بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

سوال (بھیک مانگنے ) کی شرعی حیثیت

سوال (بھیک مانگنے ) کی شرعی حیثیت


 پسِ منظر اور باعث ِتحریر

عصرِحاضر کے ظروف واحوال نے جن مختلف چیزوں کو مستقل حرفت وکسب کی شکل دی ہے، ان میں سے ایک اہم چیز ’’بھیک مانگنا‘‘ بھی ہے، جس کویہاں کبھی بھیک مانگنے اور کبھی سوال کرنےسےتعبیر کیاجائےگا۔ ان سطور کا باعث یہ ہے کہ اس وقت بھیک مانگنے کی دسیوں صورتیں رائج ہیں، عزت وشرافت کے دورمیں جو کام ایک وقتی مجبوری کےطورپر شرما شرمی کےساتھ ہوتاتھا، ’’ترقی وخوشحالی‘‘کےاس دور میں وہی کام مستقل بنیادوں پر اور پوری جرأت وڈھٹائی کےساتھ انجام دیاجاتاہے۔ بہرحال بھیک مانگنے کی اکثر صورتیں ناجائز ہیں اور سوال کرنے کی کئی صورتیں ایسی بھی ہیں، جن کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔ متعدد بار ایسےسوالات آنےاور فقہ وحدیث کی معتبر کتابوں کی طرف مراجعت کرنے کےباوجود یکجا طور پر مستقل اور جامع تفصیل نہیں مل سکی، اس لیے اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ان سطور کےلکھنے کی جسارت ہوئی۔ 

بھیک مانگنا: احادیث کی روشنی میں

متعدد احادیث میں مسلمانوں کو بھیک مانگنے سے روکا گیا ہے، ان میں سے بعض روایات میں بھیک مانگنے کی اُخروی سزا و عذاب کا ذکر کیا گیا ہے، بعض میں دنیوی لحاظ سے اس کا نتیجہ بیان فرمایا گیا ہے اور بعض میں صراحت کےساتھ ممانعت فرمائی گئی ہے۔ یہ سب مذمت اور کراہت کے اسالیب ہیں اور جب کسی خاص عمل کےمتعلق اس طرح ممانعت وارد ہوجاتی ہے تو اس سے اس عمل کا ناجائز، ممنوع اور گناہ ہونا ثابت ہوجاتا ہے۔ 
علامہ ابن حجرہیتمی  رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی مفید کتاب’’ إتحاف ذوي المروۃ والإنافۃ‘‘میں سوال کی مذمت او رکراہت کےمتعلق روایات کو یکجا کرنے کوشش فرمائی ہے، چنانچہ اس سلسلہ میں آپ نے تیس روایات نقل فرمائی ہیں، ان میں چند روایات نقل کرکے باقی کا حاصلِ خلاصہ لکھنے پر اکتفا کیاجاتاہے، اہلِ علم اصل کتاب کی طرف مراجعت کرسکتے ہیں۔(۱)
۱-حضرت عبد اللہ بن عمر  رضی اللہ عنہما  سے روایت ہےکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ما يزال الرجل يسأل الناس حتی يأتي يوم القيامۃ وليس في وجہہٖ مزعۃ -أي قطعۃ - من لحم ۔‘‘(۲)
ترجمہ:’’ آدمی لوگوں سے مانگتا ہی رہتا ہے، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ایک ٹکڑا بھی باقی نہیں ہوگا۔ ‘‘
۲- ’’عن أبي ہريرۃ رضي اللہ تعالٰی عنہ: أن النبي صلی اللہ تعالٰی عليہ وآلہٖ وسلم قال: والذي نفسي بيدہٖ، لأن يأخذ أحدکم حبلہٗ فيحتطب علی ظہرہٖ، خير لہٗ من أن يأتي رجلًا فيسألہٗ، أعطاہ أو منعہٗ ۔‘‘ (۳)
ترجمہ:’’ حضرت ابو ہریرہ  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنی رسی لے کر اپنی پیٹھ پر لکڑیاں اُٹھا کر لائے، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس جا کر سوال کرے، خواہ وہ اسے دے یا نہ دے۔ ‘‘
۳-حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ  روایت کرتےہیں کہ:
’’أن النبي صلی اللہ تعالٰی عليہ وآلہ وسلم قال: الذي يسأل من غير حاجۃ، کالذي يلتقط الجمر۔‘‘(۴)
ترجمہ:’’ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: جو شخص بلا ضرورت سوال کرتا ہے، وہ اس شخص کی مانند ہے جو انگارے چنتا ہے۔ ‘‘
۴-’’سنن ابی داؤد‘‘وغیرہ کتبِ حدیث میں ہے:
’’عن ابن مسعود رضي اللہ تعالٰی عنہ: أن النبي صلی اللہ تعالٰی عليہ وآلہ وسلم قال: من سأل الناس ولہٗ ما يغنيہ جاء يوم القيامۃ ومسألتہ في وجہہٖ خموش أو خدوش أو کدوح، قيل وما الغنی؟ قال: خمسون درہمًا أو قيمتہا من الذہب۔‘‘(۵)
ترجمہ: ’’حضرت عبد اللہ بن مسعود  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: جو شخص لوگوں سے سوال کرے، حالانکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو اسے کفایت کر جائے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے سوال کا اثر اس کے چہرے پر خراش، زخم یا نشان کی صورت میں ہوگا۔ عرض کیا گیا: غنی ہونے کی حد کیا ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: پچاس درہم یا سونے میں اس کی قیمت۔ ‘‘
۵-امام ابن حبان  رحمۃ اللہ علیہ  نے اپنی کتاب صحیح ابن حبان میں روایت کیا ہے کہ :
’’أن النبي صلی اللہ عليہ وآلہ وسلم قال: المسائل کدوح، يکدح الرجل بہا وجہہٗ، فمن شاء أبقی علی وجہہ، ومن شاء ترک، غلا أن يسأل الرجل ذا السلطان في أمر لا يجد منہ بدًا۔‘‘(۶)
’’نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: سوال کرنا دراصل زخم لگانے کے مترادف ہے، جس کے ذریعے آدمی اپنے چہرے کو زخمی کرتا ہے۔ پس جو چاہے اپنے چہرے کی آبرو باقی رکھے اور جو چاہے اسے چھوڑ دے، البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ کوئی شخص کسی ناگزیر معاملہ میں صاحبِ اقتدار سے سوال کرے جس کے بغیر اس کے لیے کوئی چارہ نہ ہو۔‘‘
۶-’’صحیح ابن حبان‘‘اور’’سنن ابی داؤد‘‘وغیرہ کتب حدیث میں ہے:
’’أن النبي صلی اللہ تعالٰی عليہ وآلہ وسلم قال: من سأل شيئًا وعندہٗ ما يغنيہ، فإنما يستکثر من جمر جہنم، قالوا: وما يغنيہ؟ قال قدر ما يغديہ ويعشيہ)۔‘‘ (۷)
ترجمہ: ’’جو شخص کسی چیز کا سوال کرے حالانکہ اس کے پاس اتنا ہو جو اسے کفایت کر جائے، تو وہ درحقیقت جہنم کے انگارے زیادہ کر رہا ہے۔ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم  نے عرض کیا: کفایت کرنے کی مقدار کیا ہے؟ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: اتنی مقدار جو اُسے صبح اور شام کا کھانا مہیا کر دے۔‘‘

بھیک مانگنےکا فقہی حکم اور مختلف صورتیں

مذمت پر مشتمل ان روایات کی وجہ سےتمام فقہائےکرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ:
الف: عام حالات میں سوال کرنا(بھیک مانگنا) ناجائز اور ممنوع ہے۔ 
ب:البتہ اگر کوئی شخص ایسا ہے کہ 
۱:جس کےپاس ایک دن کےکھانےپینےکاسامان موجود نہ ہو۔ (۸)
۲: اس کی قیمت بھی دستیاب نہ ہو۔ 
۳:اور کمانے کی استطاعت بھی نہ ہو(۹)، تو ایسے شخص کےلیے سوال کرنا جائز ہے۔ یہ تو اشیاء خورد ونوش کےمتعلق ہے، جہاں تک لبا س کی بات ہے تو اگر کوئی ایسا کپڑا ہو جس سے بدن ڈھانک سکے تو سوال کرنا جائز نہیں ہے، ورنہ درست ہے۔ 
ج: اگرکوئی شخص واقعتاً اضطراری حالت میں ہو (یعنی فاقے سے جان جانے یا سخت مضرت لاحق ہونے کا خطرہ ہو)اور بھیک مانگےبغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو ایسی صورت میں مانگنا واجب ہے۔ ’’فتاویٰ قاضی خان‘‘ میں ہے:
’’ولا يحل السؤال لمن کان عندہٗ قوت يوم عند البعض، وقال بعضہم: لايحل السؤال لمن کان کسوباً أو يملک خمسين درہما۔‘‘ (۱۰)
ترجمہ:’’ بعض اہلِ علم کے نزدیک جس شخص کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو‘ اس کے لیے سوال کرنا جائز نہیں، اور بعض نے فرمایا ہے کہ جس شخص میں کمانے کی طاقت ہو یا وہ پچاس درہم کا مالک ہو، اس کے لیے سوال کرنا حلال نہیں۔ ‘‘
’’تحفۃ الفقہاء‘‘ میں ہے:
’’الغنی الذي يحرم بہ السؤال ولا يحرم الأخذ ولا الدفع من غير سؤال: قال بعضہم: خمسون درہمًا، وقال عامۃ العلماء: إذا ملک قوت يومہٖ وما يستر بہ عورتہٗ فلا يحل لہ السؤال، فأما إذا لم يکن فلا بأس بہٖ، وأما الفقير إذا کان قويًا مکتسبًا فيحل بہٖ أخذ الصدقۃ ولا يحل لہ السؤال۔‘‘ (۱۱)
ترجمہ: ’’وہ مالداری جس کی وجہ سے سوال کرنا حرام ہو جاتا ہے، لیکن بغیر سوال کے لینا اور دینا حرام نہیں ہوتا: بعض اہلِ علم نے اس کی حد پچاس درہم بیان کی ہے، اور جمہور علماء نے فرمایا ہے کہ جب کسی شخص کے پاس ایک دن کا کھانا اور سترِ عورَت کے لیے کپڑا موجود ہو تو اس کے لیے سوال کرنا حلال نہیں، اور اگر یہ نہ ہو تو اس کے لیے سوال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ رہا فقیر اگر وہ طاقت ور اور کمانے والا ہو تو اس کے لیے صدقہ لینا جائز ہے، لیکن اس کے لیے سوال کرنا جائز نہیں۔ ‘‘
’’تحفۃ الملوک‘‘میں ہے:
’’الْـمُضْطَر للطعام وَمن اشْتَدَّ جوعہٗ وَعجز عَن کسب قوتہٖ يجب علی کل من علم بِحَالہٖ إطعامُہٗ وَإِن لم يعلم بِہٖ أحد يجب عَلَيْہِ اَن يسْاَل وَيُعلم بِحَالہٖ، فَإِن لم يفعل حَتّٰی مَاتَ، کَانَ قَاتل نَفسہٖ. ضَابِطۃ جَوَاز السُّؤال: من لَہٗ قوت يَوْمہٖ لَا يحل لَہُ السُّؤال وَيُبَاح لَہُ الْاَخْذ۔‘‘(۱۲)
