
کسی ملک کا دستور یا آئین ملک کے نظامِ حکومت کے لیے بنیادی پتھر کی حیثیت رکھتا ہے ، پاکستان بھی اس کلیے سے مستثنیٰ نہیں ۔ ۱۹۴۷ءسے۱۹۷۳ ءتک یہاں دستور کے مختلف مسودے تیار ہوئے ، ان میں سے کچھ وقتی طورپر نافذ بھی ہوئے ، لیکن یہ مسئلہ متنازعہ بنا رہا ، اللہ اللہ کرکے۱۹۷۳ ءمیں تمام سیاسی اور دینی حلقوں کے اتفاق سے موجودہ آئین منظور ہوا اور چند امور کو چھوڑ کر بحیثیت مجموعی یہ آئین ایساتھا کہ اسے ایک اسلامی ریاست کا آئین کہا جاسکتا تھا ، چنانچہ دینی حلقوں نے بھی اسےبسا غنیمت سمجھ کر قبول کیا ۔
اس متفقہ آئین میں یہ شق بھی موجود ہے کہ اگر اس میں کسی ترمیم کی ضرورت پیش آئے تو مجلسِ شوریٰ کی دوتہائی اکثریت سے اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے ، چنانچہ ماضی میں متعدد ترمیمات اسی بنیاد پر کی گئیں جن میں سے بعض ترمیمات نے دستور کو اسلامی اعتبار سے بھی مضبوط بنایا، جیسے ختمِ نبوت سے متعلق ترمیم، فیڈرل شریعت کورٹ اور سپریم کورٹ کی اپیلیٹ بینچ کے قیام سے متعلق ترمیمات۔
اب ستائیسویں ترمیم کے نام سے ایک ترمیم دونوں ایوانوں سے منظور کی گئی ہے جو اہلِ دانش کے درمیان آج کل موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے اور ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کا غیر جانبداری سے جائزہ لے کر اس پر ضروری تبصرہ کیا جائے۔
یہاں پہلی بات تو یہ عرض کرنی ہے کہ دستور میں کوئی ترمیم کرنے کا مناسب طریقہ یہ ہونا چاہیے کہ اس کے اہم نکات کو وضاحت کے ساتھ پہلے سے شائع کر کے ملک کے اہلِ دانش کو اس پر غور و فکر اور تبصرے کا موقع دیا جائے، اس کے برعکس یہ ترمیم اتنی عجلت میں تیار اور منظور کی گئی ہے کہ بہت سے اراکینِ مجلسِ شوریٰ یہ شکایت کرتے پائے گئے کہ انہیں اس کا علم بالکل آخر میں ہوا، اس لیے انہیں اس پر غور و فکر کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔
یہ ترمیم شائع شدہ گزٹ کےاکیس صفحات پر مشتمل ہے، اور اس کا بغور جائزہ لینے کے بعد بنیادی طور پر اس کے اہم نکات یہ ہیں:
1-’’ وفاقی دستوری عدالت‘‘ (federal constitional court) کے نام سے ایک نئی عدالت قائم کی گئی ہے جسے تمام آئینی مقدمات کا فیصلہ کرنے کا حتمی اختیار دیا گیا ہے۔ کسی بھی ہائی کورٹ میں دفعہ۱۹۹ کے تحت جو مقدمات فیصل ہوں، ان کی اپیل سپریم کورٹ کے بجائے اس نئی عدالت ہی میں ہو سکے گی اور یہ عدالت خود بھی ہائی کورٹ سے ایسے مقدمات کا ریکارڈطلب کر سکے گی۔
دستوری مقدمات کا فیصلہ جو پہلے سپریم کورٹ اپنے قواعد کے مطابق کرتا تھا، اب اس کا اختیار اس آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا ہے، اور اس کافیصلہ حتمی قرار دیا گیا ہے ،اور اس کے فیصلے کا سپریم کورٹ بھی پابند ہوگیاہے۔
اس معاملے میں دو رائے ہو سکتی ہیں کہ اس قسم کے معاملات حسبِ سابق سپریم کورٹ ہی میں رہیں، یا اس کے لیے نئی عدالت قائم کی جائے، جیسا کہ بعض دوسرے ملکوں میں بھی ہوتا ہے۔ اس کے فوائد بھی ہو سکتے ہیں، اور نقصانات بھی، لیکن موجودہ حالات میں جبکہ سپریم کورٹ میں بہت سے ایسے آئینی مقدمات زیرِ التوا ہیں، جن کا تعلق ملک کے سیاسی ماحول سے بھی ہے،یکایک ایک ایسی عدالت کا قیام جس میں ججوں کا پہلی مدت کے لیے تعین وزیراعظم اور صدر کو سونپا گیا ہے‘ کچھ شبہات ضرور پیدا کرتا ہے۔
اور اصل بات یہ ہے کہ وہ سپریم کورٹ ہو یا نئی آئینی عدالت، اگر اس کے جج صاحبان سیاست اور مفادات سے آزاد ہو کر پوری غیر جانبداری سے آئین کے مطابق فیصلے کرنے والے ہوں، تو خواہ وہ سپریم کورٹ میں ہوں ، یا آئینی عدالت میں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اگر خدانخواستہ جج صاحبان اپنے فرائض کو ادا کرتے ہوئے کوئی دباؤ محسوس کریں ،تو چاہے وہ سپریم کورٹ میں ہو ںیا آئینی عدالت میں، انصاف کے راستے میں رکاوٹ باقی رہے گی۔
البتہ نئی آئینی عدالت کے قیام کے بعد بعض اہم مسائل ایسے اُٹھ سکتے ہیں ، جن کا کوئی حل بظاہر اس ترمیم کی عبارت میں موجود نہیں ہے ، اور ان کی وجہ سے عدالتوں میں اختلاف اور اس کے نتیجے میں مقدمات کے فیصلے میں تاخیر در تاخیر ہونے کا بھی اندیشہ ہے، مثلاً ایک بات تو یہ ہے کہ نئی عدالت کے قیام سے پہلے سپریم کورٹ بہت سے مسائل میں آئین کی تشریح کر چکی ہے ، سوال یہ پیدا ہوگا کہ آیا نئی آئینی عدالت ان فیصلوں کی پابند ہوگی یا نہیں، جو اس کے وجود سے پہلے سپریم کورٹ دے چکی ہے؟
نیز اگرچہ اب آئینی مسائل نئی عدالت کے پاس جائیں گے ، لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اصل مقدمہ عمومی نوعیت کا ہوتا ہے اور اسے براہِ راست آئینی مقدمہ نہیں کہا جا سکتا ، لیکن اس عمومی نوعیت کے مقدمے کا فیصلہ کرتے ہوئے عدالت کو آئین کی کسی دفعہ کی تشریح کرنی پڑتی ہے ، اگر سپریم کورٹ کسی عام نوعیت کے مقدمے کا فیصلہ کر رہی ہو ، مثلاً دو افراد کے درمیان کوئی دیوانی مقدمہ یا کوئی فوجداری مقدمہ اور اس کا فیصلہ کرتے ہوئے آئین کی کسی دفعہ کی تشریح کرنی پڑ جائے، تو کیا سپریم کورٹ اس حد تک آئین کی تشریح نہیں کر سکے گی ؟ اور اگر کرے گی تو کیا اسے آئینی عدالت میں چیلنج کیا جا سکے گا؟ اور اگر نہیں کر سکے گی تو کیا وہ مقدمہ آئینی عدالت کے پاس جائے گا ؟ دونوں صورتوں میں اِبہام اور اصل نتیجے تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی تاخیر لازمی ہے۔
2- اصل آئین کے مطابق کسی بھی ہائی کورٹ کے کسی جج کا ٹرانسفر کسی دوسرے ہائی کورٹ میں اس کی مرضی کے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا، آئین کی دفعہ ۲۰۰اس بارے میں واضح تھی ۔
لیکن اس نئی ترمیم کے ذریعے دفعہ ۲۰۰میں بڑی تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ کسی جج کا ٹرانسفر اس کی مرضی کے بغیر بھی کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر وہ ٹرانسفر سے انکار کرے تو اس کے خلاف دفعہ۲۰۹ کے تحت تیس دن کے اندر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی ہوگی اور اس دوران اس کو بحیثیتِ جج کام کرنے سے روک دیا جائے گا۔ واضح رہے کہ دفعہ ۲۰۹کے تحت عام طور سے ان ججوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے جن پر کسی غلط رویے کا الزام ہو۔
ہائی کورٹ کے جج صاحبان کو ٹرانسفر پر مجبور کرنا یقیناً ایسی بات ہے جو عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔ اس طرح کسی بھی ایسے جج کے خلاف کارروائی ہو سکتی ہے جو کسی بھی سیاسی یا ذاتی وجہ سےحکومت کو ناپسند ہو۔
3- تیسری اہم اور سخت قابلِ اعتراض تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ پہلے بھی آئین کی دفعہ۲۴۸ میں صدرِ مملکت کو یہ تحفظ دیا گیا تھا کہ اس کے عہد ےکے دوران اس کے خلاف کوئی فوجداری کارروائی عدالت میں نہیں کی جا سکتی تھی، یعنی کسی بھی جرم میں اس کے خلاف اس وقت تک کوئی مقدمہ نہیں ہو سکتا تھا، جب تک وہ صدارت کے عہدے پر فائز ہے۔ یہ دفعہ شرعی نقطۂ نظر سے پہلے بھی غلط تھی ۔ اسلام میں کسی بھی سربراہِ مملکت کو اس قسم کا تحفظ دینا سراسر ناجائز ہے۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو، یا خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم نے اپنی ذات کو یہ تحفظ دینے کے بجائے اس کے خلاف واضح احکام عطا فرمائے ہیں ۔
لیکن اس ستائیسویں ترمیم کے ذریعے اس تحفظ کو ختم کرنے کے بجائے اسے مزید وسعت دے دی گئی ہے، یعنی اب یہ تحفظ صرف صدرِ مملکت ہونے کے دوران نہیں، بلکہ صدارت ختم ہونے کے بعد بھی تاحیات باقی رہے گا، اور زندگی بھر اس کے خلاف کسی بھی جرم میں کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔
اور یہ تحفظ جس طرح صدرِ مملکت کو دیا گیا ہے، اسی طرح دفعہ۲۴۳ میں ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو بھی دیا گیا ہے کہ تاحیات ان کے خلاف کسی جرم میں کوئی کارروائی نہیں ہو سکے گی۔ اس سے پہلے دستور میں یہ عہدے موجود نہیں تھے، لیکن جن سپہ سالاروں نے ملکی دفاع میں امتیازی کارنامے انجام دیے ہوں، انہیں اس قسم کے خطابات دینا ایک مستحسن بات ہے ، انہیں کسی معرکۂ حق میں جتنے اعزاز دیے جائیں ، اس میں کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں ہے ، لیکن اُن کو عدالتی کارروائی سے استثناء دینا نہ صرف غلط ہے ، بلکہ ان کے مناصب پر ایک قسم کا داغ لگانے کے مرادف ہے ۔
مذکورہ بالا ترمیمات میں کم از کم دو ترمیمیں ایسی ہیں جو ملکی آئین کی اسلامی اور عدالتی حیثیت کو مجروح کر رہی ہیں اور ان میں بھی سب سے زیادہ قابلِ اعتراض بات یہ ہے کہ صدر مملکت، فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کو تاحیات کسی جرم کی عدالتی کارروائی سے بالکل مستثنیٰ کر دیا گیا ہے۔ یہ ہمارے آئین پر ایک دھبہ ہے، جسے جتنی جلدی دور کیا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔
الحمدللہ ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے کہ انہوں نے معرکۂ حق میں جس طرح اپنی فرض شناسی ،بہادری اور اہمیت کا ثبوت دیا، وہ بے مثال ہے اور بفضلہ تعالیٰ اس کی وجہ سے پوری قوم میں ان کے ساتھ محبت اور ان کے بارے میں خوش گمانی پیدا ہوئی، وہ اس کے لیے بڑے سے بڑے منصب کے مستحق ہیں، لیکن وہ ایک اسلامی ملک کے سالار ہیں، لہٰذا حکومت اور پارلیمنٹ کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہے کہ ان کے کردار پر یہ دھبہ لگا کر اس خوش گمانی کو نقصان پہنچائیں ،جو اُن کے بارے میں عوام کے اندر پیدا ہوئی ہے۔ واللہ علی مانقول وکیل۔
(بشکریہ ماہنامہ البلاغ، کراچی)