے، مندرجہ ذیل ہیں:
۱- حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
۲- حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما
۳- حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ
ان میں بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیرِ قرآنی کے متعلق روایات کثرت سے نقل کی گئی ہیں۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ’’ابنِ عباسؓ قرآن کے بہترین مفسر ہیں۔‘‘ (مستدرک للحاکمؒ، ذکر عبداللہ بن عباسؓ، رقم:۶۲۹۱)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے علم کے کس قدر مدّاح تھے، اس کا اندازہ ان کے اس توصیفی ارشاد سے ہوتا ہے:
’’اگر ابنِ عباس رضی اللہ عنہما ہماری عمروں کو پا لیتے تو ہم اُن کے علم کے دسویں حصے کو بھی نہ پاسکتے، (چونکہ کبار صحابہؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ اور علم سیکھنے کا موقع زیادہ ملا تھا)۔ ‘‘ (الاستیعاب، ج:۳، ص:۹۳۵، دارالجیل، بیروت)
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہؓ کی موجودگی میں کم عمر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سورۃ النصر کی تفسیر پوچھی اور پھر اس پر اطمینان کا اظہار کیا جو ابنِ عباس ؓ کی تفسیر میں مہارت کا واضح ثبوت ہے۔
عمروبن حبشیؒ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آیت کے متعلق پوچھا، انہوں نے مجھے کہا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس جاؤ، باقی رہ جانے والے لوگوں میں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے علم سے سب سے زیادہ واقف ہیں۔
علمِ تفسیر میں آپ ؓ کی جلالتِ شان کے باوصف آپ کے تفسیری اقوال کو خصوصی ترجیح حاصل ہے۔ تاہم اس معاملے میں آپ سے منقول تفسیر کی سندی حیثیت پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے، کیونکہ بسااوقات ایک میدان کے ’’مسلّم الثبوت‘‘ شخصیت کی طرف ایسی باتوں کی نسبت کردی جاتی ہے جن سے وہ بری ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے تفسیری ارشادات میں اُن کو ترجیح ہوگی جو حدیث کی ’’مسلّم الثبوت‘‘ کتب میں منقول ہیں اور جن کو نقدِ حدیث کے مختلف پیمانوں پر پرکھا جا چکا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے تفسیری ارشادات پر مشتمل ایک کتاب ’’تنویر المقیاس من تفسیر ابن عباسؓ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے، جسے ابو طاہر محمد بن یعقوب فیروز آبادیؒ صاحبِ ’’قاموس المحیط‘‘ نے جمع کیا ہے، مصر سے کئی دفعہ شائع ہوئی۔ پاکستان سے بھی شائع ہوچکی ہے، عام طور پر اسے تفسیرِ ابنِ عباسؓ کہا جاتا ہے۔ اس تفسیر کے حوالے سے علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کا تجزیہ استاذ ِ محترم حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم کے قلم سے ملاحظہ فرمایا جائے:
’’ہمارے زمانے میں ایک کتاب ’’ تنویر المقیاس في تفسير ابن عباسؓ‘‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے، جسے آج کل عموماً ’’تفسیر ابن عباسؓ‘‘ کہا اور سمجھا جاتا ہے، لیکن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی طرف اس کی نسبت درست نہیں، کیونکہ یہ کتاب ’’محمد بن مروان السدي عن محمد بن السائب الکلبي عن أبي صالح عن ابن عباسؓ‘‘ کی سند سے مروی ہے، جسے محدثین نے ’’سلسلۃ الکذب(جھوٹ کا سلسلہ)‘‘ قرار دیا ہے، لہٰذا اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔‘‘ (علوم القرآن، ص:۴۵۸)
واضح رہے کہ ’’سلسلۃ الکذب(جھوٹ کا سلسلہ)‘‘ کی ترکیب، محدثین کے نزدیک ’’سلسلۃ الذہب‘‘ (سونے کا سلسلہ / سونے کی زنجیر) کے مقابلے میں تخلیق کی گئی ہے۔
سلسلۃ الذہب(سونے کی زنجیر) کی سند یوں ہے:
’’الشافعي عن مالک عن نافع عن ابنعمرؓ ‘‘
واضح رہے کہ یہ تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خود کی تحریر کردہ نہیں ہے، جیسا کہ عموماً تأثر دیا جاتا ہے، بلکہ یہ تفسیر ابو طاہر محمد بن يعقوب الفيروز آبادی الشافعی (المتوفی : ۸۱۷ھ) کی تالیف ہے، جس میں انہوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے تفسیری اقوال ’’کلبي عن أبي الصالح‘‘ کی روایت سے نقل کیے ہیں۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: کلبی کی تفسیر اول سے لے کر آخر تک سب جھوٹ ہے، اس کو پڑھنا بھی جائز نہیں ہے۔ (ازالۃ الریب، حضرت مولانا سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ ، ص:۳۱۶، ۳۱۷، بحوالہ تذکرۃ الموضوعات: ص: ۸۲)
علامہ محمد طاہر الحنفیؒ لکھتے ہیں کہ کمزور ترین روایت فنِ تفسیر میں ’’کلبي عن أبي صالح عن ابن عباسؓ‘‘ ہے اور جب اس کے ساتھ ’’محمد بن مروان السدي الصغیر‘‘ بھی مل جائے تو پھر تو یہ جھوٹ کا ایک پلندہ ہے۔ (ایضاً، بحوالہ تذکرۃ الموضوعات، ص:۸۲ ۔ إتقان، ج:۲، ص:۱۸۹)
جب رئیس المفسرین عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب تفسیر قابلِ اعتماد نہیں تو آپ کے تفسیری اقوال سے استفادے کی کیا صورت ہو؟
اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب تمام اقوال کو محدثین کے اصولِ حدیث پر پرکھا جائے گا۔ توثیق و تضعیف اور رواۃ کی جرح و تعدیل کے انہی پیمانوں کو استعمال کیا جائے گا جو دیگر احادیث کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ جس طرح کتبِ احادیث میں نقل کردہ دیگر احادیث کی سند کو دیکھا جاتا ہے، ایسے ہی حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی بیان کردہ تفسیر کی سند کو دیکھ کر صحت وسقم کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس حوالے سے جہاں طریق ’’محمد بن مروان السدی عن الکلبي عن أبي صالح عن ابن عباسؓ‘‘ کو ’’سلسلۃ الکذب‘‘ قرار دیا ہے، وہاں ہمارے دور میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے حوالے سے اہم اور گرانقدر کام ایسے بھی ہوئے ہیں جن کے ہوتے ہوئے ’’تنویر المقیاس‘‘ نامی تفسیر کی ضرورت نہیں رہتی۔
کتاب ’’تفسير ابن عباسؓ ومروياتہ في التفسير من کتب الستۃ‘‘ مؤلف: عبدالعزیز بن عبد اللہ الحميدی۔
دوسری کتاب ’’ابن عباسؓ ومنہجہٗ في التفسير، وتفسيراتہ الصحيحۃ في الثلث الأول من القرآن‘‘ مؤلف : آدم محمد علی۔
’’تفسير ابن عباسؓ ومروياتہ في التفسير من کتب السنۃ‘‘ کے مؤلف ڈاکٹر عبدالعزیز بن عبداللہ الحمیدی نے کتبِ ستہ سے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیری روایات کو جمع کیا ہے اور ان کی سند پر بحث بھی کی ہے، اس کو جامعہ ام القریٰ نے شائع کیا ہے۔ یہ درحقیقت دکتوراہ(پی ایچ ڈی) کا مقالہ ہے جس میں ہر روایت پر شراحِ حدیث کے نقد کو ذکر کرکے مقام ومرتبے کا تعین کیا گیا ہے۔ تفسیرِقرآن کی یہ ایک گرانقدر خدمت ہے اور اس سے حضرت ابنِ عباسؓ کے صحیح تفسیری اقوال تک رسائی ہوتی ہے۔ اس کتاب کے مقدمے میں محقق دکتور عبدالعزیز الحمیدی نے حضرت ابنِ عباسؓ کی تفسیر یعنی ان کی طرف منسوب تفسیری اقوال کو اخذ کرنے کے حوالے سے اہلِ علم میں تین رجحانات ذکر کیے ہیں، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:
q-ایک طبقہ وہ ہے جس نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی طرف منسوب ہر تفسیر کو لیا، مثلاً مفسرین میں سے ثعلبی ؒ اور واحدیؒ، لہٰذا ان حضرات کی تفسیر میں بہت سی موضوع روایات بھی شامل ہوگئیں۔
w- دوسرا طبقہ وہ ہے جس نے حضرت ابنِ عباسؓ سے منسوب ان ہی روایات کو لیا جن کی نسبت حضرت ابنِ عباسؓ سے صحیح طور پر ثابت ہوئی۔ تاہم اس طبقےنے حضرت ابنِ عباسؓ کی مرویات میں سے تھوڑی روایات کو لیا، مثلاً امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ۔
e- تیسرا طبقہ وہ ہے جس نے احادیثِ موضوعہ سے بوجہ ان کے رواۃکے جھوٹ میں مشہور ہونے کی بنا پر اجتناب کیا ہے، لیکن انہوں نے صحیح اور ضعیف روایت کو خلط ملط کردیا ہے، جیسے وہ مفسرین جنہوں نے اپنی تفاسیر میں صحابہؓ وتابعینؒ کی تفاسیر نقل کرنے کا اہتمام کیا، جیسا امام ابنِ جریر وابنِ حاتم ؒ نے کیا۔ علمائے حدیث میں سے جن حضرات نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر کے کچھ حصے نقل کیے، ان میں امام احمد، عبدالرزاق صنعانی، ترمذی، حاکم وبیہقی رحمۃ اللہ علیہم ہیں۔ متاخرین مفسرین میں سے بڑی تعداد نے ان روایات کو بلا تمیز نقل کردیا ہے، البتہ بعض مفسرین عقائد و احکام جیسے اہم موضوعات کی آیات سے متعلق روایات کا ضعف ظاہر کردیتے ہیں، جیسا کہ حافظ ابنِ کثیر ؒ کرتے ہیں۔ ( مقدمہ تفسیر ابن عباسؓ، شیخ د- عبدالعزیز الحمیدی، جامعہ ام القریٰ)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے تفسیری اقوال کو ایک جماعت نے نقل کیا ہے۔ امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ان میں سے جید ترین علی بن طلحہ ہاشمیؒ کا طریق ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی صحیح میں بھی اکثر اسی طریق پر اعتماد کیا ہے۔ علی بن طلحہؒ کا سماع ابنِ عباسؓ سے ثابت نہیں، بلکہ وہ ابنِ عباسؓ کے شاگردوں حضرت مجاہدؒ یا حضرت سعید بن جبیر سے ابنِ عباسؓ کے اقوال نقل کرتے ہیں۔ حافظ ابنِ حجر ؒ فرماتے ہیں کہ واسطہ جان لینے کے بعد جبکہ وہ ثقہ بھی ہو‘ کچھ مضر نہیں۔ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: مصر میں تفسیر کا ایک صحیفہ ہے جسے علی بن طلحہؒ نے روایت کیا ہے، اگرآدمی اس کے لیے مصر کا سفر کرے تو ایک بڑی چیز کا ارادہ کرنے والا ہوگا۔ (الإتقان، ۴/۲۳۷، الھیئۃ المصریۃ)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی تفسیر اور ان کے علم کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی، ان کی تفسیر کے ماخذ درج ذیل ہیں:
1- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سےحاصل کردہ علم
2- صحابہ کبار رضی اللہ عنہم سےحاصل کردہ علم
3- لغتِ عرب اور شعرِ جاہلی سےاستشہاد۔
عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں کہ حضرت ابنِ عباسؓ سے جب کوئی سوال کیا جاتا تو اگر اس کا جواب قرآن میں پاتے تو بتادیتے، پھر اگر قرآنِ کریم میں نہ پاتے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اس کے متعلق پاتے تو خبر کردیتے، اگر حدیثِ رسول میں بھی اس کا جواب نہ پاتے تو حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہما کا کوئی جواب اس کے متعلق ہوتا تودے دیتے، ورنہ اپنی رائے ظاہر فرماتے۔
عبداللہ بن برید کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کو برا بھلا کہا ۔ آپؓ نے فرمایا کہ تومجھے برا کہتا ہے، حالانکہ مجھ میں تین خصلتیں ہیں:
1-ایک یہ کہ میں مسلمانوں کے کسی حاکم کو عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے والا پاتا ہوں تو اس سے محبت کرتا ہوں، حالانکہ میں خود اس کے پاس شاید کبھی بھی فیصلہ لے کرنہ جاؤں۔
2-دوسری یہ کہ جب میں مسلمانوں کے کسی شہر میں بارش ہونے کا سنتا ہوں توباوجود یہ کہ میرے وہاں مویشی نہیں ہوتے، پھر بھی مجھے خوشی ہوتی ہے۔
3-تیسری یہ کہ جب میں قرآن کریم کی کسی آیت کو پڑھتا ہوں تو میرادل چاہتا ہے کہ اس آیت کے متعلق ہر مسلمان کے پاس ایسا ہی علم ہو، جیسا میرے پاس ہے۔ (الإصابۃ: ۴/۱۲۹)
حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت سے دینی علوم کی تما م شاخوں میں کمال عطا کیا گیا تھا۔ تاہم تفسیرِ قرآن آپ کا خصوصی میدان تھا، آپ سے تفسیری روایات اور دیگر احادیث کثرت کے ساتھ نقل کی گئی ہیں۔ حافظ ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ آپ سے نقل کردہ احادیث کی تعداد ۱۶۶۰ ہے، جن میں سے ۷۵ صحیح بخاری ومسلم میں موجود ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء:۳/۳۵۹، رسالہ)
آپ کے شاگردوں میں تابعین کی ایک بڑی جماعت ہے۔ ان میں سے بعض تلامذہ کو تفسیرِ قرآن کے حوالے سے زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ انہیں مفسرین کے اس طبقے میں شمار کیا جاتا ہے، جسے اہلِ مکہ کہا جاتا ہے۔ اس طبقہ کو تفسیرِ قرآن میں سب سے زیادہ جاننے والا (أعلم الناس بالتفسیر) کا شرف حاصل ہے۔ تابعینِ کرام کے اس طبقے میں سیدنا عبداللہ بن عباسؓ کے خصوصی اصحاب مجاہد بن جبر، سعید بن جبیر، عکرمہ مولیٰ ابن عباسؓ، طاؤس اور عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہم شامل ہیں ۔