بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

bayyinat

 
 

رخصتی کا سنت طریقہ!

رخصتی کا سنت طریقہ!

سوال

نکاح کے بعد رخصتی کا سنت طریقہ کیا ہے؟ کیا دولہا گھر والوں کے ساتھ لڑکی لینےجاسکتا ہے؟

جواب

لڑکی کی رخصتی کے لیے باقاعدہ طور پر بارات لے جانا،جناب نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم  سے ثابت نہیں، بلکہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے اپنی (ایک) شادی میں دلہن کو لانے کے لیے ایک آدمی بھیجا ہے، خود دلہن کے گھر نہیں گئے۔ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا رخصتی کے بارے میں یہ بھی معمول تھا کہ لڑکی کاباپ یا ولی لڑکی کو تیار کرکے خود یا کسی اورمعتمد کے ہم راہ دولہا کے گھر پہنچا دیتا، جیسا کہ حضرت فاطمہ اور حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہما  کی رخصتی سے متعلق روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
حضرت عائشہ  رضی اللہ عنہا  کی رخصتی کے بارے میں بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آپ کی والدہ آپ کو حضور  صلی اللہ علیہ وسلم  کے ہاں پہنچا کر آئیں۔ نہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  خود تشریف لے گئے تھے، نہ آپ نے کسی کو بھیجا تھا۔ (صحیح البخاری (۷۷۵/۲)میں ہے:
’’عن عائشۃ رضي اللہ عنہا: ’’ تزوجني النبي ﷺ فأتتني أمي فأدخلتني الدار، فإذا نسوۃ من الأنصار في البيت، فقلن: علی الخير والبرکۃ، وعلی خير طائر۔‘‘

حضرت فاطمہ  رضی اللہ عنہا  کی شادی کے بارے میں واضح روایات ہیں کہ آپ کو اُمِ ایمن  رضی اللہ عنہا  کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ  کے گھر روانہ کیا گیا اور ظا ہر ہے کہ حضرت اُمِ ایمن رضی اللہ عنہا  آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  کی آزاد کردہ باندی تھیں، نہ کہ حضرت علی  رضی اللہ عنہ  کی، یعنی کہ لڑکی والوں کی طرف سے آپ کو چھوڑنے گئی تھیں نہ کہ لڑکے والوں کی جانب سے لینے آئی تھیں۔ (اتحاف السائل بما لفاطمۃؓ من المناقب ،ص: ۳
اور یہ بھی ہوا ہے کہ آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے کسی کو دلہن کو لینے کے لیے بھیجا ہے، جیسا کہ اُمِ حبیبہ  رضی اللہ عنہا  کی شادی میں پیش آیا۔ (الاستیعاب في معرفۃ الأصحابؓ ، ج:۴، ص:۴۰۱- ۴۰۲)
لہٰذا نکاح اور رخصتی کابہترطریقہ یہ ہے کہ مسجد میں نکاح کیا جائے، پھر نکاح کے بعد لڑکی کو اس کے محارم کے ذریعے دولہا کے گھر پہنچا دیا جائے اور اگر خود دولہا اور اس کے گھر والے جا کر دلہن کو لے آئیں تو یہ بھی جائز ہے،اس میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔ اور اس موقع پر اگر رشتہ دار خواتین وحضرات اور دوست واحباب جمع ہوجائیں اور غیر شرعی امور وبے جا تکلفات سے اجتناب کیا جائے تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ البتہ بوقتِ رخصتی سادگی اختیار کرنا بہتر ہے،خرافات اور ناجائز کاموں سے اجتناب لازم ہے۔ 
غرض اسلامی مزاج یہ ہے کہ جتنی سادگی اور بے تکلفی سے آدمی اس ذمہ داری سے سبک دوش ہو یہ زیادہ بہتر اور قابلِ ستائش ہے۔ اس میں میزبانوں کے لیے بھی آسانی ہے اور مہمانوں کی بھی راحت ہے۔
نیز نکاح کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے کھانے کا انتظام کرنے کا ثبوت کسی صحیح حدیث سے تو نہیں؛ اس لیے اس طرح کی دعوت کرنا ولیمہ کی طرح سنت نہیں ہے، ہاں! اگر کوئی نمود ونمائش سے بچتے ہوئے کسی قسم کے مطالبہ اور خاندانی دباؤ کے بغیر اپنی خوشی ورضا سے اپنے اعزہ اور مہمانوں کوکھانا کھلائے تو یہ مہمانوں کا اکرام ہے، اور اس طرح کی دعوت کا کھانا کھانا بارات والوں کے لیے جائز ہے۔
 اور اگر لڑکی والے اس کو لازم سمجھیں اور اس کے اہتمام کے لیے قرضے لیے جاتے ہوں تو ایسی دعوت کرنا جائز نہیں ہوگا۔
 

فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 143908200187

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
 

تلاشں

شکریہ

آپ کا پیغام موصول ہوگیا ہے. ہم آپ سے جلد ہی رابطہ کرلیں گے