
ہم ایک سافٹ ویئر بیسڈ پروجیکٹ پر گزشتہ تین سال سے کام کر رہے ہیں جو ریسٹورنٹ مینجمنٹ سسٹم ہے، اس سافٹ ویئر کے ذریعے برانڈز اور مختلف ریسٹورنٹس اپنے آپریشنز کو بہتر اور مؤثر انداز میں چلا سکتے ہیں، جس سے ان کی لاگت میں بھی بچت ہوگی، یہ پروجیکٹ ہمارے ایک پارٹنر کی ملکیت ہے جو کرسچن ہے، اور یو اے ای میں رہتا ہے، ہمارا کام اس پلیٹ فارم کو شروع سے تیار کرکے دینا ہے، اب یہ پلیٹ فارم مکمل ہوچکا ہے اور مختلف برانڈز کو پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ وہ اپنے ریسٹورنٹس یا شاپس میں اسے استعمال کرسکیں۔
چوں کہ یہ سسٹم بنیادی طور پر یو اے ای اور سعودی عرب کے ریسٹورنٹس کے لیے بنایا گیا تھا، وہاں کے مینیو میں بعض اوقات الکوحل اور بارز کے سیکشن وغیرہ شامل ہوتے ہیں، اگر کوئی صارف ہمارے بنائے گئے پلیٹ فارم پر اس قسم کا مواد (جیسے الکوحل وغیرہ کا ڈیٹا) اَپ لوڈ کرے اور اپنے آپریشنز کو بہتر بنانے کے لیے یہ پلیٹ فارم استعمال کرے، تو کیا اس صورت میں ہمارے لیے شرعاً کوئی مسئلہ ہوگا؟
ہمارا تعلق تو صرف ٹیکنالوجی اور تکنیکی پہلو سے ہے، براہِ راست اس ڈیٹا یا اس کے استعمال سے نہیں۔ کیا اس صورت میں یہ کام ہمارے لیے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل کا کام محض ایک سافٹ ویئر (ریسٹورنٹ مینجمنٹ سسٹم) بنانا ہے، جس کا بنیادی مقصد تکنیکی سہولت فراہم کرنا ہے، اگر ناجائز اشیاء مثلاً الکوحل یا بارز کا سیکشن اس میں شامل کرنا صارف کا ذاتی فعل نہ ہو تو سائل کے لیے یہ سافٹ ویئر پلیٹ فارم فراہم کرنا اور اس کی اُجرت لینا درست ہے، چوں کہ سائل براہِ راست نہ تو الکوحل کی تیاری یا فروخت میں شریک ہیں، اور نہ ہی اس کے استعمال کے لیے کوئی خاص فیچر ڈیزائن کر رہے ہیں، بلکہ سائل کا کام عمومی نوعیت کا ہے جو ہر ریسٹورنٹ کے لیے یکساں ہے، اس لیے اصل گناہ اور ذمہ داری صارف پر عائد ہوگی، سائل پر نہیں، البتہ اگر سائل جان بوجھ کر ایسا ماڈیول یا فیچر تیار کریں جو خاص طور پر شراب/حرام اشیاء کے لیے ہو، تو پھرگناہ کے کام میں تعاون کی وجہ سے یہ عمل ناجائز ہوگا۔
’’جواہر الفقہ‘‘ میں ہے:
’’ثم السبب ۔۔۔ وإن لم يکن محرکا و داعيا، بل موصلا محضا، و ہو مع ذٰلک سبب قريب بحيث لا يحتاج في إقامۃ المعصيۃ بہ إلٰي إحداث صنعۃ من الفاعل، کبيع السلاح من أہل الفتنۃ، و بيع العصير ممن يتخذہ خمرا، و بيع الأمرد ممن يعصي بہ و إجارۃ البيت ممن يبيع فيہ الخمر أو يتخذہا کنيسۃ أو بيت نار و أمثالہا فکلہ مکروہ تحريميا، بشرط أن يعلم البائع و الآجر من دون تصريح بہ باللسان، فإنہ إن لم يعلم کان معذورا و إن علم و صرح کان داخلا في الإعانۃ المحرمۃ۔‘‘(تفصيل الکلام في مسئلۃ الإعانۃ علی الحرام، عنوان: أقسام السبب و أحکامہ، ج:۲، ص:۴۵۲، ط: مکتبۃ دار العلوم کراتشي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر :144703102215
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن