
مؤرخہ ۱۳،۱۴ دسمبر ۲۰۲۵ء کو ہندوستان کے معروف دینی ادارے ’’دار العلوم وقف دیوبند‘‘ (انڈیا) میں ’’علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ - حیات، افکار اور خدمات‘‘ کے وقیع عنوان سے دو روزہ علمی سیمینار منعقد ہوا، اس سیمینار میں لگ بھگ دو سو اہلِ علم نے علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی حیات اور علمی خدمات کے متعلق علمی مقالات کے خلاصے پیش کیے اور اکابر علماء نے حضرت شاہ صاحبؒ کے متعلق تأثرات کا اظہار کیا۔ استاذِ جامعہ مولانا محمد یاسر عبداللہ صاحب نے بھی ’’دار العلوم وقف دیوبند‘‘ کے اربابِ اہتمام کی دعوت پر جامعہ کے شعبہ ’’مجلسِ دعوت وتحقیقِ اسلامی‘‘ کی شائع کردہ علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’الإتحاف لمذہب الأحناف‘‘ کے متعلق تعارفی وتجزیاتی مقالہ قلم بند کرکے ارسال کیا تھا، افادۂ عام کی غرض سے یہ مقالہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔ (ادارہ)
علامہ محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ماضی قریب کے ایک متبحّر عالم، عظیم محقِّق، باکمال محدّث اور یگانہ فقیہ تھے۔ بلاشبہ وہ ’’نادرۂ روزگار‘‘ اور ’’عبقریِ زمانہ‘‘ جیسے اعلیٰ اوصاف کے حامل تھے، اور تاریخِ اسلامی کی ان چُنیدہ ہستیوں میں سے تھے جن کے بارے میں کہا گیا ہے: ’’لمْ تَرَ العيونُ مثلَہٗ، و لمْ يَرَ ھو مثلَ نفسِہٖ‘‘ (نہ اُن جیسا کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ انہیں اپنے جیسی کوئی ہستی نظر آئی!)۔
علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی علمی اشتغال میں بسر ہوئی، بچپن سے بڑھاپے تک وہ خوانِ علم کے خوشہ چیں رہے اور طالبانِ علم کو سیراب کرتے رہے، کئی دہائیوں پر محیط تدریسی زندگی میں ہزاروں تشنگانِ علم نے ان سے استفادہ کیا۔ نیز تدریس کے ساتھ تصنیف وتالیف کے عمل میں بھی مشغول رہے۔ علامہ موصوف کی تالیفات کی تعداد زیادہ تو نہیں، لیکن انہوں نے جو علمی ترکہ چھوڑا، بلاشبہ وہ ’’بقامت کہتر بقیمت بہتر‘‘ کا مصداق ہے۔
پیشِ نظر تحریر میں حضرت علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کی ایک اہم تالیف کا تعارفی جائزہ مقصود ہے، جو حال ہی میں جامعہ علومِ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شعبہ تصنیف وتالیف سے تحقیق وتخریج کے ساتھ دو جلدوں میں شائع ہوکر منظرِ عام پر آئی ہے۔ علامہ موصوف کی یہ کتاب ان کے علوم ومعارف کا خزینہ، برس ہا برس مطالعہ وتحقیق کا ثمرہ اور علومِ انوری کے شائقین کے لیے عظیم تحفہ ہے۔
علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے نامور شاگرد اور اُن کے علوم کے امین، مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے:
’’خدا تعالیٰ نے مجھے اس عہد میں حنفیت کے استحکام کے لیے پیدا کیا ہے۔‘‘
ایک موقع پر یہ بھی فرمایا کہ:
’’میں نے حنفیت کو اس درجہ مستحکم کردیا ہے کہ اب ان شاء اللہ! سو سال تک اس میں کوئی اضمحلال پیدا نہیں ہوسکتا۔‘‘(۱)
مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے تھے:
’’ہم نے اپنی عمر کے تیس سال یہ دیکھنے لیے صرف کردیے کہ فقہ حنفی، حدیث کے مطابق ہے یا نہیں؟ سو ہم اپنی تیس سالہ محنت کے بعد قطعاً مطمئن ہیں، جہاں جس درجہ کی حدیث دوسرے فقہاء کے پاس ہے اس درجہ کی حدیث امام ابوحنیفہ ؒ کے پاس بھی ہے، اور جہاں حدیث نہ ہونے کی بنا پر امام اعظم ؒ نے مسئلہ کی بنیاد قیاس واجتہاد پر رکھی ہے وہاں دوسروں کے پاس بھی حدیث نہیں۔‘‘(۲)
ایک اور موقع پر یوں گویا ہوئے:
’’میں اپنی طویل کاوشوں کے نتیجہ میں مطمئن ہوں کہ فقہ حنفی‘ مضبوط احادیث سے مؤید ہے۔‘‘(۳)
فقہِ حنفی کے تعلق سے مذکورہ اقوالِ انوری کے ساتھ اُن کے لختِ جگر مولانا محمد انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کا درج ذیل اقتباس جوڑ لیجیےتو مُدّعا واضح ہوجائے گا:
’’موصوف (حضرت شاہ صاحب ؒ ) نے (’’آثار السنن‘‘ کی) دونوں جلدوں پر نہایت قیمتی اور فاضلانہ حواشی درج فرمائے، جن میں ہزار ہا ہزار کتابوں کے بقیدِ صفحات حوالے موجود ہیں۔ یہ ’’مرحوم کی زندگی کا حاصل‘‘، اور ’’حنفیت کی تائید واستحکام کی مضبوط کوشش‘‘ ہے، مگر افسوس کہ عوام بلکہ خواص بھی اس سے استفادہ نہیں کرسکتے ۔۔۔۔۔ جیسا کہ معلوم ہے کہ دوچار کتابوں کو چھوڑ کر علامہ کا اکثر تصنیفی وتالیفی سرمایہ بھی انہی مسائل پر ہے جن پر احناف کا دوسرے فقہی مکاتب سے اختلاف رہا، مثلاً: ’’فصْل الخِطاب في مسألۃ أمِّ الکتاب‘‘، ’’کشف الستر عن صلاۃ الوتر‘‘، ’’بسْط اليدين في مسألۃ رفع اليدين‘‘، ’’نيل الفرقدين في مسألۃ رفع اليدين‘‘، اور اس طرح آپ کی جو املائی تقریریں قلم بند کی گئیں، ان کے اہم مباحث، حنفیت کے روشن چراغ کے لیے کارآمد روغن کی حیثیت رکھتے ہیں ۔‘‘ (۴)
یہی وجہ ہے کہ حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ ان حواشی کو ’’سرمایۂ زندگی‘‘ سمجھتے ، اور عمرِ عزیز کے آخری برسوں میں ان کی تخریج کے لیے فکر مند تھے۔ نیز اپنی دیگر تصانیف میں متفرق مقامات پر مزید تفصیل کے لیے ان حواشی کے حوالے دیتے دکھائی دیتے ہیں۔(۵)
علامہ سید محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ ، ’’الإتحاف لمذہب الأحناف‘‘ کا تعارف کراتے ہوئے اپنے گہربار قلم سے یوں رقم طراز ہیں:
’’کان لِعلمـاء الہندِ - الغيرِ المنقسمۃِ - عنايۃٌ خاصۃٌ بعلوم الحديث في ہٰذہ القرون الأخيرۃِ؛ بعدَ انتہاء القرن التاسع، حين بدأ الضُّعفُ فيہا في البلاد العربيۃ، فألَّفوا فيہا کتبًا لا تزال تبقی غرۃً في جبين الدہر، ثم امتاز من بينہم طائفۃٌ في الجمع بين ذوق الحديث والفقہ، وتطبيق المذہب الحنفي بالأحاديث الصحيحۃ، المخرَّجۃِ في أمَّہات کتبِ الحديث والسنۃ، ومنہم: الشيخ ظہير أحسن النيموي البِہَارِي۔
وکان رجالٌ من المشتغلين بالحديث نَزَغَتْ فيہم نزغۃُ الطعن في أدلۃ مذہبِ فقيہِ الأمۃ أبي حنيفۃ، بأنَّہا تخالفُ الأحاديثَ الصحيحۃَ؛ فاضطرَّ إلی تأليفٍ في جمع رواياتٍ صحيحۃٍ توافقُ مذہبَ الإمامِ، علی طرازِ کتابِ ’’العمدۃِ‘‘ للمقدسي، و’’المنتقی‘‘ للمجد ابن تيميۃ، و’’بلوغ المرام‘‘ للحافظ ابن حجرؒ، وغيرِہا من مؤلفاتٍ خاصۃٍ في الأحکامِ، وسمَّـاہ: ’’آثار السنن‘‘، في جزئين لطيفين، ولکنَّہٗ لم يتمَّ. ثم علَّقَ عليہ تعليقاتٍ متينۃً من بحثٍ علميٍّ ونقدٍ نزيہٍ۔ وکان کلما يؤلِّف قطعۃً من کتابہ .. يرسلہا إلی المحدّث الکبير، إمامِ العصرِ الشيخِ محمد أنور الکشميري، الذي کان آيۃً من آياتِ اللہ في الجمعِ بين التبحُّرِ في العلوم، ودقّۃِ النظرِ، والذوقِ السليمِ المعتدلِ، والاطلاعِ الواسعِ علی مذاہبِ فقہاءِ الأمۃِ ببصيرۃٍ نافذۃٍ، وکان قد اشتہر صِيْتُہٗ في أقطارِ الہندِ في ريعان شبابِہٖ، فکان الشيخ يُبْدِيْ من أفکارٍ وآراءٍ .. من نقضٍ وإبرامٍ، ونقصٍ وإتمامٍ، وکأنَّ الشيخ کان مرافقًا لہٗ في ذلک التأليفِ، کمـا ذکرہ في ’’نيل الفرقدين‘‘۔
ولا ريبَ أن الشيخَ کان مبتہجًا بکتابِہٖ، مُعْجَبًا بأسلوبِہٖ۔ فلمَّـا تمَّ طبع الکتابِ .. أخذَ الشيخُ ليطالعَہٗ، ويزيدَ عليہ من أدلۃٍ، وأبحاثٍ، ونکاتٍ، وفوائدَ، وغررِ نقولٍ، ما يساويْ بعضُہا رحلۃً، ويقيِّدُہا علی ہامشہ، وطرَرِہ، وبين أسطرِہ، بکلِّ بابٍ ما يلائمُہ، وکلَّمـا مرَّ عليہ شيءٌ لہ صِلۃٌ بالموضوع في مطالعتہ، قيَّدَہٗ ہناکَ؛ إمَّا بنقل عبارۃٍ، أو حوالۃٍ؛ برمزِ صفحۃٍ مرقومۃٍ إن کان الکتاب مطبوعًا، أو نقلِ لفظِہٖ إن کان مخطوطًا؛ فتارۃً بعبارۃٍ، وتارۃً بإشارۃٍ، أو بدا لہ شيءٌ من تأييدٍ وترديدٍ .. قيَّدَہٗ ہناک، حتی أصبحتْ صفحۃُ الکتابِ کالوشيِ الدَّقِيقِ، فجاءتْ فيہ نفائسُ منْ أفکارِہٖ، وبدائعُ من غررِ نقولٍ بکلِّ بابٍ۔ وکنتُ قدِ اشتغلتُ برہۃً بتخريجِ تلکَ الحوالاتِ، واستخراجِ تلکَ العباراتِ بأمرِہٖ، فکانتْ صفحۃٌ واحدۃٌ من الکتاب تخريجُہٗ يملأ عدَّۃَ أوراقٍ، وکان يتمنَّی أنْ لو طُبِعَ ذلک التخريجاتُ۔۔ لنفعتْ أہلَ العلم۔ فہٰذہ ہي مذکِّرۃٌ لہ، ماثِلۃٌ أمامَکَ بنصِّہا وفصِّہا، بقلم الشيخ نفسِہ وخطِّہ، فقَامَ المجلسُ العلميُّ في عاصمۃِ ’’المملکۃِ الکبری الإسلاميۃِ‘‘ بتقديمِ ہذہ المذکِّرۃِ في صورتِہا الأصليۃِ؛ إبقاءً لذکری ہذا الإمامِ الجليلِ، وتخليدًا لمآثرِہ الجليلۃِ، وتقديرًا لمفاخرِہ النبيلۃِ، ونفعًا للأمۃِ الإسلاميۃِ، وحرصًا علی حفظِ آثارِہ العلميۃ۔‘‘
ترجمہ: ’’غیر منقسم ہندوستان کے علماء کو نویں صدی کے بعد ان آخری صدیوں میں علومِ حدیث سے غیر معمولی شیفتگی رہی، جب دیارِ عرب میں ان علوم کے تئیں ضعف پیدا ہونے لگا تھا، اس وقت سرزمینِ ہند کے اہلِ علم نے (علومِ حدیث کے باب میں) ایسی گراں مایہ تصانیف پیش کیں جو تاریخِ علم کی جبیں پر سدا جگمگاتی رہیں گی۔ ان اہلِ علم میں ایک جماعت، ذوقِ حدیث وفقہ اور امہاتِ کتبِ حدیث وسنت میں تخریج شدہ صحیح احادیث کے ذریعے مذہبِ حنفی کی تائید میں نمایاں تھی، شیخ ظہیر احسن نیموی بہاری اسی یگانہ گروہ کا ایک فرد تھے۔
اس دور میں علومِ حدیث میں مشغول ایک طبقہ میں فقیہِ اُمت امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب کے دلائل پر تنقید کا رجحان عام ہوا کہ یہ دلائل‘ صحیح احادیث کے خلاف ہیں۔ اس نقطۂ نظر کے سدّباب کے لیے شیخ نیمویؒ نے عزم کیا کہ امام موصوف کے مذہب کے موافق دلائل یکجا کیے جائیں، اور اس کتاب کا طرزِ تالیف حافظ مقدسیؒ کی ’’العمدۃ‘‘، مجد الدین ابن تیمیہؒ کی ’’المنتقی‘‘، حافظ ابن حجرؒ کی ’’بلوغ المرام‘‘ اور خاص طور پر احادیثِ احکام کے موضوع سے وابستہ دیگر کتب کے اسلوب کے مطابق ہو، چنانچہ موصوف نے ’’آثار السنن‘‘ کے نام سے دو لطیف جلدوں میں کتاب تصنیف کی، لیکن اسے پایۂ تکمیل تک نہ پہنچا پائے، بعد ازاں انہوں نے کتاب پر علمی تحقیق اور منصفانہ تنقید سے گُندھے ہوئے ٹھوس حواشی قلم بند کیے۔
شیخ نیموی ؒ جب کتاب کا کچھ حصہ تالیف کرتے، تو (شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی ؒ کے ایماء پر) اسے محدّثِ کبیر، امامِ عصر، شیخ محمد انور شاہ کشمیری ؒ کی خدمت میں ارسال فرماتے، جو علومِ شرعیہ میں تبحّر، دقتِ نظر، اعتدال کا دامن تھامے ذوقِ سلیم، اور فقہاء امت کے مذاہب کے تئیں گہری بصیرت کے ساتھ وسیع علم رکھتے تھے، عنفوانِ شباب میں ہی ہندوستان کے گوشے گوشے میں ان کا شہرہ ہوچکا تھا۔ چنانچہ شیخ کشمیری ؒ مسودہ کے متعلق نقد واصلاح اور تکمیل واضافہ کی صورت میں اپنی آراءوافکار کا اظہار کرتے، گویا شیخ کشمیریؒ، کتاب کی تالیف کے سفر میں مصنف کے رفیقِ راہ رہے، (شیخ کی کتاب) ’’نیل الفرقدین‘‘ میں اس کا تذکرہ ملتا ہے۔
بلاشبہ شیخ اس کتاب سے شاداں وفرحاں اور اس کے اُسلوب کے گرویدہ تھے، اس لیے جب کتاب زیورِ طبع سے آراستہ ہوکر سامنے آئی تو حضرت شیخ نے اس کا مطالعہ شروع کیا، اور ہر بحث سے متعلق دلائل وابحاث، نکات وفوائد اور گراں قیمت نصوص کا اضافہ فرماتے رہے، ان اضافات میں سے بعض اس لائق ہیں کہ ان کی خاطر مستقل اسفار کیے جائیں، کتاب کے حواشی اور بین السطور میں ہر باب کے مناسب تحقیقات قلم بند کرتے رہے۔ نیز دورانِ مطالعہ جب کبھی موضوع سے متعلق کوئی نکتہ سامنے آتا تو اسے اس کتاب کے متعلقہ مقام پر درج فرمالیتے؛ اگر مطبوعہ کتاب ہوتی تو کبھی عبارت نقل کردیتے، اور کبھی اشارتاً مرقومہ صفحہ کا حوالہ لکھ دیتے، اور مخطوط کتاب کی عبارت ہی نقل کرتے، یوں کبھی عبارت نقل کرتے اور کبھی اشارہ فرمادیتے۔ نیز کبھی متعلقہ بحث کے بارے میں اپنی تحقیق کی روشنی میں تائیدی یا تنقیدی رائے قلم بند فرماتے۔ یوں کتاب کا ایک ایک صفحہ دقیق ریشمی نقش ونگار کا ایک نمونہ بن گیا، اور ہر باب کے متعلق شیخ کے نفیس افکار اور لعل وجواہر کی مانند گراں قدر عبارتیں ان حواشی میں یکجا ہوگئیں۔
ایک زمانہ میں (حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کی تعمیل میں) میں ان حوالہ جات اور عبارات کی تخریج میں مشغول رہا، کتاب کے ایک ایک صفحے کی تخریج کئی کئی اوراق کو بھر دیتی تھی۔ حضرت شیخ ؒ کی آرزو تھی کہ یہ تخریجات طبع ہو جائیں تو اہلِ علم کے لیے ایک نفع بخش خزانہ ثابت ہوں گی۔
بہر کیف! وہی یادداشت اپنی روح وجوہر کے ساتھ اور حضرت شیخ کے قلم وطرزِ نگارش سے مزین صورت میں آپ کے پیشِ نظر ہے۔ ’’عظیم اسلامی مملکت‘‘ (پاکستان) کے (سابقہ)دار الحکومت (کراچی) میں قائم ’’مجلسِ علمی‘‘ ان یادداشتوں کو ان کی اصل صورت میں پیش کر رہی ہے؛ تاکہ امامِ جلیل کی یادیں زندہ رہیں، ان کے عظیم کارناموں کو دوام حاصل ہو، ان کے قابلِ فخر کمالات کی قدردانی ہو، اُمتِ مسلمہ ان سے فائدہ اٹھائے، اور حضرت شیخ کا علمی ورثہ رہتی دنیا تک محفوظ رہے۔‘‘
علماءِ دیوبند کے علوم کے قدردان اور عالمِ عرب کے نامور محقّق عالم شیخ عبد الفتاح ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ بھی ان اہلِ علم میں سے ہیں جو ان حواشی کی نُدرت و گراں قدری سے شناسا اور ان پر تحقیقی عمل کے لیے علامہ کشمیری ؒ کے تلامذہ کو اُبھارتے رہے۔ شیخ موصوف کا درج ذیل اقتباس پڑھیے اور ان کے قلبی اشتیاق کا اندازہ کیجیے:
’’الإتحاف لمذہب الأحناف‘‘: وہو حواشٍ وتعليقات نافعۃ ماتعۃ جامعۃ علَّقہا الشيخ الکشميري علی کتاب ’’آثار السنن‘‘ لعصريِّہ المحدِّث المحقّق النِّيموي رحمہما اللہ تعالٰی، وقد أحسن ’’المجلس العلمي‘‘ صُنعاً بتصوير نسخۃ الشيخ من کتاب ’’آثار السنن‘‘ المطبوعۃ في مجلدين، التي ملأ الشيخ بخطِّہ الجميل حواشيہا وبياضاتہا التي بين السطور علماً ثميناً وإحالاتٍ کثيرۃ غنيَّۃً بالتحقيق، وقد سُمِّيَتْ ہٰذہ التعليقات والحواشي عند ما صوِّرتْ بعد وفاتہ: ’’الإتحاف لمذہب الأحناف‘‘۔
’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘: یہ نہایت مفید وجامع تعلیقات ہیں جو حضرت کشمیری ؒ نے اپنے ہم عصر محدث، محقق نیموی ؒ کی کتاب ’’آثار السنن‘‘ پر تحریر کیے ہیں۔ مجلس علمی نے حضرت شیخ ؒ کے ’’آثار السنن‘‘ کی دو جلدوں میں مطبوعہ نسخہ کے عکس بنواکر اچھا (اور مفید) کام کیا ہے، جسے آپ نے بین السطور حواشی لکھ کر قابلِ قدرو محقق معلومات اور بہت سے حوالوں سے بھر دیا ہے اور حضرت کی وفات کے بعد ان حواشی و تعلیقات کا جب عکس لیا گیا تو ’’الإتحاف لمذھب الأحناف‘‘ نام رکھا گیا۔‘‘(۶)
شیخ ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہ ایک اور مقام پر رقم طراز ہیں:
’’۔۔۔ تخريجُ حوالاتِہا وتبويبُہا وتنسيقُہا دينٌ ثقيلٌ في عنُقِ أصحابِ الشيخِ وتلامذتِہ الأفاضل، لا تبرأ ذِمَّتہم إلا بإنجازِہٖ. وکنتُ اقترحتُ علی مؤسِّسِ ’’المجلسِ العلميِّ‘‘ رجلِ الخير والبرِّ، المفضالِ، الحاج محمد بن موسٰی مياں السِّمْلَکِيّ الإفريقي تأليفَ لجنۃٍ من أصحاب الشيخ وتلامذتہٖ أبقاہم اللہ تعالٰی؛ ليقوموا خاصَّۃً بتنسيقِ ہذہ التعليقاتِ والحواشي؛ فإنہٗ لايستطيعُ النہوضَ بہٰذا الواجبِ العظيمِ أحدٌ غيرُہم، وہم الذين صاحَبُوا الشيخَ، وتلقَّوا أفکارَہٗ، وعرفوا مقاصدَہٗ۔ ثم جدَّدتُ ہذا الاقتراحَ علی نجلِ ذٰلک المحسن الکريم، الأخ الفاضل الشيخ إبراہيم، حين تفضَّل بزيارتي في ’’حلب‘‘، عَقِبَ عودتِہ من الحجِّ إلی بيت اللہ ہذا العام، فوعَد خيرًا واستبشرنا خيرًا۔
وأعودُ فأقول: أداءُ ہذا الحقِّ لا يزال ممطولًا من تلامذۃِ الشيخِ الصدورِ البدورِ. وأرجو أن تکونَ کلمتِي ہٰذہ - وہي موجَّہۃٌ إليہم جميعًا - دافعًا جديدًا للقيام بقضَاءِ ہٰذا الدَّين، وأخصُّ بالمطالبۃِ بہ علٰی وجہٍ أخصَّ أستاذَنا وبرکـتَنَا أبا المحاسِنِ، العلامۃَ الموہوب، الشيخ محمد يوسف البنوري؛ فإنہٗ علی کثرۃِ أعمالہ النافعۃِ، وخدماتِہ الإسلاميۃ والعلميۃ، آتاہ اللہ من الصبر والدأب والعون ما يُمَکِّنُہ النہوضَ بہٰذہ المأثرۃ الباقيۃ۔
وإن تنسيقَ ’’الإتحاف‘‘ إتحافٌ يجعلُ الہمامَ الفاضلَ الناہضَ بہ في مناجاۃٍ دائمۃٍ، وسَمرٍ علميٍّ مستمرٍّ مع الشيخ الأنور - قُدِّسَ سِرُّہ العزيز - وما أظنُّ السادۃَ النُّجُب، تلامذۃ الشيخ - بارک اللہ فيہم - بمفرِّطين بہٰذا ’’الإتحاف‘‘، ولا بمُعرِضِين عن استعادۃِ تلک الذکريات الغاليۃ الحبيبۃ إلٰی قلوبہم؛ إذ کانوا يسمعونَ کلام الشيخ إمامِ العصر أو يخدمونہ، ولابمُتَخَلِّفين عن ذٰلک العمل الجليل، الذي يُقرَنُ اسمُ القائم بہٖ باسمِ الشيخ إمام العصر علی وجہ الدہر. وہو إلی ہٰذا يعدُّ من خير العمل الذي يدَّخرہ المؤمن لآخرتہٖ، وإنا لمنتظرون۔‘‘(۷)
ترجمہ: ’’ان (حواشی میں درج) حوالہ جات کی تخریج، تبویب اور ترتیب، شیخ کے فاضل شاگردوں کے ذمہ ایک بھاری قرض ہے، اس کام کی تکمیل کرکے ہی وہ ذمہ داری سے عہدہ برا ہوسکتے ہیں۔ میں نے ’’مجلسِ علمی‘‘ کے بانی، صاحبِ خیر وصاحبِ فضل واحسان، حاجی محمد بن موسیٰ میاں سِملکی افریقی ؒ کو تجویز دی تھی کہ شیخ کے تلامذہ (اللہ تعالیٰ انہیں طویل حیات عطا فرمائے) کی ایک کمیٹی بنائیں؛ تاکہ وہ ان حواشی وتعلیقات کو مرتّب کریں؛ کیونکہ اس عظیم ذمہ داری کو ان کے علاوہ کوئی بھی نہیں اُٹھا سکتا، وہ شیخ کی صحبت میں رہے، خود ان سے براہِ راست ان کے آراء وافکار حاصل کرتے رہے، اور ان کی مراد ومقصد سے آگاہ ہیں۔ بعد ازاں میں نے ان محسنِ کریم کے فرزند، برادرِ فاضل، شیخ ابراہیم (بن محمد موسیٰ میاں) کے سامنے دوبارہ یہ تجویز رکھی، جب انہوں نے اس سال حجِ بیت اللہ سے لوٹتے ہوئے ’’حلب‘‘ میں مجھے ملاقات کا شرف بخشا، انہوں نے بھی وعدہ کیا اور ہم پُر امید ہوئے۔
میں دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ شیخ کے سربرآوردہ اور بلند پایہ شاگردوں کی جانب سے تاحال اس ذمہ داری کی ادائیگی میں تاخیر برتی جارہی ہے، مجھے اُمید ہے کہ میری یہ تحریر (جو ان سب حضرات سےمخاطب ہے) اس قرض کی ادائیگی کے لیے ایک نئی تحریک پیدا کرے گی، اور میں خاص طور پر اپنے استاذ اور ہمارے لیے باعثِ برکت، صاحبِ محاسن، باکمال علامہ، شیخ محمد یوسف بنوریؒ سے یہ مطالبہ کرتا ہوں؛ کیونکہ مفید اُمور اور اسلامی وعلمی خدمات کی کثرت کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں صبر واستقامت اور خاص مدد سے نوازا ہے، جس کی بدولت ایسے کارناموں کی ادائیگی ممکن ہوتی ہے۔
’’الإتحاف‘‘ کی ترتیب وتنسیق ایک تحفہ ہے، اس ذمہ داری کو نبھاتا فاضل گویا دائمی طور پر شیخ انور قُدِّسَ سِرُّہ العزيز سے سرگوشیوں اور علمی گفتگو میں مشغول رہے گا۔ مجھے اُمید ہے کہ شیخ کے باکمال تلامذہ (اللہ تعالیٰ انہیں برکتوں سے نوازے) اس ’’تحفہ‘‘ کو پیش کرنے میں کوتاہی نہیں کریں گے، اور (اپنے شیخ سے جُڑی) قیمتی اور مَن پسند یادوں کو اپنے دل ودماغ میں دُہرانے سے پس وپیش نہ کریں گے؛ جب وہ اپنے شیخ امامِ عصر کے کلام کو سنتے اور ان کی خدمت میں مشغول رہتے تھے، نیز اس عظیم عمل کی تکمیل میں پیچھے نہ رہیں، جس کو سرانجام دینے والے کا نام تااَبد حضرت شیخ امامِ عصر کے نام کے ساتھ زندہ رہے گا، اور ساتھ ہی ایک مومن کی جانب سے اپنی آخرت کے لیے ذخیرہ کے طور پر بہترین عمل ہوگا، ہم منتظر رہیں گے۔‘‘
علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ایک اور شاگرد اور اُن کے علوم کے قدر شناس، مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ، مولانا بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے نام ایک مکتوب میں رقم طراز ہیں:
’’اس وقت اس عریضے کا داعیہ مولانا موسیٰ میاں صاحب کے تحفے ’’الإتحاف‘‘ کو دیکھ کر پیدا ہوا، انہوں نے مجھے بھی ایک نسخہ عنایت فرمایا ہے۔ اگر شروع میں تقریظ، اور آپ کے قلم سے نہ ہوتی، اور مجھے یہ معلوم نہ ہوا ہوتا کہ آپ نے ان حوالوں کی تخریج اور ان عبارتوں کے استخراج کا کام حضرت استاذ (مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ) کے امر سے کیا بھی تھا، تب بھی میں آپ ہی کو لکھتا کہ خدا کے لیے یہ کام کرکے اس مقفّل خزانہ کو اہلِ علم کے لیے قابلِ استفادہ بنادیجیے۔ مولانا موسیٰ میاں کو اللہ تعالیٰ جزائے خیر دے، انہوں نے اپنا کام کردیا، اور کام آپ کا اور صرف آپ کا باقی ہے، آپ کے سوا کوئی نہیں ہے جو اس خدمت کو انجام دے سکے۔ مطالعہ کرکے میں نے دونوں باتیں محسوس کرلیں: ایک یہ کہ حضرت استاذ ؒ کے علم ومطالعہ کا بڑا قیمتی حصہ اس خزانہ میں محفوظ ہے اور دوسری یہ کہ موجودہ شکل میں اس سے استفادہ مجھ جیسے بھی بہت ہی کم کرسکیں گے۔(۸)
’’الإتحاف‘‘ کے متعلق نیز دیکھیے: مولانا محمد منظور نعمانی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے سے مزید آگاہی کے لیے دیکھیے مولانا موصوف کا مضمون: ’’ایک بیش بہا علمی تحفہ - الإتحاف‘‘ ، ماہنامہ نقش، دیوبند، بابت شمارہ ذو الحجہ ۱۳۷۹ھ مطابق جون ۱۹۶۰ء۔ اس مضمون میں کتاب کا عمدہ تعارف ہے، یہاں صفحات میں گنجائش ہوتی تو مکمل نقل کردیا جاتا۔
مولانا بجنوری رحمۃ اللہ علیہ رقم طراز ہیں:
’’کتاب مذکور کے مطبوع نسخے پر بھی حضرت شاہ صاحب ؒ نے بہت بڑ ی مقدار میں تعلیقات لکھیں، جن کی وجہ سے یہ مجموع بیش قیمت حدیثی ذخیرہ بن گیاہے۔ اگر کتاب ’’آثار السنن‘‘ ان تعلیقاتِ انوری کے ساتھ مُرتَّب ومُزیَّن ہوکر شائع ہوجائے، تو امید ہے کہ آخرِ ’’کتاب الصلاۃ‘‘ کے مسائل کی محدّثانہ تحقیق حرفِ آخر ہوکر منظرِ عام پر آجائے گی، کام بڑا اہم ہے، کاش! حضرت کے خصوصی تلامذہ اور اصحابِ خیر توجہ کریں۔‘‘(۹)
علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے لائق صاحب زادے مولانا انظر شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے ان حواشی کے متعلق اپنے تأثرات یوں قلم بند کیے ہیں:
’’موصوف (علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ ) نے (’’آثار السنن‘‘ کی) دونوں جلدوں پر نہایت قیمتی وفاضلانہ حواشی درج فرمائے، جن میں ہزار ہا ہزار کتابوں کے بقیدِ صفحات حوالے موجود ہیں، یہ ’’مرحوم کی زندگی کا حاصل اور حنفیت کی تائید واستحکام کی مضبوط کوشش ہے‘‘، مگر افسوس کہ عوام، بلکہ خواص بھی اس سے استفادہ نہیں کرسکتے، کاش کہ حضرتؒ کا کوئی شاگرد‘ خصوصاً مولانا یوسف بنوری اس طرف توجہ فرمائیں۔‘‘ (۱۰)
ماضی قریب کے عظیم محقّق اور ناقد، استاذِ محترم مولانا ڈاکٹر محمد عبد الحلیم صاحب چشتی رحمۃ اللہ علیہ (فاضلِ دارالعلوم دیوبند، تلمیذِ حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی رحمۃ اللہ علیہ )، ’’الإتحاف‘‘ کے متعلق رقم طراز ہیں:
’’یہاں یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انور شاہ ؒ کی تحقیقات اور اضافۂ معلومات کا دائرہ، محدث نیمویؒ کے مذاق تک محدود رہا ہے۔ موصوف نے متونِ احادیث، اسنادِ رجال اور جرح وتعدیل سے متعلق وہی تحقیقات پیش کی ہیں جو محدث نیمویؒ کے مذاق کے مطابق تھیں، فقہ حدیث کی بحثیں، حقائق، معارف، اسرار، بلاغت اور توجیہاتِ حدیث سے بہت ہی کم اعتناء کیا ہے، پھر بھی یہ اضافہ اصل سے دُگنا تِگنا ہوگیا ہے۔‘‘ (۱۱)
’’الإتحاف‘‘ کے متعلق استاذِ محترم مولانا سید سلیمان بنوری زید مجدہٗ کی تعارفی تحریر کا درج ذیل اقتباس پڑھیے:
’’علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے ان حواشی کا یہ مقام ومرتبہ اس وجہ سے بھی ہے کہ آپ کی تالیفات میں سے یہی ایک تالیف ہے جو طہارت، صلاۃ اور جنائز تک کے تمام ابواب کو محیط ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کاوشیں یا املائی تقاریر ہیں، یا رفع الیدین وفاتحہ خلف الامام وغیرہ جیسے فروعی مسائل پر مشتمل ہیں، اور اس کا یہ مقام کیونکر نہ ہو، جبکہ حضرت کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے فروعی مسائل میں اپنے تالیف کردہ رسائل میں بھی تفصیلی کلام کے لیے جا بجا اپنے ان حواشی کا حوالہ دیا ہے، لہٰذا اس کی اشاعت بلاشک وشبہ علامہ کی دہائیوں پر محیط تحقیقات کا وہ قرض ہے جو قریباً ایک صدی سے اہلِ علم کے ذمے تھا، اور جس کی ادائیگی کی فکر تقریباً پون صدی سے اکابر اہلِ علم کو دامن گیر رہی، اور علامہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ کے متعدد تلامذہ: حضرت والد ماجد، مولانا محمد منظور نعمانی، مولانا سید احمد رضا بجنوری، نیز مولانا انظر شاہ کشمیری اور نامور محقّق عالم شیخ عبد الفتاح ابوغدہ رحمۃ اللہ علیہم جیسے کبار اہلِ علم زندگی بھر آرزومند رہے کہ تحقیق و تخریج اور تبویب وترتیب کے بعد اُنہیں شائع کیا جانا چاہیے۔‘‘(۱۲)
۱-نقشِ دوام، ص: ۱۸۳، ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ ملتان، نفحۃ العنبر، ص: ۹۲ -۹۳، مجلس علمی۔
۲-نقشِ دوام، ص: ۱۸۵۔
۳-ایضاً۔
۴-نقشِ دوام، ص :۱۸۸۔
۵-بطور نمونہ دیکھیے: ’’نيل الفرقدين‘‘، ’’فصل في معنی رفع الدين‘‘( ص: ۲۴۹)، ’’کشف الستر‘‘ (ص: ۸، ۴۰، ۴۸)، ’’مجموعۃ رسائل الکشميري‘‘، ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی، پاکستان۔
۶-مقدمہ: التصریح بما تواتر في نزول المسيح، ص:۳۰،۳۱، تحقیق شیخ عبد الفتاح ابوغدہ، مکتب المطبوعات الاسلامیہ، حلب۔
۷-مقدمہ: التصریح بما تواتر في نزول المسيح، ص: ۳۱۔
۸-مکتوب حضرت مولانا محمد منظور نعمانی ؒ بنام حضرت مولانا بنوریؒ ، ماہنامہ بینات، ربیع الثانی ۱۴۴۴ھ۔
۹-انوار الباری، ج: ۲، ص:۴۵۱، ۴۵۲، ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ، ملتان ، پاکستان۔
۱۰-نقشِ دوام، ص: ۱۸۸، ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ، ملتان۔
۱۱-تقدسِ انور، ص: ۲۶۹، مقالہ: ’’امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ‘‘، از مولانا محمد عبد الحلیم چشتی ؒ، جامعہ عربیہ احسن العلوم، کراچی۔
۱۲-ماہنامہ بینات، جمادی الاولیٰ، ۱۴۴۷ھ۔
(جاری ہے)