
اللہ رب العزت نے ہر موسم میں فوائد و منافع ضرور رکھے ہیں، جن کو ہر عقل مند اور ذی شعور انسان بآسانی سمجھ سکتا ہے۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مسلمان کے لیےسردی بہار کا موسم ہے۔‘‘ (المسند للإمام أحمد، مسند أبي سعید الخدريؓ)
علامہ ابن رجب حنبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
’’مسلمان کے لیےسردی بہار کا موسم ہےکہ اس میں مومن اطاعت کے باغات میں چرتا ہےاورعبادات کے میدانوں کی سیر کرتا ہے اورسردی میں بآسانی کیے جانے والےاعمالِ صالحہ کے باغات میں اس کادل خوش ہو رہا ہوتا ہے۔ جس طرح بہار کے موسم میں سبزہ ہی سبزہ ہوجاتا ہے اور جانور چراگاہوں میں چرتے ہیں اور فربہ ہو جاتے ہیں اور یوں چوپایوں کے جسم کی اصلاح ہوتی ہے، پس اسی طرح سردی کے موسم میں عبادات کو اللہ تعالیٰ مسلمان کے لیے آسان کردیتا ہے، اس سے اس کے دین کی اصلاح ہوتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:’’کیا میں تم لوگوں کی رہنمائی ٹھنڈی غنیمت کی طرف نہ کروں؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں ! تو آپؓ نے فرمایا سردیوں میں روزے رکھنا۔‘‘ (لطائف المعارف، ص:۳۲۶)
حضرت عامر بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مَروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِرشاد فرمایا:
’’سردی کے موسم میں روزہ رکھنا ٹھنڈی غنیمت ہے۔‘‘ (ترمذی شریف)
جب سردی آتی تو حضرت عبید بن عمیر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے:
’’اے اہلِ قرآن! تمہاری نمازوں کے لیے رات لمبی ہو گئی اور تمہارے روزوں کے لیے دن چھوٹے ہوگئے، پس تم موسمِ سرما کو غنیمت جانو!‘‘ (مصنف ابن أبي شیبۃ، رقم الحدیث:۹۷۴۳)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’سردی کا موسم مومن کے لیے موسمِ بہار ہے، اس کے دن چھوٹے ہوتے ہیں، جن میں وہ روزے رکھ لیتا ہے اور اس کی راتیں لمبی ہوتی ہیں، جن میں وہ قیام کرلیتا ہے۔‘‘ (السنن الکبریٰ للبیہقي)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’سردیوں کے روزے رکھنا مفت میں اجر کمانا ہے۔‘‘ (طبرانی)
ہمارے بزرگانِ دین موسم سرما کی آمد پر خوش ہوتے اور اِسے عبادت میں اِضافے کا موسم قرار دیتے، جیسا کہ حضرتِ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ موسمِ سرما کی آمد پر فرماتے:
’’سردی کو خوش آمدید، اِس میں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں کہ شب بیداری کرنے والے کے لیے اِس کی راتیں لمبی اور روزے دار کے لیے دن چھوٹا ہوتا ہے۔‘‘ (فردوس الأخبار)
حضرت ابوعبداللہ محمد بن مفلح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’سردی کے موسم میں رات کے اوّل حصّے اور گرمیوں میں دن کے ابتدائی حصّے میں ختمِ قرآن مسنون ہے۔‘‘ (آداب الشریعۃ لابن مفلح، ص:۶۸۸)
سردیوں میں دن چھوٹے اور موسم ٹھنڈا ہونے کی وجہ سے بھوک اور پیاس کا اِحساس کم ہوتا ہے، لہٰذا اِس موسم میں روزے کا ثواب کمانا آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندےسردیوں کی راتوں میں عبادت کو محبوب جانتے تھے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’سردی کا موسم عبادت گزاروں کے لیے غنیمت ہے۔‘‘ (موسوعۃ لابن أبي الدنیا، ج:۱)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’ جو شخص سخت سردی میں پانی کے ساتھ اچھی طرح وضو کرے اس کو ثواب کا دہرا حصّہ ملتا ہے: (ایک حصہ وضو کرنے کا، دوسرا سردی برداشت کرنے کا)۔‘‘ (طبرانی)
سردی میں چونکہ ٹھنڈے پانی سے وضو کرنا مشکل ہے، اس لیے سردیوں میں شوق سے وضو کریں اور دہرا اجر پائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’تم زمین والوں کے ساتھ رحم کا معاملہ کرو، آسمان والا تم پر رحم فرمائے گا۔‘‘ (ابوداؤد شریف)
سردی کے موسم میں رات کے وقت ہر کوئی چاہتا ہےکہ گرم لحاف میں لپٹا ہوا ہو، بہترین گرم سوئیٹراس کے پاس ہو، لیکن اس دنیا میں ایسے کتنے لوگ ہیں کہ جن کے پاس سرچھپانے کے لیے چھت نہیں، آرام کرنے کے لیے نرم وگرم بستر نہیں، سردی کی سخت راتوں میں ضرورت مند ومجبور سڑکوں کے کنارے، فٹ پاتھ پر اوربس اڈوں پر پڑے ہوتے ہیں، جن کے پاس نہ گرم کپڑے ہیں اور نہ ہی گرم بستر۔ ایسے میں جن کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سردی کی سخت راتوں میں ان ضرورت مندوں کا خصوصاً اہلِ غزہ / فلسطین اور پاکستان میں سیلاب متأثرین کا بھی خیال رکھیں، ان کی سردی کو بھی دور کرنے کی کچھ کوشش کریں، اگر کچھ نیا نہیں دے سکتے تو کم ازکم پرانا استعمال شدہ ہی صحیح ان کو پہنادیں، تاکہ وہ بھی سردی کی سختیوں سے بچ سکیں۔ سردی کا موسم انسانی ہمدردی کے جذبہ کو بھی پروان چڑھاتا ہے۔
سردیوں میں عبادات کے فضائل و برکات یہ ہیں کہ! چھوٹے چھوٹے دن اور لمبی لمبی راتیں ہوتی ہیں، دن کو روزہ رکھیں، نہ بھوک اور نہ ہی پیاس ستاتی ہے۔ ان دنوں میں رمضان کے قضا روزے بھی آسانی سے رکھے جا سکتے ہیں۔
راتوں کو تلاوت، ذکر، درود شریف، نوافل، قضا نمازیں اور معتبر دینی کتب کا مطالعہ وغیرہ جیسی عبادات میں خرچ کریں۔
اللہ پاک عمل کی توفیق عطا فرمائے، آمین!