
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حیاتِ مستعار کے مقررہ اوقات پورا فرمانے کے بعد دنیا سے پردہ فرماگئے، تاہم اُمت کے احوال اور اعمال اب بھی بارگاہِ نبوت میں پیش کیے جاتے ہیں، اُمت کے برے اعمال سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں رنجیدہ ہوتے ہیں، وہاں اچھے اعمال پر خوش بھی ہوتے ہیں اور کبھی عالمِ رئویا میں منامی بشارتوں کے ذریعے پسندیدگی کا اظہار بھی فرما دیتے ہیں۔ بارگاہِ رسالت میں نگاہِ پسندیدگی ایک بہت بڑا اعزاز ہے، اگر یہ اعزاز کسی شخصیت کو مل جائے تو اُس کا شمار مقبولانِ خدا میں ہونے لگتا ہے اور یہ شرف کسی کتاب کو مل جائے تو اس کتاب کو مقبولیت نصیب ہو جاتی ہے اور اُس کتاب کا نفع عام ہوجاتا ہے۔
زیرِ نظر مضمون میں جن کتب کا ذکر کیا گیا ہے، یہ کتب حبِ نبوی یا جذبۂ اتباعِ سنت کے تحت لکھی گئی ہیں، انھیں یا تو بارگاہِ رسالت میں پسندیدگی کی وجہ سے قبولِ عام نصیب ہوا یا درود شریف یا مسنون اذکار و اعمال کی برکت کی وجہ سے قبولِ عام نصیب ہوا۔ ان میں سے کچھ کتابیں کئی صدیوں سے عوام و خواص کے زیرِ مطالعہ آرہی ہیں اور ان کا فیضان اب تک جاری ہے، لیکن ان کے مؤلفین اور کتابوں کے تعارف سے عموماً لاعلمی پائی جاتی ہے، چنانچہ ذیل میں ان کا مختصر تعارف کرایا جاتا ہے:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں بہت سے قصائد اور نعتیہ کلام کے مجموعے مشہور و معروف ہیں، لیکن قصیدہ بردہ شریف کو عوام و خواص میں جو مقبولیت نصیب ہوئی، کسی اور نعتیہ کلام کو اس درجہ کی حاصل نہیں ہوئی۔ اس مقبولِ عام قصیدہ کا پس منظر عرض کیا جاتا ہے: ان اشعار کے مصنف علامہ شرف الدین بوصیری ؒ(متوفی: ۶۹۵ھ) ’’مصر‘‘ کے ایک گائوں ’’بوصیر‘‘ کے مشہور و معروف علماء میں تھے۔ امام جلال الدین سیوطی ؒ کے مطابق امام بوصیری ؒ یکم شوال ۶۰۸ھ بروز شنبہ میں پیدا ہوئے اور ۸۷ سال کی عمر میں ۶۹۵ھ میں وفات پائی۔
ایک روز علامہ بوصیریؒ پر فالج کا حملہ ہوا، نصف حصہ بے حس ہو گیا، اس مصیبت کی حالت میں علامہ کے دل میں خیال آیا کہ ایک قصیدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح میں لکھوں اور اس کے ذریعے اپنے لیے شفا طلب کروں، چنانچہ اس حالت میں قصیدہ لکھا اور رات کو سوئے تو خواب میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے۔
عالمِ رئویا میں یہ قصیدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھا، اس قصیدہ کے اختتام کے بعد دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر علامہ بو صیری ؒ پر ڈالی اور مفلوج اعضاء پر اپنے دستِ مبارک پھیر رہے ہیں، جب آنکھ کھلی تو اُنہوں نے اپنے آپ کو بالکل صحت یاب پایا۔ ’’بُردہ‘‘ چادر کو کہتے ہیں، عالمِ رئویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چادر عطیہ فرمانے کی وجہ سے یہ کلام قصیدہ بردہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس کے بعد اس قصیدے کی شہرت اس قدر ہوئی کہ ملک کے وزیر بہائوالدین کو جب اس کی اطلاع ملی تو اُنھوں نے اس کی نقل لی اور عہد کیا کہ اس قصیدے کو روزانہ سنا کروں گا، چنانچہ اس کی برکت سے ان کے دین و دنیا کے بہت سے کام پورے ہوئے اور مصیبتیں دور ہوئیں۔
اصل قصیدہ تو عربی زبان میں ہے، مگر اس کی افادیت کو عام کرنے کے لیے علماء کرام نے اس کا اُردو میں ترجمہ بھی فرمادیا ہے۔ اس کی متعدد شروح عربی، فارسی، اُردو، انگریزی، لاطینی، اور فرانسیسی زبانوں میں شائع ہوچکی ہیں۔ اس قصیدہ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ حضرات مشائخ اس کو خود بھی اپنا معمول بناتے ہیں اور متو سلین کو بھی اس کے ورد کی تلقین فرماتے ہیں۔ سیرتِ نبویہ کی جیسی عکاسی اس میں نظر آتی ہے، شاید ہی کسی قصیدہ نعتیہ میں نظر آسکے۔ یہ قصیدہ نہ صرف پاک و ہند بلکہ تمام بلادِاسلامیہ میں بہت مشہور ہے۔
علامہ غزنوی ؒ اس قصیدۂ مبارکہ کو ہر رات پڑھا کرتے تھے، تاکہ اس کی برکت سے زیار ت سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرف ہوں، ایک مدت تک پڑھا مگر زیارت نہ ہوئی، تو اُنھوں نے اپنے وقت کے شیخِ کامل سے رجوع کیا اور ان کی خدمت میں عرض کیا کہ اس میں کیا راز ہے؟ تو اُنھوں نے کہا کہ شاید تم اس کی شرائط کی رعایت نہیں رکھتے۔ فرمانے لگے: نہیں، میں تو رعایت رکھتا ہوں اور خاص توجہ سے پڑھتا ہوں۔ تو شیخ کامل نے مراقبہ کیا اور پھر سر اُٹھا کر فرمانے لگے کہ اے غزنوی! زیارت نہ ہونے کا رازمعلوم ہو گیا، وہ یہ کہ تم وہ درود نہیں پڑھتے جو امام بو صیری ؒ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قصیدہ سناتے ہوئے پڑھا تھا، وہ درود یہ ہے:
مَوْلَايَ صَلِّ وَسَلِّمْ دَائمِاً اَبَدًا
عَلٰی حَبِیْبِکَ خَیْرِ الْخَلْقِ کُلِّھِمٖ
چنانچہ اس قصیدہ میں اس درود کا پڑھنا ہی خاص راز ہے:
پڑھوں کیوں نہ دل سے درود وسلام
مجھے لذتِ دید آنے لگی
یہ قصیدہ ۱۶۵ اشعار پر مشتمل ہے۔ اس کی عام فہم شرح مولانا مختار احمد اصلاحی اعظمی صاحب نے ’’ذکرِ سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘کے نام سے مُرتب فرمائی ہے، جو شفیق سنز کراچی سے دستیاب ہے۔
اذکارِ مسنونہ پر لا تعداد کتب و کتابچے سلف سے اب تک مرتب ہوتے آرہے ہیں، لیکن مسنون اذکار پر مشتمل مجموعہ حصن حصین کو جو شہرت اور مقبولیت نصیب ہوئی، شاید وہ کسی اور کتاب کو حاصل نہیں ہوسکی۔ حصنِ حصین مستند کتبِ حدیث سے جمع کر دہ ادعیہ و اذکار اور آیات پرمشتمل ایک معروف و مقبول کتاب ہے۔ حصنِ حصین کے لفظی معنی ہیں: مضبوط قلعہ۔ کتاب کے مصنف امام محمد بن محمد الجزری ؒ (متوفی:۸۳۳ھ) اتفاقاً اس کتاب کی تالیف کے بعد ہی مشیّتِ الٰہی سے ’’تیموری فتنہ‘‘ کے زمانہ میں افواجِ تیمور کے نرغہ میں پھنس گئے تھے۔ اس ناگہانی خوفناک مصیبت کے زمانہ میں اسی مسنون ادعیہ و اذکار کے مجموعہ ’’ حصنِ حصین‘‘ کے مسلسل ختم کی برکت سے اُنھوں نے اور تمام شہر کے مسلمانوں نے اس ناگہانی آفت سے رہائی پائی تھی اور تیموری فوجیں شہر کا محاصرہ چھوڑ کر بھاگ گئی تھیں۔ مؤلفِ کتاب کے مقدمہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’عام طور پر لوگ ایسی ناگہانی خوفناک بلائوں، آفتوں، اور مصیبتوں میں گرفتار ہونے کے وقت حصنِ حصین کا ختم آزمودہ عمل کے طور پر کرتے کراتے ہیں، اگر اللہ تعالیٰ کی مشیّت ہوتی ہے تو خلوصِ نیت کے ساتھ ’’ حصنِ حصین‘‘ کا ختم کرنے والے ان مسنون ادعیہ و اذکار کی برکت سے اپنے مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ مصنف علیہ الرحمہ کا مقصد ان ادعیہ و اذکار اور آیات جمع کرنے سے یہ تھا کہ لوگ رات دن کے مختلف اوقات میں مختلف اعمال کی مناسبت سے جو دعائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، وہ پڑھا کر یں۔ سردارِ دو جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اُسو ئہ حسنہ بھی یہی ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے:’’ کَانَ یَذْ کُرُ اللہَ تَعَالیٰ فِيْ کُلِّ اَحْیَانِہٖ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام اوقات میں اللہ کا ذکر کیا کرتے تھے۔ مسنون دعائوں کا اہتمام کرنے والا بھی گویا ہر وقت ذکر اللہ میں مشغول رہتا ہے۔
تیموری فتنہ سے اہلِ شہر کو مسنون دعائوں کی برکت سے ہی نجات ملی، یہاں اسی بات کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے کہ تمام پریشانیوں اور مصائب سے نجات پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے ہی ممکن ہے، لہٰذا حصنِ حصین کا پڑھنے والا ان دعائوں کو یاد کرلے اور جب وہ اوقات آئیں تو ان ادعیہ کو پڑھ کر اُسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع کرنے کی سعادت حاصل کرے۔
منقول درود شریف کے علاہ اسلافِ اُمت سے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے شایانِ شا ن درودو سلام کے کئی صیغے متوارث اور منقول چلے آرہے ہیں، جنھیں عوام و خواص ورد کرتے آرہے ہیں۔ دلائل الخیرات بھی اسی نوعیت کے درود و سلام کے صیغوں پر مشتمل مبارک کتا ب ہے۔ یہ کتاب ابو عبد اللہ سید محمد جزولی شاذلی (متوفی:۸۷۰ھ) نے تصنیف فرمائی تھی۔ اس کتا ب کو جو مقبولیت نصیب ہوئی، وہ اس نوعیت کے صیغوں پرمشتمل کسی اور کتاب کو نہ مل سکی۔ اس کا پس منظریہ ہے کہ مؤلف ؒ ایک مرتبہ بربر مراکش میں سیر فرماتے ہوئے فارس پہنچے، وہاں ظہر کی نماز کا وقت آخر ہونے لگا، لیکن وضو کے لیے پانی ندار د۔ جستجو سے ایک کنواں ملا، لیکن اُس میں رسی اور ڈول نہیں، آپ بہت پریشان ہوئے، اتنے میں ساتھ کے خیمہ سے ایک آٹھ سالہ لڑکی نکلی۔ اُس نے کہا: شیخ کیا بات ہے؟ فرمایا: میں محمد بن سلیمان الجزولی ہوں، وقتِ نماز تنگ ہے اور پانی ندارد، لڑکی نے کنویں میں اپنا لعابِ دہن ڈالا تو پانی یکدم جوش میں آگیا اور کنار ے سے بہنے لگا، وضو کیا اور نمازِ ظہر ادا کی اور آپ سیدھے اس لڑکی کے جھونپڑے میں گئے اور فرمایا: اے بیٹی! تجھے خدا کی قسم جس نے تجھے پیدا کیا اور تم کو اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دیتا ہوں، جن کی شفاعت کی تو اُمید وار ہے، بتا تجھے یہ امر کیسے ملا؟ لڑکی نے کہا: اگر تم اتنا بڑا واسطہ نہ دیتے تو کبھی نہ بتاتی۔ میں ایک درود شریف کا ورد کرتی ہوں، اُس نے مجھے وہ درود شریف بتا یا، تو یہ درود شریف ’’دلائل الخیرات‘‘ مرتب کرنے کا سبب بنا، شیخ نے وہ درود شریف اس کتاب میں پوشیدہ کردیا، جیسے ربِ کریم نے شانِ ستاری سے لیلۃ القدر کو آخری عشرہ رمضان المبارک میں پوشیدہ کر دیا ہے، تاکہ تلاش کی جد و جہد سے مزید موردِ الطاف بنیں، تاہم جس طرح لیلۃ القدر پوشیدہ ہے، لیکن بعض علماء کے نزدیک رمضان المبارک کی ۲۷ویں شب میں قوی امکان ہے، اس طرح بعض اہل اللہ کا یہ ارشاد منقو ل ہے، وہ درود شریف یہ ہے:
’’اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ صَلٰوۃً دَاِئمَۃً مَقْبُوْلَۃً تُؤدِّیْ بِھَا عَنَّا حَقَّہُ الْعَظِیْمَ۔‘‘ (گلدستۂ درود وسلام، ص:۳۸)
معلوم ہوا کہ اس واقعہ میں جو غیر معمولی پریشانی درپیش ہوئی، وہ بھی درود شریف کی برکت سے دور ہوئی اور اسی واقعہ کے بعد مؤلف ؒ نے ’’دلائل الخیرات‘‘ کتاب مرتب فرمائی۔ یہاں پر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ صلوٰ ۃ وسلام کے حکم کی تعمیل ہر اس صیغہ سے ہوسکتی ہے، جس میں صلوٰۃ و سلام کے الفاظ ہیں، گو وہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بعینہ منقول نہ ہوں، بلکہ درست معنی پر مشتمل جس عبارت سے صلوٰ ۃ و سلام کے الفاظ ادا کیے جائیں، اس حکم کی تعمیل اور درود شریف کا ثواب حاصل ہوتا ہے، مگر یہ ظاہر ہے کہ جو الفاظ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں، وہ زیادہ با برکت و باعثِ فضیلت اور زیادہ ثواب کے موجب ہیں۔
’’دلائل الخیرات‘‘ مختلف اداروں سے طبع ہوتی آرہی ہے، تا ہم ادارہ تالیفاتِ اشرفیہ ملتان کی طرف سے ’’دلائل الخیرات‘‘ کا جو ایڈ یشن شائع ہوا ہے، وہ اس لحاظ سے منفرد ہے کہ تمام درود پاک کا انگریزی میں بھی ترجمہ کر دیا گیا ہے۔ انگلش کا ذوق رکھنے والوں کے لیے یہ ایک نادر تحفہ ہے۔
درود شریف کی اس مبارک کتاب کو امام شمس الدین محمدبن عبد الرحمٰن سخاوی ؒ(متوفی:۹۰۳ھ) نے مرتب فرمایا۔ اس مبارک کتاب سے اکا برِ اُمت نے اپنی درود و سلام کی مرتب کردہ کتب کے لیے جتنا اخذ و انتخاب کا کام لیا، وہ کسی اور کتاب کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہوا۔ درود و سلام کی اکثرکتب میں القول البدیع کے حوالے ملتے ہیں۔علامہ سخاوی ؒ فرماتے ہیں: مجھ سے شیخ احمد بن رسلان کے شاگردوں میں سے ایک معتمد نے کہا کہ ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی اور حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ کتاب ’’القول البدیع في الصلوٰۃ علی الحبیب الشفیع‘‘ ( جو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر درود ہی کے بیان میں علامہ سخاوی ؒ کی مشہور تالیف ہے)، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کی گئی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول فرمایا۔ بہت طویل خواب ہے جس کی وجہ سے مجھے انتہا ئی مسرت ہوئی اور میں اللہ کے اور اُس کے پاک رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس کی قبولیت کی اُمید رکھتا ہوں، اور ان شاء اللہ! دارین میں زیا دہ سے زیادہ ثواب کا اُمید وار ہوں۔ پس تو بھی اے مخاطب! اپنے پاک نبی کا ذکر خوبیوں کے ساتھ کرتے رہا کر اور اور دل و زبان سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجتا رہا کر، اس لیے کہ تیرا درود حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِاطہر میں پہنچتا ہے اور تیرا نام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میںپیش کیا جاتا ہے۔‘‘
سید رضی الدین صاحب نے اس کا اختصار کے ساتھ ترجمہ کیا تھا، جو ادارۃ القرآن سے شائع ہوا تھا۔ اسی طرح اس کتاب کا اردو و ترجمہ مولانا معظم الحق صاحب نے کیا ہے اور کتاب ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ گارڈن ایسٹ کراچی سے دستیا ب ہے۔ ( قرآن و حدیث کی روشنی میں درود شریف کی برکات، ص:۲۶۴ )
درود شریف کے فضائل، مسائل اور آداب و حکایات پر مبنی یہ مبارک رسالہ شیخ الحد یث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کا ندھلوی ؒ (متوفی:۱۴۰۲ھ) کا مرتب کردہ ہے۔ اس رسالہ کو اندرون ملک اور بیرون ممالک میں بے مثل قبولِ عام نصیب ہوا ہے۔ حضرت شیخ الحدیث صاحبؒ نے یہ رسالہ ۱۳۸۴ ھ میں مرتب فرمایا۔ ان ساٹھ سالوں میں اس کے کئی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں اور کئی مکتبوں سے سینکڑوں با ر طبع ہو چکی ہے۔
ماجد علی خان علیگ جنہوں نے فضائلِ درود شریف کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا تھا، اپنے ایک مکتوب میں حضرت شیخ کو لکھتے ہیں: ’’ ماہِ رمضان میں اعتکاف کے درمیان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشار ت دی تھی کہ زکریا، فضائلِ درود شریف (لکھنے) کی وجہ سے اپنے معا صرین پر سبقت لے گیا۔ ‘‘
معلوم ہوا کہ کتاب کی مقبولیت میں بارگاہِ رسالت کی بشارتوں کا بھی عمل دخل ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شمائل، خصائل اور مبارک اُسوہ کو جس جامع اور آسان انداز میں پیش کیا گیا ہے، وہ اس کتاب کی منفرد حیثیت ہے۔ اس کتاب کے مؤلف حضرت ڈاکٹر مولانا محمد عبد الحی عارفی ؒ (متوفی:۱۴۰۶ھ) ہیں۔ اس کتاب کے اب تک قلیل مدت میں جتنے ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں، اُسوۂ حسنہ پر دستیاب کثیر کتب میں شایداتنے ایڈیشن کسی کتاب کے شائع ہوئے ہوں،دنیا کی دس سے زائد زبانوں میں اس کتاب کے تراجم طبع ہو چکے ہیں۔ ہندو پاک میں درجنوں اداروں سے اس کتاب کے ۱۰۰ سے زائد ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ حضرت مولانا ابوالحسن علی ندوی ؒ دہلی سے شائع شدہ نسخے کے دیباچے میںر قمطر از ہیں: ’’ ہمارے ملک ہندوستان میں تین کتابوں کا خصوصیت سے نام لیا جا سکتا ہے، حضرت قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی ’’ما لابدّ منہُ‘‘ حضرت سید احمد شہیدؒ کی ’’صراطِ مستقیم‘‘ اور حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ کی ’’بہشتی زیور‘‘، اسی سلسلۂ طلائی کی ایک مبارک کڑی حضرت ڈاکٹر مولانا محمد عبدالحی عارفی نور اللہ مرقدہٗ کی کتاب اُسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہے، جو ایک طالبِ حق اورمعتقدِ سنت و شریعت مسلمان کے لیے زندگی کا پورا دستور العمل اور رہبرِ کامل کا کام کرسکتی ہے۔‘‘
حضرت مولانا محمد تقی عثمانی دامت بر کا تہم لکھتے ہیں: ’’ اتباعِ سنت کا جذبہ رکھنے والے کے لیے اس سے زیادہ جامع اور سہل الحصول کتاب کم از کم اُردو میں شاید کوئی دوسری نہ ہو۔‘‘ (البلاغ، عارفی نمبر : ۲۴۹)
محترم نصرت علی صدیقی (مقیم مکہ مکرمہ) کتاب اُسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شرفِ قبولیت بارے بشارتِ عظمیٰ تحریر فر ماتے ہوئے حضرت ڈاکٹر عارفی صاحبؒ کو لکھتے ہیں: ’’ رمضان المبارک ۱۳۹۶ھ کو احقر نے حضرت والاکی کتاب ’’ اُسوۂ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ‘‘ دربارِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم مواجہ شریف میں پیش کی، احقر نے دیکھا کہ آ ں قبلہ خود بہ نفس نفیس اپنی کتاب پیش کر رہے ہیں، آں قبلہ اُس وقت سراپا نور نظر آرہے تھے، چہرۂ انور پر بشاشت تھی، سکون و اطمینان تھا، قدرے مسکراہٹ تھی، جیسا کہ آں قبلہ کے چہرۂ انور پر رہتی ہے، ہرطرف نور ہی نور تھا، عجیب منظر تھا۔ حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم شفقت فر ما رہے ہیں اور آں قبلہ پوری طرح متوجہ ہیں۔‘‘ ( البلاغ، عارفی نمبر :۳۳۹) معلوم ہوا کہ مذکور کتاب کی مقبولیت بھی بارگاہِ رسالت میں پسند یدگی کی وجہ سے ہے۔
متذکرہ بالا کتب کے تعار ف اور بارگاہِ رسالت میں مقبولیت سے متعلق یہ وضاحت ضروری ہے کہ جس شخص نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اُس نے یقیناً اور قطعاً حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زیار ت کی۔ روایاتِ صحیحہ سے یہ ثابت ہے ا ور محقق ہے کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے یہ قدرت نہیں دی کہ خواب میں آکر کسی طرح اپنے کونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہونا ظاہر کرے۔ نیز یہ حقیقت بھی آشکار ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پرد ہ فرمانے کے با وجود اُمت کے لیے شفقت، ان کے اعمال و احوال پر توجہ اور دینی خدمات پر اظہارِ پسندیدگی کا سلسلہ عالمِ برزخ سے بھی جاری و ساری ہے۔ اس محبت و شفقت و عنایات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ زبانی محبت پر اکتفا نہ کریں، بلکہ عملاً پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری پوری اتباع کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