
’’یکم رجب المرجب سن ۱۴۴۷ھ بروز پیر قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب دامت برکاتہم (سرپرست وفاق المدارس العربیہ پاکستان)جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کراچی تشریف لائے، اور جامعہ کے دارالحدیث میں حدیث ’’إنما الأعمال بالنيات‘‘ کا درس اکابر کی تشریحات کی روشنی میں نہایت ملیح انداز میں دیا، جس کوافادۂ عام کی غرض سے تحریری صورت میں پیش کیا جارہا ہے۔‘‘
الحمد للہ رب العالمين، والصلاۃ والسلام علی أشرف الأنبياء والمرسلين نبينا محمد وآلہٖ وأصحابہٖ وأزواجہٖ وأہل بيتہٖ وذرّيّاتہٖ وأتباعہٖ أجمعين إلٰی يوم الدين، أما بعد!
شعور: اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو قویٰ عطا کیے ہیں ، اس میں تدریج ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو شعور کے ذریعے سے وہ اشیاء کا اِدراک کرتا ہے۔ سب سے پہلے وہ ماں کو پہچانتا ہے پھر ابوین کو، پھر بعد الولادۃ اس کے اندر شعور ہے بھوک کے احساس کرنے کا، خوشی کے احساس کرنے کا، اسی طرح غم اس کو محسوس ہوتا ہے، خوف محسوس ہوتا ہے، اور اپنی خاص حرکتوں سے وہ اپنی ماں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے، لیکن اس شعور کے ذریعے مکمل اِدراک انسان کا خاصہ نہیں۔ بہرحال! تمام حیوانات ولادت کے بعد بچپن میں اسی شعور کے تحت اشیاء کا (کسی قدر)اِدراک کرتے ہیں۔
جب انسان آگے بڑھتا ہے تو پھر وہ حواسِ خمسہ کے ذریعے سے اِدراک کرتا ہے ، جن کو اللہ تعالیٰ نے انسان کے چہرے میں جمع کردیا ہے۔ اس میں آپ آنکھوں سے دیکھتے ہیں ، اشیاء کا ادراک کرتے ہیں، رنگوں کو پہچانتے ہیں۔ اسی طریقے سے آپ کان سے (قوتِ سماعت سے) اِدراک کرتے ہیں، آوازوں کو پہچانتے ہیں ، اچھی اور بری آواز میں تمییز کرتے ہیں۔ زبان کے ذریعے (قوتِ ذائقہ کے ذریعے) آپ اِدراک کرتے ہیں چیزوں کا کہ یہ میٹھی ہے، تلخ ہے، کڑوی ہے، نمکین ہے، اسی طرح جو بھی اس کا مزہ ہوگا وہ زبان چکھ لے گی، سمجھ لے گی، پہچان لے گی۔ ناک کے ذریعے (قوتِ شامہ) اللہ تعالیٰ نے عطا کی ہے، جو چیزوں کو اس طور پر پہچانتی ہے کہ یہ کس چیز کی بو ہے؟ اسی طریقے سے آپ کا جو بشرہ (کھال) ہے، و ہ احساس کرتا ہے کہ مجھے جو چیز لگی ہے، یہ ٹھوس ہے یا نرم ہے، ٹھنڈی ہے یاگرم ہے، تو ان احساسات کے ذریعے سے آپ اشیاء کا ادراک کرتے ہیں اور ان کی صفات کا اِدراک کرتے ہیں۔
عقل: جب انسان بالغ ہوجاتا ہےتو پھر عقل وہ قوت ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہے، جس سے وہ پوری کائنات کو پہچانتا ہے۔ عقل ہی اِدراک کی وہ قوت ہے جو تمام حیوانات سے انسان کو ممتاز بنادیتی ہے۔ عقل نےوہ وہ کرشمے دکھائے کہ آج بھی دنیا سمجھتی ہے کہ ابھی تک ہم نے عروج حاصل نہیں کیا، مزید عروج حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انسانیت اور اس کی نئی ایجادات ، نئی تحقیق، نئے انکشافات، نئی سائنس، نئی ٹیکنالوجی اسی عقل کا عروج ہے۔ اور اسی حوالے سے انسان سے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّہَا‘‘ (۱) جس میں حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ کے نام بتادیے، اب محض نام کابتانا شاید کسی اِفادیت کا حامل نہ ہو، تاوقتیکہ ان ناموں کے ساتھ اس کے اوصاف بھی معلوم نہ ہوں، یہ معلوم نہ ہو کہ اس کی افادیت کتنی ہے؟ اس کا نقصان کتنا ہے؟ اور منفعت کیا ہے؟ مضرت کیا ہے؟ اور پھر منفعت کے حاصل کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ مضرت کے دور کرنے کے طریقے کیا ہیں ؟ یہ ساری چیزیں جب حاصل ہوتی ہیں، تب ’’وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ کُلَّہَا‘‘ (۲) کا مقصد پورا ہوتا ہے۔ (۳) اب جب کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ساری چیزوں کا علم حضرت آدم علیہ السلام کو عطا کردیا تو اس کا معنی یہ ہوا کہ بنی آدم کے اندر اللہ تعالیٰ نے سب چیزوں کے ادراک کرنے کی استعداد رکھی ہے ، تو یہ جو دنیا ہے ، علمی ترقی ہورہی ہے، اور نئی ایجادات سامنے آرہی ہیں، یہ انسان ہی کا خاصہ ہے۔
البتہ اگر کچھ امتیازات اورخصوصیات ان انسانوں میں ہیں تو پھر اس میں مسلمان خاص ہیں، جیسا کہ قرآن میں ہےکہ : ’’الرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ‘‘ (۴) اب قرآن ایک خاص قسم کا علم ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو قیامت تک کے لیے دیا اور جو منبع ہے ساری انسانیت کی ہدایت کا، جس میں تمام علوم کے اصول ملتے ہیں، لیکن قرآن پر ایمان رکھنے والا تو صرف مسلمان ہے تو اس خصوصی علم کا جو انعام ہے، وہ بھی حضرت انسان میں سے صرف حضرت مسلمان کو عطا کردیا گیا ہے۔
اور اس کے اعتبار سے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے کہ قرآن کریم میں آپ کو ’’خاتم النبیین‘‘ کہا گیا ہے۔ اب ’’خاتم النبیین‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا کہ: ’’وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللہِ وَخَاتَمَ النَّبِيّٖنَ‘‘ اس ’’خَاتَمَ النَّبِيّٖنَ‘‘ کے لوگ کیا کیا معنی کریں گے ، ہمیں اس سے کیا؟ ہمیں تو اس معنی اور شرح سے تعلق ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کیا ، فرمایا کہ: ’’أنا خاتم النبيين لا نبيَّ بعدي‘‘، (۷) ختم ہوگئی بات۔
اب یہاں پر میں اپنے دوستوں کے سامنے ہمیشہ یہ بات کہتا رہتا ہوں، اور مولوی صاحبان کو لگتی بھی بڑی عجیب سی ہے کہ جب لفظ ’’ختمِ نبوت‘‘ آتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ ’’ختمِ نبوت‘‘ غیر سیاسی عنوان ہے اور یہ سیاست سے اور تمام اختلافات سے بالاتر ہے۔ ’’ختمِ نبوت‘‘ کے موضوع پر آؤ جلسہ کرتے ہیں، مظاہرے میں بیٹھتے ہیں، وغیرہ، وغیرہ۔ لیکن میں ان کو کہتا ہوں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ’’ختمِ نبوت‘‘ کا ذکر سیاست کے ساتھ کیا ہے، فرمایا: ’’ کانت بنو إسرائيل تسوسُہم الأنبياءُ، کلَّما ہلک نبيٌّ خَلَفَہٗ نبيٌّ، وإنہٗ لا نبيَّ بعدي، وسيکون خلفاء فيکثرون‘‘، (۸) تو نبی علیہ السلام نے تو اپنی ’’ختمِ نبوت‘‘ کا ذکر سیاست کے ساتھ کیا ہے اور ہم سیاست سے اس کو لا تعلق کردیتے ہیں۔
اور سیاست کے ساتھ آج کل ہمارے مولویوں کے، طلبہ کے اور مدرسوں کے تعلق سے اس حد تک تو میں متفق ہوں کہ طالب علم دوران تحصیلِ علم کے ’’عملِ سیاست‘‘ نہ کرے، لیکن ’’علمِ سیاست‘‘ تو ضروری ہے کہ اپنی تاریخ کو سمجھے، جغرافیہ کو سمجھے، مختلف علاقوں کے لوگوں کی تہذیب کو سمجھے، ان کے وسائلِ آمدن کو سمجھے، اور مطالعہ کرے اس بات کا کہ دنیا اگر مجتمع ہے تو ان کے بیچ میں کیا نظام ہونا چاہیے؟!
اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک جیسا پیدا نہیں کیا، لیکن انسانیت کو اللہ تعالیٰ نےایک بہت بڑا مقام عطا کیا ہے: ’’وَلَقَدْکَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰہُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰہُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ وَفَضَّلْنٰہُمْ عَلٰی کَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا‘‘ (۹) یعنی کہ بنی آدم کو اللہ تعالیٰ نے شرفِ انسانیت عطا کیا ہے، اور بحر و برّ پر ان کو سوار کیا ہے، ان کو حاکمیت عطا کی ہے، اور پاک رزق ان کو عطا کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کی نعمتوں کا مقابلہ آخرت کی نعمتوں کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ’’اللہ کی رحمت کا سو میں سے ایک فیصد اللہ تعالیٰ نے زمین پر بھیجا ہے اور ننانوے فیصد اللہ نے اپنی رحمت اپنے پاس محفوظ رکھی ہے۔‘‘(۱۰) وہ ایک فیصد رحمت انسانوں میں بھی، حیوانات میں بھی، یہاں تک کہ نباتات میں بھی ، جمادات میں بھی تقسیم ہوگئی ہے، اور جہاں بھی دیکھیں تو آپ کو رحمت کے کوئی نہ کوئی نقش نظر آئیں گے، علامات نظر آئیں گی، جب یہ اللہ تعالیٰ کی ایک فیصد رحمت ہے تو آخرت میں کیا ہوگا؟ حدیث میں آتا ہے کہ: ’’آپ دریا میں انگلی ڈبوئیں، سمندر میں انگلی ڈبوئیں اور پھر نکالیں، آپ کی انگلی پر کیا تری ہوگی، یہ دنیا ہے اور وہ آخرت۔‘‘(۱۱)
اس فرق میں تو کوئی اختلاف نہیں، لیکن جس طرح ہم زہد وورع، اور تقویٰ کی تعریفیں کرتے ہیں اور یہ کہ دنیا سے دور رہو، نہ بالکل صاف لباس پہنو، نہ خوبصورت بنو، اور نہ صفائی کرو، ان چیزوں کی طرف ترغیب دینا، یہ کب شریعت کا تقاضا ہے؟ اللہ رب العزت تو یہ فرماتے ہیں: ’’قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَۃَ اللہِ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِہٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ قُلْ ہِيَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيَوٰۃِ الدُّنْيَا خَالِصَۃً يَّوْمَ الْقِيٰمَۃِ‘‘(۱۲) یہ تمام نعمتیں اور دنیا کی زینت و طیبات یہ تو اللہ تعالیٰ نے مومنین کے لیے پیدا کی ہیں، اس سے استفادہ کرنا قرآن کا تقاضا ہے، اتنے بھی صوفی مت بنا کرو، تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عزت سے دنیاوی نعمتیں عطا کیں ہیں، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ مومنین کے لیے ہیں، البتہ دنیا میں کافر بھی آپ کے ساتھ شریک ہیں، اور ’’خَالِصَۃً يَّوْمَ الْقِيٰمَۃِ ‘‘ کہ قیامت میں یہ نعمتیں صرف اور صرف آپ کے لیے ہیں۔
اب ایک طالب علمانہ سوال ہوگا کہ مشاہدہ تو اس کے خلاف ہے، اللہ تعالیٰ نے تو یہ فرمادیا کہ میں نے یہ مومنین کے لیے پیدا کی ہیں، لیکن آج جو ہم مشاہدہ کررہے ہیں تو کفر کی دنیا ان تمام نعمتوں کی حامل ہے اور مسلمان محروم ہیں، تو اس بات کو بھی ہمارے اکابر نے سمجھایا ہے کہ ’’قُلْ ہِيَ لِلَّذِينَ اٰمَنُوْا‘‘یعنی ’’ ان لوگوں سے کہیں جو ایمان لائے‘‘تو رشتۂ ایمان جتنا مضبوط ہوگا ، اتنا ہی آپ کو ان دنیا کی نعمتوں کے اوپر حق ہوگا ، ورنہ پھر کفر کی دنیا اس پر قبضہ کرلے گی ، اس لیے آج اگر کافر کے ہاتھ میں تمام نعمتیں ہیں تو کچھ کمزوری ہماری بھی ہےکہ ہمارا ایمان کمزور ہوگیا ہے ، قرآن سے رشتہ ہمارا کمزور ہوگیا ہے، آپس میں ہم ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، اور یہی حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ: ’’اُمتِ مسلمہ کے زوال کے سبب دو ہیں: ایک قرآن سے دوری اور دوسرا باہمی اختلافات۔‘‘ ہم باہمی اختلاف تو کرتے ہیں ،لیکن باہمی اختلاف پر ہمارے مابین کوئی تردُّد نہ آئے، یا پھر اس میں خونریزی نہ ہو، اس میں نفرتیں نہ ہوں۔ اب یہ دو چیزیں جب آگئی ہیں تو اس کا حل یہ ہےکہ قرآن سے رشتہ مضبوط ہو، ایمانی قوت مضبوط ہو، ورنہ پھر اپنے حق سے بھی محروم ہوگی۔ تو ہم مسلمان جو آج پوری دنیا سے بھیک مانگ رہے ہیں ، یہ درحقیقت ہمارا حق ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’قُلْ ہِيَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ‘‘ تو اس اعتبار سے وحی کو سمجھنا ضروری ہے۔
اب عقل بہت بڑی نعمت ہے۔ عقل نے انسان کوترقی کے عروج پر پہنچایا ہے اور عقل رہنمائی کا بہت بڑا ذریعہ ہے، سب سے بڑا ذریعہ ہے ، لیکن کافی نہیں ہے، اس لیے کہ عقل کبھی کبھی معطل ہوجاتی ہے، متاثر ہوتی ہے۔ محبت غالب آگئی، عقل معطل۔ غضب غالب آگیا ، عقل معطل۔ شہوت غالب آگئی ، عقل معطل۔ کبھی انسان سے وہ کچھ صادر ہوجاتا ہےکہ بعد میں پھر ندامت پر مجبور ہوجاتا ہے، تو اس اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے آخری رہنمائی ہماری وحی کے ذریعے سے کی، جس میں تغیر کا کوئی امکان نہیں۔ اب عقل اور وحی کی جو نسبت ہے ، اس کو یوں سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے آنکھیں دی ہیں اور اس میں اللہ نے بصیرت رکھی ہے۔ دیکھنے کی پوری قوت آنکھ کے اندر ہے ، بینائی ہے اس کے اندر، لیکن اگر خارجی روشنی نہیں ہے، قوت نہیں ہے، یا لائٹ بجھ گئی ہے، یاکمرہ بند ہے، تو باوجود اس کے کہ بینائی کی قوت مکمل محفوظ ہے، لیکن اب آپ کو کچھ نظرنہیں آرہا، کیونکہ خارجی روشنی نہیں ہے، جس سے آپ کی آنکھیں کام کرسکیں۔ تو وحی کی رہنمائی جب تک نہیں ہوگی، عقل مار کھائے گی۔ اسی وحی کی اہمیت کو ہم سمجھنا چاہ رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسی نعمت ہے، ایک ایسی رہنمائی ہے کہ جس میں انحراف کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی رہنمائی مکمل ہوگئی، اس کے بعد کوئی وحی نہیں ہوگی، نبی نہیں آئےگا، اگر چہ خلفاء آئیں گے۔