ترجمہ: ’’جو شخص کھانے کا سخت محتاج ہو، جس کی بھوک شدت اختیار کر جائے اور وہ اپنی روزی کمانے سے عاجز ہو، اس کے بارے میں لازم ہے کہ جو بھی اس کے حال سے واقف ہو وہ اسے کھانا کھلائے۔ اور اگر اس کے حال سے کوئی واقف نہ ہو تو اس پر خود لازم ہے کہ وہ سوال کرے اور لوگوں کو اپنی حالت سے آگاہ کرے، پس اگر وہ ایسا نہ کرے یہاں تک کہ مر جائے تو وہ اپنے نفس کا قاتل شمار ہوگا۔ سوال کے جائز ہونے کا ضابطہ یہ ہے کہ جس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو، اس کے لیے سوال کرنا حلال نہیں، البتہ اس کے لیے لینا جائز ہے۔ ‘‘
’’بدائع‘‘ میں ہے:
’’فإن لم يکن لہٗ قوت يومہٖ ولا ما يستر بہٖ عورتہٗ يحل لہٗ أن يسأل؛ لأن الحال حال الضرورۃ وقد قال اللہ تعالٰی: ’’وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ‘‘ وترک السؤال في ہٰذا الحال إلقاء النفس في التہلکۃ وإنہٗ حرام فکان لہٗ أن يسأل بل يجب عليہ ذٰلک۔‘‘(۱۳)
ترجمہ: ’’اگر اس کے پاس نہ ایک دن کا کھانا ہو اور نہ سترِ عورَت کے لیے کپڑا ہو تو اس کے لیے سوال کرنا جائز ہے، کیونکہ یہ حالت ضرورت کی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ’’وَلَا تُلْقُوْا بِاَيْدِيْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ‘‘ اور اس حالت میں سوال چھوڑ دینا اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، اور یہ حرام ہے، لہٰذا اس کے لیے سوال کرنا جائز ہی نہیں، بلکہ واجب ہے۔ ‘‘
کھانےپینے وغیرہ کی ضرورت کے باب میں تو یہ معیار ہے، البتہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات قرض وغیرہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے سوال کرنے کی گنجائش ہے، چنانچہ ’’مسند احمد‘‘ میں ہے:
’’عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ: ’’ إِنَّ الْمَــسْألَـۃَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِثَلَاثَۃٍ: لِذِيْ فَقْرٍ مُدْقِعٍ، اَوْ لِذِيْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ، اَوْ لِذِيْ دَمٍ مُوْجِعٍ ۔‘‘ (۱۴)
ترجمہ: ’’آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’بے شک سوال کرنا صرف تین قسم کے لوگوں کے لیے جائز ہے: اُس شخص کے لیے جو انتہائی تنگ دست ہو، یا اُس شخص کے لیے جو بھاری قرض میں گھرا ہو، یا اُس شخص کے لیے جس پر خون (دیت) کا بوجھ ہو۔ ‘‘
’’الموسوعۃ الفقہيۃ الکويتيۃ‘‘میں ہے:
’’ذَہَبَ جُمْہُورُ الْفُقَہَاءِ إِلٰی اَنَّ مَنْ تَحَمَّل بِسَبَبِ إِتْلاَفِ نَفْسٍ اَوْ مَالٍ، دِيَۃً اَوْ مَالاً لِتَسْکِيْنِ فِتْنَۃٍ وَقَعَتْ بَيْنَ طَائِفَتَيْنِ يَجُوْزُ لَہٗ اَنْ يَّسْاَلَ حَتّٰی يُؤدِّيَ۔‘‘(۱۵)
ترجمہ: ’’فقہاء کرام کی اکثریت کا مسلک یہ ہے کہ جس شخص نے کسی نفس یا مال کی تلفی کی وجہ سے، یا دو گروہوں کے درمیان پیدا ہونے والی فتنہ انگیزی کو ختم کرنے کے لیے کوئی دیت یا رقم اپنے ذمے لی ہو، تو اس کے لیے (لوگوں سے) سوال کرنا جائز ہے، یہاں تک کہ وہ اسے ادا کر دے۔ ‘‘

بھکاری کو دینے کاحکم اور اس کی مختلف صورتیں
 

خدا کی رضا کے لیے کچھ دینا اصلاً صدقہ ہے جو کہ سنت ہے، چاہے مانگنےوالےکو دیا جائے یا یوں ہی مانگےبغیر کسی کو کچھ دیاجائے، دونوں کے متعلق قولی اور فعلی روایات موجود ہیں جس سے سنیت اور استحباب ثابت ہوتاہے، اس لیے جہاں تک ہوسکے، صدقہ دینے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ تاہم اگر مانگنےوالے کو کچھ دینے کی صورت میں شرعی مفاسد کا اندیشہ ہو تو جس قدر مفسدہ اور اس کاخطرہ ہوگا، اس کےمطابق دینے میں کراہت وشناعت پیدا ہوگی۔ اس موقع میں عام طورپر جن مفاسد کااندیشہ ہوتاہے، وہ یہ ہیں:
۱:مانگنےوالے کی حالت ایسی نہ ہو جس کےلیے شرعاً مانگنے کی اجازت ہو، مثال کےطور پر اس کے پاس ایک دن رات کا ضروری کھانا موجود ہو، یا اس کی قیمت دستیاب ہو، یا کمانے کی طاقت موجود ہو۔ 
۲:قوی خدشہ ہو کہ دینے کی صورت میں بھیک مانگنے کی عادت پڑجائےگی اور آئندہ موقع بےموقع مانگنےپرجری ہوجائےگا۔ 
۳:سوال کرنےکا انداز درست نہ ہو، مثال کےطور اصرارکےساتھ مانگتا ہو کہ مخاطب مجبور ہوکر خواہ مخواہ کچھ دے دے، مسجد میں صفیں پھلانگ کر مانگے، اپنی حالت بیان کرنے میں جھوٹ سےکام لے، وغیرہ۔ 
۴:رقم حاصل کرکےناجائز کاموں میں صرف کرتاہو، چنانچہ نشہ کے عادی افراد کودینے میں عام طور پر یہی اندیشہ رہتاہے۔ 
یہ، اور ان جیسے مفاسد کا اندیشہ ہو، تو دینےکا شرعی حکم کیا ہے؟ جائز ہےیانہیں؟ اس میں اکثر فقہائے کرام نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ ایسی حالت میں کچھ دیناممنوع ہے۔ بعض نے اس کو ’’حرام‘‘سےبھی تعبیر فرمایاہے۔ ’’فتاویٰ بزازیہ‘‘میں ہے:
’’المختار أن السائل إذا کان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطی رقاب الناس ولا يسأل الناس إلحافاً ويسأل لأمر لا بد منہ لا بأس بالسؤال والإعطاء۔‘‘(۱۶)
ترجمہ: ’’صحیح بات یہ ہے کہ سائل (بھیک مانگنے والا) نمازی کے سامنے سے نہ گزرے، لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر نہ جائے، لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہ کرے، اور صرف اس امر کے لیے سوال کرے جس کی اُسے سخت ضرورت ہو، تو ایسی صورت میں سوال کرنا اور دینا دونوں جائز ہیں۔ ‘‘
’’البحر الرائق‘‘میں ہے:
’’ويکرہ التصدق علی الذي يسأل الناس في المساجد زجراً لہٗ۔‘‘(۱۷)
ترجمہ:’’ جو شخص مسجد میں مانگے، اسے زجر و ممانعت کی غرض سے صدقہ دینا مکروہ (ممنوع) ہے۔ ‘‘
’’تحفۃ الملوک‘‘میں ہے:
’’السُّؤال فِي الْمَـسْجِد والسائل فِي الْمَـسْجِد: قيل: يحرم إِعْطَاؤہٗ وَالْمُخْتَار أنہٗ إِذا کَانَ لَا يتخطّٰی رِقَاب النَّاس وَلَا يمرّ بَين يَدي الْمُـصَلِّين وَلَا يسْاَل النَّاس إلحافاً يُبَاح إِعْطَاؤہٗ وَإِن کَانَ يفعل وَاحِدَۃ من ہٰذِہ الثَّلَاثَۃ يحرم إِعْطَاؤہٗ۔‘‘(۱۸)
ترجمہ: ’’مسجد میں سوال کرنا اور مسجد میں سائل (بھیک مانگنے والے) کو دینے کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ اسے دینا حرام ہے۔ لیکن مختار اور پسندیدہ قول یہ ہے کہ اگر وہ لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگتا ہو، نمازیوں کے سامنے سے نہ گزرتا ہو اور لوگوں سے اصرار کے ساتھ سوال نہ کرتا ہو تو اسے دینا جائز ہے۔ اور اگر وہ ان تینوں باتوں میں سے کوئی ایک بھی کرتا ہو تو اُسے دینا حرام ہے۔ ‘‘
ان عبارات سےمعلوم ہوا کہ ایسے شرعی مفاسد کے وقت سائل کو کچھ دینا مکروہ (ناجائز) ہے، اُصولی نقطۂ نظر سے یہ بات معقول ومتوازن بھی ہے، کیونکہ دینا صدقہ ہے جو اگرچہ عام حالات میں مسنون ہے، تاہم جب کوئی جائز یامسنون چیز ناجائز چیز کا ذریعہ بن جاتی ہو، وہاں اس چیز کی سنیت واستحباب برقرار نہ رہے گا، بلکہ کراہت پیدا ہوگی۔ تاہم یہ بات بھی واضح رہے کہ یہ حکم وہاں ہے جب قوی قرائن کی وجہ سے غالب گمان کی حد تک بات پہنچ جائے، دینےو الےکا غالب گمان یہ ہو کہ اگر میں اس بھیک مانگنےوالےکوکچھ دوں گا تو فلاں فلاں مفاسد جنم لیں گے، محض خیال یا وہم کی بنیاد پر اس طرح فیصلہ کرنا مناسب نہیں ہے، اس میں ایک طرف ایک مسلمان کےمتعلق بدگمانی کا امکان ہےاور ساتھ صدقہ کے ثمرات سے محرومی بھی ہے۔ 
بعض آثار میں یہاں تک مضمون بھی آیاہے کہ اگر کوئی سائل گھوڑےپر سوار ہوکر بھی آئے توبھی اس کا کچھ نہ کچھ حق بنتاہے، ’’موطا‘‘ میں ہے:
’’عَنْ زَيْدِ بْنِ اَسْلَمَ؛ اَنَّ رَسُولَ اللہِ صلی اللہ عليہ وسلم قَالَ: ’’اَعْطُوْا السَّائِلَ وَ إِنْ جَاءَ عَلٰی فَرَسٍ۔‘‘(۱۹)
ترجمہ: ’’حضرت زید بن اسلم  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’سائل (مانگنے والے) کو دے دو، اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے۔ ‘‘
علامہ خطابی  رحمۃ اللہ علیہ  اپنی شرح میں فرماتےہیں:
’’قلت: معنی ہٰذا الکلام الأمر بحسن الظن بالسائل إذا تعرض لک وأن لا تجبہہٗ بالتکذيب والرد مع إمکان الصدق في أمرہٖ، يقول: لا تخيب السائل إذا سألک وإن راقک منظرہٗ، فقد يکون لہ الفرس يرکبہٗ ووراء ذلک عيلۃ ودين يجوز لہٗ معہما أخذ الصدقۃ۔‘‘(۲۰)
ترجمہ: ’’ اس بات کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی سائل آپ کے پاس آئے تو آپ اس کے بارے میں حسنِ ظن رکھیں، اسے جھٹلائیں یا رد نہ کریں، کیونکہ ہو سکتا ہے اس کی بات سچی ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سائل کو نااُمید نہ کریں اگر وہ آپ سے مانگے، خواہ وہ آپ کو خوشحال نظر آئے۔ ممکن ہے اس کے پاس سواری کے لیے گھوڑا ہو، لیکن اس کے پیچھے (معاشی) تنگی اور قرض ہو جو اس کے لیے صدقہ لینا جائز بنا دیتے ہوں۔ ‘‘

زکوٰۃ وصدقات مانگنا

جن احادیث میں سوال کرنے اور بھیک مانگنےکی ممانعت وارد ہوئی ہے، وہ اپنے مفہوم میں واضح ہیں اور بھیک کی تمام صورتوں کو عام وشامل ہیں، کسی سے یوں ہی خدا کے نام پر کچھ مانگاجائے، یا زکوٰۃ وصدقہ وغیرہ عنوان کےتحت سوال کیاجائے، سب صورتوں کو یہ نصوص عام ہیں اور بھیک مانگنے کی یہ سبھی صورتیں ناجائز ہیں۔ بہت سےلوگ عام شکل میں بھیک مانگنےکو تو جائز نہیں کہتے، لیکن زکوٰۃ مانگنےمیں مضائقہ نہیں سمجھتے۔
یہ بالکل بےجا اور غلط بات ہے، جس طرح عام شکل میں بھیک مانگنا جائز نہیں ہے، یوں ہی زکوٰۃ کی رقم مانگنا بھی درست نہیں ہے۔ ’’فتاویٰ قاضی خان‘‘ میں ہے:
’’ولا يحل السؤال لمن کان عندہٗ قوت يوم عند البعض، وقال بعضہم: لايحل السؤال لمن کان کسوباً أو يملک خمسين درہما ويجوز صرف الزکاۃ إلی من لا يحل لہ السؤال إذا لم يملک نصاباً۔‘‘ (۲۱)
ترجمہ:’’بعض علماء کے نزدیک اس شخص کے لیے سوال (بھیک مانگنا) جائز نہیں جس کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو۔ جبکہ بعض دیگر علماء فرماتے ہیں کہ اس شخص کے لیے سوال جائز نہیں جو محنت مزدوری کر سکتا ہو یا جس کے پاس پچاس درہم ہوں۔ نیز اگر کسی کے پاس نصاب (شرعی حد) کی مالیت نہ ہو تو اسے زکوٰۃ دینا جائز ہے، خواہ اس کے لیے سوال کرنا جائز نہ ہو۔ ‘‘
بعض جگہ دیکھنےمیں آتاہے کہ لوگ نفلی عبادات قائم کرنے کےلیے صدقہ وزکوٰۃ کا مطالبہ کرتےہیں، مثال کےطور پر حج یاعمرہ کرنے کے لیے لوگوں سے زکوٰۃ وصدقات کا مطالبہ کرتےہیں، ایسا کرنا جائزنہیں، بلکہ مذموم اور گناہ کی بات ہے۔ 

کسی کےسامنےاپنی ضرورتیں پیش کرنا
 

کوئی شخص صاف الفاظ میں بھیک تو نہ مانگے، لیکن کسی صاحبِ حیثیت کےسامنے اپنی عجز وکمزوری بیان کرے، اپنی ضرورتیں پیش کرے اور مقصود یہی ہو کہ وہ توجہ دےکر ان ضرورتوں کی تکمیل کردے، یہ بھی سوال کرنےاور بھیک مانگنے کے مترادف معلوم ہوتا ہے، چنانچہ فقہی ضابطہ ہے کہ: ’’الأمور بمقاصدہا۔‘‘
کیا ہر سوال ممنوع ہے؟
اس سلسلہ میں غور کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سوال کی ممانعت کسی خاص علت کی بنیاد پر فرمائی گئی ہےاوروہ علت ’’سوال کرنے‘‘کےساتھ ہر حال میں لازم نہیں ہے، لہٰذا شرعی حکم کا مدار اسی علت پر ہونا چاہیے۔ اگرسوال کی کسی خاص شکل میں ممانعت کی وہ بنیاد موجود ہو تو سوال ناجائز تصور ہوگا، ورنہ نہیں، تاہم عزیمت کا راستہ اور توکل کا اعلیٰ درجہ بہرحال یہی ہے کہ مخلوق سے کسی طرح بھی مدد طلب نہ کی جائے، چنانچہ ملا علی قاری  رحمۃ اللہ علیہ  ’’شرح مشکاۃ‘‘میں تحریر فرماتےہیں:
’’( فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ : ’’ ہٰذَا خَيْرٌ لَکَ مِنْ أنْ تَجِيْءَ الْمَسْألَۃَ ‘‘) أيْ: إِذَا کَانَتْ عَلٰی غَيْرِ وَجْہِہَا أوْ مُطْلَقًا، لِأنَّ السُّؤالَ ذُلٌّ فِي التَّحْقِيْقِ وَلَوْ أيْنَ الطَّرِيْقُ؟‘‘(۲۲)
ترجمہ:’’رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’یہ تمہارے لیے اس سے بہتر ہے کہ تم سوال کرو۔ ‘‘ یعنی اگر سوال کرنا اس کے صحیح مقام پر نہ ہو، کیونکہ حقیقت میں سوال کرنا ذلت ہے، اگرچہ صرف یہ پوچھنا کہ راستہ کہاں ہے؟۔ ‘‘
 رہا یہ سوال کہ وہ علت ہے کیا؟ تو بعض فقہاء کی عبارات سے بظاہر ایسا معلوم ہوتاہے کہ ’’تذلیلِ نفس‘‘ اس کی اہم علت ہے۔ 
چنانچہ ’’الاختیار‘‘میں ہے:
’’قال: (ومن کان لہٗ قوت يومہٖ لا يحل لہ السؤال) لقولہٖ عليہ الصلاۃ والسلام: من سأل الناس وہو غني عما يسأل جاء يوم القيامۃ ومسألتہٗ خدوش أو خموش أو کدوح في وجہہٖ ولأنہٗ أذلّ نفسہٗ من غير ضرورۃ وأنہٗ حرام. قال عليہ الصلاۃ والسلام:لا يحل للمسلم أن يذل نفسہٗ۔‘‘(۲۳)
ترجمہ: ’’جس شخص کے پاس ایک دن کا کھانا موجود ہو، اس کے لیے سوال (بھیک مانگنا) جائز نہیں۔ اس کی دلیل حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان ہے: ’’جو شخص لوگوں سے سوال کرے، حالانکہ اسے اس چیز کی ضرورت نہ ہو، تو قیامت کے دن وہ اپنے اس سوال کے اثرات اپنے چہرے پر زخموں، خراشوں یا داغوں کی صورت میں لائے گا۔ ‘‘ نیز اس لیے کہ اس نے بلاضرورت اپنے آپ کو ذلیل کیا، اور یہ حرام ہے۔ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا: ’’مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو ذلیل کرے۔ ‘‘
’’منحۃ السلوک‘‘میں ہے:
’’قولہ: (ومن لہٗ قوت يوم: لا يحل لہ السؤال)، لأنہٗ يستذل نفسہٗ بلاضرورۃ. وإنہٗ حرام، لقولہٖ عليہ السلام: ’’حرام علی المؤمن أن يذل نفسہٗ۔‘‘(۲۴)
ترجمہ:’’جس کے پاس ایک دن کی روٹی ہو، اس کے لیے سوال (بھیک مانگنا) جائز نہیں، کیونکہ اس طرح وہ بلا ضرورت اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے، اور یہ حرام ہے۔ اس کی دلیل حضور نبی اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  کا یہ فرمان ہے: ’’مومن کے لیے اپنے آپ کو ذلیل کرنا حرام ہے۔ ‘‘
حضرت مولانا فتح محمد تائب صاحب لکھنوی  رحمۃ اللہ علیہ  اپنی مشہور کتاب’’عطرِ ہدایہ‘‘میں تحریر فرماتےہیں:
’’ہر درخواست سوال نہیں، ورنہ لوگوں کے کام رک جائیں گے، بلکہ سوال وہی ہے جو کمالِ عجز و ابتذال وخساست پرعادۃً وارادۃً مبنی ہو، درج ذیل باتیں ناجائز سوال میں داخل نہیں:
۱- کمالِ بےتکلفی میں۔ ۲- بحقِ قرابت ودوستی وہمسائیگی وشاگردی واستاذی وغیرہ۔ ۳-اتفاقیہ کسی مصیبت میں کسی عالی ہمت سے مدد طلب کرنا۔ ۴- بے وقعت چیزوں کو طلب کرنا جیسے:حقہ، پان، تمباکو، پانی وغیرہ طلب کرنا۔ ۵- کوئی چیز عاریت کے طور پر مانگنا۔ ۶-قرض مانگنا۔ ۷- کسی خدمت یاکام کاسوال کرنا۔ ۸- باہم رشتہ دار یا دوستوں سے بےتکلفی کے تقاضےسے کوئی چیز مانگ لینا، یہ سوال شرعاً ممنوع نہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض خدمات واشیاء اپنےمخصوص صحابہ کرامؓ سے طلب فرمائی تھیں۔ ‘‘ (۲۵)

کچھ ناجائز/نامناسب رویّے

گزشتہ تفصیل سے واضح ہوجاتا ہے کہ لوگوں سے سوال کرنا بھیک مانگنا اصلاً ممنوع ومذموم ہے، تاہم ایسا کرنا مطلقاً ناجائز نہیں ہے، بلکہ بعض صورتوں میں یہ جائز یا ضروری بھی ہوسکتا ہے، ضروری ہونے کی صورتیں گو بہت ہی نادر اور کمیاب ہیں، تاہم جائز ہونے کی متعدد صورتیں ہوسکتی ہیں۔ اب کچھ کوتاہیاں تو خود بھیک مانگنے والوں کی طرف سے وجود میں آتی ہیں اور کچھ غلطیاں ایسی ہیں جن کا تعلق ان افراد کے ساتھ ہوتاہے جن سے بھیک مانگی جاتی ہے۔ اصلاحِ احوال کے لیے دونوں طبقات کی نمایاں غلطیوں کا ذکر مناسب معلوم ہوتا ہے۔ بھیک مانگنے والوں کی طرف سے درج ذیل کوتاہیاں صادر ہوتی ہیں:
۱:جن صورتوں میں شرعاً مخلوق سے مانگنے کی اجازت نہیں ہوتی، ان میں کسی سےکچھ مانگنا۔ 
۲:مانگنےکےوقت خلافِ حقیقت حالات /باتوں کا اظہار کرنا، خواہ وہ زبان سے ہو یا اپنے عمل وکردار کےلحاظ سے ہو۔ 
۳: تھوڑا مال دیاجائےتو اس پر قناعت نہ کرنا، اس کو واپس کردینا۔ 
۴:اصرار وتکرار کےساتھ مانگنا کہ مخاطب اپنی عزت بچانے کی خاطر کچھ دے دے یا شرماشرمی میں کچھ دینےپر مجبور ہوجائے۔ 
عام افراد (جن سے بھیک مانگی جاتی ہے) کی جانب سے درج ذیل کوتاہیاں صادر ہوتی ہیں:
۱:استطاعت کے باوجود نہ دینا۔
۲:مانگنے والےکو جھڑکنا، حالانکہ قرآن کریم میں صراحت کےساتھ اس سے منع کیا گیا ہے۔ 
۳: سائل کو بھلا بُرا کہنا، اس کی ہتکِ عزت کرنا، عار دلانا، احسان جتلانا۔
۴:سائل کو ذلیل اور کمتر خیال کرنا۔ 

حوالہ جات

۱- إتحاف ذوي المروۃ والإنافۃ بما جاء في الصدقۃ والضيافۃ ، ص: ۱۴۲
۲- صحيح مسلم، کتاب الزکاۃ، بَابُ کَرَاہَۃِ الْمَسْألَۃِ لِلنَّاسِ، ج:۲ ، ص:۷۲۰
۳- صحيح البخاري، کتاب الزکاۃ، باب الاستعفاف عن المسألۃ، ج:۲ ، ص:۱۲۳
۴- شعب الإيمان للبيہقي، الزکاۃ، فصل في الاستعفاف عن المسئلۃ، ج:۵ ، ص:۱۶۳
۵- سنن أبي داود، کتاب الزکاۃ، بَابُ مَنْ يُعْطِي مِنَ الصَّدَقَۃِ، وَحَدُّ الْغِنَی، ج:۲ ، ص:۱۱۶
۶-إتحاف ذوي المروۃ والإنافۃ بما جاء في الصدقۃ والضيافۃ ، ص: ۱۴۳
۷- صحيح ابن حبان، باب صدقۃ التطوع، ذِکْرُ الْخِصَالِ الْمَعْدُودَۃِ الَّتِي أبِيحَ لِلْمَرْءِ الْمَسْألَۃُ مِنْ أجْلِہَا، ج:۸ ، ص:۱۸۸
۸- غناء کی وہ کونسی مقدار ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی کے لیے بھیک مانگنا جائز نہیں ہے؟ اس کے بارے میں روایات میں مختلف الفاظ وارد ہوئے ہیں، بعض میں پچاس درہم کا ذکر ہے، بعض میں ایک دن رات کھانے کا ذکر ہے، بعض میں چالیس درہم، بعض میں دو سو درہم، جبکہ بعض میں اوقیہ کا ذکرہے، ان مختلف روایات میں تطبیق کیوں کر دی جائے؟ اس کی تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:
 معارف السّنن، باب من تحلّ لہ الزّکاۃ، ج:۵، ، ص:۲۵۹. ومنہاج السّنن، باب من تحلّ لہ الزّکاۃ، ج:۳ص۱۶۴
البتہ فقہائے حنفیہ نے بالعموم ایک دن یا ایک دن رات کےکھانےکاذکر کیاہےاور اس پر بھیک مانگنےکے جائز یاناجائز ہونے کا مدار رکھا ہے، جیساکہ اِ س تحریر میں درج شدہ فقہی عبارات سے واضح ہوجاتاہے، جبکہ یہ ضابطہ مسلم ہے کہ نصوص کے معانی ومفاہیم کو حضرات فقہائےکرام اور مجتہدین عظام ہی بہتر جانتے ہیں اور شرعی احکام کا استخراج واستنباط انہی کا حصہ ہے۔ 
۹- یہ قید متعدد حدیثی روایات اور فقہی نقول کی بنا پر لگائی گئی ہے، مثال کے طور پر ’’سنن ابی داؤد‘‘ میں ہے:
سنن أبي داود، ت: الأرنؤوط (۳/ ۷۵):
’’ عن عُبيد اللہ بن عَديّ بن الخِيار أخبرني رجلان: أنہما أتيا النبيَّ صلَّی اللہ عليہ وسلم في حجَّۃ الوَدَاع وہو يقسِمُ الصدَقۃ، فسألاہ منہا، فرفَّع فينا البصرَ وخفَّضَہٗ، فرآنا جَلدَين، فقال: ’’إنْ شِئتُما أعطيتکما، ولا حَظَّ فيہا لغِنيّ ولا لقويّ مُکتسب۔‘‘
’’الاختیارلتعليل المختار: (۱/ ۱۲۲)‘‘ میں ہے:
’’واعلم أن الغني علی مراتب ثلاثۃ: غني يحرم عليہ السؤال، ويحل لہٗ أخذ الزکاۃ، وہو أن يملک قوت يومہٖ وستر عورتہٖ ؛ وکذلک الحکم فيمن کان صحيحا مکتسبا۔‘‘ 
۱۰- فتاوی قاضي خان، کتاب الزکاۃ، فصل فيمن توضع فيہ الزکاۃ، ج:۱ ، ص:۱۳۰
۱۱- تحفۃ الفقہاء، کتاب الزکاۃ، باب من يوضع فيہ الصدقۃ، ج:۱ ، ص:۳۰۲
۱۲- تحفۃ الملوک، فصل في الميت، ، ص:۲۷۴
۱۳- بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، کتاب الزکاۃ، فصل الذي يرجع إلی المؤدی إليہ، ج:۲ ، ص:۴۹
۱۴- مسند أحمد، ط: الرسالۃ، مسند المکثرين من الصحابۃؓ، ج:۱۹ ، ص:۲۹۶
۱۵- الموسوعۃ الفقہيۃ الکويتيۃ، أحکام الحمالۃ، إباحۃ السؤال لأجل الحمالۃ، ج:۱۸ ، ص:۱۲۴
۱۶- الفتاوی البزازيۃ، کتاب الصلاۃ، الثالث والعشرون في الجمعۃ، ج:۱، ص:۳۹، قديمي
۱۷- البحر الرائق شرح کنز الدقائق ومنحۃ الخالق وتکملۃ، کتاب الکراہيۃ، فصل في البيع، ج:۸ ، ص:۲۳۵
۱۸- تحفۃ الملوک، فصل في الميت، ج:۱ ، ص:۲۷۴
۱۹- موطأ مالک، ت: الأعظمي، الترغيب في الصدقۃ، ج:۵ ، ص:۱۴۵۰
۲۰- معالم السنن، کتاب الزکاۃ، ومن باب حق السائل، ج:۲ ، ص:۷۵
۲۱- فتاوی قاضی خان، کتاب الزکاۃ، فصل فيمن توضع فيہ الزکاۃ، ج:۱ ، ص:۱۳۰
۲۲- مرقاۃ المفاتيح شرح مشکاۃ المصابيح، کتاب الزکاۃ، باب من لا تحل لہ المسألۃ ومن تحل لہٗ، ج:۴، ص:۱۳۱۵
۲۳- الاختيار لتعليل المختار، کتاب الزکاۃ، فصل في الکسب، ج:۴ ، ص:۱۷۶
۲۴- منحۃ السلوک في شرح تحفۃ الملوک، کتاب الکسب والأدب، ج:۱ ، ص:۴۷۵
۲۵- عطرِ ہدایہ، ص:۳۵۵، مخرّج ومحقّق۔

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے