
اگر رمضان کے کچھ روزے چھوٹ گئے ہوں تو کیا شوال کے ۶ ؍روزے رکھ سکتے ہیں؟ یا پھر پہلے رمضان المبارک کے روزے قضا کرنے پڑیں گے؟
صورتِ مسئولہ میں بہتر یہ ہے کہ پہلے فوت شدہ روزوں کی قضا کرے، پھر شوال کے روزے رکھے، لیکن اگر پہلے شوال کے روزے رکھے تو یہ بھی جائز ہے۔ شامی میں ہے:
’’(وقضوا ما قدروا بلافدیۃ و ولاء) لأنہٗ علی التراخي ولذا جاز التطوع قبلہٗ۔
(قولہ: جاز التطوع قبلہٗ) ولوکان الوجوب علی الفور لکرہ، لأنہٗ یکون تأخیرًا للواجب عن وقتہ المضیق۔‘‘ (کتاب الصوم، فصل في العوارض المبیحۃ لعدم الصوم، ج:۲، ص:۴۲۳، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 7870-1440
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن