
اگر خاتون فیزیوتھراپسٹ ڈاکٹر اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کے دوران ہسپتال میں چہرے کا مکمل نقاب اور پر دہ کرے، البتہ کام کے دوران دِقت و پریشانی کی وجہ سے عبایا اُتار کر لیب کوٹ پہن لے، جبکہ وہاں مرد ڈاکٹر حضرات بھی موجود ہوتے ہیں ، تو کیا ایسا کرنا شرعاً درست ہے ؟
صورت ِ مسئولہ میں اگر خاتون فیزیوتھراپسٹ ڈاکٹر کام کے دوران چہرے کے مکمل پر دہ کےساتھ عبایا اُتار کر ایسا لیب کوٹ پہنتی ہے جوڈھیلا ڈھالاہو ، چست نہ ہو، اس میں جسم کے خدوخال نظر نہ آئیں تو جائز ہوگا۔ ’’مشکاۃ المصابيح‘‘ میں ہے:
’’وعن دحيۃ بن خليفۃ قال: أتی النبي صلی اللہ عليہ وسلم بقباطي، فأعطاني منہا قبطيۃ، فقال: اصدعہا صدعين، فاقطع أحدہما قميصا وأعط الآخر امرأتک تختمر بہ ، فلما أدبر، قال: وأمر امرأتک أن تجعل تحتہٗ ثوبا لا يصفہا۔ رواہ أبو داود۔‘‘ (کتاب اللباس، الفصل الثاني، ج:۲، ص:۱۲۴۹، رقم:۴۳۶۶، ط:المکتب الإسلامي)
’’أحکام القرآن للجصاص‘‘ میں ہے:
’’وقولہ تعالی: {وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ} روی أبو الأحوص عن عبد اللہ قال: ’’ہو الخلخال‘‘، وکذلک قال مجاہد: ’’إنما نہيت أن تضرب برجليہا ليسمع صوت الخلخال‘‘ وذلک قولہ: {لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ} ۔ قال أبو بکر: قد عقل من معنی اللفظ النہي عن إبداء الزينۃ وإظہارہا لورود النص في النہي عن إسماع صوتہا; إذ کان إظہار الزينۃ أولی بالنہي مما يعلم بہ الزينۃ، فإذا لم يجز بأخفی الوجہين لم يجز بأظہرہما; وہٰذا يدل علی صحۃ القول بالقياس علی المعاني التي قد علق الأحکام بہا، وقد تکون تلک المعاني تارۃ جليۃ بدلالۃ فحوی الخطاب عليہا وتارۃ خفيۃ يحتاج إلی الاستدلال عليہا بأصول أخر سواہا۔ وفيہ دلالۃ علی أن المرأۃ منہيۃ عن رفع صوتہا بالکلام بحيث يسمع ذلک الأجانب; إذ کان صوتہا أقرب إلی الفتنۃ من صوت خلخالہا; ولذلک کرہ أصحابنا أذان النساء; لأنہ يحتاج فيہ إلی رفع الصوت والمرأۃ منہيۃ عن ذلک، وہو يدل أيضا علی حظر النظر إلی وجہہا للشہوۃ; إذ کان ذلک أقرب إلی الريبۃ وأولی بالفتنۃ۔‘‘(ومن سورۃ النور، باب الرجل يطلق امرأتہ طلاقا بائنا ثم يقذفہا، في إباء أحد الزوجين اللعان، ج: ۳، ص: ۴۱۲، ط: دار الکتب العلميۃ)
’’فتاویٰ شامی‘‘ میں ہے:
’’وإن کان علی المرأۃ ثياب فلا بأس بأن يتأمل جسدہا وہذا إذا لم تکن ثيابہا ملتزقۃ بہا بحيث تصف ما تحتہا، ولم يکن رقيقا بحيث يصف ما تحتہ، فإن کانت بخلاف ذٰلک فينبغي لہ أن يغض بصرہ اہـ۔ وفي التبيين قالوا: ولا بأس بالتأمل في جسدہا وعليہا ثياب ما لم يکن ثوب يبين حجمہا، فلا ينظر إليہ حينئذ۔۔۔ أقول: مفادہٗ أن رؤيۃ الثوب بحيث يصف حجم العضو ممنوعۃ ولو کثيفا لا تری البشرۃ منہ۔‘‘ (کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في النظر والمس، ج: ۶، ص: ۳۶۶،۳۶۵، ط: سعيد)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144508100631
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن