
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آلِ اطہار روئے زمین کے وہ مقدس ترین افراد تھے، جن کے ہر عمل سے بوئے صداقت آتی تھی، ان کے اوصافِ حسنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے مثال تربیت کے عظیم مظاہر تھے، یہ ایسا پاکیزہ شجرہ تھا جس کی ہر شاخِ تازہ سے حسنِ کردار کے پھول مہکتے تھے، ان کی رداء ِ تطہیر آج تک جہان پر رحمت فگن ہے، یہ وہ آستانہ عالیہ ہے جہاں سے اُمت کو زندگی گزارنے کے ایسے راہنما اُصول ملے جن کی بدولت انسانی قدریں بلند ہوئیں اور مذہب ِ اسلام کی شناخت کو بقا حاصل ہوئی، اسی گلشنِ رسالت کی ایک کلی اور چمنِ نبوت کی ایک چنبیلی خاتونِ کربلا، سیدہ زینب بنت ِ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہا ہیں۔
آپ ؓکی ولادت باسعادت ماہ جمادی الاولیٰ ۶ھ میں مدینہ منورہ میں ہوئی، آپؓ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ازواج میں سے حضرت سیدہ فاطمۃ الزہراءؓ کے شکم سے ہیں، اس طرح آپؓ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ آپؓ کے دو بھائی نوجوانانِ جنت کے سردار حضرت حسن ؓاور حضرت حسین ؓآپؓ سے پہلے پیدا ہوئے، جبکہ ایک بہن سیدہ ام کلثوم ؓکی آپؓ کے بعد پیدائش ہوئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بڑی بیٹی کے نام پر زینب نام خود تجویز فرمایا، اہلِ محلہ آپؓ کو زینب ِ کبریٰ کے نام سے، جبکہ آپؓ کی چھوٹی بہن امِ کلثومؓ کو زینب ِ صغریٰ کے نام سے بھی پکارتے تھے، پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اہلِ زمانہ نے ان کے فطری اوصاف اور اکتسابی کمالات کے پیشِ نظران کی شخصیت کے مطابق القابات سے نوازا، ان میں ایک لقب’’عقیلہ بنی ہاشم‘‘ ہے، اس لقب سے ملقب ہونے کی وجہ ان کی معاملہ فہمی اور دانشمندی تھی، خاندانی معاملات کو جس سلیقہ مندی سے وہ نمٹاتی تھیں اور اُلجھی ہوئی گتھیاں سلجھانے کا فن جانتی تھیں، اس میں وہ اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی تھیں، سات سال کی عمر میں والدہ وفات پاچکی تھیں، جب ہوش سنبھالا تو گھر کاآنگن ماں کی رحمت بھرے سائے سے محروم تھا، مالی حالت بھی اتنی اچھی نہیں تھی، اکثر فقرو فاقہ رہتا تھا، لیکن صبر و استقامت کے ساتھ اس ہنرمندی سے گھرکا نظام چلایا کہ بھائی بہنوں کو ماں کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ ایک لقب ’’خاتون ِ کربلا ‘‘ہے، اس کا پسِ منظر آپؓ کا میدانِ کربلا میں ناقابلِ فراموش کردار ہے، آپؓ نے یزید کے دربار میں ایک فصیح و بلیغ تقریر کی اور ان کے مظالم کا اس طرح پردہ چاک کیا کہ یزیدی فوج شرم سے پانی پانی ہوگئی۔
سیدہ زینب ؓجب سنِ بلوغت کو پہنچ گئیں تو ان کے لیے’’اشعث‘‘ نامی ایک رئیس کا رشتہ آیا جس کا تعلق قبیلہ کندہ سے تھا، لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس رشتے کو منظور نہ کیا، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھائی حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ جو جنگ ِ موتہ میں شہید ہو چکے تھے، کے بیٹے عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کی خواہش ظاہر کی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کو قبول فرمالیا، اس لیے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت جعفرطیار رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خود اُن کے بیٹے عبداللہؓ کی تربیت کی تھی، لہٰذا اس رشتے کے قبول کرنے میں انہیں کوئی تأمل نہ ہوا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد ِ حکومت میں مسجد ِ نبوی ؓمیں چار سو اسی یا بقولِ بعض چالیس ہزار درہم حقِ مہر کے عوض حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود خطبۂ نکاح پڑھ کر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے رشتۂ ازدواج میں منسلک کر دیا اور خاندان کی کچھ عورتوں کے ہمراہ اُنہیں عبداللہؓ کے گھر پہنچا دیا، اس وقت آپؓ کی عمر بارہ یا تیرہ برس تھی، اس مجلسِ نکاح میں خلیفۂ وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، انہوں نے اس پر مسرت موقع پر یہ جملہ ارشاد فرمایا: ’’یہ ایک مثالی جوڑے کا نکاح ہے۔‘‘
اللہ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کو چار بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا، چار بیٹوں کے نام علی، عون، عباس اور محمد جبکہ بیٹی کا نام امِ کلثوم ہے، عون اور محمد کربلامیں منصب ِ شہادت پر فائز ہوئے۔
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا وہ خوش نصیب خاتون تھیں جن کی تربیت خانوادۂ نبوی میں ہوئی تھی، اندازہ کیجیے! سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی ہستی جن کا یہ اعلان ہے: ’’میں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں‘‘وہ انہیںاپنی آغوش میں لے رہے ہیں۔ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ، شیرِ خد ا کی ذات ِ گرامی جنہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ’’باب العلم‘‘ قرار دے رہے ہیں، وہ ان کو اپنی نگرانی میں پروان چڑھا رہے ہیں۔ سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا جو خواتینِ جنت کی سردار ہیں، ان کے اعمال و افعال کی نگرانی کر رہی ہیں توسیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی تربیت میں کیاکمی رہ سکتی ہے؟ آئیے! اُن کے اخلاق و اعمال اور عالی اوصاف پر ایک نگاہ دوڑاتے ہیں:
سیدہ زینب رضی اللہ عنہا پر زندگی میں جو غم و اندوہ کے پہاڑ ٹوٹے، انہیں پڑھتے ہوئے آنکھیں نَم ہو جاتی ہیں، سنتے ہوئے وجود پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور لکھتے ہوئے ہاتھ تھرتھرا جاتا ہے، چھ سال کی عمر تھی کہ نانا انتقال کرگئے، ان کے چھ ماہ بعد ہی والدہ داغِ مفارقت دے گئیں، ۴۰ھ میں ابنِ ملجم نے والد کو کوفہ میں شہید کر دیا۔ ۵۰ ھ میں بھائی حسنؓ کو سازشیوں نے زہر دے کر لقمۂ اجل بنا دیا، حادثۂ کربلا میںدوسرے بھائی حسینؓ بھی یزیدی لشکر کی بربریت کا شکار ہوکر جامِ شہادت نوش کر گئے، اسی کربلا کے سانحے میں اپنے جگر کے دوٹکرے عونؒ اور محمدؒ کو اپنی آنکھوں کے سامنے تڑپ تڑپ کر جان دیتے ہوئے دیکھا، ان پے درپے حادثات اور سانحات کے باوجود آپؓ نے صبر واستقامت کا دامن نہ چھوڑا اور رہتی دنیا تک کے کے لیے عزم و استقلال کے گہرے نقوش چھوڑ گئیں۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا شادی سے پہلے بڑی کسمپرسی کی زندگی گزار رہی تھیں، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا شمار مدینہ کے بڑے تاجروں میں ہوتا تھا، اس لیے شادی کے بعد حضرت زینبؓ کو مالی وسعت نصیب ہوئی، گھر میں مال و دولت کی ریل پیل تھی، لیکن جتنا زیادہ اللہ نے مال دیا تھا، اس سے کہیں زیادہ خرچ کرنے کا جذبہ میاں بیوی کو عطا فرمایا تھا، کوئی سائل ان کے دروازے سے خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ ایک مرتبہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس دریا دلی پرخفگی کا اظہار کیا تو ان سے ناراض ہو گئیں اور فرمایا: ’’اللہ نے مجھے دولت اس لیے دی ہے کہ میں اسے حاجت مندوں میں تقسیم کروں۔‘‘ یہ معاملہ دوسرے لوگوں کے ساتھ تھا، اپنی ذات کی حد تک حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اتنی آسائش اور آرائش حاصل ہونے کے باوجود بڑی سادگی سے زندگی گزاری اور مالدار خواتین کے لیے ایک مثال قائم کی۔
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ جوڑی بہت جچتی تھی، ان میاں بیوی کا باہمی پیارو محبت کا رشتہ اور ایک دوسرے کے لیے اچھے احساسات و جذبات نے اس سفرِ حیات کو بہت خوبصورت بنا دیا تھا، سادات کے گھرانوں میں اس جوڑی کے قصے زبان زد ِ عام تھے۔ گھر میں نوکروں چاکروں کی کمی نہیں تھی، لیکن اس کے باوجود اپنے ہاتھ سے حضرت عبد اللہؓ کو کھانابنا کردیتی تھیں، حضرت عبداللہؓ اس پر اُن کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے تھے: ’’زینب بہترین گھر والی ہے۔‘‘
۳۷ھ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ کے شوریدہ حالات کے پیشِ نظر عراق کے شہر کوفہ کو دارالحکومت بنا لیاتوسیدہ زینب رضی اللہ عنہا بھی اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ کوفہ منتقل ہوگئیں، یہاں آپؓ نے درس و تدریس کو اپنا مشغلہ بنا لیا، خواتین کو قرآنِ کریم کی تعلیم دیتیں اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیثِ طیبات یاد کرواتیں، بہت سے لوگ فقہی مسائل میں آپ ؓ سے رجوع کرتے، اس طرح اہلِ کوفہ کی علمی تشنگی بجھا کر آپؓ نے شہر بھر میں علم و آگہی اور حکمت و معرفت کے چراغ روشن کیے۔
ایک روایت کے مطابق آپؓ نے آخر عمر میں پھر مدینہ کو اپنا مسکن بنا لیا اور وہیں آپؓ کی وفات ۱۵؍رجب المرجب۶۳ ھ میںہوئی، جبکہ بعض مؤرخین کے نزدیک شام میں آپؓ کا سانحۂ ارتحال پیش آیا اور وہیں آپؓ کی تدفین ہوئی۔