
امام حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ تاریخ اسلام کے ممتاز ترین علماء میں سے ہیں، بلکہ اپنی متعدد علمی وفکری خصوصیات کے لحاظ سے وہ ہماری پوری تاریخ میں بے نظیر مقام رکھتے ہیں۔ حقائقِ اسلام کی معرفت، حکمتِ دین کے علم اور شریعت کے اسرار ورموز کے بیان میں اہلِ نظر متفق ہیں کہ ان کا منفرد اور عظیم الشان مقام ہے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت شاہ صاحب قدس سرہٗ تصوف وسلوک اور علمِ احسان کے ایک نہایت بلند مقام عارف اور اس بحرِہیبت نشان کے عظیم شناور بھی تھے۔
اس موضوع پر ان کی متعدد مستقل تصنیفات بھی ہیں۔ ان مستقل تصانیف کے علاوہ اپنی دیگر کتابوں میں بھی انہوں نے تصوف کے حقائق کا طویل ومختصر بیان فرمایا ہے، بلکہ ان کی کوئی بھی طویل تحریر اس موضوع پر اظہارِ خیال ، اس کے لطائف کے بیان اور دین کی ایک اساس کی حیثیت سے اس کی طرف دعوت سے خالی نہیں۔
اس موضوع پر حضرت شاہ صاحبؒ کا اظہارِ خیال صرف علم ودانش اورمحض گفت وشنید پر مبنی نہیں ہوتا، بلکہ وہ جو کہتے ہیں باطنی احساس، روحانی ذوق و معرفت اور دید وچشید کے ذاتی تجربے سے فرماتے ہیں۔ ان تحریروں سے جہاں اس راہ میں ان کے مقامِ امامت کا اندازہ ہوتا ہے، وہیں ساتھ ہی ان کے مطالعے سےدین کے ہر صاحبِ فہم کے لیےیہ بھی بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ ایک مکمل اور حقیقی مسلمان بننے کے لیے یہ خا ص درجۂ یقین لازمی ہے، اور قلب میں حقیقتِ ایمان کے رسوخ وقوت کے لیےاِس درجۂ احسان کی تحصیل ضروری ہے، اور اِس کا بھی اِدراک ہوتا ہے کہ تصوف کے ذریعے (اصلاً،کچھ اور نہیں، صرف) ایک خاص قسم کی دینی قوت وروح حاصل ہوتی ہے، جو انبیاء علیہم السلام کی خاص الخاص میراث ہے۔ اسی دینی قوت سے انسان کو نفس وشیطان کے حملوں کے بیچ اور شہوتِ جاہ ومال کےمقابلے میں طاعت وتقویٰ پر استقامت کی ہمت ملتی ہے، اور یہی دینی روح حق وباطل کی کشمکش کے درمیان امرِ خداوندی پر ثبات وعزیمت کا حوصلہ وشوق بھی بخشتی ہے۔ یہ دولت اگر حاصل ہوگئی، سب مل گیا، جو یہ نہ ملی تو کچھ حاصل نہ ہوا۔
اس سلسلے میں شاہ صاحبؒ کی ان تحریروںکا ایک حصہ تو اس درجے کاہے کہ اُس کو بلند مقام اہلِ عرفان ہی سمجھ سکتے ہیں، نیز ان میںایسے مضامین بھی ہیں جو وسیع اور گہری نظر کے علماء کے لیے ہی قابلِ استفادہ ہوسکتے ہیں، لیکن بعض مقامات پر شاہ صاحبؒ نے تفصیلات سے قطع نظر، اس علم کے اصل بنیادی حصے کی عام فہم تشریح بھی فرمائی ہے۔ اس درجے کی تحریریں بھی سب کے لیے مفید اور مختصر ہونے کے باوجود شاہ صاحبؒ کے غیر معمولی گہرے علم اور عمیق فہمِ دین کی عکاس ہیں۔ انہی میں سے ایک تحریر وہ ہے جو اس وقت پیشِ نظر ہے۔
شاہ صاحبؒ کی نادرۂ روزگار تصنیف ’’إزالۃ الخفا عن خلافۃ الخلفاء‘‘ دین میں خلافتِ راشدہ کے مقام پر ایک بے نظیرولاثانی شاہ کار اور خلفاء راشدینؓ کے فضا ئل اور کارناموں پر اسلامی تاریخ کی منفرد کتاب ہے۔ اس میں ’’رسالۂ تصوفِ فاروق اعظمؓ ‘‘ کے عنوان سے مستقل باب ہے، جو حقیقۃً اس موضوع پر ایک مکمل تصنیف ہے۔ شاہ صاحبؒ نے اس کے آغاز میں موضوع کی ضرورت وافادیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:’’ حضرت فاروقِ اعظمؓ سے علومِ تصوف کی جو تعلیمات اور اس سلسلے میں ان کے حال ومقام کی جو تفصیلات کتبِ حدیث میں موجود ہیں، اس کا مکمل احاطہ تو اس وقت ممکن نہیں ہے، لیکن مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک حد تک ان معلومات کو درج کردیا جائے، جن سے اس فن کے اہم اصول ومباحث سامنے آجاتے ہیں۔‘‘
شاہ صاحبؒ مزید فرماتے ہیں کہ:’’ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ دین کے اس شعبے میں حضرت فاروق اعظمؓ کی علمی بصیرت و عظمت اور عملی جلالتِ شان کا اظہار ہوگا، اور دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ علمِ حدیث کا گہرا علم نہ رکھنے والوں کی اس غلط فہمی کا ازالہ بھی ہوسکے گا کہ تصوف وسلوک کا علم کوئی نئی چیز ہے، جس کا صحابہؓ اور خلفاء راشدینؓ کے یہاں وجود نہیں تھا۔‘‘
اس رسالے کی ابتدا میں تصوف وسلوک کے اصل مقصود اور اس کے حصول کے راستے پر ایک بےمثال کلام کیا گیا ہے، جس میں تصوف کا اصولی نظریہ‘ اختصار لیکن پوری وضاحت کے ساتھ آگیا ہے۔ احسان وتصوف کی حقیقت پر اس سے جامع ومختصر اور حقیقت نما کلام (دو تین تحریروں کو چھوڑ کر ) راقم سطور کی نظر سے کہیں اور نہیں گزرا ہے۔ یہ مضمون اس راہ کے سالکین بلکہ مشائخ وعارفین کے لیے بھی بصیرت افروز ہے۔ خیال ہوا کہ اس کی تفصیل وتشریح سے جہاں ان عام اہلِ علم کو فائدہ ہوگا جو تصوف وسلوک کی حقیقت، دین میں اس کے مقام اور ایک ایمانی شخصیت کی تعمیر میں اس کے کردار کو سنجیدگی سے سمجھنا چاہتے ہیں، وہیں اس بصیرت افروز تحریر سے اہلِ شوق، خصوصاً سالکین کے ذہن میں طریق کا مقصد بھی متعین وواضح ہوجائے گا اور اس کی اہمیت وتاثیر کا تصور بھی پیدا ہوگا۔ نیز حقیقتِ دین پیدا کرنے میں اس کی کارفرمائی کا شعور واحساس بھی ہوگا۔ یہ شعور واحساس ہم میں طلب پیدا کرے گا اورسلوک ومجاہدہ کے لیے ان شاء اللہ حوصلوں کو مہمیز کرے گا، اور مقصد کے تعین ووضوح سے ان کی نگاہِ شوق صرف مقصود ہی کو مطمحِ نظر بنائے گی۔
تصوف کا خلاصہ ومغز تین بنیادی باتوںمیں آجاتا ہے، شاہ صاحب ؒ تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’شریعت میں جس حقیقت کو ’’احسان‘‘ کہا جاتا ہے، اسی کا اصطلاحی نام ’’تصوف‘‘ ہے۔‘‘
اس کے بنیادی تصور کا خلاصہ ومغز تین اُصولی نکات میں آجاتا ہے:
تصوف وسلوک کا اصل مقصد اعمالِ صالحہ مثلاً نماز، روزہ اور ذکروتلاوت کی کثرت کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی قدرت وعظمت اور اس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بتلائی باتوں اور وعدوں پر ایک خاص قسم اور خاص درجے کا یقین پیدا کرنا ہے۔
اس جگہ وہ یقین مقصود ہے جو صالحینِ اُمت کو اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ’’بطریقِ موہبت‘‘ عطا ہوتا ہے، جس کو صوفیہ کی اصطلاح میں ’’یادداشت‘‘ کہتے ہیں، یعنی عقل وشعور پر چھا جانے والا یقین، جو زندگی کا رخ موڑ دے اور جذبات بدل ڈالے، جس طرح کا علم ویقین آنکھوں دیکھی اور سامنے موجود حقیقتوںپر ہوتا ہے۔ اِس سے مراد یقین کا وہ عام درجہ نہیں جو عقلی دلائل یا تقلید اور مومنین کی اتباع سے عام مسلمانوں کو حاصل ہوتا ہے۔
یہاں غور طلب ہے کہ تمام مسلمان بقدرِ توفیقِ الٰہی اعمالِ خیر کرتے ہیں، لیکن ان کو وہ خاص مرتبۂ یقین کیوں حاصل نہیں ہوتا؟
یہ بہت اہم سوال ہے کہ پھرکثرتِ اعمالِ خیر سے وہ یقین کس طرح پیدا ہوتا ہے؟ شاہ صاحبؒ یہاں اسی سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
عارفینِ اُمت کے تجربے اور استقراء سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمالِ خیر کی کثرت کے ذریعے، اس خاص درجۂ یقین کے حصول کے لیے تین اہم اور ضروری شرائط ہیں:
1 پہلی شرط: اخلاص ہے کہ ان اعمالِ خیر کو کامل اخلاصِ نیت اور صرف رضائے الٰہی کے حصول کے مقصد سے کیا جائے۔
2 دوسری شرط: یہ ہے کہ اعمالِ خیر (مثلاً تہجد، صلاۃ الضحیٰ، صبح وشام وغیرہ کی دعائیں اور ذکر) کی مقدار میں کثرت کا اہتمام کیا جائے۔
3 تیسری شرط: ’’کیفیتِ خاصہ کہ عبارت از خشوع وخضوع، وترکِ حدیثِ نفس، وہیئاتِ مذکرۂ خشوع، واذکارِ مقوّیۂ آں۔‘‘
یعنی ان عبادات اور اعمال کو قلب کے پورے حضور واطمینان، خشوع وخضوع، یکسوئی اور تَبَتُّل وتوجہ الی اللہ کی شان کے ساتھ ادا کیا جائے۔ دورانِ عبادت خیالات کے انتشار (یعنی حدیثِ نفس) سے پرہیز کی کوشش کی جائے، اور ان کیفیات کے پیدا کرنے والی ہیئت اور ظاہری حالت، مثلاً عبادت کے مناسب جسمانی حالت بنائی جائے۔ نیز تواضع اور شکستگی وفروتنی کی ظاہری صورت وغیرہ کو بھی اختیار کیا جائے۔ ساتھ ہی ایسے اذکار کو زبان سے ادا کیا جائے جو عبدیت وتذلل کے استحضار اور حضور وخضوع کی اِن کیفیات کو پیدا کرنے میں معاون ہوں۔ (ہر وقت اور حالت کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مسنون وماثور دعائیں اگر استحضار وتوجہ الی اللہ کے ساتھ پڑھی جائیں تو اس ملکہ کے حصول میں بہت معاون ہوتی ہیں)۔