بہرحال! امام بخاریؒ نے آغاز تو ’’کتاب الوحي‘‘ سے کیا، لیکن شیخ الاسلام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ: کتاب کا آغاز بھی ’’کتاب الإیمان‘‘ سے ہے اور انجام بھی ’’ایمانیات‘‘ پر ہے کہ آخر کتاب میں ’’کتاب التوحید‘‘ ہے، اس طور پر کہ تمام اعمال کا مدار آپ کے عقیدے کے اوپر ہے۔اگر ایمان ہے اور اللہ کی وحدانیت پر ایمان ہے، تب جاکر اعمال قبول ہوتے ہیں، ورنہ اس کے علاوہ اعمال کوئی فائدہ نہیں دیتے۔ اور یہ جو ’’کتاب الوحي‘‘ ہے، یہ بمنزلہ مقدمہ کے ہے، تو اس اعتبار سے ’’کتاب الوحي‘‘ کو جب ہم بطور مقدمہ کے دیکھیں گے، اور اس کے بعد ہم جائیں گے ’’کتاب الإیمان‘‘ کی طرف، اور پھر عام طور پر جو ایمان کے بعد نماز کاذکر ہے، صلاۃ کاذکر ہے، تو ’’ کتاب الصلاۃ‘‘ ہونا چاہیے، یہاں ایسا نہیں ، بلکہ ’’ کتاب العلم‘‘ سے شروع کیا کہ جب تک علم نہیں ہوگا آپ کو نماز کا پتا کیسے چلے گا؟ اور پھر ویسے بھی نماز سب سے مقدم چیز ہے، لیکن کتاب کاآغاز کبھی بھی ہم ’’کتاب الصلاۃ‘‘ سے نہیں کرتے، بلکہ ’’کتاب الطہارۃ‘‘ بھی تو دیکھتے ہیں، کیونکہ طہارت تو دارومدار ہے، وہ بمنزلہ شرط کے ہے اور ’’صلاۃ‘‘ بمنزلہ مشروط کے، اور مشروط بغیر شرط کے کبھی بھی موجود نہیں ہوسکتا، تو اس اعتبار سے ’’ کتاب الوحي‘‘ کو بمنزلہ مقدمہ کے ذکر کیا گیا ہے اور ابتدا ’’کتاب الإیمان‘‘ سے کی گئی ہے، اور پھر آخر میں ’’ کتاب التوحید‘‘ ، اور اس کے ’’۵۸‘‘ ابواب میں آخری باب ، ’’باب:قول اللہ تعالٰی: وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ. وأن أعمال بني آدم وقولہم يوزن. وقال مجاہد: القسطاس، العدل بالروميۃ، ويقال: القسط مصدر المقسط، وھو العادل، وأما القاسط فھو الجائر.‘‘ اور آخر میں پھر یہ ہےکہ آپ نے آٹھ سال جس مجلس میں گزارے ہیں، اور نبی k فرماتے ہیں کہ مجلس سے اُٹھنے سے پہلے جو تسبیح وتحمید کرلے، تو اس دوران کی جتنی کمی بیشی ہوگئی ہے، اللہ تعالیٰ سب کو معاف کردیتا ہے، تو آخر میں فرمایا: ’’ کلمتان حبيبتان إلی الرحمٰن، خفيفتان علی اللسان، ثقيلتان في الميزان: سبحان اللہ وبحمدہٖ، سبحان اللہ العظيم‘‘
جو میرے اساتذہ تھے وہ تو حضرت مدنی رحمۃ اللہ علیہ سے آگے حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ تک ان کا سلسلہ جاتا ہے، اور یہی آپ کو بھی یہاں اساتذہ بتاتے ہیں۔ اور ایک سند جو مجھے حاصل ہے ، وہ حضرت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی قدس سرہٗ کی ہے، جو مظاہر علوم سہارنپور میں پڑھاتے تھے، انہوں نے بھی مجھے ایک شرط کے ساتھ اجازت دی ہے کہ میرے اکابر کی تشریحات کو سامنے رکھتے ہوئےحدیث پڑھایا کرو، تو میرے اکابرکی تشریحات وہ آپ کے بھی مد نظر ہونی چاہئیں۔ اور سند پر بھی اعتماد ہوتا ہے، اور سند شریعت میں بھی ہے، سند طریقت میں بھی ہے، سند سیاست میں بھی ہے، اسی طرح سند نسب میں بھی ہے کہ کس کے بیٹے ہو، کس کے پوتے ہو، کس کے پڑ پوتے ہو، یہ باعثِ فخر ہے، اور اس کا خیال نا کرنا ، اور اس کو خراب کرنا اس پر وعید آئی ہے،تو تشریحات جو ہیں اس میں بھی سند ہے۔ آج کے زمانے میں ایسے ایسے نئے نئے قسم کے اسکالر پیدا ہوتے ہیں، جو شریعت کی ایسی تشریح کرتے ہیں کہ جو آج مغرب کے لیے بھی کام کرتی ہے، لیکن اس کی زبان بڑی شستہ، چرب زبان، بڑی خوبصورت گفتگو کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ مولوی صاحبان تو پرانی باتیں کرتے ہیں، لیکن وہ نئے انداز سے بات کرنا ہی درحقیقت گمراہی ہوتی ہے۔ لہٰذا اپنے اکابر پر اعتماد ہونا چاہیے، جنہوں نے آج تک اتنی بڑی تعداد میں آپ جیسے علما ءکرام ، فضلاء کرام دیے ہیں، اور جہاں تک یہ احادیث آپ کو پہنچی ہیں تو ظاہر ہےکہ ان حضرات کی محنت کے نتیجے میں آپ کو پہنچی ہیں کہ اگر بظاہر متضاد حدیثیں آجاتی ہیں ، متصادم آجاتی ہیں ، تو ان میں تطبیق پیدا کرنے کے طریقے کیا ہیں؟ اگر تطبیق پیدا نہیں ہوسکتی تو پھر ترجیح کس کو دی جائے؟ اس کے طریقے کیا ہیں؟ اگر ترجیح کی بھی کوئی صورت نا ہو تو پھرتنسیخ کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟ یہ سارے اصول وطریقے اُصولِ حدیث میں ہمارے اکابر نے بیان کیے ہیں اور ہم نت نئی اور خوبصورت قسم کی گفتگو پر مر مٹتے ہیں، چاہے وہ درست ہی نہ ہو۔ تو اپنے اکابر پر اعتماد کریں اور ان کی تشریحات کی روشنی میں حدیث کو آگے پڑھائیں، جنہوں نے اپنے اکابر پر اعتماد کرکے ان کی تشریحات کے مطابق حدیث پڑھائی، میں عاجز کی طرف سے ایک طالب علم کی ان کو اجازت ہے، ورنہ اس کے بغیراجازت نہیں۔
۱-سورۃ البقرۃ، آيۃ: ۳۱
۲-أيضا
۳- ملاحظہ ہو: أبو الفداء عماد الدين إسماعيل بن عمر بن کثير: تفسير ابن کثير، ص: ۱/۳۳۵، تحقيق: حکمت بن بشير بن ياسين، ن: دار ابن الجوزي، ط: الأولٰی.
۴- سورۃ الرحمٰن، آيۃ: ۱، ۲
۵-سورۃ النساء، آيۃ: ۱۶۳
۶- أيضا
۷- الإمام أحمد بن حنبل (۱۶۴- ۲۴۱ ہـ): مسند أحمد، ص: ۳۸/۳۸۰، رقم الحديث: ۲۳۳۵۷، ن: مؤسسۃ الرسالۃ، ط: الأولی، ۱۴۲۱ ہـ - ۲۰۰۱ م.
۸- أبو عبد اللہ محمد بن إسماعيل البخاري: صحيح البخاري، ص: ۴/۴۴۹، رقم الحديث: ۳۴۵۳، ن: دار التأصيل، ط: الأولٰی.
۹- سورۃ الإسراء، آيۃ: ۷۰
۱۰- الإمام البخاري: صحيح البخاري، ص: ۸/۲۲، رقم الحديث: ۶۰۰۴
۱۱- أبو عيسٰی محمد بن عيسٰی الترمذي (ت: ۲۷۹ ہـ): سنن الترمذي، کتاب الزہد، ص: ۴/۱۵۱، رقم الحديث: ۲۳۲۳، ن: دار الغرب الإسلامي، ط: الأولٰی.
۱۲- سورۃ الأعراف، آيۃ: ۳۲