بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

رمضان المبارک میں وتر کی نماز جماعت کے بغیر پڑھنا

رمضان المبارک میں وتر کی نماز جماعت کے بغیر پڑھنا

 

سوال

صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص رمضان المبارک میں وتر کی نماز امام کے ساتھ جماعت سے پڑھنے کے بجائے رات کے تہائی حصہ میں ادا کرتا ہے:
صورتِ اول : غیر رمضان میں بھی اس کا یہی معمول ہے۔
صور تِ ثانی: رمضان المبارک میں صرف ایسا کرتا ہے۔

الجواب باسمہٖ تعالٰی

 

واضح رہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کو جب تراویح کی نماز با جماعت پڑھائی تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے نمازِ وتر بھی باجماعت ادا فرمائی تھی، جیسا کہ علامہ ابن الہام  رحمۃ اللہ علیہ  نے ’’فتح القدیر‘‘ میں اس کی تصریح کی ہے، اس لیے رمضان میں وتر باجماعت ادا کرنا افضل ہے اور عام دنوں (غیر رمضان) میں چونکہ اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  یا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ’’وتر‘‘ باجماعت پڑھنا ثابت نہیں، اس لیے عام دنوں میں ’’وتر‘‘ باجماعت ادا کرنے کا حکم نہیں ہے۔ 
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں افضل اور بہتر یہ ہے کہ رمضان میں وتر امام کے ساتھ جماعت سے پڑھے۔ اور اگر جماعت سے نہیں پڑھتا، الگ پڑھتا ہے تو بھی نمازِ وتر ادا ہو جائے گی۔
اور عام دنوں (غیررمضان) میں رات کے نوافل کے بعد بشرطیکہ وتر قضا ہونے کا اندیشہ نہ ہو، رات کے آخری حصے میں وتر ادا کرنا افضل ہے۔ علامہ ابن الہمام  رحمۃ اللہ علیہ  فرماتے ہیں:
’’ثم یعد عدم کراہۃ الجماعۃ في الوتر في رمضان اختلفوا في الأفضل۔ في فتاوی قاضي خان: الصحيح أن الجماعۃ أفضل ۔۔۔ وفي النہايۃ ۔۔۔ واختار علماؤنا أن يوتر في منزلہ لا بجماعۃ، لأن الصحابۃ لم يجتمعوا علی الوتر بجماعۃ في رمضان کما اجتمعوا علی التراويح ۔۔۔ وأنت علمت مما قدمناہ في حديث ابن حبان في باب الوتر أنہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کان أوتر بہم، ثم بين العذر في تأخيرہٖ عن مثل ما صنع فيما مضی، فکما أن فعلہ الجماعۃ بالنفل، ثم بيانہ العذر في ترکہ أوجب سنيتہا فیہ، فکذٰلک الوتر جماعۃ لأن الجاري فيہ مثل الجاري في النفل بعينہ، وکذا ما نقلناہ من فعل الخلفاء يفيد ذٰلک إلخ۔‘‘  (فتح القدير: ۱/ ۴۸۷، فصل في قیام رمضان ۔ إمداد الأحکام: ۱ /۵۵، کراتشي)
’’الفتاوی الہندیۃ‘‘ میں ہے:
’’ویوتر بجماعۃ في رمضان فقط، علیہ إجماع المسلمين، کذا في التبيین ، الوتر في رمضان بالجماعۃ أفضل من ادائہا في منزلہٖ و ھو الصحیح، ھٰکذا في السراج الوھّاج۔‘‘ (الفتاوی الہنديۃ، فصل في التراویح، ج:۱، ص:۱۱۶، ط:  دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 19263-1442

دار الافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے