بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

سفرِ انسانی کے مراحل (درسِ سورۂ فاتحہ)

سفرِ انسانی کے مراحل

(درسِ سورۂ فاتحہ)

 

۵؍ربیع الاول ۱۴۴۶ ھ، کو جامعہ بنوری ٹاؤن کے سابق استاذ اور جامعہ دارالعلوم زکریا ساؤتھ افریقہ کے شیخ الحدیث حضرت مفتی رضاء الحق صاحب دامت برکاتہم‘ جامعہ بنوری ٹاؤن کے شیخ الحدیث حضرت مولانا محمدانور بدخشانی رحمۃ اللہ علیہ کی تعزیت کے سلسلے میں کراچی تشریف لائے تھے۔ اس سفر میں آپ نے عثمانیہ مسجد نزد اسلامیہ کالج کراچی میں سورۂ فاتحہ سے متعلق درسِ قرآن بھی دیا، جسے جامعہ کے متعلم مولوی ہدایت اللہ اورکزئی نے ضبط و ترتیب دیا اورعنوانات وغیرہ کا اضافہ کیا۔ اس  درس کو تحریری شکل میں افادۂ عام کے لیے پیش کیا جا رہاہے۔  (ادارہ)

 

الحمد للہ رب العالمين والصلوۃ والسلام علی سيدنا وعلی آلہ وأصحابہ وأزواجہ وأتباعہ أجمعين إلٰی يوم الدين. أما بعد: فقد قال اللہ تبارک وتعالٰی: ’’ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ  اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ  ۥۙ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّاۗلِّیْنَ ‘‘
علماء کرام اور میرے مسلمان بھائیو!
مولانا عبد الرؤف صاحب غزنوی دامت برکا تہم کی فرمائش پر آپ حضرات کے سامنے آپ کی خدمت میں وہ سورۂ فاتحہ میں نے پڑھی اور پیش کی جو ہم ہر نماز میں اور تقریباً ہر رکعت میں پڑھتے ہیں، امام صاحب پڑھتے ہیں، اور مقتدی حضرات سنتے ہیں، وہ عظیم الشان سورت ہے۔ حضرت ابو سعید ابن معلی  رضی اللہ عنہ  کو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فرمایا کہ: مسجد سے نکلنے سے پہلے میں آپ کو ایک عظیم الشان سورت بتاؤں گا اور سناؤں گا، جب نکلے تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  تشریف لے جارہے تھے تو حضرت ابن معلی  رضی اللہ عنہ  نے یاد دلایا، تو رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے یہی سورت اُن کو سکھائی۔ 
اور یہ سورت ’’سورتِ شفاء‘‘ بھی کہلاتی ہے، حضرت ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں تھے اور (عربوں کی یہ عادت تھی کہ) سفر میں جب (کوئی جاتے چاہے) صحابہ کرامؓ جاتے، (یا کوئی اور ) جہاں ٹھہرتے تھے، وہاں کے لوگوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ ان کے کھانے پینے کا انتظام کریں، یہ حضرات (ایک جگہ) ٹھہرے اور مقامی لوگوں نے کوئی انتظام نہیں کیا، کوئی کھانا نہیں کھلایا، اتنے میں معلوم ہوا کہ ان کے سردار کو سانپ نے ڈسا ہے، یا بچھونے کاٹا ہے اور ہر قسم کا علاج کیا، لیکن اس کو افاقہ نہیں ہوا، صحت نہیں ہوئی، اس قبیلے کے دل میں آیا کہ یہ مہمان آئے ہیں، ان کے پاس کوئی دم ہوگا، جھاڑ پھونک ہوگی، جس کو ہم استعمال کریں اور ہمارا سردار ٹھیک ہو جائے، حضرت ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  کے پاس آئے، انہوں نے فرمایا کہ کل ہم آئے ہیں، چونکہ آپ لوگوں نے ہماری مہمان نوازی نہیں کی ہے، جبکہ آپ کی ذمہ داری تھی، اس لیے (ایک روایت میں ہے) ہم آپ سے ۳۰؍ بھیڑ بکریاں اور ایک روایت میں ہے ۱۰۰ بھیڑ بکریاں مانگتے ہیں، آپ ادا کریں، ہم دم کرتے ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ بعض مرتبہ ولی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوتا ہے کہ میری کرامت کیا ہوگی اور میرے دم کا نتیجہ کیا ہوگا۔ حضرت ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  کے دل میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ڈالا تھا کہ میں دم کروں گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ٹھیک ہوگا، اگر وہ ٹھیک نہ ہو تا تو پھر بد نام ہو جاتے۔ حضرت ابو سعید خدری  رضی اللہ عنہ  نے سورت فاتحہ کے ساتھ جو سورت شفاء ہے ان کو دم کیا اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو ایسی شفا دی کہ حدیث کے الفاظ ہیں ( کہ وہ درست ہوئے ) اس طرح جیسا کہ اونٹ کے پاؤں کو رسی سے باندھا گیا ہو اور رسی کو کھولا جائے اور جمپ لگائے، چھلانگ لگا دے، اس طرح وہ ٹھیک ہوگیا۔ 
اس سورت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے کچھ اہم مسائل بیان فرمائے ہیں، میں مختصر اعرض کرتا ہوں، اگر کوئی سفر کے لیے جا رہا ہو تو اس کو ( چند ضروریات ہوتی ہیں):
۱- ضرورت ہوتی ہے کہ راہ کا توشہ ہونا چاہیے۔ 
۲- لمبےسفر کے لیے سواری چاہیے، سواری کے بغیر نہیں جا سکتا، ٹرین کی سواری ہو، بس کی سواری ہو، جہاز کی سواری ہو اور جب بہت دور کا سفر ہو تو بہت اعلیٰ درجے کی سواری چاہیے۔ 
۳- اس کو راستہ معلوم ہونا چاہیے، اور صحیح راستہ معلوم ہونا چاہیے، اگر صحیح راستہ معلوم نہ ہو تو گم ہو جائے گا، بجائے آگے جانے کے پیچھے آجائے گا، لیلیٰ مجنوں کا قصہ ہو جائے گا کہ مجنوں کی اونٹنی کا بچہ گھر پر پیچھے تھا اور مجنوں کی محبوبہ لیلیٰ آگے تھی تو مجنوں اونٹنی کو آگے لے جانا چاہتا تھا، جب مجنوں کہیں گم ہوجاتا، سواری واپس آجاتی تھی۔ 

ہوی ليلتي خلفي وخذہا من ال
ہواء وإني وإياہا لمختلفان

میری اونٹنی کا مقصد پیچھے ہے اور میری لیلیٰ آگے ہے اور ہم دونوں کی منزل مختلف ہے، اس لیے منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکتے، تو سیدھا راستہ ہو تو مقصود تک پہنچتا ہے۔
۴- سیدھے راستے کے لیے رہبر ہونا چاہیے، ڈرائیور ہو یا گارڈ اور گاڑی بھی چلا سکتا ہو، تو سارا معاملہ حل ہوجائے گا۔ 
۵- پھر راستے میں چور اور ڈاکو سے بھی حفاظت ہونی چاہیے، آدمی راستے میں لوٹا جائے گا، تو سب کچھ چلا جائے گا، اگر بہت دور کا سفر ہو، تو اس کے لیے بجلی بھی ہونا چاہیے، بجلی کے بغیر نہیں جا سکے گا، اگر جنت جارہا ہو، جنت کوئی معمولی چیز نہیں ہے: ’’حفت الجنۃ بالمکارہ‘‘ جنت کو گھیر لیا گیا ہے مصیبتوں کے ساتھ‘‘ ، ’’وحفت النار بالشہوات‘‘، ’’ اور جہنم کو گھیر لیا گیا ہے شہوتوں کے ساتھ۔‘‘ تو پہلا نمبر ہے کہ ہمارے پاس تو شہ ہونا چاہیے، توشۂ عبادت ہمارے پاس ہے، عبادت ہو تو یہ ہمارے راستے کا توشہ ہے۔ 
پھر عبادت کی چار قسمیں ہیں: 
1- عبادتِ قلبی: عبادات صرف اللہ کے لیے کرنا اور صرف اللہ سے اُمید رکھنا، یہ عبادتِ قلبی ہے۔ 
2- عبادتِ لسانی :اپنی زبان سے صرف اللہ سے مدد مانگنا، غیر اللہ سے نہیں مانگنا، بعض اسباب کے علاوہ یہ عبادتِ لسانی۔
3- عبادتِ بدنی: عبادتِ بدنی رکوع ہے، سجدہ ہے، یہ بھی صرف اللہ کے لیے ہو۔
4- عبادتِ مالی: عبادتِ مالی نذر ہے، صدقہ ہے، زکاۃ ہے، نفلی صدقہ ہے، یہ سب اللہ کے لیے ہو، عبادت آدمی کے لیے، مسلمان کے لیے آخرت کا توشہ ہے، آپ لوگوں نے وہ حدیث سنی ہے: ’’ إن اللہ لاينظر إلٰی صورکم وأموالکم ولکن ینظر إلٰی قلوبکم و أعمالکم۔‘‘ ( رواہ مسلم) کہ ’’اللہ تعالیٰ تمہاری شکل و صورت کو نہیں دیکھتے اور اللہ تعالیٰ تمہارے مال کو نہیں دیکھتے کہ زیادہ مالدار ہیں یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے اخلاص کو دیکھتے ہیں، اللہ تمہارے اعمال کو دیکھتے ہیں۔‘‘ تو یہ عبادت ہمارےلیے راستے کا توشہ ہے۔ 
’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ‘‘ ، اس سے اللہ کی تعریف کریں، اللہ تعالیٰ کی تعریف پہلے کریں تو اللہ تعالیٰ راضی ہوں گے، پھر ’’ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘، یہ ہے سواری اور سواری ہے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے مد مانگے، اگر اللہ بارک تعالیٰ کی مدد نہ ہوتو ہم عبادت نہیں کرسکتے، ہم عباد ت کا ارادہ کرلیتے ہیں اوراللہ تعالیٰ ہمیں عبادت کی توفیق عطا فرماتے ہیں، خود بخود عبادت نہیں ہوتی، ہماری محنت اس میں شامل ہو گی، ہم ارادہ کرتے ہیں:’’ اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ‘‘ (رعد، آیت: ۱۱) اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ آپ کی حالات کو نہیں بدلیں گے، جب تک تم حالات کے بدلنے کی محنت نہ کرو، اور بھی اس کے تقریباً چار مطلب ہیں، چار معانی ہیں، ایک معنی یہ ہے: جب آپ ارادہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ کی مد ہوگی، اللہ تعالیٰ کی مد د ہماری معاون ہوگی،’’ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ یہ ہے اللہ تعالیٰ پر توکل، اللہ تعالیٰ کی مدد، ہمارے لیے سعادت کی بات ہے، اس لیے حدیث میں آتا ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں: کوئی عمل کی وجہ سے جنت میں نہیں جا سکتا، صحابہ کرامs نے عرض کیا: یار سول اللہ! آپ بھی ؟ فرمایا: ہاں! میں بھی ’’ إلا أن يتغمدني اللہ برحمتي‘‘ جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمت اللہ، تعالیٰ کی مدد، اللہ تعالیٰ کا کرم میرے ساتھ نہ ہو، میں بھی نہیں جاسکتا۔ 
تیسرے نمبر پر راستہ ہے: ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ‘‘ سیدھا راستہ ہمیں بتلا دیجیے، اور سیدھے راستے پر ہمیں چلا دیجیے، اور سیدھے راستے پر چلاتے چلاتے منزلِ مقصود تک پہنچادیجیے، ’’اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَـقِیْمَ‘‘ میں یہ سب ہے، سیدھا راستہ بتلانا، سیدھے راستے پر چلنا، سیدھے راستے پر چلتے چلتے منزلِ مقصود تک پہنچنا، ہم آپ سے یہ چاہتے ہیں، صراطِ مستقیم اللہ تبارک و تعالیٰ نے دو تین جگہ فرمایا: انبیاء  علیہم الصلاۃ والسلام  کا راستہ، شہداء کا راستہ، صالحین کا راستہ، اللہ والوں کا راستہ، بزرگانِ دین کا راستہ، ائمہ مجتہدین کا راستہ، یہ اللہ تعالیٰ کا راستہ ہے، یہ سیدھا راستہ ہے، رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے خط کھینچا، سیدھا خط کھینچا، اور اس کے اطراف میں ٹیڑھے ٹیڑھے خط کھینچے، فرمایا: تم سمجھ گئے ہو کہ کیا کیا میں نے؟ فرمایا: یہ جو سیدھی لکیر ہے، یہ سیدھا راستہ ہے، اور یہ جو اِدھر اُدھرٹیڑھے ٹیڑھے راستے ہیں ، یہ شیطان کے راستے ہیں، صراطِ مستقیم پر چلو گے مقصد تک پہنچ سکو گے، اور نہیں چلو گے تو منزلِ مقصود تک نہیں پہنچ سکو گے۔ 
پھر فرمایا: صراطِ مستقیم کون سا راستہ ہے؟’’ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ‘‘ ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ تبارک و تعالیٰ نے احسان کیا۔ 
کتاب سے علم حاصل نہیں ہو سکتا، ڈاکٹری کی کتاب پڑھ کر ڈاکٹر نہیں بن سکتا، انجینئرنگ کی کتاب پڑھ کر انجینئر نہیں بن سکتا، درزی کی کتاب پڑھ کر درزی نہیں بن سکتا، تو کیا یہ علم اتنا معمولی علم ہے، اتنی معمولی چیز ہے، جو آدمی بغیر استاذ کے سیکھے گا، بغیر کسی رہبر کے سیکھے گا، یا آدمی بغیر ہدایت کرنے والے کے سیکھے گا، مشکل ہے، اس لیے علماء سے رابطہ رکھنا ضروری ہے۔ ائمہ مجتہدین جنہوں نے ہمارے اوپر احسان فرمایا، اسی طرح ان کا راستہ اپنانا چاہیے، اسی طرح جو تصوف کے ہمارے ائمہ ہیں، جیسے مولانا مفتی محمود حسن، حضرت شیخ، ان کا طریقہ اپنانا چاہیے۔ 
فرمایا: راستے میں کبھی کبھی ڈاکو ہوتے ہیں، ڈاکہ ڈالتے ہیں، چوری کرتے ہیں، مال چھین لیتے ہیں، جان لے لیتے ہیں، فرمایا : ’’غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّاۗلِّیْنَ‘‘ جو جہالت میں مبتلا ہے ان کے راستے سے ہمیں بچائیے، اور ’’مَغْضُوْب عَلَیْہِمْ‘‘ جو علم کے محبوب راستے سے ہٹ گئے ہیں، اور ہٹ جاتے ہیں، یا اللہ! ان کے راستے سے بچادے، یہود و نصاریٰ اور ان کے علاوہ اور جتنے لوگ ہیں، اور جہالت سے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، یا سمجھتے ہیں، سمجھتے ہوئے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں، یا اللہ! ان کے راستے سے ہمیں بچائیے، اور پھر آخر میں علماء کرام فرماتے ہیں: کہ نماز میں بھی’’وَلَا الضَّاۗلِّیْنَ‘‘کے بعد آمین پڑھنا ہے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک چپکے سے، اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے جو شوافع حضرات ہیں وہ زور سے پڑھتے ہیں، بلند آواز سے پڑھتے ہیں، لیکن آمین سب پڑھتے ہیں، یہ آمین ویزہ ہے کہ یا اللہ! ہم نے درخواست کی ہے صراطِ مستقیم پر چلنے کی، یا اللہ! ہماری درخواست کو، ہمارے ویزے کو قبول فرمادے، چھ نمبر پورے ہو گئے، پھر اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : آپ کو ہدایت چاہیے، آپ کو صراطِ مستقیم چاہیے، آپ کو سیدھا راستہ چاہیے، آپ کو خیر والا راستہ چاہیے؟ ’’ذٰلِکَ الْکِتٰبُ لَا رَیْبَ ۝۰ۚۖۛ فِیْہِ ۝۰ۚۛھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ‘‘ یہ ہدایت ہے تقویٰ حاصل کرنے والوں کے لیے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ مجھے بھی صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آپ کو بھی صحیح راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں اس صراطِ مستقیم پر جو ہمارے اکابر، اور ہمارے بڑوں، اور ہمارے رہبر رہنما حضرات کا راستہ ہے، اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔

حوالہ جات

۱-صحیح البخاري، باب فضل فاتحۃ الکتاب، ج:۴ ، ص: ۱۹۱۳، رقم الحدیث : ۴۷۲۰، طبع دار ابن کثیر دمشق، بیروت
۲-أیضاً، رقم الحدیث  : ۴۷۲۱
۳- صحیح مسلم، باب تحریم ظلم المسلم و خذلہ واحتقارہ، ج:۲ ، ص: ۳۱۷، طبع: قدیمی کتب خانہ
۴-صحیح البخاري، باب في الأمل و طولہ، ج: ۲۰ ، ص: ۹۵۰، طبع: قدیمی کتب خانہ
۵- صحیح مسلم، باب صفۃ الجنۃ ، ج: ۱۷، ص: ۱۶۳، رقم الحدیث :۷۰۶۱، طبع: دار معرفۃ بیروت، لبنان

 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے