
’’امیرِ‘‘ لشکر رخِ منوّر ’’حنیف‘‘ گوہر کہاں سے لائیں
سلیم فطرت عدیم جوہر شفیق رہبر کہاں سے لائیں
بچھڑنے والے کی یاد آئے بہت ستائے تو کیا کریں ہم؟
جدائی کے غم پہ ضبط میرے خدائے برتر! کہاں سے لائیں
جب ان کی صورت مسکراتی چیر ڈالے یہ دل اپنا
دلوں کی دنیا کی اس قیامت کا کوئی منظر کہاں سے لائیں
وہ جن کا ظاہر تمام سنت، وہ جن کا باطن تمام امت
خدا کے بندے اب اپنے ماتھے کا ایسا جُھومر کہاں سے لائیں
لباس سادہ کلام عمدہ بیان شُستہ تفکّر اعلیٰ
تمام پھولوں کی خوشبوؤں کا حسین مظہر کہاں سے لائیں
فلک کا تارا کیا کنارا زمیں پہ اشکوں کا بہتا دھارا
مُداوا کردے جو دردِ دل کا وہ مشک و عنبر کہاں سے لائیں
چراغ تو بجھ گیا ہے ؔہانی! سراغِ منزل کا کیا بنے گا؟
زمیں میں پتّھر بہت ہیں پر اُن سا لعل جوہر کہاں سے لائیں