اس کے بعد شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: ’’قرآن وحدیث کی اصطلاح میں اس کیفیت وحالت کو (دین کا) مرتبۂ احسان کہا گیا ہے، اوراس کی وہی تشریح کی گئی ہے جو اوپر ذکر کی گئی ہے، (یعنی اعمالِ خیر کی کثرت اور خشوع وخضوع اور ظاہر وباطن کی عبدیت واِنابت)۔‘‘
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
’’إِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُحْسِنِيْنَ کَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ اللَّيْلِ مَا يَہْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِ ہُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ وَ فِٓيْ اَمْوَالِہِمْ حَقٌّ لِّلسَّآئِلِ وَالْمَحْرُوْمِ‘‘ (الذاریات:۱۶-۱۹)
مطلب یہ ہے کہ وہ آخرت سے پہلے (دنیا میں) ’’احسان‘‘ کی صفت سے متصف تھے۔ (یعنی) راتوں میں (قیام اللیل اور ذکر ومناجات کی ایسی کثرت رہتی کہ) کم ہی سوتے تھے، پھر صبح دم وہ استغفار وتوبہ میں مصروف ہوجاتے، اور ان کے مالوں میں سائل ونادار کا ایک متعین حق طے ہوتا تھا۔
یہ تو قرآن میں عبادات کی کثرت کا حال بیان ہوا۔ حدیث میں احسان کی خاص کیفیت بیان ہوئی ہے کہ: ’’أن تعبد اللہ کأنک تراہ، فإن لم تکن تراہ فإنہ یراک‘‘ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی عبادت وبندگی اس طرح کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو، یعنی عبادت کے دوران یہ حالت وکیفیت پیدا کی جائے کہ جیسےاللہ بندے کے سامنے ہے اور بندہ اس کو اپنے سامنے دیکھ رہا ہے، اس لیے کہ اگرچہ بندہ نہیں دیکھ رہا، مگر یہ تو واقعی حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے سے نہ غائب ہے نہ دور، وہ بہر حال اُس کو دیکھ رہا ہے۔ دربارِ الٰہی میں حضور وشہود، خشوع وخضوع اور تذلّل ومسکنت کی یہی کیفیت صفتِ احسان ہے۔
شاہ صاحبؒ نے اس نکتۂ دوم کے تحت جو لکھا ہے، اس میں تصوف کا بنیادی نظریہ نہایت اختصار وجامعیت اور قرآن وسنت میں اس کے ماخذ کے تذکرے کے ساتھ آگیا ہے۔ نہایت اہم اور غور وتدبر سے پڑھنے کے لائق کلام ہے۔ اس تحریر کا لبِ لباب یہی نکتۂ دوم ہے۔
ارشاد فرماتے ہیں: تصوف وسلوک کابنیادی نظریہ یہ ہے کہ دین میں تین طرح کے اعمال وافعال کا حکم دیا گیا ہے۔ سارا دین انہی تین قسموں میں آجاتا ہے:
1- ایمانیات و عقائد۔
2- کچھ جسمانی اعمال و افعال، جیسے نماز، روزہ، زکات۔ اس کے علاوہ معاملات اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی اور اُن کے ساتھ حسن سلوک۔
3- ان کے علاوہ دین میں بہت سے قلبی اعمال واخلاق وکیفیات کا بھی حکم دیا گیا ہے، جیسے اخلاص، اللہ تعالیٰ سے سب سے زیادہ محبت اور سب سے زیادہ خوف، زہد وتوکل، صبر وشکر اور دل کا باطنی گندگیوں جیسے کبر وحسد، طمع ولالچ وغیرہ سے پاک رکھنا، وغیرہ، وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ یہ سب قلبی اعمال وجذبات اور کیفیات و احساسات ہیں، جسمانی افعال نہیں۔
جس طرح پہلی دو قسموں کے اعمال اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور انسان کی نجات کے لیے ضروری ہیں، اسی طرح یہ آخری قسم بھی ایسی ہے کہ اس کی تحصیل کےبغیر اللہ کی رضا ومحبت اور بندے کی نجات ناممکن ہے۔
اس کے علاوہ قرآن وسنت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شریعت کے ظاہری اعمال میں بھی قوت وجان اور روح و طاقت ان باطنی کیفیات وجذبات اور صفات واخلاق سے ہی پیدا ہوتی ہے، ان کے بغیر آدمی کے ظاہری دینی اعمال بھی نہایت ناقص اور مرتبۂ محبوبیت سے فرو وساقط رہتے ہیں۔ ان قلبی اعمال وکیفیات کے بنا انسان حقیقتِ دین سے کورا رہتا ہے، نہ اس کو ظاہری اعمالِ شریعت پر استقامت حاصل ہوتی ہے اور نہ لذات وشہوات سے اجتناب کرپاتا ہے۔ حبِ دنیا اور مال ومنصب کی خواہش اس کو آخرت کی طرف مائل نہیں ہونے دیتی، اور بالفرض اگر اس کو بظاہر اعمالِ صالحہ کی صورت اور شکل نصیب بھی ہوجاتی ہے تو ریاکاری وشہرت طلبی سے دامن نہیں چھوٹتا۔ اگر یہی حال باقی رہا تو آخر اسی نامرادی کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کے پاس حاضر ہوجائے گا۔
تصوف وسلوک کا مقصد قلبِ مومن میں ان ضروری ولازمی صفات اور بلند وپاکیزہ ایمانی کیفیات واحوال کا پیدا کرنا ہے۔ جب یہ باطنی کیفیات اور صفات‘ قلب میں ایک خاص درجہ میں رچ بس جائیں اور راسخ وثابت اور پائیدار ہوجائیں، تو ان کوتصوف کی خاص اصطلاح میں ’’مقامات‘‘ کہا جاتا ہے۔ بس یہی ’’مقامات‘‘ تصوف کا اصل مقصد ومطمحِ نظر اور صوفیاء کرام کی منزلِ شوق ہیں۔
شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ: تصوف کا خاص طریق یہی ہے کہ مذکورہ ’’یقین‘‘ اور ’’صفتِ احسان‘‘ (جس کو حضور ویادداشت بھی کہا جاتا ہے) کے ذریعہ اِن قلبی عبادات اور مقامات وکیفیات کو دل میں پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ جب کسی مومن بندے کے قلب میں ’’یقین‘‘ اور ’’اللہ تعالیٰ کاحضور‘‘ جاگزیں ہو کر اُس کی شخصیت پر چھا جاتا ہےاور خداوندِ قدوس کی بارگاہ کا دائمی استحضار حاصل ہوجاتا ہے، تو اس کو غیر اللہ سے کوئی اُمید نہیں باقی رہتی، صرف اللہ سے اُمید ہوتی ہے، اس کو کسی غیر سے کوئی ڈر نہیں ہوتا، صرف اللہ سے ہی خوف ہوتا ہے۔ اسباب سے اس کا بھروسہ اُٹھ جاتا ہے اور صرف اللہ تعالیٰ پر اعتماد ویقین کی شان پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ یقین اس کو ہمت وارادہ کی وہ قوت بخشتا ہے جس سے اس کا جینا مرنا سب کچھ اللہ اور اس کے دین کے لیے ہوجاتا ہے، اور جس وقت جس عمل کا حکم شریعت کی رو سے ہوتا ہے، وہ اس کو ہر طرح کی تکلیف برداشت کرکے اور رکاوٹ کو نظر انداز کرکے کرگزرتا ہے، اور مفاد یا راحتِ جسم وجان کی جو قربانی مطلوب ہوتی ہے‘ مردِ خدا کا یہ یقین اس قربانی کو آسان بنا دیتا ہے:
یقیں مثلِ خلیل آتش نشینی
یقیں اللہ بینی خود گزینی
استحضار ویقین ہی کو اس طریق میں ’’ملکۂ یادداشت‘‘ کہتے ہیں۔ یہی ’’نسبتِ حضور‘‘ ہے، یہی ’’مقامِ شہود‘‘ ہے، اور یہی حاصلِ تصوف ہے۔
تصوف کا نظریہ اور ہر دور کے اہل اللہ اور خاصانِ خدا کا تجربہ (بلکہ کتاب وسنت کی تعلیم) یہی ہے کہ اسی ’’یقین وحضور‘‘ کے ذریعہ ذوقِ انابت ، افتقار الی اللہ، اللہ سے کامل محبت اور خوف، اسی کی ذات سے امید ، اسی پر توکل اور بھروسہ کی شان پیدا ہوتی ہے۔ اسی یقین وحضور سے صبر وشکر، زہد واستغنا، رضا باللہ، شدت لامر اللہ، اور تواضع جیسی قلبی وباطنی صفات حاصل ہوتی ہیں، اور پھر انہی سحر انگیز قلبی کیفیات سے بندے کے اعمال واخلاق میں حسن ورعنائی اور قوت وہمت کی ایک عظیم شان کا ظہور ہوتا ہے۔ اپنی اِسی طاقت وتاثیر اور کارفرمائی کی وجہ سے ملکۂ یادداشت اور نسبتِ حضورکی تحصیل پر تصوف میں خاص توجہ مبذول کی جاتی ہے، اور ظاہر ہے کہ اس کی تحصیل کا سب سے مؤثر ذریعہ کثرتِ ذکرُ اللہ ہے۔
اس کے بعد شاہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص پر یقین اس طرح چھا جاتا ہے کہ وہی اس کا ذوق وحال بن جاتا ہے تو پھر اس بندۂ مومن میں ایک خاص شان ظاہر ہوتی ہے۔ وہ جو کہتا ہے یقین سے کہتا ہے، جو کرتا ہے یقین کی کارفرمائی سے کرتا ہے۔ اس کے دل میں مقامات یعنی اوپر مذکور صفاتِ عالیہ اور پاکیزہ احوال واَذواق راسخ وپختہ ہوجاتے ہیں، اور پھر اللہ تعالیٰ کی عطا وموہبت سے اس کے اندر ایک خاص روحانی تاثیر اور مقناطیسی قوت پیدا ہو جاتی ہے، جس کو شاہ صاحبؒ یوں فرماتے ہیں کہ: ’’ اس کے اندر سے ایک جوش نکلتا اور اس کے گرد وپیش پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘‘ جس سے (عموماً) اس کی شخصیت میں دو میں سے کسی ایک بات کا ظہور ہوتا ہے: 1- یا تو اس کے ہاتھ پر کرامات ظاہر ہوتی ہیں۔ 2- یا اس کے ذریعے سے طالبینِ حق اور مریدین کی تربیت ہوتی ہے، یا کبھی دونوں ہی باتیں پائی جاتی ہیں۔
نکتۂ سوم کے تحت یہ تیسری بات جو حضرت شاہ صاحبؒ نے فرمائی ہے، یعنی دونوں باتوں کا پایا جانا تو یہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی معاملہ، اور عطاء ربانی ہے، لیکن طریق کا مقصودِ اصلی ہر گز نہیں ہے۔
مقصودِ اصلی تو خود (مقامات یعنی) صفاتِ ایمانیہ کا قلب و طبیعت میں راسخ ہوجانا ہے، جس کے بعد شریعت کا کامل اتباع اور عبادات ونوافل کی عظیم توفیق ملتی ہے، جس پر سکینت کا نزول، ملا ٔاعلیٰ کی رفاقت اور قرب و رضا کا حصول یقینی ہے۔