
اللہ تعالیٰ نے انسان کی زندگی کو فطرت سے ہم آہنگ بنایا ہے اور فطرت کی ہر چیز میں اس کے لیے نشانیاں رکھی ہیں۔ پانی، جو زندگی کا بنیادی جزو ہے، اس کی کئی اقسام ہیں: دریائی، زمینی، بارانی وغیرہ۔ ان میں بارش کا پانی ایک خاص روحانی اور طبعی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن و سنت میں اس کا ذکر بارہا آیا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بارش میں بھیگنا اور اس میں نہانا اس کے دینی پہلو کو اُجاگر کرتا ہے۔ بارش کے بارے میں قرآنی آیات، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آثار، فقہی آراء، روحانی فوائد کو عصرِ حاضر میں اس سنت کے احیاء کی بھرپور ضرورت ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ رب العزت نے بارش کے ذریعے اپنی قدرت، ربوبیت، رحمت، اور زندگی کی نشانیوں کو بار بار بیان کیا ہے۔ بارش اللہ کی طرف سے خاص نعمت ہے۔
’’اور وہی ہے جو بارش نازل کرتا ہے بعد اس کے کہ وہ لوگ مایوس ہو چکے ہوتے ہیں، اور وہی اپنی رحمت کو پھیلاتا ہے۔‘‘ (الشوری: ۲۸)
’’اور ہم نے آسمان سے پاک کرنے والا پانی اُتارا۔‘‘ (الفرقان: ۴۸)
یہ آیتِ کریمہ بتاتی ہے کہ بارش کا پانی محض طہارت کے لیے نہیں، بلکہ روحانی پاکیزگی کا بھی ذریعہ ہے۔
بارش میں نہانا سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ ہر پہلو سے مکمل اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ بارش سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین اقوال اور افعال میں اُمت کے لیے سبق اور عمل کی دعوت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بارش میں بھیگنا ثابت ہے، لیکن اس روایت میں موسم کی پہلی بارش کی کوئی قید نہیں ہے، چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
’’ایک دفعہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے‘ بارش ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم کے کچھ حصے سے کپڑا ہٹادیا، جس کی وجہ سے آپ کے جسم پر بارش کا پانی لگ گیا، تو ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ایسا اس لیے کیا، کیوں کہ یہ بارش کا پانی تازہ تازہ اپنے رب کے پاس سے آیا ہے۔‘‘ (صحیح مسلم،ج:۲ /۶۱۵)
اس روایت سے پتا چلتا ہے کہ موقع مناسب ہو تو بارش کے وقت اپنے جسم کے ستر کے علاوہ حصے کو کھول لینا چاہیے، تاکہ بارش کا پانی جسم پر لگے اور اس تازہ پانی کی برکت حاصل ہو جو اللہ کے حکم سے آسمان سے پاک صاف حالت میں اُترا ہے، ابھی تک زمین کی گندگی اور انسانوں کے گناہوں کے مسموم اثرات سے محفوظ ہے۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ بارش بمنزلہ رب کے قاصد کے ہے جو رب نے اپنے بندوں کی طرف بھیجا ہے، اور رب تعالیٰ کے بھیجے ہوئے قاصد کی تعظیم اور تکریم کرنی چاہیے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین و تابعین کا طرزِ عمل بھی یہی رہا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارش میں بھیگنا سیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی۔‘‘
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عمل بھی نقل کیا گیا ہے کہ بارش میں نہانا اور گیلا ہونا سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ (مصنف ابن أبي شيبۃ)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے عمل سے بھی بارش میں بھیگنا ثابت ہے۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا عمل ہے کہ آپ بھی بارش میں اپنے اوپر والے کپڑے ہٹا دیتے تھے۔ تابعینؒ میں امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’جب بارش ہوتی تو میں عمامہ اُتار دیتا اور کہتا یہ سنتِ نبی ہے۔‘‘
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’ حضرت انس صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش میں بھیگنا باعثِ ثواب ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کو رب کی تازہ رحمت قرار دیا ہے۔‘‘
فقہاء کی آراء میں سے فقہ حنفی میں ہے کہ بارش میں نہانا اگر نیت اتباعِ سنت کی ہو تو یہ مستحب ہے اور باعثِ اجر و ثواب۔ اگر محض تفریح یا جسمانی صفائی کی نیت ہو، تب بھی یہ مباح ہے۔
فقہ مالکی و شافعی میں بارش کو ’’ماء مبارک‘‘ یعنی بابرکت پانی سمجھا گیا ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: ’’یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اولین بارش کے لیے (ستر کے علاوہ) جسم سے کپڑے کو ہٹانا مستحب ہے۔‘‘ امام قرطبی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ :’’اس حدیث میں آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے بارش سے برکت اور شفا حاصل فرمائی۔‘‘ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے باقاعدہ باب قائم کیا کہ ’’جان بوجھ کر بارش میں بھیگنا‘‘ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس باب سے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے پانی کا ٹپکنا اتفاقی نہیں تھا، بلکہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے قصداً خود کو بارش میں گیلا فرمایا۔‘‘
شیخ ابن عثيمينؒ لکھتے ہیں :
’’یہ سنت سے ثابت ہے کہ انسان بارش میں اپنے جسم کے کسی بھی حصے کو کھول دے، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہوجائے۔‘‘ (الشرح الممتع، ج:۲، ص:۴۵۸)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے وقت مخصوص دعائیں پڑھا کرتے:
’’اللّٰہُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا‘‘، ’’اے اللہ! اس بارش کو نفع بخش بنا۔‘‘ (بخاری شریف)
’’ اللّٰہم حوالينا ولا علينا‘‘، ’’اے اللہ! ہمارے ارد گرد برسا، ہم پر نہیں۔‘‘ (بخاری شریف)
ان دعاؤں سے پتہ چلتا ہے کہ بارش میں اللہ سے دعا مانگنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
بارش میں نہانے کے روحانی اور جسمانی فوائد بہت ہیں۔ روحانی فوائد یہ ہیں کہ بارش اللہ کی رحمت کا ظاہری مظہر ہے، اس سے انسان کا اللہ پر توکل بڑھتا ہے، سنت پر عمل سے قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط ہوتا ہے۔ جسمانی فوائد ہیں کہ بارش کا پانی قدرتی طور پر خالص اور معدنی اجزاء سے بھرپور ہوتا ہے،جلد اور بالوں کے لیے مفید، موسمی بیماریوں سے بچاؤ، تھکن اور تناؤ کا علاج ہے۔
عصرِ حاضر اور غفلت کا شکار اُمت پر افسوس ہے کہ آج ہم نے سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو محض کتابوں تک محدود کر دیا ہے۔ جب بارش ہوتی ہے تو کچھ لوگ گھروں میں قید ہو جاتے ہیں، کچھ بارش کو زحمت سمجھتے ہیں اور کچھ صرف موبائل سے ’’بارش کی ویڈیوز‘‘ لیتے ہیں، حالانکہ یہ وہ لمحے ہوتے ہیں جب سنت پر عمل کرکے روح کو تازگی دی جا سکتی ہے۔ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ بارش کو اللہ کی رحمت سمجھیں، بارش میں بھیگ کر سنت پر عمل کی نیت کریں، بچوں اور نوجوانوں کو اس کی اہمیت سے آگاہ کریں، دعا، ذکر اور شکر کا اہتمام کریں اور لوگوں کو اس سنت سے جوڑنے کی بھرپور کوشش کریں۔
بارش میں نہانا صرف ایک فطری عمل نہیں، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ ہے۔ اس عمل سے جسمانی طہارت، روحانی سکون اور سنت پر عمل کا اجر حاصل ہوتا ہے۔ اُمتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ فطرت کے قریب ہو کر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ کرے، تاکہ اس دنیا میں بھی سکون ملے اور آخرت میں بھی نجات حاصل ہو۔